چین: معاشی طاقت سے عالمی ادارہ سازی تک کا سفر
جس چیز نے چین کو دیگر ترقی پذیر ممالک سے ممتاز کیا، وہ یہ تھی کہ اس نے اپنی معاشی طاقت کو محض جی ڈی پی کے ہندسوں تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ادار
چین: معاشی طاقت سے عالمی ادارہ سازی تک کا سفر
تحریر؛ ڈاکٹر حبیب الرحمن (لاہور)
جس چیز نے چین کو دیگر ترقی پذیر ممالک سے ممتاز کیا، وہ یہ تھی کہ اس نے اپنی معاشی طاقت کو محض جی ڈی پی کے ہندسوں تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ادارہ جاتی شکل دی۔ چین کی ادارہ جاتی تعمیر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس کے گزرے ادوار میں دیکھا جائے، کیوں کہ ہر دور کی حکمتِ عملی پچھلے دور کے تجربات اور اسباق سے جنم لیتی ہے۔
پہلا دور 1949ء تا 1978ء — بندش اور بنیاد کی تعمیر
چینی انقلاب1949 ء کے بعد کے تین عشرے بیرونی دنیا سے نسبتاً کٹے ہوئے، خودانحصاری اور قومی استحکام کے دور تھے۔ اس عرصے میں چین کی توجہ بیرونی اتحادوں یا عالمی اداروں کی تعمیر پر نہیں، بلکہ داخلی ریاستی ڈھانچے، مرکزی منصوبہ بندی اور صنعتی بنیاد کی تشکیل پر مرکوز رہی۔ زرعی اجتماعی نظام اور بھاری صنعت پر زور، اگرچہ کئی جگہ ناکام اور نقصان دہ ثابت ہوا، مگر اسی دور میں چین نے وہ انتظامی ڈھانچہ تیار کیا جو بعد کی اصلاحات کی بنیاد بنا۔
دوسرا دور 1978ء تا 2001ء — اوپن ڈور پالیسی اور تجرباتی اصلاحات
1978ء میں ڈینگ ژیاؤپنگ کی قیادت میں ”اصلاحات اور کھلے دروازے“ (Reform and Opening-up) کی پالیسی کا آغاز اس پورے سفر کا فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس دور کی خاص بات یہ تھی کہ چین نے یک دم پوری معیشت کو عالمی منڈی کے لیے نہیں کھولا، بلکہ محدود، قابلِ کنٹرول تجربات سے آغاز کیا:
خصوصی اقتصادی زونز (Special Economic Zones) کا قیام — شینزن جیسے چھوٹے علاقوں میں غیرملکی سرمایہ کاری اور مارکیٹ میکانزم کو آزمایا گیا اور نتائج کی بنیاد پر ماڈل کو وُسعت دی گئی۔ ”پہلے تجربہ، پھر جائزہ، پھر بڑے پیمانے پر نفاذ“ کا اصول چین کی حکمرانی کی پہچان بنا۔
زرعی شعبے میں ”گھریلو ذمہ داری کے نظام“ کے تحت اجتماعی کاشت کاری سے فیملی سطح کی پیداوار کی طرف بتدریج منتقلی ہوئی۔
بیرونی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی محدود اور نگرانی شدہ درآمد کی گئی۔
یہ پورا دور دراصل ”چھوٹے پیمانے پر آزماؤ، نتائج دیکھو، پھر وُسعت دو“ کے سائنسی اصول پر استوار تھا۔
تیسرا دور 2001ء تا 2013ء — عالمی تجارتی نظام میں شمولیت اور علاقائی ادارہ سازی
2001ء میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) میں شمولیت اس دور کا سب سے بڑا ادارہ جاتی قدم تھا، جس نے چین کو عالمی سپلائی چین کا مرکز بنا دیا۔ اسی سال شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی بنیاد رکھی گئی، جس میں بعدازاں بھارت اور پاکستان (2017ء)، ایران (2023ء) اور بیلاروس (2024ء) شامل ہوئے۔ یہ دور چین کے علاقائی اَثر و رسوخ کے تدریجی پھیلاؤ کا دور تھا ۔ پہلے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے گئے، اعتماد سازی ہوئی، اور اسی بنیاد پر آگے بڑھا گیا۔
اسی طرح BRIC جو دراصل برازیل، روس، بھارت اور چین پر مشتمل اتحاد ہے، جس کی بنیاد 2009ء میں رکھی گئی اور 2010ء میں جنوبی افریقا کی شمولیت کے بعد یہ گروپ "BRICS" کہلایا۔ بعدازاں جنوری 2024ء میں مصر، ایتھوپیا، ایران اور متحدہ عرب امارات بھی اس اتحاد میں باقاعدہ رکن کی حیثیت سے شامل ہوگئے۔ اس اتحاد کا مقصد رکن ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینا اور مغربی مالیاتی اداروں پر انحصار کم کرنا ہے۔ اسی BRICS ممالک کے تعاون سے نیو ڈویلپمنٹ بینک (New Development Bank) وجود میں آیا، جو رکن اور دیگر ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے اور پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے قرضے اور مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔
چوتھا دور 2013ء تا حال — عالمی اداروں میں مرکزی کردار
2013ء میں صدر شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (Belt and Road Initiative) کا آغاز کیا، جس سے 150 سے زائد ممالک اور 30 سے زائد بین الاقوامی تنظیمیں کسی نہ کسی صورت جڑ چکی ہیں۔ اسی دور میں درج ذیل پیش رفت ہوئی:
2016ء میں ایشیائی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری بینک (Asian Infrastructure Investment Bank) نے 57 بانی ارکان کے ساتھ کام شروع کیا، جس کا بنیادی مقصد ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں سڑکوں، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلات جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنا تھا۔
علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (Regional Comprehensive Economic Partnership - RCEP) جیسے آزاد تجارتی معاہدے پر 2020ء میں دستخط ہوئے اور یہ 2022ء میں نافذالعمل ہوا، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان محصولات کم کرنا، تجارت کو آسان بنانا اور ایشیا بحرالکاہل کے خطے کو دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی زون میں تبدیل کرنا تھا۔ اسی طرح افریقا، عرب دنیا اور وسطی ایشیا کے ساتھ بھی نئے تعاونی فورمز قائم ہوئے۔
اس دور میں چین اَب صرف عالمی نظام کا حصہ نہیں، بلکہ اس کے متبادل ادارے تشکیل دینے والا ملک بن چکا ہے ۔ مگر یہ مقام بھی یک دم نہیں، بلکہ پچھلے تین ادوار کی تدریجی بنیاد پر حاصل ہوا۔
علاقائی تعاون اور وِن وِن پالیسی
اس پورے سفر میں ہر دور کی تبدیلی سے قبل تجربے، مشاہدے اور تجزیے کو بنیاد بنایا گیا۔ پہلے قومی سطح پر کامیابیاں حاصل کی گئیں، پھر مرحلہ وار علاقائی تعاون کو فروغ دیا گیا، تاکہ ترقی کا عمل آگے بڑھ سکے۔
اسی حکمتِ عملی کا ایک اور کلیدی مظہر چین کی ”وِن-وِن“ (win-win) پالیسی ہے، جسے چینی سفارت کاری اور معاشی شراکت داری کا بنیادی ستون قرار دیا جاسکتا ہے۔ روایتی طاقت ور ممالک کے برعکس، جو اکثر یک طرفہ فوائد یا مسابقتی انداز میں تعلقات استوار کرتے رہے، چین نے شعوری طور پر یہ موقف اپنایا کہ کوئی بھی معاشی یا تکنیکی شراکت داری دیرپا اسی وقت ہوسکتی ہے جب فریقین کو حقیقی فائدہ پہنچے۔ اس پالیسی نے چین کو ترقی پذیر دنیا میں اعتماد اور نرم طاقت (soft power) دونوں فراہم کیے اور تصادم کی بجائے تعاون کو ترقی کا راستہ بنایا۔
اسی تسلسل میں 2015ء میں شروع کی گئی ”میڈ اِن چائنہ 2025ء“(Made in China 2025) پالیسی کو سمجھنا ضروری ہے، جس کا مقصد چین کو محض سستی اجناس تیار کرنے والے ملک کی حیثیت سے نکال کر جدید، اعلیٰ قدر (value-Addition) صنعتی طاقت میں تبدیل کرنا تھا۔ اس پالیسی کے تحت ایرو اسپیس، نئی توانائی، بائیو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور سیمی کنڈکٹرز جیسے دس اہم شعبوں کو ترجیح دی گئی، تاکہ غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم ہو اور مقامی صنعت خود کفیل بنے۔
اس سے بھی ایک قدم آگے چین نے ”انوویٹڈ اِن چائنہ“(Innovated in China) کا تصور متعارف کرایا، یعنی ”میڈ اِن چائنہ“ سے ”کریئیٹڈ اِن چائنہ“ (Created in China)کی طرف سفر۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ چین اَب محض دوسروں کی ایجاد کردہ ٹیکنالوجی کی تیاری یا اسمبلنگ تک محدود نہ رہے، بلکہ خود تحقیق، پیٹنٹس اور اختراعات کا مرکز بنے۔ تحقیق و ترقی (R&D) میں بھاری سرمایہ کاری، مقامی برانڈز کی عالمی سطح پر پذیرائی اور تخلیقی ملکیت (intellectual property)یا Patents میں خود کفالت اسی سوچ کے مظاہر ہیں۔
چین اور حاصلِ سفر
آج تقریباً پون صدی بعد، وہی چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت، سب سے بڑا برآمد کنندہ اور عالمی سپلائی چینز کا مرکز ہے۔ جو ملک کبھی بیرونی امداد کا محتاج تھا، وہ آج خود دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کو قرضے اور بنیادی ڈھانچے کی مالی معاونت فراہم کرتا ہے، اور نئے عالمی مالیاتی اداروں کی بنیاد رکھ رہا ہے۔ خواندگی کی شرح 95 فی صد سے تجاوز کر چکی ہے اور چین ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور صنعتی جدت میں دنیا کی صفِ اول کی طاقتوں میں شامل ہو چکا ہے۔
چین کی کہانی کا نچوڑ یہی ہے کہ قومی ترقی فوری نتائج کا نام نہیں، بلکہ بتدریج اور مسلسل عمل کا نام ہے۔ بندش کے دور سے کھلے دروازوں تک، تجرباتی زونز سے عالمی تجارت میں شمولیت تک، اور بالآخر عالمی اداروں میں مرکزی کردار تک، اورجس کا اثرمغربی طاقتیں شدت سے محسوس کر رہی ہیں ۔
یہ ایک ایسی قوم کی داستان ہے، جس نے اپنی حکمتِ عملی کو وقت کے ساتھ بدلا، مگر بنیادی اہداف اور سمت کبھی نہیں بدلی۔ ایک تباہ حال غریب اور تنہا معاشرے سے عالمی نظام پر اَثرانداز ہونے والی طاقت بننے تک کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ عالمی طاقت صرف دعوؤں سے نہیں، بلکہ وُسعتِ نظری اور مسلسل جدوجہد سے جنم لیتی ہے۔









