توحید و رسالت؛ مفہوم اور سماجی تقاضے - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • توحید و رسالت؛ مفہوم اور سماجی تقاضے

    اِسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے سب سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے۔ اس کلمے کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنا مسلمان ہونے کے لیے پہلی شرط ہے۔ ....

    By Muhammad Ishaq Published on Jul 10, 2026 Views 111

    توحید و رسالت؛ مفہوم اور سماجی تقاضے

    انجنیئر محمد اسحاق۔ پشاور 

     

    اِسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے سب سے پہلا رکن کلمہ شہادت ہے۔ اس کلمے کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنا مسلمان ہونے کے لیے پہلی شرط ہے۔ اِس کلمے کو کلمہ شہادت اس لیے کہتے ہیں کہ اس ”گواہی“ سے انسان شرک و ظلم، ناپاک سسٹم سے نکل کر توحید پر مبنی عادلانہ نظامِ حیات کی طرف آجاتا ہے ۔

    کلمہ شہادت بنیادی طور پر دو حصوں کا مجموعہ ہے ۔پہلے حصے میں توحید کا اقرار، جب کہ دوسرے حصے میں رسالت کا اعتراف ہے ۔

    توحید کا معنیٰ و مفہوم :

    کلمہ شہادت کا پہلا حصہ یعنی اشہد ان لا الٰہ الا اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے ) توحید پر مشتمل ہے ۔ یہ ایک ایسا کلمہ ہے جو ہمیں زندگی گزارنے کا مکمل نظامِ حیات عطا کرتا ہے ۔

    اس کلمے سے دو سبق حاصل ہوتے ہیں:

    1۔  (لا الہ)؛ 

    2۔ تمام جھوٹے خداؤں اور غلط نظریات کا رد:

    کلمے کے پہلے حصے میں تمام جھوٹے اور من گھڑت خداؤں ، بتوں اور ہر اُس زمینی مخلوق اور چیز جس کو ہم ضرورت سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں  کی نفی کی گئی ہے۔ 

    قرآن نے ایک جگہ پر اس کو طاغوت سے تشبیہ دی ہے ۔

    اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں۔

    ترجمہ : ”اَب جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے۔ تو اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے“۔ ( سورۃالبقرہ، 256)

    طاغوت رحمانی طاقت کے مقابلے میں شیطانی طاقت کو کہا جاتا ہے ، یعنی اللہ پر ایمان لانے کے لیے طاغوت کا انکار کرنا ضروری ہے۔ 

    گویا کہ حقیقی نظریہ سیکھنے کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ غلط نظریات سے شعوری طور پر برأت کا اعلان کیا جائے ۔ 

    2۔  ( الا اللہ) درست نظریے کی طرف رہنمائی:

    غلط افکار کے جھٹلانے کے بعد اَب صحیح اور درست فکر کا تعین کرنا ضروری ہے ۔ چوں کہ زمینی مخلوقات میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو لائق پرستش ہو اور اسی کو سب سے بڑی طاقت مانا جائے ۔ اس لیے یہ اقرار کرنا کہ میں صرف اللہ تعالیٰ کو ہی الٰہ مانتا ہوں اور اُن ہی کی پوجا کرتا ہوں ۔ یہ اس کلمے کا دوسرا اور اہم رکن ہے ۔

    الٰہکے معنی ”کشش“ کے ہیں یعنی وہ ذات جس میں کشش موجود ہو اور دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہو۔ لفظ ”اللہ“، ”ولہ“ یا ”الہ“ سے مشتق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی واحد ایسی ذات ہے، جس کی طرف صاحبِ بصیرت لوگ خود کھنچے چلے جاتے ہیں  اور اسی ذات کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرتے ہیں ۔ اہل تحقیق کے مطابق یہ الفاظ (الہ، لوہ، ولہ وغیرہ) تمام ادیان و مذاہب میں تھوڑے بہت لفظی اختلاف کے ساتھ معبود برحق کے لیے مختص اور مستعمل ہے۔ 

    عبادت کا مفہوم :

    عبادت بندگی کا نام ہے ، یعنی کسی کا حکم ماننا اُسی کی اطاعت کرنا ۔ ہر کام اُسی کے رضا کے مطابق کرنا ۔ ایک بندہ جو بھی کام کرتا ہے اس میں اپنے مالک کی خوشی کو فوقیت دیتا ہے ۔ہم چوں کہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں تو ہماری زندگی گزارنے کا طریقہ کار اللہ کی رضا کے مطابق ہونا چاہیے ۔یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ذات ہے۔ اس نے یہ عبادات کا نظام ہمارے لیے بنایا ہے، تاکہ اس کے ذریعے ہماری تربیت ہو سکے ۔ 

    انسان کو عبادات (اقترابات) کے ساتھ ساتھ معاملات ( ارتفاقات ) کی بھی ضرورت پڑتی ہے، کیوں کہ انسان روح اور جسم دونوں کا مجموعہ ہے۔ لہٰذا جسم کے تقاضے پورے کرنے کے لیے انسانوں کے آپس میں تعلقات بھی ضروری ہیں ۔انسان ایک دوسرے کے ساتھ معاملات ادا کرتے ہوئے اگر اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پیش نظر رکھیں تو معاملات بھی خالص عبادت بن جاتے ہیں ۔جس طرح اِنفرادی زندگی میں ہمارے سارے اعمال اللہ کی رضا کے مطابق ہونے چاہیے۔ بعینہٖ اسی طرح ہمارا اجتماعی نظام بھی اللہ تعالیٰ کے بتلائے ہوئے احکامات کے مطابق ہونا چاہیے۔

