شیر اور دو بیلوں کی کہانی
باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے حقیقی اور فرضی دشمنوں میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے
شیر اور دو بیلوں کی کہانی
تحریر؛ انجینئر محمد اسحاق ۔ پشاور
کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں دو بیل رہتے تھے۔دونوں میں حد درجہ اتحاد موجود تھا۔ ہر وقت اکٹھے رہتے اور ہر مشکل کا مل کر مقابلہ کرتے ۔ اِس اتحاد کی وَجہ سے کوئی بھی جانور انھیں اپنا شکار نہیں بنا سکتا تھا۔ جنگل کے درندوں کو یہ اتحاد ہضم نہیں ہو رہا تھا وہ ان کو علاحدہ کرنے کے لیے طرح طرح کے ترکیبیں بناتے رہتے، لیکن کوئی ترکیب کامیاب نہیں ہوسکی۔ اسی جنگل میں ایک شیر بھی رہتا تھا۔ یہ شیر پورے جنگل پر اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتا تھا، لیکن اُس کے بادشاہ بننے میں یہ دونوں بیل رکاوٹ بن رہے تھے۔ ایک دن شیر نے اپنا مسئلہ لومڑی سے بیان کیا تو لومڑی نے کہا کہ بادشاہ سرکار اِس کا تو بہت آسان حل ہے دونوں بیلوں کو آپس میں لڑاؤ، ان کے پیچ نفرت اور بدگمانی پیدا کرو، یوں یہ دونوں خود ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، آپ کا راستہ آسان ہوجائے گا اور آپ کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑےگی ۔
بادشاہ سلامت کو یہ مشورہ اچھا لگا۔ فوراً کارندوں کو عمل درآمد کا حکم دیا۔ اس کام کے لیے باقاعدہ ایک سلیکشن کمیٹی بنائی گئی،جس نے چن چن کر ایک سے بڑھ کر ایک چالاک جانور کو منتخب کیا۔اس ٹیم کی نگرانی براہِ راست بادشاہ سلامت کر رہے تھے، جب کہ ٹیم میں لومڑی، کتا، کوا حتی کہ بیل اور گائے بھی شامل تھے ۔
Divide and Rule کی پالیسی پر عمل درآمد شروع ہوگیا، سب سے پہلے لومڑی نے ایک دن موقع دیکھ کر اکیلے میں ایک بیل کے کان بھرنا شروع کر دیے۔ اُس نے کہا کہ کل تو مجلس میں آپ نہیں آئے تھے، آپ کے فلاں دوست نے آپ کا کافی مذاق اڑایا اور سارے جانور مل کے آپ کے اوپر ہنس رہے تھے، جب تک یہ دونوں محوِگفتگو تھے۔ دوسری جانب کوا دوسرے بیل کے پیٹھ پر بیٹھا اُسےایسے ہی من گھڑت قصے سنا رہا تھا۔ یوں رفتہ رفتہ یہ دونوں بیل ایک دوسرے سے بدظن ہونے لگے اور بالآخر بات یہاں تک پہنچی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کررہے تھے ۔ دونوں ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور پھر رفتہ رفت دشمن بن گئے اور کہتے ہیں کہ دو قریبی دوست جب دشمنی پر اُتر آئیں تو ان کی دشمنی دُنیا جہاں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ دونوں بیلوں کے مابین یہ حالات دیکھ کر مختص شدہ ٹیم نے شیر کو اطلاع کردی کہ ہماری جانب سے پالیسی پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے۔ بس آپ کی طرف سے آخری ضرب کی دیر ہے یہ سن کرشیر بہت خوش ہوا اور فوراً ایک بیل پر حملہ کر دیا۔ بیل نے پہلے پہل کچھ مزاحمت کی، لیکن چوں کہ اسے نہیں معلوم تھا کہ تن تنہا کسی خون خوار جانور کا دفاع کیسے کیا جائے، اس لیے کچھ ہی وقت میں زیر ہوگیا۔
دوسرا بیل کچھ فاصلے سے اسے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اسے میرے ساتھ کی گئی دشمنی کی سزا مل گئی، اسے نہیں پتہ تھا کہ آج جس درندے نے اس کے قریبی دوست کو چیر ڈالا ہے، کل وہ اس کو بھی نہیں بخشے گا اوراسی طرح ہی ہوا۔ اگلے روز دوسرا بیل بھی سسکتے سسکتے شیر کی خوراک بن گیا ۔
