جین زی اور انقلاب
نوجوانوں کے ذہن میں انقلاب کے غلط تصور کا جائزہ اور حقیقی انقلابی جدوجھد کا طریقہ کار
جین زی اور انقلاب
تحریر؛ حذیفہ عزیز(پشاور)
انسان فطرتاً عدل اور رائے کلی کا پیکر ہے، جس کی بنا پر اس میں ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے کا مادہ پایا جاتا ہے۔موجودہ دور میں جب کہ عالمِ انسانیت کی اکثریت عالمی اور قومی سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جبر و استحصال کا شکار ہے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے فطری جذبے کے تحت انسانیت خود پر ہونے والے مظالم کے خلاف برسر پیکار ہے۔ اس جدوجہد کا اکثریتی طبقہ نوجوان ہے جس کو ہم ” جین زی“ کہتے ہیں۔مختلف ممالک میں اس طبقے نے تحاریک کو جنم دے کر انقلاب لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وقتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے نتائج سے کئی ممالک میں موجود اس طبقے نے اسی جدوجہد کو درست مان کر انقلاب کے غلط تصور کا ایک سراب گھڑ لیا ہے۔
حالیہ دور میں چند ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں نوجوانوں کے ذہن میں جنم لینے والے انقلاب کے تصور کا جائزہ لیتے ہیں۔
1۔ سری لنکا کا احتجاج :
سری لنکا میں معاشی بحران کے باعث جولائی 2022ء میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور بھرپور احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں پہلے سری لنکن وزیراعظم اور بعد میں صدر نے بھی استعفٰی دے دیا، ان کی اس تھریک کے نتیجے میں ایک حکومتی تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ اقتدار ایک پارٹی سے دوسری پارٹی کو منتقل ہوگیا اور راجا پکشا کی جگہ ڈسانائیکے اقتدار پر قابض ہوگئے، مگر ملکی نظام آج بھی وہی کا وہی ہے جو پہلے تھا، ساتھ ہی معاشی بحران کی آڑ میں آئی ایم ایف کو ملکی معیشت پر اپنے قبضے کا شکنجہ مزید مضبوط کرنے کا بھی موقع مل گیا ، اَب سری لنکا کے سینٹرل بینک کا گورنر آئی ایم ایف کا خاص تربیت یافتہ آدمی ہے۔
2۔ بنگلادیش میں کوٹہ سسٹم کے خلاف تحریک :
اسی طرح بنگلادیش میں بھی جولائی 2024ء میں کوٹے پر ملازمتوں کے خلاف نوجوانوں نے احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں وزیراعظم کو مستعفٰی ہونا پڑا اور بعد میں عبوری حکومتی اختیارات آئی ایم ایف کے تربیت یافتہ محمد یونس کے حوالے کیے گئے،فروری 2026ء میں الیکشن ہوا، جس میں بی این پی نے واضح اکثریت حاصل کی اور طارق رحمان کو وزیراعظم منتخب کیا گیا، یعنی اقتدار ایک جماعت سے دوسری جماعت کو منتقل ہوا ، مگر نظام میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔
3۔ بھارت میں پیپر لیک کے معاملے پر احتجاج :
حالیہ اگست میں بھارت میں بھی نوجوان پیپرلیک کے معاملے میں احتجاج کرنے سڑکوں پر نکل آئے، جس کو وسیع پیمانے پر پاکستان سمیت کئی ممالک میں سراہا گیا اور اس کو ” جین زی انقلاب “ کہا گیا،یہ احتجاج بھی طلبا کے مطالبات ماننے پر ختم ہوا اور وزیرتعلیم نے استعفیٰ دے دیا،تعلیمی اصلاحات کے علاوہ ملکی نظام وہی کا وہی رہا۔
مذکورہ تمام ممالک میں حالیہ رونما ہونے والی تبدیلیوں کو جین زی نے انقلاب کا نام دیا اور پاکستان میں بھی نوجوان اسی طریقہ کار کے تحت ملک میں انقلاب کا خواہاں نظر آتا ہے۔
