اَقوامِ عالم کی نسل کُشی سے علم کُشی تک - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • اَقوامِ عالم کی نسل کُشی سے علم کُشی تک

    ہر دور کا سامراج اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے بنیادی طور پر انسانیت کا دشمن رہا ہے۔ اس کا طریقۂ واردات بدلتا رہتا ہے.....

    By Kashif Hassan Published on Jul 09, 2026 Views 141

    اَقوامِ عالم کی نسل کُشی سے علم کُشی تک

    تحریر: کاشف حسن، پشاور


    ہر دور کا سامراج اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے بنیادی طور پر انسانیت کا دشمن رہا ہے۔ اس کا طریقۂ واردات بدلتا رہتا ہے، مگر مقصد ایک ہی رہتا ہے۔ انسانوں کو اُن کی آزادی، شعور، شناخت، علم اور مستقبل سے محروم کر دینا۔ کبھی سامراج جسموں کو قتل کرتا ہے، کبھی ذہنوں کو بدلتا ہے اور کبھی علم کے مراکز کو مٹا کر آنے والی نسلوں کی فکری بنیادیں مِسمار کر دیتا ہے۔

    قرآن فرعون کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو ذبح کرتا اور عورتوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ یہ صرف ظلم نہیں تھا، یہ ایک قوم کو اُس کے مستقبل سے محروم کر دینے کی حکمت ِعملی تھی۔ فرعون سمجھتا تھا کہ اگر آئندہ نسل کو ختم کر دیا جائے تو مزاحمت کی بنیاد ہی ختم ہوجائے گی۔ یہی نسل کُشی کی بنیادی منطق ہے۔ انسانوں کو مار کر اتنا خوف پھیلا دو، تاکہ قوم زندہ رہتے ہوئے بھی مزاحمت نہ کر سکے۔

    بعد کے اَدوار میں سامراج کا طریقہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔ انگریز نے برصغیر میں صرف تلوار اور بندوق سے حکومت نہیں کی، اس نے ذہن بدلنے کی پالیسی بھی اختیار کی۔ لارڈمیکالے کے 1835ء کے مشہور “Minute on Indian Education” میں یہ تصور صاف موجود تھا کہ ہندوستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا کیا جائے جو انگریز حکمرانوں اور کروڑوں ہندوستانیوں کے درمیان ترجمان کا کردار ادا کرے۔ رنگ و نسل کے اعتبار سے ہندوستانی ہو، مگر ذوق، فکر، اخلاق اور ذہنی ساخت کے اعتبار سے انگریز ہو۔اگرچہ یہ بہ ظاہر جسمانی نسل کُشی نہیں تھی، مگر فکری تشکیلِ نو تھی،جس کا مقصد محکوم قوم کو اپنی تاریخ سے ایسے کاٹ دینا تھا، جیسے کسی درخت کی شاخ سے کٹنے والا پتہ ہوا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے ۔ اکبر الٰہ آبادی کے بہ قول؛

    ؎ یوں قتل کے بچوں سے وہ بدنام نہ ہوتا افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

    یوں سامراج نے دو بڑے طریقے اختیار کیے: جہاں مزاحمت جسمانی تھی، وہاں قتلِ عام سے کام لیا اور جہاں مزاحمت فکری تھی وہاں ذہن سازی کی حکمتِ عملی اپنائی۔ ایک طرف فرعون کا ”یذبح ابناءهم“ تھا، دوسری طرف میکالے کا ذہنی استعمار۔ ایک نے نسل ِانسانی کے قتل سے  اور دوسرے نے ذہن و فکر کو بدلنے کی کوشش سے انسانیت کو مستقل غلام رکھنے کی حکمتِ عملی اختیار کی۔

    بیسویں صدی میں عالمی طاقتوں نے اسی منطق کو جدید جنگی، معاشی اور سیاسی صورتوں میں آگے بڑھایا۔ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر جاپان پر ایٹم بم گرانے سے لے کر ویتنام، عراق، افغانستان، فلسطین اور مشرقِ وُسطیٰ کے مختلف خطوں تک، طاقت نے بار بار یہ دکھایا کہ انسانی حقوق، جمہوریت اور عالمی قانون کے نعرے اُسی وقت تک معتبر رہتے ہیں جب تک وہ طاقت ور کے مفاد سے نہ ٹکرائیں۔ جو طاقتیں خود کو تہذیب، قانون اور انسانی آزادی کی عَلم بردار کہتی ہیں، انھی کے ہاتھوں کئی قوموں نے تباہی، پابندیوں، جنگ، نقل مکانی، علمی تنہائی اور ادارہ جاتی بربادی کا سامنا کیا۔

