آزادی یا ہجرت؟ — منزل باہر ہے یا اپنے وطن میں - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • آزادی یا ہجرت؟ — منزل باہر ہے یا اپنے وطن میں

    ازادی یا غلامی ہجرت کیا اس کا حل ہے یا اپنے ملک اپنے دھرتی میں رہ کر ازادی کے لیے لڑنا ازادی کے لیے جدوجہد کرنا یہ اس کا حل ہے

    By Ahmad gul Published on Aug 26, 2026 Views 88
    آزادی یا ہجرت؟ — منزل باہر ہے یا اپنے وطن میں
    احمد گل (ڈیرہ اسماعیل خان) 

    آزادی ایک ایسا لفظ ہے، جسے ہم ہر سال مخصوص دِنوں میں بار بار سنتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جدید دور میں آزادی محض زنجیروں سے نجات کا نام ہے، یا اس لفظ کا تعلق انسان کے وجود، اس کے فیصلوں اور اس کی سوچ سے بھی ہے؟ 
    آج وہ دور نہیں رہا کہ غلامی کو زنجیروں کے ذریعے منوایا جائے۔ اَب غلامی اس قدیم شکل میں موجود نہیں، بلکہ آزادی کا تصور انسان کے اپنے وجود، اپنے فیصلوں، اپنے مستقبل اور اپنی سوچ پر اختیار رکھنے سے وابستہ ہے۔ اسی طرح غلامی بھی اس کے برعکس کیفیت کا نام ہے، یعنی جب انسان اپنے وجود، فیصلوں اور مستقبل پر اختیار نہ رکھتا ہو اور کسی بیرونی طاقت کا تسلط اس کی آزادی کو محدود کر دے۔ جب تک انسان کو اپنے حقوق کی پہچان ہو اور وہ اپنے لیے فیصلے خود کرنے کے قابل ہو، اسے آزاد کہا جائے گا۔ حقیقی آزادی دراصل یہی ہے کہ انسان اپنے معاملات میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہو اور کسی بیرونی جبر یا تسلط کے تحت نہ ہو۔
    انسان نے ارتقائی مراحل کا ایک طویل سفر طے کیا ہے اور آج وہ اپنی اِنفرادی شناخت کے ساتھ ساتھ قوم کی صورت میں بھی خود کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ اسی لیے اقوام کے لیے بھی آزادی کے یہ مفاہیم انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک فرد اگر اپنے فیصلے خود کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہو تو اسے مکمل طور پر آزاد نہیں کہا جاسکتا، اسی طرح کوئی قوم بھی اس وقت تک حقیقی معنوں میں آزاد نہیں کہلاسکتی، جب تک اسے اپنے فیصلے خود کرنے اور اپنے مستقبل کا تعین کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو۔
    اقوام کے بارے میں اگر اس تصور کو ذہن میں رکھا جائے کہ غلامی صرف کسی ملک کی سرزمین پر قبضے کا نام نہیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کسی قوم کی زمین پر قبضہ کر لیا جائے تو یقیناً وہ قوم غلام سمجھی جائے گی، لیکن غلامی کی حقیقت صرف یہیں تک محدود نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی قوم کے پاس اپنی زمین، اپنی سرحدیں اور اپنی ریاست تو موجود ہو، لیکن اگر اس قوم کو اپنے وسائل کے استعمال اور اپنے چھوٹے سے چھوٹے فیصلے سے لے کر بڑے سے بڑے فیصلے تک کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو، تو وہ قوم حقیقی معنوں میں آزاد نہیں کہلا سکتی۔ اگر کسی قوم کے پاس اپنے لیے حکمران منتخب کرنے کا اختیار نہ ہو، تو پھر وہ قوم آزاد کیسے کہلا سکتی ہے؟ حکمران دراصل وہ ہوتا ہے جو جس قوم پر حکومت کرے، اس کے فیصلے اس قوم کے مفاد اور حق میں ہوں، نہ کہ اس قوم کے حقوق اور مفادات کے برعکس۔
    آج المیہ یہ ہے کہ ہمارے وطنِ عزیز کے بہت سے نوجوان آزادی اور غلامی کے حقیقی مفہوم اور ان دونوں کے درمیان فرق سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ وہ محض مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ اور ایران-امریکا ہوسٹنگ جیسے معاملات کو آزادی سمجھ بیٹھے ہیں، یا صرف مہنگائی کو وطنِ عزیز کی غلامی کا مظہر سمجھتے ہیں۔ حال آں کہ آزادی کا حقیقی مفہوم اس سے کہیں وسیع ہے۔ آزادی صرف بیرونی قبضے سے نجات کا نام نہیں، بلکہ اپنی زمین، اپنے وسائل، اپنے فیصلوں، اپنے حکمرانوں اور اپنے مستقبل پر اختیار رکھنے کا نام بھی ہے۔
