معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ :اسباب اور علاج - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ :اسباب اور علاج

    اس کرہ ارض پر االلہ تبارک تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات پیدا فرمائی ہیں ان میں سے انسان کو اشرف مخلوق قرار دیا گیا ہے انسان کیوں اشرف ہے حالانکہ باقی حیو

    By Tanveer Ahmad Sulehria Published on Oct 13, 2026 Views 139

    معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ :اسباب اور علاج 

    تحریر: تنویر احمد سلہریا (مانسہرہ) 


    اس کرۂ ارض پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات پیدا فرمائی ہیں، ان میں سے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے۔ انسان کیوں اشرف المخلوقات ہے، حال آں کہ باقی حیوانوں کے ساتھ اگرانسان کا موازنہ کیا جائے تو ان میں اور انسان میں بہت سی چیزوں میں مشابہت پائی جاتی ہے ، بلکہ فرشتے تو اللہ پاک کی ایسی مخلوق ہیں جن کی غذا ہی اللہ پاک کی عبادت و بندگی ہے پھر بھی انسان ہی افضل ٹھہرا ، کیوں ؟

    وہ اس لیے کہ اللہ پاک نے اسے عقل عطا کی ہے، جس کی بنیاد پر انسان ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے ، اپنی آسائش کے لیے چیزیں دریافت کرتا ہے اور ( جب تک اپنی اصل فطرت پر رہے ) تو ہمیشہ اجتماعیت کے حقوق اور انسانی اجتماعی مصلحت کو مقدم رکھتا ہے ۔ 

    یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انسان افضل اور اشرف المخلوقات چند اخلاقیات کی وَجہ سے ہے اور اگر یہ اخلاق اس کے اندر سے نکل جائیں تو وہ حیوان ہے یا اس سے بھی بدتر ہے ۔

    اس لیے نبی کریمﷺاپنی بعثت کا مقصد مکارم اخلاق کی تکمیل بتاتے ہیں ،فرمایا : 

    " إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاق "(بے شک مجھے مکارمِ اخلاق ( عمدہ اخلاق ) کی تکمیل کے لیےبھیجا گیا ہے)

    اَب سوال یہ  ہے کہ انسان جس کو اللہ پاک نے ایسی اعلیٰ فطرت پر پیدا کیا ہے اور عمدہ اخلاق کا مرقع بنایا ہے وہ کیوں کر اخلاق سے عاری ہوجاتا ہے اور معاشرے میں ایسے ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں جن کو دیکھ اور سن کرروح تک کانپ اٹھتی ہے اور دل و دماغ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا کہ ایک انسان ایسا بھی کرسکتا ہے ۔

    وطنِ عزیز پاکستان جو کلمۂ طیبہ کے نام پر وجود میں لایا گیا اور جہاں 99 فی صد مسلم آباد ی موجود ہے اور مسلمان ہونا تو انسانیت سے بھی اونچے درجے کا منصب ہے، مگر یہاں آئے روز ایسے ایسے واقعات رو نما ہو رہے ہیں، جن کا یہاں تذکرہ تک کرنا بھی محال ہے ۔ مجموعی طور پر یہاں نہ انسانیت موجود ہے اور نہ مسلمانیت کہیں دکھائی دیتی ہے ۔ ہر طرف اخلاقی گراوٹ عروج پر ہے ، ہر فرد کے اندر نفاق سرایت کرچکا ہے، ہر انسان دوسرے انسان کو دھوکا دے رہا ہے۔ مجموعی طور پر نوسربازی ، دھوکا ، فراڈ ، غبن ، راہ زنی ، ڈاکہ زنی ، ناپ تول میں کمی ، جھوٹ ، غیبت ، بہتان بازی ،ملاوٹ ،جنسی تشدد ،ذہنی تشدد ،رشوت خوری ، کمیشن خوری ، منشیات فروشی ،جسم فروشی ، وعدہ خلافی ،بد عنوانی اور ہیراپھیری جیسے غلیظ کاموں میں ہمارا معاشرہ ڈوبا ہوا ہے ۔ اور دوسری طرف ہر شعبۂ زندگی میں گدھ نما مافیاز کا کنٹرول اس معاشرے کو ایک انتہائی گھناؤنی شکل کی طرف لے جا رہا ہے، جیسے جنگل میں ہر طاقت ور درندہ اپنے سے کمزور کو دبوچ لیتا ہے اسے تار تار کرتا ہے اسے چیر پھاڑ کرکے کھا جاتا ہے ۔

