نبوی دعوت: مکہ کے سیاسی، معاشی اور مذہبی نظام کے خلاف ایک چیلنج
ساتویں صدی عیسوی کا مکہ صرف ایک مذہبی مرکز ہی نہیں تھا ،بلکہ عرب کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا بھی محور سمجھا جاتا تھا۔ بہ ظاہر یہ ایک .....
نبوی دعوت: مکہ کے سیاسی، معاشی اور مذہبی نظام کے خلاف ایک چیلنج
تحریر؛ محمد نثار۔ بنوں
ساتویں صدی عیسوی کا مکہ صرف ایک مذہبی مرکز ہی نہیں تھا ،بلکہ عرب کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کا بھی محور سمجھا جاتا تھا۔ بہ ظاہر یہ ایک آزاد تجارتی شہر تھا، لیکن اس کے پسِ پردہ اقتدار، دولت اور مذہبی اثر و رسوخ چند مخصوص خاندانوں اور افراد کے ہاتھوں میں مرتکز تھا۔ دارالندوہ کے سردار اور قریش کے بااَثر لوگ نہ صرف سیاسی فیصلوں پر قابض تھے، بلکہ تجارت، حج کے انتظامات، مالی معاملات اور مذہبی قیادت بھی انھی کے زیرِ اَثر تھی۔ اس نظام نے ایک ایسی اشرافیہ کو جنم دیا تھا جو اپنی طاقت اور مفادات کے تحفظ کے لیے معاشرے کے ہر اہم شعبے پر گرفت رکھتی تھی۔ اس صورتِ حال میں حضوراکرم ﷺ کی دعوتِ اسلام نے جو کہ مکہ والوں کے غیرانسانی نظام کے خلاف دعوت تھی، ان بالادست طبقات کے ذہنوں میں بھونچال پیدا کردیا اور سوچنےپر مجبور کردیاتھا۔
رسول اللہ ﷺ کی دعوتِ توحید محض ایک مذہبی پیغام نہیں تھا، بلکہ فاسد، انتشاری اور غیرانسانی نظام کے خلاف ایک ہمہ گیر فکری، اخلاقی اور سماجی انقلاب کی بنیاد تھا۔ آپ ﷺ نے جب انسانوں کو ایک اللہ کی بندگی، عدل، مساوات، امانت داری اور ظلم کے خاتمے کی دعوت دی تو درحقیقت آپ ﷺ نے اس پورے نظام کو چیلنج کیا جو کمزور طبقات کے استحصال، معاشی اجارہ داری اور مذہبی اقتدار کے سہارے قائم تھا۔
مکہ کے نظام میں چند مخصوص افراد کی اجارہ داری قائم تھی۔ ابوجہل اور دارالندوہ کے سردار اقتدار اور وسائل پر قابض تھے اور کسی دوسرے شخص کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتے تھے۔ تجارتی اور معاشی معاملات بھی انھی کے زیرِ اثر تھے۔ سود کو عام کرکے انسانی غلامی کی راہ ہموار کی گئی تھی، سود معاشرے میں غربت اور معاشی ناہمواری کو جنم دیتا ہے۔ کسی کاروباری سرگرمی میں شراکت داری اور بات ہے، لیکن عرب معاشرے میں سود کے ذریعے اصل رقم سے کہیں زیادہ وصول کیا جاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں قرض اور غلامی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا تھا۔ بہت سے لوگ قرض کے بوجھ تلے دَب کر عملی طور پر غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ سود انسانیت کی روح کو کمزور کر دیتا ہے اور توجہ کو صرف دولت کے حصول تک محدود کر دیتا ہے۔ اُس نظام میں ایک شخص دوسرے کو رقم دیتا اور پھر اس پر مزید رقم وصول کرتا تھا، یوں محنت کی اصل قدر ختم ہونے لگتی۔ بالائی طبقہ نچلے طبقے کی محنت سے فائدہ اٹھاتا، جب کہ مقروض شخص قرض واپس کرنے کے ساتھ اضافی رقم ادا کرنے پر بھی مجبور ہوتا، اس طرح دوسروں کی محنت پر ایک طرح کی اجارہ داری قائم ہو جاتی تھی۔ نتیجتاً اخلاقی اقدار اور انسانی ہمدردی کمزور پڑ جاتی اور معاشرے میں دولت کو سب سے بڑی اہمیت حاصل ہو جاتی تھی۔
اگر کوئی شخص قرض واپس نہ کر سکے تو اسے ذِلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اس پر مختلف شرائط عائد کی جاتیں، اس کی جائیداد ضبط کی جا سکتی تھی اور اسے بے عزت کیا جا سکتا تھا۔ اگر اس کے ساتھ ناانصافی بھی ہوتی تو وہ اس کے خلاف آواز بلند کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا تھا۔ اس طرح پورا معاشرہ بتدریج تنزلی کا شکار ہو جاتا تھا، مکہ میں یہی معاشی صورتِ حال موجود تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے جب سود کے خلاف اعلان فرمایا تو یہ درحقیقت دارالندوہ کے اس معاشی نظام کو چیلنج کرنا تھا، جس کے ذریعے دولت مند طبقہ عوام پر غلبہ قائم کیے ہوئے تھا۔ آپ ﷺ جب لوگوں سے بیعت لیتے تو اس میں سود سے اجتناب کی شرط بھی شامل ہوتی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت کا ایک بنیادی مقصد سودی نظام کا خاتمہ تھا۔ یوں دولت مند طبقے کی اجارہ داری کو چیلنج کیا گیا اور محنت کش طبقے کی حمایت کی گئی۔
مکہ میں حج کے موقع پر ایک بڑا بین الاقوامی میلہ بھی منعقد ہوتا تھا۔ اس کے انتظامات اور معاملات پر بھی دارالندوہ کے بااَثر افراد کا کنٹرول تھا۔ ظاہر ہے کہ اس میلے سے حاصل ہونے والے منافع کا بڑا حصہ انھی لوگوں کے پاس جاتا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر کسی عام شخص کا کاروبار غیرمعمولی طور پر ترقی کرنے لگتا تو ابوجہل یا اس کے ساتھی اس پر اپنا اَثر و رسوخ قائم کر لیتے تھے۔ اس طرح اس بین الاقوامی تجارتی سرگرمی پر بھی دارالندوہ کا غلبہ تھا اور آزاد تجارتی منڈی کا تصور موجود نہیں تھا۔ تجارتی قافلے بھی انھی کے زیرِ اَثر تھے۔ اگر کسی شخص نے قافلوں کے ذریعے تجارت کرنی ہوتی تو اسے انھی کے توسط سے اپنا سامان بھیجنا پڑتا تھا، اور وہ اس سے اپنا حصہ وصول کرتے تھے۔ اگر کوئی ان کے بغیر تجارت کرنے کی کوشش کرتا تو راستے میں لٹ جانے کا خطرہ موجود رہتا تھا۔ اس طرح پورا معاشرہ ایک ایسے نظام میں جکڑا ہوا تھا جس سے نکلنا آسان نہ تھا۔
سودی معیشت کے نتیجے میں انسانی غلامی کے ساتھ ان بالادست طبقات میں شراب نوشی بھی عام تھی۔ شراب بیچنے کا کاروبار بھی ان میں عام تھا، شراب کے نتیجے میں جو عام سماجی خرابی اور برائیاں، جیسے کہ انسان کے نفس کی سرکشی پر آمادگی، سماجی بے شعوری، صحیح اور غلط میں تمیز کا کھو جانا، خاندانی نظام کے نقصانات اور خطرات، انسانی رویوں میں غصے، تشدد، بےرحمی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل جیسی خرابیاں، عام تھیں۔ اس کا اَثر نہ صرف مکہ والوں کی ذاتی زندگی، بلکہ پورے معاشرے پر پڑتا، حکمران طبقہ بدمست بن جاتا اور عام طبقے میں بھوک، ذلت، پستی کے ساتھ ساتھ دلوں میں نفرت کا لاوا بھی پکتا رہتا، لیکن کچھ کرنے کی سکت نہ تھی۔