    کتنا بڑا المیہ ہے کہ آج اس وطنِ عزیز کا نوجوان آزادی کے نام پر منائے جانے والے اس دن کو کتنے جوش و خروش سے مناتا ہے۔ وہ اس دن گھروں سے نکلتا ہے اور اپنی صلاحیتوں، اپنی توانائی اور اپنے وسائل کو آزادی کے نام پر ہونے والی غیرمفید سرگرمیوں میں صرف کرتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کیا یہی نوجوان کبھی اسی جوش و خروش کے ساتھ اپنے حقوق کے لیے بھی نکلا ہے؟ کیا اس نوجوان کے بارے میں کیے جانے والے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف اس نے کبھی اسی جذبے اور جوش و خروش کے ساتھ مزاحمت کی ہے؟ کیا اس نے اپنے حقوق کے حصول کے لیے کبھی جدوجہد کی ہے؟ کیا اس نے اس مقصد کے لیے کوئی منصوبہ بندی کی، کوئی لائحہ عمل تشکیل دیا یا کوئی قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے؟ یا پھر ان سب کاموں سے گریز کرتے ہوئے، بزدلوں کی طرح پیٹھ دکھا کر ملک چھوڑنے کی تیاری میں مصروف ہے؟ اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ تیاری بھی کس چیز کی کی جارہی ہے؟ اس بات کی کہ دوسرے ممالک، مثلاً یورپ، جرمنی، چین اور دیگر ممالک میں جا کر، دوسری شہریت حاصل کرکے، وہی نوجوان وہاں کی اقوام کی خدمت اور ان کے نظام کا حصہ بن کر اپنی زندگی گزارے۔
    سوال یہ ہے کہ جس نوجوان کے پاس اپنے وطن میں اپنے حقوق، اپنے مستقبل اور اپنے فیصلوں کے لیے جدوجہد کرنے کا حوصلہ نہیں، کیا دوسرے ملک میں جا کر اسے حقیقی آزادی حاصل ہوسکتی ہے؟ اگر آزادی کا مطلب اپنے وطن، اپنے وسائل، اپنے فیصلوں اور اپنے مستقبل پر اختیار ہے، تو پھر محض ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہو جانا آزادی نہیں، بلکہ غلامی کی ایک مختلف شکل ہے۔ 
    ہمارے وطنِ عزیز کا نوجوان آخر کن خوابوں میں گم ہے؟ کیا اسے اتنا شعور نہیں کہ محض جھوٹے سنہری باغ دِکھا کر دوسرے ممالک کو جنت بنا کر پیش کیا جاتا ہے؟ غلام میڈیا کا یہ ایک بڑا اور پرفریب کارنامہ ہے کہ ہمارے وطنِ عزیز کے نوجوانوں کو ان ممالک کی اصل حقیقت نہیں دِکھائی جاتی، جہاں خود وہاں کے عوام غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ وہاں بھی عام لوگ مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں اور بعض اوقات یہاں کے عام عوام سے بھی بدتر حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ چند مخصوص طبقات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مختلف معاشی اور سماجی مجبوریوں کے تحت ایک محدود اور غلامانہ زندگی بسر کرنا پڑتی ہے۔
    لیکن افسوس! ہمارے وطنِ عزیز کے نوجوان پر بیرونِ ملک جانے کا ایسا جنون سوار ہے کہ اسے لازماً باہر جانا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سراب کےپیچھے اپنے خاندان کے لاکھوں روپے خرچ کرنے ہیں، اپنی جوانی کا قیمتی وقت ضائع کرنا ہے اور اس وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بھی برباد کرنا ہے۔ بیرونِ ملک جانے کی امید اور ویزے کے چکروں میں کئی کئی قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس دوران یہ نوجوان نہ کوئی ہنر سیکھ پاتا ہے اور نہ ہی خود کو اس قابل بنا پاتا ہے کہ آگے چل کر کچھ کر سکے یا دوسروں کے لیے کوئی مفید کردار ادا کر سکے۔
    اور یہی ہمارے وطنِ عزیز کے نوجوان کے نزدیک آزادی بن چکی ہے۔ باہر جانا، اپنے وطن کو پیٹھ دِکھانا اور دُم دبا کر بھاگ جانے کو آزادی سمجھنا۔ یہاں بیٹھ کر کام نہیں کرنا، محنت نہیں کرنی، بلکہ بے مقصد انتظار کرتے رہنا۔ اس کے پاس اگر کوئی بات ہے تو بس یہی کہ 'اس ملک میں رکھا ہی کیا ہے؟ میں باہر جانا چاہتا ہوں'۔ 
    لیکن میرے ہم وطن عزیز نوجوانو! اصل بات یہ ہے کہ یہ ملک ہمارا ہے۔ ہم اس ملک کو چھوڑ کر کہاں جائیں گے؟ ہمارے آباؤ اجداد نے اسی سرزمین پر اپنی زندگیاں گزاری ہیں۔ انھوں نے اس دھرتی کو اپنا خون، پسینہ اور اپنی محنت دی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور پھر اسی بھاگنے کو آزادی کا نام دے؟
    نہیں، ہرگز نہیں!
    حقیقی آزادی اپنے گھر اور اپنے وطن سے فرار ہونے کا نام نہیں۔ حقیقی آزادی یہ ہے کہ ہم اپنے وطن کو مضبوط بنائیں، اس کی حفاظت کریں، اس کے وسائل پر اپنا اختیار قائم کریں اور اسے حقیقی معنوں میں آزاد اور خودمختار بنائیں۔
    یہ ملک ہمارا ہے، یہ دھرتی ہماری ہے اور اس کا مستقبل بھی ہمارا ہے۔ ہمیں اس ملک کو چھوڑ کر بھاگنا نہیں، بلکہ اسے سنوارنا ہے۔ ہمیں اپنی صلاحیتیں، اپنی محنت، اپنی جوانی اور اپنی توانائیاں اسی وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کرنی ہیں۔ ہمیں اپنے وطن کی حفاظت کرنی ہے، اسے حقیقی معنوں میں آزاد کرنا ہے اور اپنی زندگی، اپنے مستقبل اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اپنے وطنِ عزیز کی تعمیر، ترقی اور سربلندی کے لیے وقف کر دینی ہیں۔
    Share via Whatsapp