قرآن کا تصور نیکی و بدی اور نظام عدل کی ضرورت و اہمیت - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • قرآن کا تصور نیکی و بدی اور نظام عدل کی ضرورت و اہمیت

    دنیا کی زندگی دراصل خیر و شر کے تصادم کا میدان ہے۔ انسان کبھی روشنی کی طرف بڑھتا ہے اور کبھی اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے۔

    By Khalid zaman Published on Jan 27, 2026 Views 303

    قرآن کا تصور نیکی و بدی اور نظام عدل کی ضرورت و اہمیت

    تحریر: خالد زمان، بنوں

     

    دنیا کی زندگی دراصل خیر و شر کے تصادم کا میدان ہے۔ انسان کبھی روشنی کی طرف بڑھتا ہے اور کبھی اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے۔ مگر قرآنِ مجید نے بڑے حسین انداز میں اس بھٹکتے ہوئے انسان کو بتا دیا کہ نیکی اگر اس کے ہاتھوں سے سرزد ہوتی ہے تو وہ اللہ کے فضل کی بدولت ہے اور اگر برائی اس کے قدموں کو داغ دار کرتی ہے تو وہ اس کے اپنے نفس اور اُس کی کمزوریوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک فیصلہ کن آیت میں بیان فرمایا:

    جو بھلائی تمھیں پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے، اور جو برائی تمھیں پہنچے وہ تمھارے اپنے نفس کی وَجہ سے ہے“۔ (سورۃ النساء: 79) 

    یہ آیت انسانی عمل کے پورے فلسفے کو ایک جملے میں سمیٹ دیتی ہے۔ نیکی کا ایک ایک ذرّہ، ایک ایک عمل، ایک ایک جذبہ سب اللہ کی عطا ہے۔ دل میں خیر کا خیال آگیا، ہاتھ نیکی کی طرف بڑھ گیا، زبان سے اچھا جملہ نکل گیا، یہ سب رب کی توفیق کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے:

    جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا“۔(سورۃالزمر: 37) 

    جب دل اللہ کے نور سے معمور ہوجاتا ہے تو نیکی آسان لگنے لگتی ہے، عبادت میٹھی محسوس ہوتی ہے اور گناہ دل پر بوجھ بن جاتا ہے۔ یہ سب اللہ کی خاص عنایت ہے،مگر جہاں برائی کی بات آتی ہے، وہاں قرآن انسان کو آئینہ دکھاتا ہے کہ غلطی، لغزش اور گناہ کا محرک باہر سے نہیں، بلکہ اندر سے اُٹھتا ہے۔ وہ اندرونی جذبہ جسے نفسِ امّارہ کہا گیا ہےیہی انسان کو بہکاتا، گمراہ کرتا اور اس کے قدم لڑکھڑا دیتا ہے۔

    حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:

    بے شک نفس تو برائی پر اُکساتا ہی ہے“۔(سورہ یوسف: 53) 

    یعنی انسان کے دل میں اُٹھنے والا غلط خیال، خواہش کی بے لگامی اور گناہ کا دَباؤ یہ سب نفس کی پیداوار ہیں۔ شیطان صرف سرگوشی کرتا ہے، مگر قدم اُٹھانا نفس کا کام ہے۔ قرآن کہتا ہے

    خشکی اور سمندر میں فساد لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ظاہر ہوا“۔(سورۃالروم: 41) 

    یعنی فساد، گناہ، دل کا کھوٹ اور معاشرے کا بگاڑ یہ سب انسان کی اپنی پیدا کردہ چیزیں ہیں۔ اگر کوئی غصے میں ظلم کر بیٹھے، لالچ میں دھوکا دے دے، یا خواہش کے پیچھے حدود پار کر جائے یہ اللہ کی طرف سے نہیں، بلکہ انسان کے اندر کے نفس کی کمزوری ہے۔

     اسلام کا تربیتی پیغام اور معاشرتی ذمہ داری 

    اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ نیکی پر غرور نہ کرو، شکر کرو ،کیوں کہ یہ اللہ کی مدد ہے۔برائی پر دوسروں کو الزام نہ دو، اپنے نفس کو سنبھالو، کیوں کہ کمزوری تمھارے اندر سے اُٹھتی ہے۔ دل کو پاک کرو، نفس کو قابو میں رکھو، تاکہ نیکی آسان اور گناہ مشکل ہو جائے، لیکن اسی کے ساتھ اسلام اجتماعی ذمہ داری بھی یاد دِلاتا ہے۔ صرف فرد کا نفس ہی برائی کا سبب نہیں بنتا، کئی بار معاشرتی اور حکومتی نظام بھی انسان کو گناہ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ قرآن اور سیرت نے بارہا یہ اصول دیا ہے کہ:

    جب معاشرہ عدل سے خالی ہوجائے، جب لوگوں کو اُن کا حق نہ ملے، جب رزق کے دروازے ان پر بند کردیے جائیں،جب ظلم بڑھ جائےتو گناہوں اور بگاڑ کا بڑھنا لازمی ہوجاتا ہے۔

    انسان جب محروم ہو، بے روزگار ہو، انصاف سے دور ہو اور بنیادی ضروریات کے لیے ترستا پھرےتو نفس مزید کمزور ہوجاتا ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ ایک اچھا معاشرہ وہ ہوتا ہے، جہاں نظام لوگوں کو گناہ سے بچاتا ہے، نہ کہ گناہ کی طرف دھکیلتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا موجودہ نظام لوگوں کو راہِ حق سے دور کرتا ہے۔جب انصاف کا حصول مشکل ہو، رزق کے دروازے تنگ ہوں، کرپشن عام ہو، سفارش اور طاقت کا راج ہو تو معاشرہ افراد کو نیکی سے روکتاہے اور برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اسلام کا مطالبہ ہے کہ ہم ایسا نظام قائم کریں جو نیکی کو آسان اور گناہ کو مشکل بنائے۔

    ایسا معاشرہ جہاں لوگ اپنے حقوق سے محروم نہ ہوں، نوجوان روزگار کے لیے در در نہ بھٹکیں،انصاف ٹکوں میں بکتا نہ ہو، اور غربت انسان کی عزت نہ روندے۔

    جب انسان کو اس کا حق ملے، بہترین روزگار ملے اور معاشرہ عدل سے روشن ہو جائے تو وہ خود بہ خود گناہ سے دور ہونے لگتا ہے، اور نیکی کی راہ میں اس کے قدم مضبوط ہو جاتے ہیں۔

    نتیجہ

    اگر انسان یہ سمجھ لے کہ نیکی اللہ کی توفیق سے ہے اور برائی انسان کے نفس کی کمزوری سے جنم لیتی ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی جان لے کہ معاشرتی اِصلاح بھی اسی طرح لازم ہے، جیسے فرد کی اِصلاح تو وہ ایک ایسا معاشرہ قائم کرسکتا ہے جو نور، خیر اور عدل سے بھرا ہو۔ایسے ہی اجتماعی عمل کے لیے ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ لاہور نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا سکے، جہاں انسان نہ نیکی پر مغرور ہو، نہ گناہ میں مایوس، بلکہ اللہ کی رحمت کا امیدوار بھی ہو اور اپنے نفس کی اِصلاح کے ساتھ ساتھ نظامِ عدل کے قیام کے لیے بھی محنت کرے۔ یہی توازن انسان کو ایک مضبوط، باشعور اور اللہ کے قریب بندہ بنا دیتا ہے۔

    Share via Whatsapp