معزز دوستوں! یہ کوئی فرضی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے ہندوستان کے پچھلے ہزار سال کی داستان ہے، جہاں پر دو بڑے مذاہب کے ماننے والے آپس میں خوش حالی امن اتفاق سے رہ رہے تھے اور ان کے اس اتحاد کی وَجہ سے ہندوستان نے اتنی ترقی کی کہ وہ سونے کی چڑیا کے نام سے مشہور ہوا، لیکن کچھ درندہ صفت اقوام سے یہ خوش حالی دیکھی نہ گئی اور انھوں نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ یعنی Divide and Rule پا لیسی کی بنیاد پر یہاں کی سیاسی طاقت کو تقسیم کیا۔ ہندو مسلم کو لڑایا،800 سالوں سے محبت و اخوت کے ساتھ رہنے والے برصغیر کے باسیوں کےدرمیان نفرت کا بیج بو دیا اور یوں جنھوں نے کئی محاذوں پر اکٹھے دشمنوں کا مقابلہ کیا تھا، آج ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے ہیں ۔ تقسیمِ ہند کے بعد اَب تک متعدد بار آپس میں اُسی بادشاہ سلامت کے کہنے پر دونوں بیلوں کو لڑایا گیا ہے ۔بات صرف مذہبی منافرت اور تقسیم پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس خطے میں مختلف عنوانات کا استعمال کر کے مزید تقسیم پیدا کی گئی ۔ کہیں پر زبان اور نسل کو ذریعہ بنا کر لڑائیاں پیدا کی گئیں تو کہیں دینی اور دنیاوی تعلیم کے سلوگن سے نوجوان نسل میں نفرتیں بانٹی گئیں ۔ مزید گہرائی میں اگر چلیں تو دینی تعلیم میں بھی مختلف مکاتب فکر کے درمیان میدان جنگ سجایا گیا اور یوں اس نفرت کے کھیل سے حکمران طبقے اور سامراجی طاقتوں نے زیادہ سے زیادہ مفادات بٹورے اور ابھی تک بٹور رہے ہیں۔
کسی قوم کے باشعور ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرضی اور حقیقی دشمنوں کے درمیان تمیز کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ حالیہ ایران امریکا کشمکش میں یہ واضح ہوا کہ امریکا نے بارہا یہ کوششیں کیں کہ ایران کو اپنے قریبی مسلم عرب ممالک کے ساتھ اُلجھا کر حقیقی دشمن یعنی اپنے آپ (امریکا) اور اسرائیل کو بچائیں، لیکن ایران کی باشعور قیادت اس نزاکت کو سمجھ کر مسلم ممالک سے اُلجھنے کے بجائے اپنی توجہ اُسی شیطانِ عظیم کو کمزور کرنے پر مرکوز کیے ہوئے ہے اور نہایت حکمت کے ساتھ ایک ایک قدم اٹھا رہی ہے اور عرب ممالک بھی کسی حد تک اس نزاکت کو سمجھ گئے ہیں اور فرضی دشمن یعنی ایران سے اُلجھنے کے بجائے کنارہ کشی کی کوشش کر رہے ہیں (مقابلے کی صلاحیت تو ویسے بھی اُن میں نہیں ہے) آج ضرورت اس چیز کی ہے کہ دشمنِ حقیقی کو پہچانا جائے اور اپنی توانائیاں ادھر اُدھر کے جھگڑوں اور تنازعات پر ضائع کرنے کے بجائے حقیقی دشمن کے خلاف استعمال کی جائیں۔
آج اس خطے کے اقوام اور بالخصوص وطنِ عزیز میں بسنے والے نوجوانوں کو سوچنا چاہیے کہ آزادی کے 80 سال گزرنے کے باوجود ہم دوسروں کے حکم کے محتاج کیوں ہیں ؟ ایک ہی نعرے پر بننے والے اس ملک میں فکری انتشار کیوں ہے ؟ اس تقسیم در تقسیم اور فرقہ واریت کا خاتمہ کیوں کر ممکن ہوگا ؟ یہ دورِحاضر کے وہ سلگتے ہوئے سوالات ہیں، جن پر نوجوان نسل کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور اس کے بعد آگے کا لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔









