سید احمد شہیدؒ کا مختصر تعارف - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سید احمد شہیدؒ کا مختصر تعارف

    اس پوری تحریک نے پورے ہندوستان میں آزادی کی ایک ایسی چنگاری جِلا دی۔ جسے روکنا اب نا ممکن ہوگیاتھا۔ اور صرف 26سال کے عرصے کے بعد یہ تحریک ....

    By Salman Nawaz Published on Mar 25, 2025 Views 263

    سید احمد شہیدؒ کا مختصر تعارف

    تحریر: سلمان نواز۔ بہاولپور

    امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے نہ صرف فتویٰ دارالحرب دیا، بلکہ ایک جماعت بناکر اس کی تربیت  بھی کی اور اپنے آزادی کے مشن کو عملی جامہ پہنایا۔ جہاں آپؒ کے فکری کام کو امام شاہ محمد اسحاق دہلویؒ نے آگے بڑھایا، وہاں سیداحمدشہیدؒ نےعَلَمِ جہاد بلند کیا اور خود کو عملی میدان میں اُتارا۔ اس کام میں مولانا عبدالحی بڈھانوی (داماد شاہ عبدالعزیزؒ) اور شاہ اسماعیل شہیدؒ (بھتیجے شاہ عبدالعزیزؒ) کو آپؒ کا مشیر مقرر کیا اور جماعت کو حکم دیا کہ جس مسئلے اور معاملے میں یہ تینوں ایک رائے پر جمع ہوجائیں تو اسے میرا حکم سمجھا جائے۔

    ایسا دور جس میں ایک طرف تو ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت کمزور ہورہی تھی تو دوسری طرف ان میں مشرکانہ رسوم اور بدعات کا زور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے شاہ اسماعیل شہیدؒ اور سیداحمد شہیدؒ سے غلبہ دین کی تحریک کا آغاز کرایا۔ اس وقت پورے پنجاب پر سکھوں اور باقی ہندوستان پر انگریزوں کا راج تھا۔

    تعارف:

    حضرت الامیر سیداحمد شہید 1786ء کو رائے بریلی کے سید خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد سید محمد عرفان نے آپؒ کا نام ’’میراحمد‘‘ رکھا، لیکن بعد میں آپؒ سیداحمد کے نام سے مشہور ہوئے۔آپؒ کے دادا حضرت سید شاہ عَلَمُ اللہؒ عہدعالمگیر کے مشہور عالم اور صاحب ِسلسلہ شیخ تھے۔ آپؒ کے تایا شاہ ابوسعید رائے بریلی، امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے شاگرد اور تربیت یافتہ تھے۔ جب آپؒ چار سال کے ہوئے تو تعلیم وتربیت کا آغاز ہوا، لیکن آپ کی طبیعت میں علمی ذوق کم اور عملی رجحان زیادہ تھا۔ خاندان کے بزرگ فرماتے ہیں کہ آپؒ کو بچپن میں کھیل کا بہت شوق تھا، خاص طور پر مردانہ (جرآت وبہادری) اور سپاہیانہ کھیلوں کا۔ جس کا اِظہار آپؒ کی زندگی میں جہاد کی صورت میں نظر آتا ہے۔

    جذبہ خدمت خلق:

    سیداحمد شہیدؒ کی طبیعت میں خدمت خلق کا جذبہ بچپن سے ہی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپؒ ضعیفوں، اپاہجوں اور بیواؤں کے گھروں میں جا کر ان کا حال پوچھتے، اگر کسی کو لکڑی، پانی یا کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو ان کی ضروریات کو پورا فرماتے اور یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو آپؒ کے خاندان کے مرید تھے۔ بازار سے سودا سلف، لکڑی اور پانی بھر کے دیتے اور ان کی دعائیں لیتے۔ اسی طرح رشتہ داروں اور ہمسایوں کے گھر چکر لگاتے، اگر برتنوں میں پانی نہ ہوتا تو اپنے ہاتھ سے بھرتے، لکڑی نہ ہوتی تو خود جنگل سے جاکر لکڑی کاٹ کر گھروں میں پہنچاتے۔

    تعلیم و تربیت کا آغاز:

    1803ء میں والد صاحب کے انتقال کے بعد سترہ سال کی عمر میں روزگار کی تلاش میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھر سے لکھنو کے لیے نکلے اور پھر دہلی گئے، جہاں شاہ عبدالعزیز دہلویؒ اور ان کے بھائی شاہ عبد القادر دہلویؒ سے جا ملے۔ اس طرح آپ ؒ کی تعلیم و تربیت کا دوبارہ آغاز ہوا۔ یہ آپؒ کی خوش قسمتی تھی کہ آپ ؒ کو شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کی صحبت نصیب ہوئی۔ شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اس کے مطابق آپؒ کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا۔ اگرچہ آپ ؒ درسیات کی تکمیل نہ کرسکے، لیکن دینی علوم سے ضروری واقفیت ہوگئی اور سلوک واحسان طے کر لیا۔ آپؒ مسلسل محدثین، مفسرین، فقہا اور علما کی صحبت میں رہے۔ آپؒ اس وقت ہندوستان کے سب بڑے علمی مرکز شاہ عبدالعزیز ؒ کی صحبت میں تھے۔ اس وقت اس ایک خاندان میں شاہ عبدالعزیزدہلویؒ، شاہ عبدالقادرؒ، شاہ رفیع الدینؒ، مولاناعبدالحیؒ، مولانا اسماعیلؒ، مولاناشاہ محمداسحاقؒ اور مولانا محمد یعقوب ؒموجود تھے۔ آپ ؒ نے ان سب کی صحبت سے استفادہ کیا ۔ 

    فوجی تربیت کا باقاعدہ آغاز:

    صحبتِ صالح اختیار کرنے کے بعد، 1808ء میں سیداحمدشہیدؒ اپنے شہر واپس چلے گئے۔ تقریباً دو برس بعد امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے آپؒ کو بلایا اور عملی فوجی تربیت کے لیے 1810ء میں نواب امیر خان کے لشکر میں شامل کروایا، جو وسط ہند میں انگریزوں کے خلاف جہاد کررہے تھے۔ آپؒ تقریباً چھ سال تک اس لشکر میں رہے۔ اس عرصے میں آپؒ نے عملی طور پر جنگی مہارتوں کو سیکھا اور اپنے اندر نظم وضبط قائم کرنے کی صلاحیت پیداکی۔ رات کو عبادت اور دن میں جسمانی مشقت کرتے، جس سے پاؤں میں سوزش ہو جاتی، لیکن آپؒ اپنے مقصد اور کام سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انگریزوں سے صلح کا مشورہ ہوا تو آپؒ کی رائے جنگ جاری رکھنے کی تھی، لیکن امیر خان نے کہا ؛ میری مجبوری ہے، میرے لوگ آج میرے ساتھ ہیں اور کل کو ان کے ساتھ ہوں گے۔ چند پیسوں کی خاطر یہ بک جاتے ہیں۔آپؒ نے امام شاہ عبدالعزیزدہلویؒ کو خط لکھا کہ:’’ خاکسار قدم بوسی کے لیے حاضر ہونا چاہتا ہے۔ یہاں لشکر کا کارخانہ درہم برہم ہوگیا ہے اور نواب صاحب انگریزوں سے مل گئے ہیں۔ اَب یہاں رہنے کی کوئی صورت نہیں۔‘‘

    ہندوستان کی سیر:

    امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے حکم پر آپ (سید احمد شہیدؒ) نے پورے ہندوستان میں دورے کیے۔ پہلی دفعہ 1818ء میں بیعت طریقت لینے کے لیے اور دوسری دفعہ 1821ء میں بیعت جہاد لینے کے لیے۔ جس میں آپؒ کے ساتھ مولانا شاہ اسماعیل شہیدؒ اور مولانا عبدالحئی بڈھانویؒ بھی شریکِ سفر تھے۔ اس جماعت نے ولی اللٰہی افکار پر قومی تحریک کا آغاز کیا، یوں جماعت سازی کے عمل اور اس کے لیے رابطوں کا منظم سلسلہ شروع ہوا۔ مختلف شہروں اور قصبوں میں مجاہدین کی جماعتیں قائم کیں گئیں۔ ہر صوبے، ہر ضلع اور قصبات میں مراکز اور عہدے مقرر کیے گئے۔

    سفرحج:

    جہاد کے لیے ضروری ہے کہ جو جماعت بنائی جائے، اس کی جسمانی اور روحانی تربیت کی جائے۔ اس غرض سے آپؒ نے 1821ء کو امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے حکم سے حج کا سفر کیا، تاکہ تنظیمی قوت کا تجربہ ہوجائے۔ تقریباً گیارہ ماہ مشکل اور کٹھن سفر کے بعد حرم میں داخل ہوئے۔ بیت اللہ کو دیکھ کر ایسی رقت طاری ہوئی کہ روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔ اس سفر کا بنیادی مقصد جماعت کی جہاد پر تربیت تھی، جیسا کہ حج بہت سی مناسبتوں سے جہاد کا ایک مقدمہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ افضل جہاد حج مقبول ہے‘‘۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ کا قول مشہور ہےکہ ’’ حج میں خوب کجاوے باندھو، اس لیے کہ وہ بھی ایک جہاد ہے‘‘۔ یوں آپ دو سال گیارہ ماہ بعد 1823ء کو واپس وطن پہنچے۔ جب قافلہ حج سے واپس آیا تو امام شاہ عبدالعزیزؒ دہلوی فوت ہوچکے تھے۔

    انگریز کے خلاف جہاد:

    سیداحمدشہیدؒ نے ایک ایسی بڑی جمعیت پیدا کرلی، جو ملک کو ہر قسم کے شروفساد اور ظلم وجبر سے پاک صاف کر دینے کے قابل تھی۔ آپؒ کا بنیادی مقصد وہی تھا جو فتویٰ دار الحرب کی اصل روح تھی۔ آپؒ ہندوستان کو انگریز کی لوٹ مار اور ظلم و جبر سے آزاد کروانا چاہتے تھے۔ اس ضمن میں آپؒ نے ایک خط شاہ بخارا کے نام لکھا: ’’ چند سالوں سے اس ملک کی حکومت اور سلطنت کا حال یہ ہے کہ بری عادتوں میں مبتلا عیسائیوں (انگریزوں) اور غلط عقائد ومقاصد رکھنے والے مشرکین نے ہندوستان کے اکثر شہروں یعنی دریائے سندھ سے بنگال کے دریائے شور تک قبضہ کر لیا ہے۔ یہ اتنا بڑا ملک ہے کہ انسان پیدل چلے تو ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں چھ مہینے لگ جائیں۔ انھوں نے خدا کے دین کو ختم کرنے کے لیے شکوک و شبہات اور مکرو فریب کا جال پھیلا دیا ہے۔ نیز ہندوستان کے تمام خطوں کو ظلم وکفر کے اندھیروں سے بھر دیا ہے‘‘ ۔ 

    اسی طرح ایک اور جگہ آپؒ لکھتے ہیں:

    ’’ جو فرنگی ہندوستان پر قابض ہوئے ہیں، وہ بے حد تجربہ کار، ہوشیار، حیلہ باز اور مکار ہیں‘‘۔ 

    عارضی حکومت کا قیام:

    اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آپؒ اور آپؒ کی جماعت کا بنیادی ہدف انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ اس لیے آپؒ نے اس کے لیے ایسے علاقے کو منتخب کیا، جہاں انگریز کا عمل دخل نہیں تھا۔ 1825ء میں سندھ، قندھار اور کابل سے ہندوستان کی سرحد پر واقع افغان (پشتون) علاقے کے پہاڑوں کی جانب ہجرت کی اور 1827ء کو پنجتار میں عارضی حکومت قائم کی۔ عارضی حکومت کا قیام اس لیے ضروری تھا کہ کتاب وسنت کا ایک بڑا حصہ اور شریعت کے بہت سے احکام پر عمل شرعی حکومت کے قیام کے بغیر ناممکن تھا۔

    حصول مرتبہ شہادت:

    ایک ایسی تحریک جس کا آغاز امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے کیا، ہندوستان کی حدود میں واقع افغان (پٹھان علاقوں کے) پہاڑوں تک پہنچ چکی تھی۔ 6 مئی 1831ء کو سیداحمدشہیدؒ اور ان کے ساتھیوں کو کشمیر کی حدود کے قریب میں واقع ایک بستی ’’بالاکوٹ‘‘ میں شہید کر دیا گیا۔ آپؒ کو معاہدے کے باوجود دھوکا دیا گیا۔ سیداحمدشہیدؒ اور آپؒ کے ساتھیوں کی شہادت سے تحریک آزادی کو نقصان پہنچا اور ایک عہد کا اختتام ہوا۔ لیکن اس پوری تحریک نے پورے ہندوستان میں آزادی کی ایک ایسی شمع روشن کر دی، جسے روکنا اَب ناممکن ہوگیا تھا اور صرف 26 سال بعد، یہ تحریک ایک نئے معرکے 1857ء کی جنگ آزادی کے لیے تیار تھی۔

    Share via Whatsapp