    یہ بات سوچنے کی ہے کہ چھبیس ،ستائیس کروڑ انسانوں کا معاشرہ اس نہج تک کیوں پہنچا؟ حال آں کہ لاتعداد علما، بے شمار اساتذہ، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اور اخلاقی دروس پر مشتمل کتب سب اپنی اپنی جگہ اخلاقیات کا درس دے رہے ہیں، مگر اخلاق مفقود ہوتے جا رہے ہیں ایسا کیوں ہے ؟لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ جو سب سے زیادہ پڑھا لکھا ہے وہ اتنا ہی بڑا بداخلاق ہے ! اس کی بنیادی وَجہ یہ ہے کہ اخلاق کبھی بھی وعظ و نصیحت سے نہیں پھیلتے، بلکہ اخلاق ماحول سے پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ایک مشہور قول ہے۔"انما الاخلاق بالاحوال لا بالعلوم "(اخلاق ماحول سے پیدا ہوتے ہیں، نہ کہ صرف تعلیم سے) ۔اسی طرح عربی کا ایک اور مشہور قول ہے "الناس علیٰ دین ملوکهم" (لوگ اپنے حکمرانوں کے دین/طریقے پر ہوتے ہیں) ۔ یعنی اخلاق نہ محض تعلیم سے پیدا ہوتے ہیں ، نہ صرف وعظ و نصیحت سے ، بلکہ اخلاق ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف منتقل ہوتے ہیں  اور ماحول کا تعلق سسٹم کے ساتھ ہے۔ انگریز کے جانے کے بعد یہاں وہی طبقاتی نظام نافذالعمل ہے، جس کے سیاسی اور معاشی اصول ایک جنگل کے معاشرے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی فکر ہی "جس کی لاٹھی اس کی بھینس " کے اصول پر قائم ہے ۔ تو یہاں اس نظام کے ہی اَثرات ظاہر ہوں گے، یعنی جنگل والے، درندوں والے کام ہی غالب نظر آئیں گے اس طبقاتی نظام میں اپر کلاس سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ وہ تمام معاشرتی اقدار اور قانون سے اپنے آپ کو بالا تر سمجھتی ہے ،اخلاقی رویے اسی کلاس سے نیچے منتقل ہوتے ہیں، ہم دوسرے طبقات کو جتنا بھی اخلاقی درس دیں وہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا انسانی معاشرے کو طبقات میں تقسیم کرنا ہی بہت بڑا ظلم ہے۔ 

    اس لیے ضرورت اس امر کی ہے ہم اس فرسودہ نظام کو بدلیں جس کی چھتری تلے یہ منافقانہ معاشرہ پروان چڑھ رہا ہے جو اخلاقی بحران پیدا کرنے کی اصل جڑ ہے، یہ جب تک موجود ہے باقی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔ گزشتہ آٹھ دہائیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ وطنِ عزیز میں اور کوئی ترقی نہیں ہے، سوائے اخلاقی تنزلی کے۔ اس لیے اَب ہمیں سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہو گا کہ ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے یہی منافقانہ نظام و معاشرہ وراثت میں چھوڑنا ہے یا ایک عدل و انصاف ، امن وامان اور معاشی خوش حالی پر قائم بااخلاق، باکردار اور خوش حال معاشرہ ؟

    اور ہمیں اس چیز کا شعور بھی حاصل کرنا ہو گا کہ اگر ہم اپنے معاشرے کو تمام بداخلاقیوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیاکرنا چاہیے ؟

    بڑی واضح سی بات ہے کہ جب ہمیں یہ معلوم ہو گیا کہ ہمارے نبی کریم ﷺ معاشرے میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجے گئے تو پھر ہمیں آپﷺ اور آپ کی جماعت ( جس کے ذریعے آپﷺنے یہ کام سر انجام دیا )  کی سیرت طیبہ اور دور  کامطالعہ اس نقطۂ نظر سے کرنا ہو گا۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا شعور اور عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین !

    Share via Whatsapp