مکہ کا معاشرہ مختلف طریقوں سے انھی طاقتوں کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ ایک طرف شراب فروخت کی جا رہی تھی، دوسری طرف سود وصول کیا جا رہا تھا۔ تجارتی قافلے ان کے کنٹرول میں تھے، بین الاقوامی میلہ ان کے زیرِاَثر تھا اور خانہ کعبہ کی نگرانی بھی انھی کے ہاتھ میں تھی۔ خانہ کعبہ میں رکھے گئے بتوں کی دیکھ بھال بھی یہی لوگ کرتے تھے اور اسی بنیاد پر خود کو معاشرے کا حاکم سمجھتے تھے۔ ان کے خلاف آواز اٹھانا آسان نہ تھا۔ یوں مکہ کی پوری سوسائٹی ایک طرح سے ان کے تسلط کے تحت تھی۔ اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ نے ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو یہ مکہ کے قائم شدہ نظام اور اس کے فکری و مذہبی ڈھانچے کے لیے ایک چیلنج تھا۔ انھی بتوں کے ذریعے لوگوں پر اَثر و رسوخ قائم رکھا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ سود کے سخت مخالف تھے۔ آپ ﷺ بیعت لینے والوں کو تلقین فرماتے کہ سود سے بچیں، ظلم نہ کریں، امانت میں خیانت نہ کریں اور دیگر برائیوں سے اجتناب کریں۔
رسول اللہ ﷺ صادق و امین کے لقب سے معروف تھے۔ لوگوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ ﷺ سے رجوع کرنا شروع کر دیا۔ اس سے پہلے لوگ اپنے تنازعات کے فیصلے کے لیے ابوجہل کے پاس جاتے تھے، جسے ابو الحکم بھی کہا جاتا تھا۔ وہ اپنے انداز میں فیصلے کرتا اور اس سے فائدہ بھی حاصل کرتا تھا۔ بعد ازاں لوگوں نے اپنی شکایات اور فریادیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کرنا شروع کر دیں۔ اس طرح رسول اللہ ﷺ ایک ایسی جماعت اور قوت کے طور پر سامنے آئے جو دارالندوہ کے سیاسی اور معاشی نظام سے مختلف تھی۔ آپ ﷺ اس نظام کے مخالف تھے جو مکہ کے معاشرے کو اخلاقی اور سماجی اعتبار سے نقصان پہنچا رہا تھا۔ یہی وَجہ تھی کہ دارالندوہ کے بااثر افراد آپ ﷺ کے مخالف ہو گئے۔
بنیادی طور پر ان لوگوں کا مؤقف یہ تھا کہ آپ عبادت کریں اور نماز ادا کریں، لیکن اپنی دعوت میں ان بالادست طبقات کے خلاف بات نہ کریں۔ اسی لیے قرآنِ مجید کی وہ آیات جن میں ظلم اور ناانصافی کے خلاف تنبیہ کی گئی تھی، ان لوگوں پر پوری طرح منطبق ہوتی تھیں۔ چوں کہ وہ عربی زبان جانتے تھے، اس لیے ان آیات کے مفاہیم کو بھی اچھی طرح سمجھتے تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے تین سال بعد صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر اپنے قریبی رشتہ داروں اور اہلِ مکہ کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ یہ کلمہ قبول کر لو، عرب و عجم پر غلبہ حاصل کر لو گے، تو اس کا مفہوم یہ تھا کہ تمھیں ایک ایسا نظام اور قوت حاصل ہوگی جو تمھیں عزت، اقتدار اور سربلندی عطا کرے گی۔ یوں رسول اللہ ﷺ ایک جماعت اور ایک نظام کی صورت میں لوگوں کے سامنے آئے۔
اس پورے پس منظر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت نے ابتدا ہی سے مکہ کے رائج سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کو چیلنج کیا، اور دارالندوہ کی بالادستی کے مقابلے میں ایک نئی فکری اور اخلاقی بنیاد پیش کی، جس میں توحید کا حقیقی تصور یعنی انسانی غلامی کا خاتمہ، جبر و ظلم کا خاتمہ، وحدتِ انسانیت اور عدل و انصاف کا قیام، انسانی اخوت اور ہمدردی کا پیغام تھا، اور ان صفات پر ایک انسانی معاشرے کے قیام کی حکمت عملی بھی دی گئی تھی جس کے نتیجے میں مکے کا نظام تبدیل ہوا اور ایک عالمگیر اخوت اور عدل کا نظام قائم ہوا۔