نوجوانوں کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ کسی ایک مسئلے کو حل کرنے یا نظام کے کسی ادارے میں اصلاحات کرنے، حکومت کی تبدیلی یا کسی ہجوم اور جمگھٹے کا بغیر کسی واضح اور جامع نصب العین کے اور اپنا ایک تاریخی تسلسل رکھنے والی منظم قیادت کے بغیر کسی ایسی ( درست یا نادرست ) جزوی تبدیلی کا نام ہر گز حقیقی تبدیلی نہیں جو اکثر اوقات ملک میں انارکی اور بیرونی قوتوں کی مداخلت کا سبب بنتی ہے۔
نوجوانوں کا اپنے حق کے لیے آواز اٹھانا ایک خوش آئند عمل ہے، مگر نوجوانوں کی اس توانائی کو درست سمت میں اور صحیح طریقہ کار کے تحت استعمال میں لایا جائے تو یہ ایک حقیقی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے ۔ چند مثالیں جوابھی ذکر کی گئی ہیں اور ان میں جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ محض کسی جزوی ( مثبت یا منفی ) سیاسی تبدیلی اور اقتدار کی منتقلی یا چند جزوی اصلاحات کا باعث تو بن سکتی ہے، مگر حقیقی تبدیلی کا ضامن نہیں ہے۔
سماجی تبدیلی کی اپنی ایک سائنس اور بنیادی اجزائے ترکیبی ہیں، جن کے بغیر محض کوئی اکھاڑ پچھاڑ سماجی تبدیلی نہیں کہلا سکتی ۔
سماجی تبدیلی کے اجزائے ترکیبی :
1۔ ایک واضح اور جامع نصب العین
اس مقصد کے لیے سب سے پہلے تو ایک ایسا نصب العین ہونا ضروری ہے جو بالکل واضح اور غیرمبہم ہونے کے ساتھ جامع بھی ہو ، یعنی جس میں باطل اور ظالمانہ نظام کو مکمل طور پر ختم کر کے اس کی جگہ ایک مکمل سیاسی ، معاشی اور معاشرتی ( اور اپنے قومی اجتماعی تقاضوں سے ہم آہنگ ) نظام قائم کرنا مقصود ہو ، ناکہ ( موجود فرسودہ نظام کے اندر ) کوئی جزوی تبدیلی ۔
2۔اس واضح اور جامع نصب العین پر باشعور ، اعلیٰ کردار کے مالک ، بلند ہمت، بےلوث نوجوانوں کی اجتماعیت، جس کا ہر ہر فرد اس متعین کردہ نصب العین کے بارے مکمل طور پر کلیئر ہو اور اس کے حصول کی اجتماعی جدو جہد میں ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے مکمل طور پہ تیار ہو ، اور وہ اجتماعیت - کم از کم - اپنی قوم میں ایک تاریخی تسلسل بھی رکھتی ہو اورمکمل طور پہ خودمختار ہو، کسی بیرونی طاقت کی آلہ کار نہ ہو ۔
3۔ دورِحاضر کے معروضی تقاضوں کی روشنی میں درست لائحۂ عمل:
وہ باشعور اجتماعیت اپنے نظریے اور واضح نصب العین پر مکمل رسوخ کے ساتھ ساتھ موجودہ دور کے قومی اور بین الاقوامی حالات پر اتنی گہری نظر رکھتی ہو کہ ہر بدلتی ہوئی صورتِ حال میں نئی سے نئی درست حکمت عملی پر مبنی فیصلے کرنے پر مکمل قدرت رکھتی ہو، تب ہی وہ ( بیرونی اور سامراجی اَثرات سے پاک اور اپنے قومی اور ریجنل تقاضوں سے ہم آہنگ ) جامع اور کامل تبدیلی لائے گی، اسے ایک کامیاب سماجی تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔
آج کا نوجوان بھی اگر ملکی نظام کی تبدیلی اور حقیقی سماجی تبدیلی چاہتا ہے تو انھیں بھی مذکورہ طریقہ کار کو اپنانا ہوگا، ورنہ تبدیلی محض تبدیلی کے نعروں اور دعوؤں کا نام نہیں۔
اللہ تعالٰی ہمیں ایک مکمل طور پر عدمِ تشدد پر مبنی اعلیٰ درجے کی اجتماعی جدو جہد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین !









