حریت فکر: توجہ طلب امر
I quoted the column from this
حریت فکر: توجہ طلب امر
تحریر؛ ندیم فلک ( وہاڑی)
اس امر پر تاریخی شواھد موجود ہیں کہ قوموں کی تقدیر صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ افکار کے میدان میں لکھی جاتی ہے۔ جب کسی قوم کی عقل آزاد، بصیرت بیدار اور کردار مضبوط ہوتا ہے تو وہ قوم دنیا کی قیادت کرتی ہے، لیکن جب اس کی فکر تعصب، خواہشات، اندھی تقلید اور ظاہری چمک دمک کی اَسیر ہوجائے تو اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ عصرِحاضر کا سب سے بڑا معرکہ سرحدوں کا نہیں، بلکہ عقل کی آزادی اور فکری غلامی کا معرکہ ہے۔
آج انسان معلومات کے سیلاب میں کھڑا ہے۔ ہر لمحہ سوشل میڈیا، اشتہارات، تفریحی صنعت، سیاسی بیانیے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم اس کی توجہ اور رائے پر اَثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسئلہ معلومات کی کمی نہیں، بلکہ صحیح اور غلط، حق اور باطل، حقیقت اور تاثرات میں فرق کرنے کی صلاحیت کا ہے۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر نئی معنویت اختیار کر لیتی ہے۔
شاہ ولی اللہ کے فکری اصول:
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت محض رسمی احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسانی فطرت، عقل اور مصالحِ عامہ سے ہم آہنگ ایک حکیمانہ نظام ہے۔ ان کے نزدیک دین کا مقصد انسان کو ایسی بصیرت عطا کرنا ہے جو اسے خواہشات، جہالت اور بے دلیل تقلید سے نکال کر حکمت، عدل اور اعتدال کی راہ پر گامزن کرے۔ اسی لیے وہ بار بار اس حقیقت کی طرف توجہ دِلاتے ہیں کہ احکامِ شریعت کے مقاصد اور ان کی حکمت کو سمجھنا بھی ضروری ہے، تاکہ دین رسم نہ بنے، بلکہ شعور بن جائے۔
1۔ شاہ ولی اللہؒ کی فکر کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جب عقل وحی کی روشنی سے جدا ہوجاتی ہے تو انسان یا تو خواہشات کا غلام بن جاتا ہے یا معاشرے کے غلط رجحانات کا اسیر۔ انھوں نے شریعت کی حکمتوں کی وضاحت کرتے ہوئے یہ تصور پیش کیا کہ انسانی زندگی میں عدل، توازن، اخلاق بنیادی مقاصد ہیں۔ اگر کوئی معاشرہ ان اصولوں سے دور ہو جائے تو اس کی فکری بنیادیں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
اگر ہم عصرِحاضر پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج فکری غلامی کی شکلیں بدل چکی ہیں۔ پہلے غلامی طاقت کے ذریعے مسلط کی جاتی تھی، آج یہ رائے سازی، اطلاعات، ثقافتی اَثرات اور مسلسل ابلاغ کے ذریعے بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ انسان کو علم بھی فراہم کرتے ہیں اور بعض اوقات اس کی توجہ کو منتشر بھی کرتے ہیں۔ اس ماحول میں ایک نوجوان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر خبر، ہر رجحان اور ہر نظریے کو تحقیق، دلیل اور اخلاقی معیار پر پرکھے، نہ کہ محض مقبولیت یا جذبات کی بنیاد پر قبول کرے۔
2۔شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی تصانیف میں واضح کیا کہ دین کی صحیح سمجھ تدبر، سیاق اور مقاصد کو ملحوظ رکھے بغیر ممکن نہیں۔ اسی طرح انھوں نے انسانی معاشرے کی تشکیل، تمدن اور اجتماعی نظم پر گفتگو کرتے ہوئے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ قوموں کی ترقی کا انحصار اخلاق، علم اور عدل پر ہے، نہ کہ محض ظاہری طاقت پر۔
تزکیۂ نفس، روحانی اصلاح اور باطنی تربیت پر زور ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فکری آزادی صرف ذہنی مشق نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی تربیت سے وابستہ ہے۔
آج اُمتِ مسلمہ کا ایک بڑا مسئلہ علمی کمزوری ہی نہیں بلکہ علمی انتشار بھی ہے۔ معلومات بہت ہیں، مگر حکمت کم ہے، اظہار بہت ہے،تحقیق کم ہے، جذبات بہت ہیں ۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اُمت کو اسی خطرے سے نکالنے کے لیے قرآن و سنت کی طرف دعوت دی۔ ان کی فکر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ نہ اندھی تقلید درست ہے اور نہ بے لگام عقل، صحیح راستہ وہ ہے جس میں عقل، وحی کی روشنی میں اپنا کردار ادا کرے۔
