اجتماعی شعور اور اس کے انہدام کے نتائج
کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی فوج، معیشت، وسائل یا آبادی کی کثرت میں نہیں ہوتی۔ اس سے زیادہ اہم وہ مشترکہ تصورات، اقدار اور اخلاقی اصول ہوتے ہیں جن ..
اجتماعی شعور اور اس کے انہدام کے نتائج
تحریر؛ محمد اصغر خان سورانی (بنوں)
انسان اپنی فطرت میں ایک اجتماعی وجود ہے۔ وہ تنہا نہ اپنی تمام ضروریات پوری کر سکتا ہے اور نہ علم، تہذیب، معیشت اور سیاسی نظم جیسی اجتماعی حقیقتوں کو قائم رکھ سکتا ہے۔ لیکن صرف ایک جگہ رہنے والے انسانوں کا ہجوم معاشرہ نہیں کہلاتا۔ معاشرہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب افراد کے درمیان کچھ مشترک اقدار، باہمی اعتماد، ذمہ داری کا احساس، مشترکہ مقاصد اور ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری پیدا ہو۔ یہی وہ غیر محسوس رشتہ ہے جو افراد کو ایک دوسرے سے جوڑتا اور ایک ہجوم کو معاشرے میں تبدیل کرتا ہے۔ جدید عمرانیات میں اسی حقیقت کو Social Solidarity اور Collective Consciousness جیسے تصورات کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی فوج، معیشت، وسائل یا آبادی کی کثرت میں نہیں ہوتی۔ اس سے زیادہ اہم وہ مشترکہ تصورات، اقدار اور اخلاقی اصول ہوتے ہیں جن پر اس کے افراد کسی نہ کسی درجے میں متفق ہوتے ہیں۔ جب ایک معاشرہ یہ جانتا ہو کہ اس کی اجتماعی زندگی کن اصولوں پر قائم ہے، اس کا ماضی اسے کیا سکھاتا ہے اور اس کا مستقبل کس سمت میں آگے بڑھنا چاہیے، تو اختلافات کے باوجود اس کی وحدت برقرار رہتی ہے۔
اسی لیے اجتماعی شعور کو کسی معاشرے کی ایک ایسی غیر مرئی قوت کہا جا سکتا ہے جو نظر تو نہیں آتی، مگر معاشرے کی سمت متعین کرتی ہے۔ جب افراد اپنے ذاتی مفادات سے کچھ بلند ہو کر مشترکہ اقدار، اجتماعی ذمہ داری اور قومی مفاد کو محسوس کرنے لگتے ہیں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی شعور کمزور پڑ جائے تو سب سے پہلے اعتماد متاثر ہوتا ہے، پھر اخلاقی قدریں کمزور ہوتی ہیں، اداروں پر سے یقین اٹھتا ہے، قانون کی وقعت گھٹتی ہے اور بالآخر قومی وحدت اور ریاستی استحکام بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اجتماعی وحدت کی بنیاد توحید، عدل اور وحی پر قائم ہوتی ہے۔ قرآن مجید انسان کو محض ایک الگ تھلگ فرد کی حیثیت سے نہیں دیکھتا بلکہ اسے ایک بڑی انسانی اور اخلاقی جماعت کا حصہ بناتا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مقصد صرف چند افراد کی انفرادی اصلاح نہیں تھا؛ ان کی جدوجہد کا ایک بنیادی پہلو یہ بھی تھا کہ انسانوں کو انتشار، ظلم اور باہمی کشمکش سے نکال کر ایک ایسے اجتماعی نظم کی طرف لایا جائے جو خدا کی بندگی، عدل اور اخلاقی ذمہ داری پر قائم ہو۔ اسی تناظر میں قرآن ’’اُمّتِ واحدہ‘‘ کا تصور پیش کرتا ہے، جو اجتماعی شعور کی ایک بلند ترین صورت ہے۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے انسانی تمدن کے ارتقا کو ’’ارتفاقات‘‘ کے تصور کے ذریعے سمجھایا۔ ان کے نزدیک انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اجتماعی ہے اور اس کی معاشی، سیاسی اور اخلاقی ضروریات باہمی تعاون کے بغیر پوری نہیں ہو سکتیں ۔ لیکن جب اس کی اجتماعی وحدت میں کمزوری پیدا ہو جائے تو افراد کے درمیان باہمی ربط بھی کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یوں تہذیبی زوال کسی ایک دن یا کسی ایک واقعے سے نہیں آتا بلکہ اجتماعی زندگی کے اندر آہستہ آہستہ پیدا ہونے والی دراڑوں سے جنم لیتا ہے۔
