امام شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ؛ ایک مختصر تعارف - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • امام شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ؛ ایک مختصر تعارف

    شاہ عبدالعزیزدہلویؒ کی بیٹی (اور مولانا محمد افضل محدث دہلویؒ) سے ایک ایسا عظیم محدث 1782ء کو دہلی میں پیدا ہو ا،جسے دنیا آج شاہ محمد اسحاق محدث ۔۔۔

    By Salman Nawaz Published on Sep 22, 2026 Views 66

    امام شاہ محمد اسحاق  محدث دہلویؒ؛   ایک مختصر تعارف

    تحریر؛ سلمان نواز (بہاولپور) 


    شاہ عبدالعزیزدہلویؒ  کی بیٹی (اور مولانا محمد افضل محدث دہلویؒ) سے ایک ایسا عظیم محدث  1782ء کو دہلی میں پیدا ہو ا،جسے دنیا آج شاہ محمد اسحاق محدث دہلویؒ ، کنیت ابوسلیمان عرف بڑے میاں کے نام سے یاد کرتی ہے۔ آپؒ کے بیٹے کا نام سلیمان تھا۔ اس لیے آپؒ کی کنیت ابوسلیمان تھی۔ آپؒ بچپن سے ہی اپنے نانا شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کی صحبت میں رہے۔آپؒ کی تعلیم و تربیت(ظاہری  وباطنی ) میں امام شاہ عبدالعزیزؒ نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔آپؒ نے اپنی تعلیم کا آغاز مدرسہ رحیمیہ دہلی سے کیا۔کافیہ تک ابتدائی کتابیں اپنے خالو مولوی عبدالحئی بڈھانویؒ سے پڑھیں اور باقی تعلیم شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدین ؒ سے حاصل کی۔حدیث کی سند اپنے نانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی سے حاصل کی اور 43سال کی عمرمیں شیخ عمربن عبدالکریم بن عبدالرسول مکی سے مسلسلات کی سند حاصل کی۔ آپؒ خود فرماتے ہیں:

     ’’ہمارے خاندان کا قاعدہ رہاہےکہ وہ تفسیر سے پہلے تورات ، انجیل اور زبور پڑھا دیا کرتے تھے، کیوں کہ بغیر ان کتابوں کے پڑھے قرآن کا لطف نہیں آتا۔ اسی قاعدے کے مطابق مجھے بھی یہ کتابیں پڑھائی گئیں۔اس لیے میں عیسائی مذہب سے ناواقف نہیں ہوں‘‘۔ 

    ارواح ثلاثہ کے صفحہ نمبر 111پر لکھا ہے کہ امام شاہ عبدالعزیز دہلویؒ نے شاہ عبدالقادرؒ سے فرمایا کہ میاں ’’اسحاق کی طرف توجہ کرنا‘‘ اس کا جواب شاہ عبدالقادرؒ نے دیا کہ حضرت جی ’’اسحاق کو اس کی ضرورت نہیں‘‘۔وہ بلاذکر وشغل بوجہ اپنی ریاضت ہی کے ان لوگوں سے بڑھا ہوا ہے جو باقاعدہ سلوک طے کرتے ہیں ۔ شاہ صاحب نے کئی دفعہ یہی ارشاد فرمایا ، شاہ عبدالقادر ؒ نے ہر بار یہی جواب دیا۔

    آپؒ نے تفسیر، فقہ،تاریخ،علم الکلام ، فلسفہ ، تقابل ادیان اور عربی زبان وادب میں بھی گہرا رسوخ حاصل کر لیا تھا۔ خدا کا آپؒ پر خاص کرم ہوا کہ ہندوستان کی بلند ترین ہستیوں کی رفاقت نصیب ہوئی۔اور اس طرح آپؒ کی علمی،فکری،اخلاقی،روحانی ، ادبی اور تحریری بلکہ ہر طرح کی صلاحیتیں اپنے کمال کو پہنچیں۔شاہ عبدالعزیز ؒ اکثر فرمایا کرتےتھے: ’’میری تقریر اسماعیل نے لےلی،تحریر رشیدالدین نے لے لی اور علم و تقویٰ اسحاق کے حصے میں آیا۔‘‘

     جب آپؒ تعلیم و تربیت سے فارغ ہوئے تو درس و تدریس کی ذمہ داری آپؒ کو سونپ دی گئی۔1804ء میں مدرسہ رحیمیہ میں بہ طور مدرس شامل ہوگئے۔ امام شاہ عبدالعزیز ؒ نے اپنی زندگی میں ہی شاہ اسحاق دہلویؒ کو اپنی مسند پر مقرر کردیا اور لوگوں کو کہہ دیا کہ ان کا حکم میرا حکم ہے۔ مولوی عبدالحئی الحسنی نے  آپؒ کی جانشینی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’امام شاہ عبدالعزیزؒ نے اپنے اس نواسے کو بیٹے کی طرح چاہااور انھوں نے ان کو اپنا خلیفہ بھی بنا دیاتھااور مکانات و کتابیں بھی ان کو ہی ہبہ(عطیہ) کر دی تھیں اور یہی شاہ صاحب کے بعد ان کی مسند پر بیٹھے اور لوگوں کو خوب فائدہ پہنچایا‘‘۔ 