    اَب حالیہ ایران ، امریکا جنگ کے معاملے میں یہ سامراجی منطق اسی اُصول پر کاربند نظر آتی ہے۔

    عالمی جریدے International Journal of Health Policy and Management میں شائع ایک اہم اداریے کے مطابق 28 فروری 2026ء کے بعد امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کی 32 جامعات تباہ یا متأثر ہوئیں، کم از کم 10 پروفیسرز اور 60 طلبا جو تحقیق کے عمل سے جڑے ہوئے تھے، جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح 2 اپریل 2026ء کو ایران کےتاریخی Pasteur Institute کو شدید نقصان پہنچا۔ یہ ادارہ 1920ء میں قائم ہوا تھا اور ویکسین، بیماریوں کی نگرانی اور صحتِ عامہ کی تحقیق میں ایک اہم علاقائی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ 

    یہ اعداد محض جنگی نقصان کی خبر نہیں ہیں یہ ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدید سامراج جنگوں کے نام پر صرف فوجی تنصیبات، سرحدوں یا حکومتوں کو نشانہ نہیں بناتا، بلکہ قوموں کے علمی ڈھانچے، تحقیقی صلاحیت، صحتِ عامہ کے نظام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی نشانہ بناتا ہے۔ اسی عمل کو اداریے میں "Scholasticide" یعنی علم کُشی کہا گیا ہے۔ اس سے مراد محض کسی اسکول یا یونیورسٹی کی عمارت کا تباہ ہونا نہیں، بلکہ ایک قوم کے علمی نظام، استاد، طالب علم، لیبارٹری، کتاب، ڈیٹا، تحقیقی روایت، ادارہ جاتی حافظہ اور مستقبل کے ماہرین کو منظم طور پر کمزور یا مکمل تباہ کرنا ہے۔

    یہاں ایک بنیادی بات سمجھنی چاہیے۔ جدید معیشتیں صرف زمین، تیل، گیس یا کارخانوں پر نہیں چلتیں، وہ knowledge economy کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں۔ جس قوم کے پاس تحقیق، یونیورسٹیاں، سائنس، ٹیکنالوجی، میڈیکل ادارے، ڈیٹا، ویکسین ریسرچ، پبلک ہیلتھ سسٹم اور تربیت یافتہ افرادی قوت ہو، وہ مستقبل میں کھڑی رہ سکتی ہے۔ اس لیے اگر کسی قوم کو مستقل طور پر کمزور کرنا ہو تو صرف اس کے فوجی اڈے تباہ کرنا کافی نہیں، اس کی علمی بنیادیں بھی مسمار کر دی جاتی ہیں۔ ایک یونیورسٹی کی تباہی صرف ایک عمارت کا گرنا نہیں۔ ایک میڈیکل یونیورسٹی کے ملبے میں آنے والے ڈاکٹروں، نرسوں، پبلک ہیلتھ ماہرین، لیبارٹری سائنس دانوں اور صحت کے منتظمین کا مستقبل بھی دَب جاتا ہے۔ ایک تحقیقی ادارے کی تباہی صرف چند کمروں یا آلات کا نقصان نہیں، اس کے ساتھ بیماریوں کی نگرانی، ویکسین کی تیاری، وباؤں کی شناخت، تحقیقی ڈیٹا اور ادارہ جاتی حافظہ بھی متأثر ہوتا ہے۔ اسی لیے IJHPM کا اداریہ یہ اہم نکتہ اٹھاتا ہے کہ علمی و تحقیقی اداروں کو صحت کے نظام کا Upstream Structural Determinant سمجھنا چاہیے۔ سادہ الفاظ میں، صحت کا نظام صرف اسپتال، ایمبولینس، ڈاکٹر اور دوا سے نہیں بنتا، اس کے پیچھے وہ علمی ادارے ہوتے ہیں جو ڈاکٹر بناتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں، بیماریوں کا ڈیٹا جمع کرتے ہیں، صحت کی پالیسی بناتے ہیں اور ادارہ جاتی تسلسل قائم رکھتے ہیں۔ جب یونیورسٹی تباہ ہوتی ہے تو اسپتال کا مستقبل بھی کمزور ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ علم کُشی صرف جنگوں اور بمباری تک محدود نہیں ۔ امن کے زمانے میں اقوام پر پابندیاں، ویزا رکاوٹیں، علمی پلیٹ فارمز تک رسائی کی بندش، journals، databases، software، online learning اور international collaboration سے محرومی بھی علمی نظام کو آہستہ آہستہ تنہا کر دیتی ہے۔ اس طرح ایک محقق اپنے ملک میں زندہ رہتا ہے، مگر عالمی علمی دنیا سے کاٹ دیا جاتا ہے۔