اجتماعی شعور کے انہدام کا شاید سب سے پہلا اور سب سے گہرا نتیجہ مشترکہ معنی کا خاتمہ ہے۔ پھر ہر گروہ اپنی الگ حقیقت اور اپنی الگ تعبیر تشکیل دینے لگتا ہے۔ ایک ہی تاریخ کے مختلف اور باہم متصادم بیانیے سامنے آتے ہیں، قومی مفاد مختلف گروہی مفادات میں تقسیم ہو جاتا ہے اور ایک ہی معاشرہ مختلف ذہنی جزیروں میں بٹنے لگتا ہے۔ اس صورت میں اختلافِ رائے فکری تنوع کی خوب صورتی نہیں رہتا بلکہ باہمی تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اور پھر زوال پزیر معاشرہ میں لوگ ’’ہم‘‘ کے بجائے صرف ’’میں‘‘ میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امت اپنی اصل اجتماعی روح سے دور ہونے لگتی ہے۔ امام عبید اللہ سندھیؒ کی فکر میں اسلام محض انفرادی عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری اور اخلاقی اجتماع کی تعمیر کا پیغام ہے جو نسل، زبان، رنگ اور جغرافیے کی محدودیتوں سے بلند ہو۔ جب امت اس قرآنی شعور سے دور ہوتی ہے تو اس کی سیاست، معیشت اور تہذیب بھی بتدریج انتشار کا شکار ہونے لگتی ہے۔ اس اعتبار سے سیاسی وحدت محض انتظامی بندوبست نہیں بلکہ ایک گہری فکری اور اخلاقی وحدت کی محتاج ہوتی ہے۔
ریاست بھی محض قوانین اور اداروں کے ذریعے مضبوط نہیں رہ سکتی۔ قانون اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب معاشرے میں اس کے احترام کے لیے ایک اخلاقی بنیاد موجود ہو۔ جب یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو ریاست کو نظم برقرار رکھنے کے لیے طاقت، نگرانی اور جبر پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ادارے اعتماد کے بجائے اختیار کے ذریعے چلنے لگتے ہیں اور سیاست عوامی خدمت کے بجائے مختلف شناختوں کے باہمی تصادم کا میدان بن جاتی ہے۔
ایسے ماحول میں لوگ پالیسیوں اور پروگراموں کے بجائے ان بیانیوں کے گرد جمع ہونے لگتے ہیں جو ان کی الگ شناخت کو زیادہ نمایاں کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ آہستہ آہستہ عدم اعتماد اور مستقل کشمکش کی طرف بڑھتا ہے۔ ہر گروہ دوسرے کو مسئلے کی جڑ سمجھنے لگتا ہے اور اجتماعی مسئلہ حل کرنے کے بجائے اپنی اپنی صف بندی میں مصروف ہو جاتا ہے۔
کیوں کہ جب اجتماعی شعور بکھر جاتا ہے تو قومیں صرف آبادیوں کا مجموعہ رہ جاتی ہیں، تہذیبیں محض یادداشت بن جاتی ہیں اور ریاستیں صرف انتظامی ڈھانچوں میں تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ اس کے برعکس جب توحید انسان کی فکر کو سمت دیتی ہے، عدل اس کی سیاست کی بنیاد بنتا ہے، اخلاق اس کی معیشت کو حدود فراہم کرتا ہے اور وحی اس کی تہذیبی زندگی کی رہنمائی کرتی ہے تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو صرف طاقت ور نہیں بلکہ عادل، متوازن اور پائیدار بھی ہوتا ہے۔