    قرآن و حدیث میں اسلام کے سیاسی، معاشی و معاشرتی نظاموں کا مکمل ڈھانچہ موجود ہے ۔ اس لیے اللہ کے بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرے میں اللہ کے ان بتلائے ہوئے نظاموں کو غالب کیا جائے ،کیوں کہ دینِ اسلام کا بنیادی مقصدلیظھرہ علی الدین کلہ “ یعنی تمام نظاموں پر اسلام کا نظام غالب کرنا ہے ۔ اور یہی کلمہ طیبہ کا بھی تقاضا ہے ۔

    آج ہم اپنے وطن عزیز کے نام کا مطلب ” لا الٰہ الا اللہ“ کے ساتھ تو جوڑتے ہیں، لیکن یہاں پر اللہ کے نظاموں کے بجائے نظام سرمایہ داری ہم پر مسلط ہیں ۔ ہمارا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام اسلام کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے، بلکہ کفر اور سرمایہ داریت کا ہیں ۔ معاشی حوالے سے سودی نظام یہاں پر رائج ہے ۔سیاسی نظام دہشت و خوف کا پرچار کر رہا ہے۔ معاشرتی حوالے سے تقسیم در تقسیم موجود ہے۔ آج ضرورت اس چیز کی ہے کہ یہاں پر دینِ اسلام کو مکمل طور پر غالب کیا جائے اور قرآن کریم کے قوانین و احکامات کو نافذ کیا جائے تاکہ ہم اُس عظیم ذات کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق اِجتماعی زِندگی گزار سکیں۔

    عقیدہ رسالت؛ معنیٰ اورمفہوم :

    اِس کلمہ طیبہ کا دوسرا حصہ یعنی ”اشھد ان محمداً عبدہ ورسولہ“ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ محمد ﷺاللہ کے رسول اور اُن کی طرف سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں ۔ ہم نے اگر اپنی اِنفرادی و اجتماعی زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنی ہے تو وہ احکامات ہمیں اُن کے پیغمبر کے ذریعے سے ہی پہنچ سکتے ہیں اور وہی اُن احکامات کی صحیح تشریح کر سکتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ اس کے نبی پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔

    اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں :

    جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے یقیناً اللہ کی اطاعت کی“۔(سورۃ  النساء،80)

    اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ پر قرآنِ مجید نازل فرمایا ۔ قرآن بنیادی اصول دیتا ہے، جن سے قیامت تک ہر دور اور ہر قوم کے لوگ رہنمائی لے سکتے ہیں۔ اس قرآن کی عملی تصویر خود آں حضرت ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں پیش کی تھی جو کہ ہمارے لیے ایک نمونہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    بلا شبہ تمھارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی میں) بہترین نمونہ ہے“۔(سورۃ الاحزاب، 21 )

    لہٰذا اَب ہمیں اِنفرادی یا اجتماعی زندگی میں جب بھی رہنمائی کی ضرورت پڑے تو ہم نے حضور اکرم ﷺکی زندگی مبارکہ کی طرف دیکھنا ہے ۔ قرآن کے بعد اُن ہی کی سنت اور احادیث سے ہم نے رہنمائی لینی ہیں ۔ اِجتماعی طور پر جب ہم نے معاشرے میں دین کو غالب کرنا ہو یا قرآن کے سیاسی،معاشی و معاشرتی نظاموں کو سمجھنا ہو تو اُس کے لیے ہمیں حضورﷺ کی سیرت اور آپ کی جماعتِ صحابہؓ کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔

     توحید و رسالت کے سماجی تقاضے :

    (الف) عقیدہ توحید کے تقاضے :

    1۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ایک ہے، اسی طرح انسانیت بھی فردِ واحد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ رنگ ، نسل،زبان، مذہب یا سرمائے کی بنیاد پر معاشرے کو تقسیم کرنا دراصل (الف) توحید کا عملی انکار کرنا ہے ۔

    2۔ اللہ کی ذات،صفات اور صفات کے تقاضوں میں کسی کو شریک نہیں کرنا ۔ ساری عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے ہونی چاہیے۔ 

    3۔اللہ تعالیٰ کو حاکمیت اعلیٰ کا درجہ دینا ۔ زندگی کے ہر شعبے (معیشت،معاشرت اور سیاست) میں صرف اور صرف اللہ کے احکامات کو حتمی ماننا ۔

    (ب)عقیدہ رسالت کے تقاضے :

    1۔ آپﷺ کو انبیائے کرام کے سلسلے کی آخری کڑی مان کر اُن کی ساری تعلیمات پر دل و جان سے یقین رکھنا ۔

    2۔آپﷺ کی سیرت اور آپ کی جماعتِ صحابہؓ کی اجتماعی سیرت کو اپنے لیے نمونہ اور مثال بنانا ۔

    3۔آپﷺ کے لیے دنیا کی ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی زیادہ اپنے دل میں محبت رکھنا اور آپؐ پر ہمیشہ درود و سلام بھیجنا ۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں توحید و رسالت کے اقرار و اعتراف کے ساتھ ساتھ اس کے سماجی تقاضوں پر بھی انفرادی واجتماعی طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے! آمین !

    Share via Whatsapp