افغان ٹرانزٹ تجارت کا بدلتا رخ اور خطے کی نئی معاشی صورتحال - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • افغان ٹرانزٹ تجارت کا بدلتا رخ اور خطے کی نئی معاشی صورتحال

    افغان ٹرانزٹ تجارت کا بدلتا رخ اور خطے کی نئی معاشی صورتحال

    By Fawad khan Published on Sep 29, 2026 Views 77
    افغان ٹرانزٹ تجارت کا بدلتا رخ اور خطے کی نئی معاشی صورتِ حال
    تحریر؛ فواد خان (لاہور) 

    دنیا کی موجودہ سیاست میں جغرافیہ اور معیشت ایک دوسرے سے گہری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ریاستوں کی اہمیت اَب صرف عسکری قوت یا سیاسی اَثر و رسوخ سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ تجارتی راستے، بندرگاہیں، منڈیاں، توانائی کے ذرائع اور علاقائی رابطے بھی معاشی اور سیاسی طاقت کے اہم عناصر بن چکے ہیں۔ جنوبی اور وسطی ایشیا میں افغانستان کی بدلتی ہوئی تجارتی ترجیحات اس نئی صورتِ حال کی ایک اہم مثال ہیں۔
    افغانستان خشکی میں گھرا ہوا ایک ملک ہے، اس لیے عالمی تجارت کے لیے اسے اپنے ہمسایہ ممالک کے زمینی راستوں اور بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان اپنے سرحدی ممالک کے ساتھ زمینی تجارت کرسکتا ہے، تاہم جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک تک براہِ راست سمندری رسائی نہ ہونے کے باعث اسے کسی ایسے قریبی ملک کی ضرورت رہتی ہے، جس کے پاس بندرگاہ موجود ہو۔
    اس صورتِ حال میں پاکستان طویل عرصے تک افغانستان کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔ کراچی اور دیگر پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے افغانستان کو جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک کی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں افغانستان نے پاکستان کے ذریعے تقریباً 5.439 ارب ڈالر کی تجارت کی۔ اس سے قبل 2022-23 میں پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے افغان تجارت کا حجم تقریباً 6.7 ارب ڈالر رہا تھا۔
    افغانستان کے لیے پاکستان کی اہمیت صرف سمندری راستے تک محدود نہیں۔ پاکستان بھی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ یوں دونوں ممالک کی جغرافیائی ضروریات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
    اسی باہمی ضرورت کو منظم کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان نے 2010ء میں افغانستان پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو تجارتی مقاصد کے لیے ایک دوسرے کی سرزمین استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔ اس انتظام کے ذریعے افغانستان کو پاکستانی راستوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی ملی، جب کہ پاکستان کو افغان اور وسطی ایشیائی تجارت سے معاشی روابط بڑھانے کا موقع حاصل ہوا۔
    تاہم تجارت صرف جغرافیائی قربت سے نہیں چلتی۔ سیاسی استحکام، سرحدی انتظام، باہمی اعتماد، کسٹمز کی سہولت، کم اخراجات اور تجارتی پالیسی کا تسلسل بھی تجارتی راستوں کی اہمیت طے کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے افغان تاجروں کے لیے پاکستانی راستے کے استعمال میں غیریقینی فضاء پیدا کی ہے۔
     2025ء میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد تجارتی راہداریوں کی بندش نے افغان تاجروں کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ افغانستان ایک عرصے سے پاکستان کے تجارتی راستوں پر انحصار کرتا رہا تھا، اس لیے اچانک پیدا ہونے والی رکاوٹ نے افغان تاجروں اور حکام کی توجہ متبادل راستوں کی طرف مبذول کر دی۔
    ایران نے بھی اس صورتِ حال میں افغانستان کے ساتھ اپنے تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کی۔ ایران کی چاہ بہار بندرگاہ افغانستان کے لیے سمندر تک ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ افغان تاجروں کو چاہ بہار کی طرف راغب کرنے کے لیے ایران نے بندرگاہی اور ذخیرہ کرنے کے اخراجات میں نمایاں رعایتیں فراہم کیں۔ ان اخراجات میں 30 سے 70 فی صد تک کمی کی گئی، جس کے بعد افغان تجارت کے ایک حصے نے ایرانی راستے کا رخ کیا۔
    افغانستان کی تجارتی حکمت عملی میں وسطی ایشیائی ممالک بھی اہم مقام حاصل کر رہے ہیں۔ ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے قریب واقع ہیں، جب کہ افغانستان جنوبی اور وسطیٰ ایشیا کے درمیان ایک اہم زمینی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ سڑکوں، ریلوے اور سرحدی تجارتی سہولتوں کی ترقی سے افغانستان مستقبل میں ایک اہم علاقائی تجارتی راستہ بن سکتا ہے۔
    فراہم کردہ معلومات کے مطابق افغانستان کی 48 فی صد درآمدات وسطی ایشیائی ممالک سے آتی ہیں، جو ان ممالک کے ساتھ افغانستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
    اگر افغانستان اپنے تجارتی راستوں کو مزید متنوع بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو وسطی ایشیا کی تجارت جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک پہنچ سکتی ہے، جب کہ جنوبی ایشیائی ممالک کو بھی وسطی ایشیا تک رسائی کے مزید مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔ اس طرح افغانستان محض ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک نہیں رہتا، بلکہ مختلف معاشی خطوں کو آپس میں ملانے والے ایک اہم زمینی رابطے کے طور پر اپنی اہمیت بڑھا سکتا ہے۔
    افغانستان کا متبادل راستوں کی طرف بڑھنا پاکستان کے لیے بھی اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے ایک قدرتی تجارتی راستہ بناتی ہے، لیکن صرف جغرافیہ کسی ملک کو مستقل تجارتی مرکز نہیں بناتا۔ اگر کسی راستے پر بار بار رکاوٹیں پیدا ہوں تو تاجر متبادل راستوں کا رخ کر سکتے ہیں، خواہ وہ نسبتاً طویل یا مہنگے ہی کیوں نہ ہوں۔
    پاکستان کے لیے افغان ٹرانزٹ تجارت اس لیے بھی اہم ہے کہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس لیے افغان تجارت کا معاملہ صرف افغانستان کو بندرگاہی سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں، بلکہ پاکستان کے اپنے وسطی ایشیا کے ساتھ مستقبل کے معاشی روابط سے بھی جڑا ہوا ہے۔
    موجودہ صورتِ حال جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے درمیان نئی معاشی صف بندی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ پاکستان کی بندرگاہیں، ایران کی چاہ بہار بندرگاہ، افغانستان کے زمینی راستے اور وسطی ایشیائی تجارتی راستے ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔ افغانستان ایک طرف پاکستان کے ذریعے بحیرۂ عرب تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، دوسری جانب ایران کے ذریعے چاہ بہار استعمال کرسکتا ہے اور تیسری جانب وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ زمینی اور ریلوے روابط بڑھا سکتا ہے۔
    اس صورتِ حال میں کسی ایک ملک یا راستے پر مستقل انحصار کم ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مستقبل میں تجارتی راستوں کی اہمیت اس بات سے بھی طے ہوگی کہ کون سا راستہ تاجروں کو زیادہ قابلِ اعتماد، کم خرچ، محفوظ اور مؤثر سہولت فراہم کرتا ہے۔
    افغان ٹرانزٹ تجارت میں آنے والی تبدیلی اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ موجودہ دور میں معاشی تعلقات جامد نہیں ہوتے۔ جغرافیہ کسی ملک کو ابتدائی فائدہ ضرور دے سکتا ہے، لیکن اس فائدے کو مستقل معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کے لیے سیاسی استحکام، باہمی اعتماد، بہتر بنیادی ڈھانچے اور مستقل تجارتی پالیسی ضروری ہوتی ہے۔
    پاکستان اور افغانستان اَب بھی ایک دوسرے کی جغرافیائی ضروریات سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے لیے پاکستان کی بندرگاہیں اہم ہیں، جب کہ پاکستان کے لیے افغانستان وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم زمینی راستہ ہے۔ تاہم چاہ بہار اور وسطی ایشیائی راستوں کی ترقی نے افغانستان کے لیے متبادل امکانات پیدا کر دیے ہیں، جس سے خطے کی تجارت اور معاشی تعلقات آنے والے برسوں میں مزید تبدیل ہو سکتے ہیں۔
    Share via Whatsapp