    بین الاقوامی قانون بھی تعلیمی اداروں کو عام جنگی ہدف نہیں سمجھتا۔ اصولاً اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز civilian objects ہیں، جب تک وہ واضح طور پر military objective ثابت نہ ہوں۔ تعلیم کے لیے مخصوص عمارتوں پر جان بوجھ کر حملہ، اگر وہ فوجی ہدف نہ ہوں، جنگی جرائم کے دائرے میں آ تا ہے،لیکن جدید جنگوں میں دوہرے استعمال کا بہانہ خطرناک حد تک پھیل گیا ہے۔ کسی بھی عوامی ادارے کو مشتبہ بنا کر تباہ کر دینا بین الاقوامی انسانی قانون کی رُوح کو کمزور کرتا ہے۔ یہاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کا کردار خاص طور پر غور طلب ہے۔ وہی طاقتیں جو دنیا کو انسانی حقوق، قانون، جمہوریت اور تہذیبی اقدار کا درس دیتی ہیں، جب کسی مخالف ملک کے علمی و تحقیقی مراکز کو حملوں کا نشانہ بناتی ہیں یا ایسے حملوں کا دفاع کرتی ہیں تو ان کے اخلاقی دعوؤں کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ طاقت اگر قانون سے بالاتر ہو جائے تو پھر ”انسانی حقوق“ محض سیاسی نعرہ رہ جاتے ہیں۔

    کسی ریاست کی حکومت سے اختلاف، اس قوم کے علمی اداروں کی تباہی کا جواز نہیں بن سکتا۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، اقتدار بدلتا رہتا ہے، مگر یونیورسٹیاں، لیبارٹریز، اساتذہ، طلبا اور تحقیقی مراکز قوموں کی اجتماعی ملکیت ہوتے ہیں۔ انھیں تباہ کرنا کسی حکومت کو سزا دینا نہیں، بلکہ عوام کے مستقبل کو سزا دینا ہے۔ علم کُشی کے خلاف خاموشی دراصل آئندہ حملوں کی اجازت بن جاتی ہے۔ جب ایک خطے میں یونیورسٹیاں جلتی ہیں اور دنیا خاموش رہتی ہے تو اگلے حملہ آور کے لیے راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ آج سوال صرف ایران کا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی قوم کے علم و دانش کے مراکز جنگی اہداف بن سکتے ہیں؟ کیا استاد، طالب علم، لیبارٹری، کتاب اور تحقیق کو طاقت کی سیاست کے رحم و کرم پر چھوڑ ا جا سکتا ہے؟

    قرآن علم کو نُور، شعور اور انسانی امتیاز کا ذریعہ بناتا ہے۔ ایک ایسا نظام جو اسپتالوں، جامعات، تحقیقی اداروں اور علمی مراکز کو جنگی حکمتِ عملی کا حصہ بنا دے، وہ صرف زمین پر تباہی نہیں پھیلاتا، بلکہ انسان کے مستقبل سے بھی جنگ کرتا ہے۔ جب علم کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو بیماریاں صرف جسموں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ پورے قومی وجود میں سرایت کر جاتی ہیں۔

    اگر نسل کُشی انسانیت کو مٹاتی ہے، توعلم کُشی قوموں کے مستقبل کو تاریک کر دیتی ہے۔

    ماخذ: Mohammad Karamouzian et al., “Scholasticide and Population Health in the Eastern Mediterranean,” International Journal of Health Policy and Management, 2026;15:10011. DOI: 10.34172/ijhpm.10011.

    Share via Whatsapp