اختلاف رائے کا نظریہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • اختلاف رائے کا نظریہ

    انسانوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا، انسانوں کے مختلف مزاج کی وَجہ سے ہے۔ انسانوں کی فہم و بصیرت کی خصوصیت کو....

    By یاسر عرفات Published on Sep 15, 2026 Views 76
    اختلاف رائے کا نظریہ 
    تحریر؛ یاسر عرفات (ملتان) 

    انسانوں کا ایک دوسرے سے مختلف ہونا، انسانوں کے مختلف مزاج کی وَجہ سے ہے۔ انسانوں کی فہم و بصیرت کی خصوصیت کو عرفِ عام میں انسان کی ”نظر“ بھی کہتے ہیں۔ جب مختلف انسان مختلف عوامل کو مختلف نظر سے دیکھتےہیں تو اس کو ”اختلاف کی نظر“ سے دیکھنا اور اکثر اوقات اختلاف کی نظر سے دیکھنے کے نتیجے کو ”اختلاف کی نظر“ ہونا بھی کہا جاتا ہے۔ زیرِنظر مضمون مذکورہ عبارتوں ( 1. اختلاف کی نظر سے دیکھنا، 2.اختلاف کی نظر ہونا) کی دونوں معنویتوں کے بارے میں ہے۔ 
    یکسوئی:
    فکری انتشار سے پاک معاشرہ مضبوط و مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ یہ مضبوطی و استحکام معاشرے میں فکری یکسوئی سے آجاتا ہے۔ انسان کے یکسو (Focused)  ہونے کا تأثر انسان کی سپرپاور جیسا ہوتا ہے۔ جتنی بھی سچی اور جھوٹی انسانی کرامات کا تذکرہ سچے لوگوں اور جھوٹے لوگوں سے ملتے ہیں سب ان کرامات کو فردِ واحد کی یکسوئی کے نتیجے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ گویا اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ انسان کا یکسو ہوجانا انسان کی سپرپاور جیسا ہے۔ یہ سوال اگر فردِ واحد کی سطح سے اُٹھا کر ایک معاشرے کی سطح پر کیا جائے،کیا ایک یکسو معاشرہ سپرپاور ہوسکتا ہے؟ تو جواب اثبات میں ملتا ہے اور دنیا کی تاریخ اور حال میں مثالیں بھی ملتی ہیں۔ لیکن عروج سے اجنبی معاشروں میں یہ ایک سوال پیدا ہوتا اور مرتا رہتا ہے کہ جب ہر انسان کی سوچ مختلف، مفاد مختلف، گروتھ کا راستہ مختلف، رشتہ داروں کا رویہ مختلف، ذاتِ باری تعالیٰ سے تعلق کی نوعیت مختلف، DNA اور جینز مختلف، پرورش اور گھروں کا ماحول مختلف، علم مختلف، نظر مختلف پھر اجتماعیت کا قیام؟ جماعت سازی؟ معاشرتی یکسوئی چہ معنی دارد؟ ہر شے اختلاف کی نظرسے محسوس ہوتی ہے۔ 
    معاشرتی یکسوئی:
    انسانوں کے پیدا ہونے سے لے کر رسوماتِ وفات تک کے تمام عواملِ میں معاشرتی یکسوئی بہت اہم ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہی caregivers کی معاشرتی یکسوئی (Mutual Focus)  کے محتاج ہوتے ہیں۔ انسان پیدائشی طور پر یکسو ہوتے ہیں۔ پیدائش کے بعد بچے کا اور اس کی ماں کا پہلی بار ایک دوسرے کے لیے یکسو ہونا، ماں کے سینے سے چشمہ شفقت بہاتا ہے اور بچے کے survival کا ذریعہ بنتا ہے۔ سب سے کمزور (vulnerable) انسان اپنی Fitness کے باوجود تعاونِ باہمی کے نتیجے میں ہی survive کر پاتے ہیں۔ یہی تعاونِ باہمی/ معاشرتی یکسوئی جب ان کے سوچنے کی نشوونما کے عمل پر اَثرانداز ہوتی ہے تو وہ سوچنا سیکھتے ہیں، اپنے مفادات کے تعین و حصول کا طریقہ معاشرے سے سیکھتے ہیں، رشتہ داریوں کے ذریعے ایک دوسرے کے دکھ سکھ، خوشی غمی میں شریک ہوتے ہیں، ذاتِ باری تعالیٰ سے تعلق رکھنے کے نتیجے میں ایک دوسرے کے لیے دعائیں بھی کرتے ہیں، اپنے مختلف DNA اور جینیٹکس کے نتیجے میں مختلف صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی صلاحیت سے استفادہ کرتے ہیں، ایک دوسرے کی گروتھ میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، مختلف طرح سے مختلف گھروں سے پرورش پانے والے افراد مختلف ذمہ داریوں، مختلف سرگرمیوں میں مختلف نتائج پیدا کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں ایجادات وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ مختلف علوم کے تبادلہ خیالات سے علوم پروان چڑھتے ہیں اور مختلف اصحابِ ”نظر“ مختلف نظریات کے مختلف پہلوؤں کی کانٹ چھانٹ کرتے ہیں اور معاشرے کو مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے مختلف راستے تجویز کرتے ہیں۔
    لہٰذا اختلافی نظریہ یا اختلافِ رائےاپنی جگہ اور معاشرتی یکسوئی کی اپنی ایک جگہ ہوتی ہے۔ زوال پذیر معاشرے میں اختلاف(Difference of Opinion) اور معاشرتی یکسوئی (Mutual Focus) کے حصول کو متصادم محسوس کیا جاتا ہے۔ ظاہری طور پر جو ان کا تصادم زوال پذیر معاشروں کے انسانوں کے ذہنوں میں پایا جاتا ہے وہ درحقیقت چند عقلی مغالطوں کا نتیجہ ہے۔ تمام عقلی مغالطوں کی تصحیح تو اس مضمون سے نہیں ہوسکتی، البتہ صرف 2 نمایاں وجوہات اور ان کے سدِباب کا یہاں ذکر ہے:۔ 
    1۔ تفرقے کا خوف:
    زوال پذیر معاشروں میں فرقوں کا پیدا ہوجانا معمول کی بات ہے، لیکن فرقہ واریت کے جراثیموں کے ساتھ شدت پسندی کا جو مرض لاحق ہوتا ہے اسے دیکھ کر ہر عقل مند انسان اسے اپنی فطری و روحانی ساخت کے لیے غیرمعمولی اور نقصان دہ سمجھتا ہے۔ لہٰذا وہ تفرقے سے خوف زدہ رہتا ہے۔ اس خوف کے زیرِاثر کئی عقل مند انسان بھی تنگ نظری اور اختلافِ رائے کو ایک ہی واقعہ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ حال آں کہ تفرقہ پیدا ہوتا ہے، تنگ نظری کے نتیجے میں اور اختلاف رائےوُسعتِ نظری کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے، لیکن ایک زوال یافتہ معاشرے میں تفرقے کا خوف عقل پر ایسا حجاب ڈال دیتا ہے کہ کئی باصلاحیت اور عقل مند انسان بھی وُسعتِ نظری کو تنگ نظری سمجھنے کے عقلی مغالطے میں مبتلا ہو کر اختلاف کی ”نظر“ سے دیکھنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ اس عقلی مغالطے کی مثال ایسے ہے، جیسے کوئی منہ کے کینسر سے خوف زدہ انسان سگریٹ نوشی کے پرہیز کے ساتھ روٹی لگانے والے تندور کے دھوئیں سے بھی پرہیز شروع کر دے اور تندور کی روٹی کے نوالے سے بھی اسے منہ کے کینسر کا خوف آنے لگ جائے۔ 
    2۔ رسمیت: 
    جب ایک نیا معاشرہ پیدا ہورہا ہوتا ہے تو وہ اپنے مشترکہ اعمال کی انجام دہی اور تعاونِ باہمی کے معمولات کو استوار کرنے کے لیے چند طریقہ کار وضع کرتا ہے۔ یہ طریقے بعد میں اس معاشرے کی عادت بن جاتے ہیں۔ عرفِ عام میں ان معاشرتی عادات کو رسومات بھی کہتے ہیں۔ معاشرے کے عقل مند اور باصلاحیت افراد بعض اوقات ان رسومات کو اصل مان لیتے ہیں اور حقیقی مقصد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں اگر اختلاف کی ”نظر“ ان کے آڑے آئے تو اس کو اختلاف کی ”نظر“ کر دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک عقل پر پردہ ہے کہ معاشرت کو مختلف انسانوں کی مختلف صلاحیتوں کی اساس پر آگے بڑھانے کی بجائے رسومات کو اصل مان کر معاشرے کو جمود جیسے موذی مرض میں دھکیل دیا جائے۔ اس مرض سے پرہیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس پرہیز کی عملی مثالیں عصرِحاضر کی مخلوط سوِل، ملٹری آرگنائزیشنز میں ملتی ہیں۔ ان میں سائینٹفک بنیادوں پر انسانوں کے رسمی رجحانات اور ایجادات و تقلید کی طلب کے توازن کو سول ملٹری آرگنائزیشن کی ضرورت اور انسانی نفسیات کی ضرورت کے باہمی توازن کے تحت چلایا جاتا ہے۔ رسمی اور غیررسمی معاملات کا بہترین امتزاج ایک بہترین ملٹری کمانڈ کا خاصہ ہوتا ہے۔اسی لیے محض نظریاتی بنیادوں پر بلا معاوضہ بھی serve کرنے کے لیے comfortable افراد انھیں میسر رہتے ہیں اور اپنی سروسز، اپنے وسائل حب الوطنی کی غرض سے نچھاور کرتے ہیں۔ لیکن زوال پذیر معاشرت رسمیت کے معاملے میں اس عادلانہ اپروچ سے اجنبی ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک رسم کے ٹوٹنے کا خوف معاشرے کے ٹوٹنے کے خوف سے بڑا ہوتا ہے۔ بالآخر ایسا معاشرہ جمود کا شکار ہوجاتا ہے۔
    امرِ واقع:
    خلاصۃً، اختلاف ایک فطری چشمہ ہے جو معاشرتی یکسوئی کی علمی اور عملی آبیاری کرتا ہے اور اس سے قطعاً متصادم نہیں ہے۔ اختلاف کی ”نظر“ کو بری نظر سمجھنا اور اس سے خوف زدہ ہونا زوال پذیر معاشرے کا نقص ہوتا ہے۔ کامل بصیرت کے حامل اصحاب اختلاف کی ”نظر“ کو اختلاف کی ”نظر“ نہیں ہونے دیتے، بلکہ معاشرے کے عروج و زوال کے عالم ہونے کے ناطے معاشرتی امراض اور ان کے علاج و پرہیز پر ان کی دقیق نظر ہوتی ہے، محض نظرِ جلی پر اکتفا نہیں کرتے۔ ایسے اصحابِ بصیرت ہی کی حکمت کے نتیجے میں معاشرے زوال سے عروج کی طرف سفر کرتے ہیں۔ اختلافِ رائےانسانیت کا حسن ہے اور کوئی بھی انسان اس وقت تک حسین نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اس حسن کی تأثیر کو خوف و حجابات سے بالاتر ہو کر اپنے قلب میں صحیح سالم محسوس نہ کرسکتا ہو۔
    Share via Whatsapp