    اپنے نانا کی وفات کے بعد آپؒ نے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ہر عام وخاص آپؒ کے درس میں شریک ہوتا اور مستفید ہوتا۔ یہاں تک کے بادشاہ وقت بھی  استفادہ کرتے۔

    تحریک جہاد کی سرپرستی:

    شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے بعد شاہ اسحاق دہلویؒ نے نہ صرف ان کے فکر کو آگے بڑھایا، بلکہ جہادی تحریک میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔آپؒ کو مولاناعبیداللہ سندھیؒ نے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی انقلابی و جہادی تحریک میں شاہ عبدالعزیز کے بعد تیسرے امام کے طور پر متعارف کروایاہے۔

    شاہ عبدالعزیز ؒ نے جہاں جہادی تحریک کو لیڈ کرنے کی ذمہ داری سید احمد شہیدؒ اور ان کے ساتھ بہ طور مشیر شاہ اسماعیل شہیدؒ اور مولانا عبدالحییؒ کو دی تو دوسری طرف شاہ اسحاق دہلویؒ کے ذریعے نظریاتی اور تنظیمی امور کے حوالے سے پارٹی کے بنیادی فکرونظریہ کی حفاظت اور پارٹی نظام کو صحیح خطوط پر آگے  بڑھانے  اور جہاد کے لیے لوگوں کو تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اور اس کام میں آپؒ کے بھائی مولانا محمد یعقوب دہلویؒ(چھوٹےمیاں) بھی شامل تھے۔

    ’’شاہ ولی اللہ اور ان کی سیاسی تحریک‘‘ میں مولانا عبیداللہ سندھیؒ لکھتےہیں: 

    ’’ جب 1824ء میں امام شاہ عبدالعزیزدہلویؒ فوت ہوئے تو آپ نے اپنا مدرسہ مولانا محمد اسحاق دہلویؒ کے سپرد کیا، جو حزب ولی اللہ کی امامت کا عرفی دستور تھا۔ سید احمد شہیدؒ کا قافلہ جب حج سے واپس آیا تو انھوں نے امام عبدالعزیز دہلویؒ کے بعد اس امامت کو تسلیم کیا۔ اس زمانے میں اگر جمعیت کا اجلاس مدرسہ میں ہوتا تو مولانا اسحاق دہلویؒ صدارت کرتے اور سید احمد شہید حلقے میں بیٹھتے اور جب مدرسہ سے باہر مجلس منعقد ہوتی تو سید احمد شہیدؒ صدر ہوتے اور مولانا محمد اسحاق دہلویؒ حلقے میں شریک ہوتے‘‘۔

    جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مقصد ایک ہی رہا کام کی حکمت الگ الگ تھی۔شاہ اسحاق دہلویؒ دہلی کے مرکز میں بیٹھ کر ولی اللٰہی سیاسی جماعت کے عسکری ونگ کی مکمل سرپرستی ، رہنمائی اور مالی اعانت کا کام فرماتے رہے۔پورے ہندوستان میں جو لوگ بھی جہاد میں شرکت کے خواہش مند ہوتے سب سے پہلے وہ دہلی آتے ہدایت وصول کر کے سید صاحب کے نام پیغام لے کر آگے بڑھتے اور جنگی محاذ میں شامل ہو جاتے۔ آپؒ نہ صرف جہاد کے لیے زر فراہم کرتے، بلکہ تصحیح خیال،مخالفانہ ہنگاموں کو فرو کرنا، پورے ہندوستان سے آنے والےقافلوں کے کھانے کا اہتمام کرنا، ان کے سفر کا انتظام کرنا، راستوں کا تعین  اور کتابوں کی اشاعت تک میں شامل رہے۔

    مولوی نصیر الدین دہلویؒ فرماتے ہیں کہ جب شاہ اسحاق دہلویؒ وعظ فرمایاکرتے تھے تو میں مدرسہ کے دروازے پر کھڑا لوگوں سے چندہ جمع کیا کرتا تھا۔جب معتدبہ رقم جمع ہوجاتی تھی تو یا تو سرحد کاکوئی قاصد آکر روپیہ لے جاتا اورکبھی تو روپیوں کی اشرفیاں بنوادی جاتیں اور انھیں کپڑوں میں اس طرح سی دیا جاتا کہ کسی کو خبر نہ لگ سکے۔ کبھی روپیوں کی ہنڈی بنوادی جاتی۔

