تین سو سالہ سرمایہ دارانہ نظام کا عروج و زوال
عالمی نظام کا زوال اور ایران جنگ کے ریجن میں اثرات ، بدلتے ہوئے عالمی مظرنامہ کا سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کی کیا زمہ داریاں ہو سکتی ہیں
تین سو سالہ سرمایہ دارانہ نظام کا عروج و زوال
تحریر: عادل بادشاہ( مانسہرہ)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ"
”وہ ہر آن نئی شان میں ہے“۔ (سورۃ الرحمٰن: 29)
دنیا کی ہر شے مسلسل ارتقاکے عمل سے گزرتی ہے اور ہر وجود نشوونما، عروج، پختگی اور زوال کے مختلف مراحل طے کرتا ہے۔ انسانی معاشرے اور ان کے اجتماعی نظام بھی اسی فطری قانون کے تابع ہیں۔ ابتدا میں ایک سماجی تنظیم کسی مشترکہ نظریے، مقصد یا فکر کے گرد وجود میں آتی ہے، پھر نظریاتی شعور، اجتماعی تجربے اور تنظیمی ارتقا کے ذریعے خاندان، قبائل، شہر، ریاستیں اور بالآخر بین الاقوامی معاشرہ اور عالمی نظام تشکیل پاتے ہیں۔
ہر نظام ایک خاص دور میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور مؤثریت کے عروج پر پہنچتا ہے، لیکن جب وہ اپنے اندر پیدا ہونے والے نئے مسائل کا حل فراہم کرنے اور بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو اس کے زوال کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام اپنی تاریخی عمر کے آخری مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے اور اپنی بقا، استحکام اور پائیداری کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
قرآن حکیم نے دو جماعتوں کا تعارف کروایا ہے ایک حزبِ الشیطان جو ظلم و استحصال پر قائم ہوتی ہے اور دوسری حزبُ الرحمٰن (حزب اللہ) جوانصاف کا نمائندہ ہوتی ہے۔ تاریخ کے آغاز سے ہی ان دونوں گروہوں کے درمیان کشمکش، معاشرے اور نظاموں پر غلبے کے لیے جاری رہی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم ان دو قسم کے معاشروں کو مختلف انداز میں اس طرح بیان کرتا ہے:
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًۭا قَرْيَةًۭ كَانَتْ ءَامِنَةًۭ مُّطْمَئِنَّةًۭ يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًۭا مِّن كُلِّ مَكَانٍۢ
”اللہ ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے جو امن و اطمینان والی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق فراوانی کے ساتھ آتا تھا“۔ (النحل: 112)
یہ ایسے معاشرے کی تصویر ہے جہاں سیاسی امن، جان و مال کا تحفظ اور معاشی خوش حالی موجود ہو۔
اسی آیت کے دوسرے حصے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا کہ:
فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ
”پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، تو اللہ نے ان کے اعمال کے بدلے انھیں بھوک اور خوف کا لباس چکھا دیا“۔ (النحل: 112)
یہ اس معاشرے کی تصویر ہے، جہاں معاشی طور پر بھوک ، افلاس ، غربت اور سیاسی طور پر امن و امان کا خوف مسلط ہو۔ انھی دو متصادم سماجی گروہوں کے درمیان جدوجہد تاریخ کے آغاز سے جاری ہے، جب حزب الرحمن کا غلبہ ہوتا ہے، تو سیاسی امن اور معاشی خوش حالی ہوتی ہے اور جب حزب الشیطان کا غلبہ ہوتا ہے تو بھوک ، بدامنی اور خوف معاشرے کا مقدر بن جاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی جدوجہد بھی ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور دیگر سرداروں کے اس غیرمنصفانہ نظام کے خلاف تھی جو ظلم، جبر اور استحصال پر قائم تھا اور قصی بن کلاب کے دور سے تقریباً تین سو سال سے چلا آرہا تھا۔ متبادل قیادت کی تیاری، ریاستِ مدینہ کا قیام اور اسلامی نظام کا بین الاقوامی غلبہ سب قرآن کے وژن کے مطابق تھا۔
پندرھویں اور سولہویں صدی میں یورپ میں جاگیردارانہ ظلم کے خلاف شعور بیدار ہونا شروع ہوا، جو بالآخر 1789ء کے انقلابِ فرانس پر منتج ہوا۔ اس دوران عوام میں مذہب سے بیزاری پیدا ہوئی، کیوں کہ کلیسا نے جاگیردار طبقے کا ساتھ دیا تھا اور وہ غربت و محرومی کو خدائی تقدیر قرار دیتا تھا۔اس کے بعد تقریباً ایک صدی تک مرکنٹائل اِزم (تجارتی سرمایہ داری) کا دور رہا۔ وہی جاگیردار طبقہ اَب چھوٹی صنعتیں قائم کرنے لگا تھا۔ اسی دوران یورپ کا تجارتی طبقہ نئی منڈیوں کی تلاش میں ایشیا، افریقا، عرب دنیا اور امریکا تک پھیل گیا۔ دوسری طرف خلافتِ عثمانیہ کا بین الاقوامی عادلانہ نظام زوال پذیر تھا، کیوں کہ دنیا زرعی دور سے صنعتی دور میں داخل ہورہی تھی، جب کہ اسلامی نظام اَب بھی زرعی عہد کے اصولوں پر قائم تھا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اسے مشینی دور کے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو تشکیل دیا جاتا۔
سلطنت عثمانیہ کے نظام کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے یورپی اقوام نے دنیابھر میں اپنی نوآبادیات قائم کرنا شروع کر دیں۔ یہی یورپی سرمایہ دارانہ عالمی نظام کا آغاز تھا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں دراصل انہی عالمی منڈیوں پر قبضے کی جنگیں تھیں۔
سرمایہ دارانہ نظام نے مزدوروں اور کسانوں کے استحصال کو شدید تر کر دیا۔ مزدوروں کو روزانہ دس سے سولہ گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جس سے سرمایہ داروں کی لوٹ مار اور خونریزی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس بدترین استحصال کے ردِعمل میں یورپ میں ایک متبادل نظام یعنی سوشل اِزم ابھرا۔ روس نے اپنا سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ سوشل اِزم کی بنیادوں پر استوار کیا، اور بعد میں چین اور دیگر ممالک نے بھی اسی نظام کو اختیار کیا۔
جب سرمایہ دارانہ نظام کی قیادت برطانیہ سے امریکا منتقل ہوئی تو دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا نے نوآبادیاتی نظام کو نیو نوآبادیاتی' (Neo-Colonial) ماڈل کے تحت ازسرِنو منظم کیا۔ برطانیہ نے دو صدیوں تک براہِ راست نوآبادیاتی تسلط کے ذریعے سرمایہ داری کو برقرار رکھا تھا، مگر بریٹن ووڈز معاہدے کے بعد امریکا نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا، جس میں سابقہ کالونیوں کو بہ ظاہر آزادی دے دی گئی، لیکن عالمی اداروں کے ذریعے ان پر معاشی و سیاسی کنٹرول برقرار رکھا گیا۔
امریکا کے لیے سوویت سوشل اِزم اس نئے عالمی نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ تھا۔ چناں چہ امریکا اور سوویت یونین کے درمیان تقریباً پینتالیس سال تک سرد جنگ جاری رہی۔ اس دوران امریکا نے اپنی سب سے بڑی خفیہ کارروائی ”آپریشن سائیکلون“ (جسے مقامی سطح پر افغان جہاد کہا جاتا ہے) کے ذریعے سوشل اِزم کو ایشیا میں مزید پھیلنے سے روکا۔
خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد عالمِ اسلام کے پاس کوئی عالمی سیاسی نظام باقی نہ رہا اور بیش تر مسلم ممالک امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ہو گئے۔ اگرچہ کیوبا، وینزویلا، شمالی کوریا، روس اور چین جیسے ممالک نے امریکی غلبے سے نکلنے کی کامیاب کوشش کی، وہیں بعض مسلم ممالک جیسے لیبیا، شام، عراق، یمن، اورسوڈان نے بھی یہ راہ اختیار کرنی چاہی، مگر امریکا نے عسکری و سیاسی مداخلت سے انھیں تباہ کر دیا۔
آج ایران کو بھی فرقہ وارانہ زاویے سے ہٹ کر اسی عالمی نظام کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1979ء کے انقلابِ ایران کے ذریعے اس نے خود کو امریکی عالمی نظام سے آزاد کر کے ایک خودمختار ڈھانچہ قائم کیا۔ چوں کہ عالمی نظام پر امریکا کا غلبہ ہے، اس لیے اس نے گزشتہ ساڑھے چار دہائیوں سے ایران پر سخت معاشی، سیاسی اور تجارتی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ آج امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا ایک بڑا سبب یہ خوف ہے کہ کہیں ایران بھی چین کی طرح ایک علاقائی و عالمی طاقت نہ بن جائے، اسی لیے جنگ کے ذریعے اس کی قوت کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، عرب ریاستیں آج بھی عملی طور پر امریکی نوآبادیات کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے عرب دنیا کو نو ریاستوں میں تقسیم کر کے ہر جگہ اپنے وفادار حکمران خاندان مسلط کیے تھے۔ وہی خاندان آج بھی بیرونی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔
عالمی سرمایہ دارانہ نظام اَب تقریباً تین سو سال سے دنیا پر حکمرانی کر رہا ہے، جس میں دو سو سال برطانیہ نے قیادت کی اور تقریباً ایک صدی سے امریکا غالب ہے۔ آج ایران جیسے نسبتاً کمزور ملک کی مزاحمت اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ شاید یہ امریکی عالمی سرمایہ داری کی آخری صدی ہو۔ اَب چین ایک نئی عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، جب کہ BRICS+ ایک ایسے نئے عالمی منظرنامے کی بنیاد بن رہا ہے جو سرمایہ دارانہ یک قطبی (Unipolar) نظام کے برعکس کثیر القطبی (Multipolar) ہوگا۔
ایران امریکا تنازعے نے چین اور روس کے سامنے امریکی نظام کی کمزوریاں واضح کر دی ہیں۔ خود امریکا کو بھی یہ احساس ہو چلا ہے کہ اگر وہ ایران جیسے نسبتاً کمزور اور تیسری دنیا کے ملک کو فیصلہ کن شکست دینے میں ناکام رہتا ہے، تو چین جیسی مہا طاقت کا مقابلہ کرنا اس کے لیے کہیں زیادہ کٹھن ہوگا۔ ایک اور اہم حقیقت یہ ہے کہ یہ تین سو سالہ دیوہیکل نظام شاید یک لخت زمین بوس نہ ہو اور مکمل طور پر گرنے میں کچھ وقت لے، لیکن اس کا زوال اَب ناگزیر ہوچکا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مئی 2026ء کا حالیہ دورۂ چین، جس میں امریکی کارپوریشنوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے 17 سی ای اوز بھی شامل تھے، عالمی معاشی اور جغرافیائی سیاست (Geopolitics) میں ایک نمایاں سدا بہار تبدیلی کی علامت ہے۔ اس دورے نے مغربی بالادستی کے روایتی تصورات سے ہٹ کر زیادہ حقیقت پسندانہ اور باہمی انحصار پر مبنی عالمی تعلقات کی عکاسی کی ہے۔
تجارتی و ٹیرف جنگوں، پاک بھارت تنازعات اور ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے بعد چین کی ٹیکنالوجی نے امریکا اور یورپ کے مقابلے میں اپنی مضبوط مسابقتی حیثیت منوا لی ہے۔ ان حالات نے چین کے بڑھتے ہوئے تکنیکی اور معاشی اثر و رسوخ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اسی دوران وال اسٹریٹ اور عالمی کارپوریشنیں بھی بدلتے ہوئے عالمی سرمایہ دارانہ ڈھانچے کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری جانب، بھارت میں منعقدہ BRICS+ سربراہی کانفرنس میں ایران اور دیگر رکن ممالک نے ایک نئے کثیر القطبی (Multipolar) عالمی نظام کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا، جس میں ایشیائی قوتیں مستقبل کے معاشی اور سیاسی ڈھانچوں کی قیادت کریں گی۔
اس بدلتی ہوئی عالمی صورتِ حال میں عالمِ اسلام کو بھی نہایت سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اگر مسلمان دوبارہ دنیا کی امامت و قیادت کا فریضہ انجام دینا چاہتے ہیں، تو انھیں انصاف پر مبنی ایک متبادل معاشی و سماجی ماڈل پیش کرنا ہوگا۔ مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کی ہے، اس لیے ان کے پاس ایک مکمل عالمی نظام چلانے کا وسیع تاریخی تجربہ موجود ہے۔ مزید یہ کہ برصغیر کے عظیم مصلح اور مفکر شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اسلامی سماجی و معاشی اصولوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو مرتب کیا۔ انھوں نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف 'حجۃ اللہ البالغہ' میں—جو ایڈم اسمتھ کی 'The Wealth of Nations' سے ساٹھ سال قبل اور کارل مارکس کی 'Das Kapital' سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے لکھی گئی تھی—سرمایہ داری (Capitalism) اور سوشل اِزم (Socialism) دونوں کے استحصالی فلسفوں کا ایک بہترین اور متوازن متبادل پیش کیا۔
آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلام کو محض چند عبادات کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا جائے۔ تبھی ہم خود کو اور دنیابھر کے مظلوم انسانوں کو مروجہ استحصالی عالمی نظاموں کی غلامی، جبر اور معاشی استحصال سے نجات دِلا سکتے ہیں۔