اجتماعی شعور کے کمزور ہونے کا ایک اور بڑا نقصان تہذیبی تسلسل کا ٹوٹ جانا ہے۔ جب نئی نسل اپنے ماضی سے مکمل طور پر لاتعلق ہو جائے تو وہ صرف تاریخ سے نہیں کٹتی، بلکہ اپنی اجتماعی شناخت کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں علم تو بڑھ سکتا ہے، معلومات کے ذرائع کئی گنا ہو سکتے ہیں، لیکن حکمت اور بصیرت لازماً نہیں بڑھتیں۔ انسان زیادہ جاننے کے باوجود کم سمجھنے لگتا ہے۔شاہ ولی اللہؒ نے اسی لیے علم اور حکمت کے تعلق پر زور دیا۔ ان کے نزدیک علم کا مقصد محض معلومات کا ذخیرہ بڑھانا نہیں بلکہ انسانی زندگی میں عدل، اعتدال اور خیر کو فروغ دینا ہے۔ ایسا علم جو انسان کو اپنے معاشرے، اپنی ذمہ داری اور اپنے اخلاقی مقصد سے جوڑ نہ سکے، وہ تہذیب کی تعمیر میں محدود کردار ادا کرتا ہے۔ تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے معلومات کے ساتھ حکمت بھی ضروری ہے۔
امام عبید اللہ سندھیؒ نے اپنے تصورِ ’’قرآنی انقلاب‘‘ کے ذریعے اسی حقیقت کو ایک دوسرے زاویے سے واضح کیا۔ ان کے نزدیک کسی معاشرے کی حقیقی تبدیلی صرف سیاسی اقتدار کی تبدیلی سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے اجتماعی فکر، اخلاق اور مقصد کا احیا بھی ضروری ہے۔ اگر انسان کے شعور میں قرآن کی بنیاد پر کوئی واضح اخلاقی اور اجتماعی سمت پیدا نہ ہو تو محض آئینی، انتظامی یا سیاسی اصلاحات دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کر سکتیں۔
پاکستانی معاشرے کے موجودہ مسائل کو سمجھنے کے لیے یہ نکتہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ہم اکثر اپنے اجتماعی بحرانوں کو صرف انفرادی کردار کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص کرپٹ ہے، فلاں افسر نااہل ہے، فلاں سیاست دان جھوٹا ہے، فلاں تاجر ملاوٹ کرتا ہے اور فلاں شہری قانون توڑتا ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ درست ہو سکتی ہیں، لیکن اس سے ایک بنیادی سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے: وہ اجتماعی ماحول کیسا ہے جو ان رویوں کو پیدا کرتا، برداشت کرتا اور بعض اوقات کامیاب بھی بناتا ہے؟
یہ سوال ہمیں فرد سے معاشرے کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک معاشرہ اس وقت حقیقی بحران میں داخل ہوتا ہے جب اس کے افراد کے اندر مشترکہ ذمہ داری کا احساس کمزور ہونے لگتا ہے۔ جب ایک شخص یہ سمجھنے لگے کہ ریاست کا نقصان دراصل ’’کسی اور‘‘ کا نقصان ہے، سرکاری خزانے کا نقصان کسی فرد کا نقصان نہیں، سڑک پر قانون شکنی صرف اس وقت جرم ہے جب پولیس موجود ہو، ماحول کی حفاظت صرف حکومت کی ذمہ داری ہے، تعلیم صرف استاد کا مسئلہ ہے، غربت صرف غریب کی بدقسمتی ہے اور قومی زوال صرف حکمرانوں کی ناکامی ہے—تو دراصل اجتماعی شعور اپنی بنیادی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ چکا ہوتا ہے۔
یہی وَجہ ہے کہ کسی قوم کی اصلاح صرف حکمرانوں کی تبدیلی سے ممکن نہیں ہوتی۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایسا اجتماعی شعور اور اس کی بنیاد پر جماعت تشکیل دیں جو قرآن کی ہدایت، سنت کی حکمت، اجتہاد کی بصیرت اور عدلِ اجتماعی کی بنیاد پر اپنے عہد کے مسائل کا سامنا کر سکے۔ جس کی فکری تعبیر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور امام عبید اللہ سندھیؒ جیسے مفکرین نے اپنے اپنے ادوار میں اپنے مخصوص انداز سے کی۔ جو آج کے دور میں بھی مشعلِ راہ ہے۔









