پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس: امکانات، چیلنجز اور قومی مفاد
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے قائم کرکے ایک نیا انتظامی نقشہ تشکیل دینے کی بحث کچھ عرصے سے شروع ہوچکی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ.....
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس: امکانات، چیلنجز اور قومی مفاد
تحریر؛ محمد طیب میمن (حیدرآباد، سندھ)
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبے قائم کرکے ایک نیا انتظامی نقشہ تشکیل دینے کی بحث کچھ عرصے سے شروع ہوچکی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ موجودہ بڑے صوبے مؤثر انداز میں عوامی ضروریات پوری نہیں کر پارہے، جب کہ ہر ڈویژن کو ایک علاحدہ انتظامی یونٹ یا صوبہ بنانے سے حکمرانی بہتر ہوگی، اختیارات عوام کے قریب آئیں گے، فیصلوں میں تیزی آئے گی اور دور دراز علاقوں کے عوام کو صوبائی دارالحکومت تک جانے کی ضرورت کم ہوگی۔ یہ دلائل قابلِ غور ہیں، لیکن یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ آیا پاکستان کے موجودہ سیاسی، معاشی اور انتظامی حالات میں یہ تجویز واقعی وہ نتائج دے سکے گی یا نہیں۔
نئے انتظامی یونٹس سے متعلق کسی بڑے فیصلے سے پہلے پاکستان کے ماضی کے تجربات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ون یونٹ کا تجربہ، جو 1950ء کی دہائی میں شروع ہوا اور بالآخر ناکام ثابت ہوا۔ اسی طرح کراچی کو الگ صوبہ بنانے کی مختلف تجاویز اور ان پر سندھ سے وابستہ سیاسی، قوم پرست، سماجی و عوامی حلقوں کا ردِعمل بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبوں اور انتظامی سرحدوں کا معاملہ صرف انتظامی نہیں، بلکہ سیاسی، تاریخی، ثقافتی اور شناختی حساسیت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے مختلف انتظامی تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں صرف انتظامی نقشہ تبدیل کرنے سے مسائل خود بہ خود حل نہیں ہوتے، اصل کامیابی مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی، مؤثر مقامی حکومتوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے وابستہ ہوتی ہے۔
بلوچستان کی مثال اس حوالے سے خاص طور پر اہم ہے۔ اس کی آبادی نسبتاً کم اور رقبہ بہت وسیع ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسے مزید انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے وسائل کا بہتر استعمال، عوامی خدمات کی فراہمی اور مقامی ترقی ممکن ہوگی، یا پہلے سے موجود احساسِ محرومی اور وفاق پر عدمِ اعتماد مزید گہرا ہوگا؟ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ مجوزہ یونٹس مقامی آبادی کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دیں گے یا اختیارات صرف ایک سطح سے دوسری سطح (یعنی مقامی اشرافیہ پیدا کرنے) پر منتقل ہوجائیں گے۔ اگر وسائل اور فیصلے بدستور چند سیاسی گروہوں، خاندانوں یا بیوروکریسی تک محدود رہے تو عام شہری کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔
خصوصاً سندھ اور بلوچستان جیسے تاریخی، ثقافتی اور سیاسی طور پر حساس صوبوں کی مزید انتظامی تقسیم سے مطلوبہ بہتری آنے کے امکانات غیرواضح ہیں۔ اس کے برعکس نئے انتظامی اخراجات، مقامی اشرافیہ، سیاسی بے اعتمادی اور علاقائی محرومیوں میں اضافے کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس بحث کا ایک نہایت اہم پہلو معاشی پائیداری کا بھی ہے،جن نئے انتظامی یونٹس کی تجویز دی جارہی ہے، کیا ان میں اپنے اخراجات پورے کرنے، محصولات پیدا کرنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور قومی معیشت میں حصہ ڈالنے کی صلاحیت موجود ہوگی؟ یا وہ اپنے بنیادی اخراجات کے لیے بھی مسلسل وفاق پر انحصار کریں گے؟ اگر نئے یونٹس مستقل طور پر وفاقی وسائل کے محتاج رہیں گے تو کیا وہ حقیقی طور پر بااختیار ہوں گے، یا مرکز کی سیاسی اور مالی مدد کے مزید دست نگر بن جائیں گے؟