    تحصیل سکندر آباد میں ایک بہت بڑا گاؤں ’’حسن پور‘‘  جو کبھی مولانا اسحاق دہلویؒ اور مولانا محمد یعقوب دہلویؒ کی ملکیت میں تھا۔آپؒ کی جائیداد کو ضبط کر لیا گیا،لیکن آپؒ نے اس جدوجہد کو جاری رکھا۔ کام کو آگے بڑھانے کی جستجو آپؒ کے خون میں تھی کہ جائیداد ضبط ہونے کے باوجود بھی اللہ پر اتنا یقین کہ اس پر بھی خدا کا شکر ادا کیا۔ مظفر حسین اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے ان دونوں بھائیوں کو خوش و خرم دیکھا تو جرأت کر کے مولانا اسحاق دہلویؒ سے اس کی وَجہ پوچھی تو فرمایا: ’’کیا تمھیں نہیں معلوم؟‘‘عرض کیا ’’نہیں ، ’’مجھے کچھ علم نہیں‘‘ فرمایا ’’ہمارا گاؤں ضبط ہوگیا ہے‘‘یہ خوشی اسی کی ہے۔ جب تک گاؤں ہمارے قبضے میں تھا، اللہ پر توکل نہ تھا، اَب صرف اسی پر توکل ،اسی پر بھروسہ ہے۔(ارواح ثلاثہ ص123)

    تحریک کے مرکز کی حرمین میں منتقلی:

    سنگین سیاسی حالات کی وَجہ سے آپؒ کو ہندوستان سے حجاز جانا پڑا ۔ جب آپؒ نے ہجرت کی تو کتابوں کا خزانہ جن کا وزن تقریباً 9 من تھا،اپنے ساتھ لے گئے۔حجاز پہنچنے کے بعد بھی آپؒ سکون سے نہ بیٹھے تدریس کی صورت میں دین کی خدمت کا سلسلہ وہاں بھی جاری رکھا۔حضرت سندھی فرماتے ہیں: ’’ بہ ظاہر وہ اپنے کام سے معطل ہوگئے مگر ایسا نہیں سمجھنا چاہیے، اگر وہ مکہ معظمہ میں ہندوستانی کام جاری نہ رکھتے تو کمپنی بہادر ان کی جاگیر کیوں ضبط کرتی اور بمبئی سے ایسے ہندوستانی کیوں بھیجے جاتے جو انھیں وہابی ثابت کرکے حجاز سے نکلوانا چاہتے تھے، مگر اتفاق ایسا کہ اُس زمانہ میں شیخ الحرم ایک ہندوستانی مہاجر کا بیٹا تھا اور یہ خاندان امام شاہ عبدالعزیز دہلوی کا شاگرد اور مرید تھے۔اس لیے شیخ الحرم کے توسط سے ترکی حکومت نے اپنے گھر میں ایک طرح نظربند کردیا وہ مسجد حرام میں نماز پڑھتے تھے، مگر کسی کو پڑھا نہیں سکتے تھے۔ (فکر ولی اللہی کا تاریخی تسلسل ، شاہ ولی اللہ میڈیا فاؤنڈیشن، ملتان)

    یوں دین کی خدمت کرتے ہوئے، مکہ میں تقریباً تین سال آٹھ ماہ قیام کے بعد روزہ کی حالت میں 1845ء میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ شیخ عبداللہ سراج  نے آپؒ کو غسل دیا۔غسل کے وقت شیخ صاحب کے الفاظ:”شاہ صاحب اگر زندہ ہوتے اور میں ان سے زندگی بھر حدیث پڑھتا تو بھی مجھے وہ مقام حاصل نہ ہوتا جو انھیں حاصل تھا‘‘۔ آپؒ کو حضرت خدیجہؓ کےمزا رکے پاس  مدفون کیا گیا۔ اسی سال امیرامداد اللہ مہاجر مکیؒ حج کے لیے مکہ معظمہ تشریف لائے۔ آپؒ نے اپنے طریقے کی خاص ہدایتیں دے کرانھیں ہندوستان واپس بھیجا۔ امام شاہ اسحاق دہلویؒ کی اس تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے 4افراد  تیار ہوگئے، جن میں حاجی امداد اللہ مہاجرمکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا محمد یعقوب نانوتویؒ اور مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ شامل ہیں۔ان حضرات نے باہمی مشاورت سے ہندوستان میں ایک نئے انداز پرتحریک چلائی، جس نے شاہ اسحاق دہلویؒ کے کام کو دور کے تقاضے کے مطابق اگلے مرحلے میں داخل کیا اور  1857 ء کو شاملی کے میدان میں اس جماعت نے  انگریزوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا،  جس میں انگریزوں کو کافی نقصان ہوا۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بزگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اپنے معاشرے کی اِصلاح میں کردار ادا کر سکیں۔آمین!

    Share via Whatsapp