حرمتِ سود کی حکمتوں کا شعوری جائزہ
چند دن پہلے ہمارے گاؤں میں ایک جنازہ تھا، میں بھی اس میں شریک ہوا۔ جنازے سے پہلے ہمارے گاؤں کے ایک معزز عالمِ دین حافظ صاحب درس دے رہے تھے۔۔۔۔۔
حرمتِ سود کی حکمتوں کا شعوری جائزہ
تحریر : خالد زمان، بنوں
چند دن پہلے ہمارے گاؤں میں ایک جنازہ تھا، میں بھی اس میں شریک ہوا۔ جنازے سے پہلے ہمارے گاؤں کے ایک معزز عالمِ دین حافظ صاحب درس دے رہے تھے۔ دورانِ بیان انھوں نے ایک حدیث کا مفہوم بیان کیا کہ
”سود کا ایک گناہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے کے گناہ سے بھی زیادہ سنگین ہے“۔
یہ بات سن کر میں اندر سے ہل گیا۔ میں سوچنے لگا کہ آخر ایسی کیا حکمت ہے کہ اسلام میں سود کو اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے؟ ایک طرف زنا جیسا سنگین گناہ اور دوسری طرف سود، جسے اس سے بھی بڑھ کر بتایا گیا۔ یہی سوال میرے ذہن میں گردش کرتا رہا۔
میں نے اس کے پیچھے حکمت جاننے کی کوشش کی، سود کے بارے میں غور کیا، تو مجھے سمجھ آئی کہ سود صرف پیسے کا لین دین نہیں، بلکہ کسی انسان کی مجبوری سے فائدہ اُٹھانے کا نام ہے۔
سود دراصل انسان کی مجبوری کا استحصال ہے، کمزور کو مزید کمزور کرنا ہے،ضرورت مند کو تکلیف پہنچانا ہے،معاشرے میں ظلم کو بڑھانا ہے۔
یعنی سود کا تعلق صرف مالی معاملے سے نہیں، بلکہ انسانی درد، ظلم اور استحصال سے ہے۔
قرآنِ مجید بھی اسی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے“۔
اور ایک دوسری جگہ فرمایا:
”اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے“۔
ان آیات میں ایک گہرا پیغام ہے کہ وہ تمام چیزیں جو انسان کے لیے نقصان، ظلم اور تکلیف کا باعث بنتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں ناپسند فرمایا ہے اور وہ چیزیں جو انسان کے لیے آسانی، خیر اور بھلائی کا ذریعہ بنتی ہیں، انھیں پسند فرمایا ہے۔
اصل میں صرف سود ہی نہیں، بلکہ قرآنِ حکیم و احادیثِ مبارکہ میں بیان کردہ دین کا ہر حکم اور ہر قانون اپنے اندر بے بہا حکمتیں رکھتا ہے۔ ہمیں دین کے صرف مثبت پہلوؤں کو ہی نہیں دیکھنا چاہیے کہ یہ ایک لکیر ہے، بلکہ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو راستہ بتایا ہے، اگر انسان اس راستے سے ہٹ جائے تو اس کے کیا برے نتائج برآمد ہوں گے۔
مثلاً بہت سے لوگ صرف اتنا سمجھتے ہیں کہ سود لینا یا دینا گناہ ہے، لیکن اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر معاشرے میں سود عام ہو جائے تو اس کے اَثرات کیا ہوں گے؟ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ:
1۔غریب مزید غریب ہوجاتا ہے۔
2۔امیر مزید طاقت ور ہوجاتا ہے۔
3۔انسان ،انسان کا استحصال شروع کر دیتا ہے۔
4۔ ضرورت مند کی مجبوری تجارت بن جاتی ہے۔
5۔ معاشرے میں بے رحمی بڑھ جاتی ہے۔
تو اصل مسئلہ صرف ”گناہ“ کا رسمی تصور نہیں، بلکہ وہ انسانی نقصان ہے جو اس کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
لیکن ہمیں کہا گیا یہ جائز ہے، یہ ناجائز ہے، تو ہم اسے مان لیتے ہیں، مگر ہم اس کے پیچھے چھپی ہوئی حکمت کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ حال آں کہ ایک صاحبِ شعور مؤمن کی شان یہ ہونی چاہیے کہ وہ صرف حکم نہ جانے، بلکہ یہ بھی سمجھے کہ اس حکم کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مصلحت کیا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو صرف سود ہی نہیں، بلکہ بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو تکلیف دیتی ہیں، مثلاً
انصاف کا نہ ملنا، بنیادی ضروریات سے محرومی،تعلیم کا فقدان،خراب معاشی نظام،عزتِ نفس کی پامالی،کمزور کا استحصال۔
یہ سب بھی انسان کے لیے اذیت کا باعث بنتی ہیں، لیکن افسوس! کہ ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ کوشش نہیں کی کہ ایسا نظام بنایا جائے جہاں انسان کو یہ تکلیفیں نہ پہنچیں۔
جنازے میں بہت سے لوگ موجود تھے۔ سب نے یہ بات سنی بھی ہوگی، لیکن شاید کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا نہ ہوا ہوگا کہ آخر اس حدیث کے پیچھے حکمت کیا ہے۔ میں نے خود بھی یہی محسوس کیا کہ یہ خیال میرے ذہن میں اس لیے آیا، کیوں کہ میرا تعلق ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ کے ساتھ ہے، جہاں نوجوانوں کو صرف دینی معلومات نہیں دی جاتیں، بلکہ یہ شعور بھی دیا جاتا ہے کہ دین کی ہر بات کو حکمت، فہم اور شعوری انداز سے سمجھا جائے۔
وہاں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ دین کو صرف الفاظ کی حد تک نہ پڑھو، بلکہ اس کے پیچھے جو مقصد، مصلحت اور انسانیت کی بھلائی ہے، اسے بھی سمجھنے کی کوشش کرو۔ شاید یہی وَجہ تھی کہ اس حدیث کو سن کر میرے ذہن میں صرف خوف پیدا نہیں ہوا، بلکہ ایک سوال پیدا ہوا کہ آخر سود کے پیچھے ایسی کون سی خرابی ہے، جس کی وَجہ سے اسے اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم دین کو شعوری انداز میں پڑھیں، احکام کے پیچھے حکمت کو سمجھیں اور زندگی میں ایسے اصول قائم کریں، جن سے انسانیت کو سکون ملے، نہ کہ تکلیف۔