اس موقف پر یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ہر ڈویژن میں پہلے ہی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، پولیس اور دیگر انتظامی ادارے موجود ہیں، اس لیے نئے صوبوں کے قیام سے اخراجات میں نمایاں اضافہ نہیں ہوگا،لیکن صوبہ صرف موجودہ ڈویژنل دفاتر کا نام نہیں ہوتا، اس کے لیے صوبائی اسمبلی، کابینہ، سیکریٹریٹ، نئے محکمے، بیوروکریسی، آئینی ادارے، سرکاری رہائش گاہیں، سیکیورٹی اور مستقل انتظامی ڈھانچہ بھی درکار ہوتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی شدید مالی دَباؤ، کمزور حکمرانی اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اشرافیہ کو حاصل غیرمعمولی مراعات جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے۔ اس لیے یہ جانچنا ضروری ہے کہ نئے یونٹس کے اضافی اخراجات کتنے ہوں گے اور کیا ان کے مقابلے میں عوام کو تعلیم، صحت، انصاف، روزگار اور مقامی ترقی کی صورت میں کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
پاکستانی معاشرہ پہلے ہی طبقاتی، معاشی اور علاقائی عدمِ مساوات کا شکار ہے۔ اس لیے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ نئی انتظامی تقسیم وسائل اور ریاستی سہولتوں تک زیادہ منصفانہ رسائی فراہم کرے، نہ کہ بغیر ٹھوس منصوبہ بندی، ادارہ جاتی اصلاحات اور مناسب سرمایہ کاری کے موجودہ محرومیوں میں مزید اضافہ کر دے۔
یہاں مضبوط اور بااختیار مقامی حکومتوں کا سوال بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگر مقصد واقعی اختیارات کو عوام کے قریب لانا، مقامی مسائل کو مقامی سطح پر حل کرنا اور سرکاری خدمات بہتر بنانا ہے تو آئینی، مالی اور انتظامی طور پر مضبوط بلدیاتی نظام نسبتاً کم اخراجات کے ساتھ یہی مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ نئے صوبے بنانے کے باوجود اگر مقامی حکومتیں کمزور رہیں اور مالی و انتظامی اختیارات صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہوں تو عام شہری کو مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اس لیے ان مسائل کا زیادہ مؤثر اور پائیدار حل نئی سرحدیں قائم کرنے کے بجائے بااختیار، جواب دہ اور منتخب بلدیاتی اداروں، مقامی حکومتوں اور کونسلوں کے ذریعے اختیارات اور وسائل کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔
محض نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے سے عوامی اور انتظامی مسائل حل ہونے کی ضمانت نہیں ملتی۔
اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایسی تبدیلی معاشی طور پر پائیدار، انتظامی طور پر مؤثر، قومی یکجہتی کے لیے مفید اور عوام کے حقیقی مفاد میں ہوگی یا نہیں۔ یہ خدشہ بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ نئے یونٹس کے نام پر موجودہ مرکزی اور مقتدر نظام مزید مضبوط ہو، طاقت اور وسائل بدستور بالائی سطح پر مرتکز رہیں، جب کہ عوام کو حقیقی اختیار منتقل ہونے کے بجائے ان کی محرومیوں اور سیاسی بے اختیاری میں مزید اضافہ ہو۔ اگر اس کے باوجود اس تجویز پر عمل کرنا ہے تو اس نوعیت کے کسی بھی فیصلے سے پہلے ہر مجوزہ یونٹ کی آبادی، جغرافیہ، وسائل، محصولات، متوقع اخراجات، انتظامی استعداد، مقامی شناخت اور قومی یکجہتی پر ممکنہ اَثرات کا جامع اور شفاف جائزہ لیا جانا چاہیے۔ حتمی فیصلہ وسیع قومی اتفاقِ رائے، شفاف اور عوامی مشاورت اور آئین میں طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔
اصل مسئلہ پاکستان کا نقشہ بدلنا نہیں، بلکہ پاکستانی شہری کی زندگی بدلنا ہے۔ نئے انتظامی یونٹس اسی وقت قابلِ جواز اور کامیاب ہوں گے جب وہ قومی یکجہتی کو مضبوط کریں، علاقائی محرومیوں اور سیاسی بے اعتمادی کو کم کریں اور سیاسی عہدوں و انتظامی اخراجات میں اضافے کے بجائے عوامی اختیار، معاشی ترقی، شفاف حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ بنیں۔ بہ صورتِ دیگر مضبوط، بااختیار اور جواب دہ مقامی حکومتیں زیادہ عملی، کم متنازع اور پائیدار راستہ ثابت ہوسکتی ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے پیارے وطن کو امن، استحکام، خوش حالی اور ترقی عطا فرمائے اور ہماری قوم کو ایسی مخلص، دیانت دار اور دوراندیش قیادت نصیب فرمائے جو قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے عوام کے بنیادی مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ آمین!