عصرِحاضر کا نوجوان اگر اپنی فکری آزادی کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو اسے صرف جدید علوم ہی نہیں، بلکہ اپنی دینی روایت، علمی ورثے اور مقاصدِ شریعت سے بھی گہرا تعلق قائم کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو فکری غلامی سے نکال کر ذمہ دار آزادی کی طرف لے جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم علم کو عمل سے، عقل کو وحی سے اور آزادی کو اخلاقی ذمہ داری سے جوڑیں۔ یہی وہ فکری انقلاب ہے جو فرد کی اصلاح، معاشرے کی تعمیر اور اُمت کی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد بن سکتا ہے۔
آج کے انسان نے اپنی عقل کو اگر محفوظ رکھنا ہے، اپنے فیصلوں کو حکمت سے مزین کرنا ہے اور اپنی تہذیبی شناخت کو برقرار رکھنا ہے تو اسے شور سے زیادہ شعور، تقلید سے زیادہ تحقیق اور خواہش سے زیادہ حق کی تلاش کو اختیار کرنا ہوگا۔ یہی پیغام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر کا جوہر ہے۔
اگر ہم شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر کی روشنی میں پاکستانی معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمارے بہت سے مسائل کی جڑ فکری کمزوری ہے۔ ہم نے تحقیق کی جگہ تقلید، کردار کی جگہ نمود و نمائش، مطالعے کی جگہ سطحی معلومات اور دلیل کی جگہ جذبات کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار، غیرتنقیدی سیاسی وابستگیاں، فرقہ وارانہ تعصبات، مغربی تہذیب کی اندھی نقالی اور مادہ پرستی نے نوجوان نسل کے فکر و شعور پر گہرے اَثرات مرتب کیے ہیں۔ نتیجتاً رائے آزاد نظر آتی ہے، مگر اس کی تشکیل اکثر دوسروں کے بیانیوں، رجحانات اور نفسیاتی اَثرات کے تحت ہوتی ہے۔ یہی وہ جدید فکری غلامی ہے، جس کے اَثرات فرد سے بڑھ کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک کسی بھی قوم کی اصل قوت اس کی فکری پختگی، اخلاقی بلندی اور عدل پر مبنی اجتماعی نظام میں ہوتی ہے۔ جب عقل وحی کی رہنمائی سے دور ہوجائے، علم کا تعلق عمل سے منقطع ہوجائے اور قیادت ذاتی مفادات کی اِسیر بن جائے تو قومیں اپنے زوال کا سفر خود شروع کر دیتی ہیں۔ یہی صورتِ حال آج اُمتِ مسلمہ کے ایک بڑے حصے میں دکھائی دیتی ہے۔
مسلم ممالک کی حالت:
آج دنیا میں تقریباً 56 مسلم اکثریتی ریاستیں موجود ہیں، مگر اتنی بڑی آبادی، بے پناہ قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور نوجوان افرادی قوت کے باوجود اُمتِ مسلمہ عالمی سطح پر وہ علمی، معاشی، سائنسی اور فکری قیادت حاصل نہیں کرسکی جو اس کا تاریخی مقام تھا۔ اس کی ایک بنیادی وَجہ وہی ہے، جس کی طرف شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اٹھارویں صدی میں توجہ دلائی تھی کہ جب اُمت قرآن و سنت کی حکمت، عدل، اجتہاد، اخلاق اور علم سے اپنا تعلق کمزور کر دیتی ہے تو اس کی وحدت منتشر، اس کی قوت مضمحل اور اس کی تہذیبی شناخت کمزور پڑ جاتی ہے۔ محض وسائل کسی قوم کو عظیم نہیں بناتے، بلکہ علم، کردار، انصاف اور فکری آزادی ہی اس کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔
لمحہ فکریہ:
پاکستان سمیت پوری اُمتِ مسلمہ کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو تنقیدی فکر، تحقیقی مزاج، اخلاقی تربیت اور قرآن و سنت کی حکیمانہ تعلیمات سے جوڑنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو فکری غلامی کی یہ زنجیریں مزید مضبوط ہوتی جائیں گی۔ لیکن اگر ہم امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی دعوت کے مطابق عقل کو وحی کی روشنی، علم کو کردار، آزادی کو ذمہ داری اور سیاست و معیشت کو عدل و امانت کے اصولوں سے وابستہ کر دیں تو یہی اُمت ایک مرتبہ پھر علمی و تہذیبی احیا کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔ یہی وہ پیغام ہے جو ماضی کی عظمت کو حال کی اِصلاح اور مستقبل کی تعمیر سے جوڑتا ہے۔









