کتابوں سے دوری،ایک نقصان دہ رویہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • کتابوں سے دوری،ایک نقصان دہ رویہ

    موجودہ صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اس صدی میں جتنی ترقی ہوئی ہے اور جتنی تیز رفتار تبدیلیاں منظرعام پر آئی ہیں، شاید ہی اس سے پہلے ایسا کبھی ہوا ہو ....

    By Tanveer Ahmad Sulehria Published on Sep 15, 2026 Views 210

    کتابوں سے دوری،ایک نقصان دہ رویہ

    تحریر: تنویر احمد سلہریا (مانسہرہ)


    موجودہ صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے اس صدی میں جتنی ترقی ہوئی ہے اور جتنی تیز رفتار تبدیلیاں منظرعام پر آئی ہیں، شاید ہی اس سے پہلے ایسا کبھی ہوا ہو ۔اور ان تیز رفتار تبدیلیوں نے ہماری سماجی زندگی کو بھی بے حد متأثر کیا ہے اور ہمارے رویوں کو تبدیل  کر کے رکھ دیا ہے۔ اس تیز رفتاری میں ہم تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ 

    اس کے ساتھ ساتھ اگر غور کیا جائے تو بے دست و پا، یعنی مجبور محض بھی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری اپنی کوئی سوچ، رائے، احساس اور جذبات نہیں ہیں۔ 

    کہتے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہے۔ یہ صرف کاغذ کے چند صفحات کا مجموعہ نہیں، بلکہ صدیوں کے تجربات، علم، مشاہدات اور افکار کا تسلسل ہے۔ ایک اچھی کتاب ہمیں الفاظ کا بامعنی استعمال، سوچنے اور سمجھنے کا سلیقہ سکھاتی ہے، مگر آج لمحہ فکریہ ہے کہ غور وفکر سے ہمارا رشتہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔  

    موبائل فون، سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز اور دیگر مصروفیات نے مطالعہ اور  غور و فکر کی عادت کو بڑی حد تک متأثر کیا ہے۔چناں چہ جیسے جیسے کتاب سے دوری بڑھتی جا رہی ہے، اس کے ناقابل فراموش نقصانات بھی سامنے آرہے ہیں ۔

    ٹیکنالوجی کی اس تیزی کے نقصانات کا تجربہ جن اقوام کو ہوا ہے وہ اَب ہمیں غور و فکر کی دعوت دے رہی ہیں۔ 

    کتابوں سے دوری کا سب سے بڑا نقصان ہمیں اپنے لیے وقت نکالنے کی فرصت نہیں ہے ۔ کتاب انسان کو کسی موضوع کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیتی ہے، جب کہ سوشل میڈیا کی مختصر معلومات اکثر سطحی اور ادھوری ہوتی ہیں۔ جب انسان مسلسل مختصر مواد کا عادی ہوجائے توسنجیدہ مطالعہ یا غور وفکر اسے مشکل محسوس ہونے لگتا ہے

    اورمعلومات کے اس طوفان میں ہماری حیثیت ایک تنکے سے زیادہ نہیں رہی، ہم اس میں بہے چلے جا رہے ہیں۔

    کتابیں انسان کی ذہنی تربیت کرتی ہیں۔ مطالعہ ہمیں سوال اُٹھانے، دلائل کو پرکھنے اور مختلف نقطۂ نظر سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ کتابوں سے دوری کے نتیجے میں انسان تحقیق کے بجائے جذبات، تحمل کے بجائے شدت کواپناتا ہے۔ یوں افواہیں، غلط معلومات اور غیرمصدقہ خیالات معاشرے میں آسانی سے پھیل سکتے ہیں اور پھیل رہے ہیں، بلکہ سوشل میڈیا پر اس کی بھرمار ہے۔

    اسی طرح مطالعے کی کمی کا اَثر زبان اور اظہارِ خیال پر بھی پڑتا ہے جو شخص باقاعدگی سے کتابیں پڑھتا ہے، اس کا ذخیرۂ الفاظ وسیع ہوتا ہے اور وہ اپنے خیالات بہتر انداز میں بیان کرسکتا ہے۔ اس کے برعکس کتابوں سے دوری زبان کی کمزوری اور اظہار میں جھجھک کا باعث بن سکتی ہےاور نوجوان نسل کے لیے یہ مسئلہ مزید اہم ہے۔ 

    طالب علم اگر کتاب اور نصابی مطالعے سے دور ہو کر اپنا زیادہ وقت غیرضروری اسکرین ٹائم میں گزاریں تو ان کی توجہ، یکسوئی اور تعلیمی کارکردگی متأثر ہوسکتی ہے۔ کامیابی صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ معلومات کو سمجھنے، یاد رکھنے اور درست جگہ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے اور اس صلاحیت کی نشوونما میں مطالعہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    کتابیں ہمیں ماضی، حال اور مستقبل سے جوڑتی ہیں۔ ماضی کے واقعات، عظیم شخصیات کی جدوجہد، قوموں کے عروج و زوال اور انسانی تجربات سے ہمیں سبق ملتا ہے جو قومیں اپنے ماضی کا مطالعہ چھوڑ دیتی ہیں، ان کے لیے اپنی غلطیوں سے سیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔

    کتابوں سے دوری کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ انسان تنقیدی اور تخلیقی سوچ سے محروم ہوسکتا ہے۔ اچھی کتابیں ہمارے ذہن میں نئے سوالات پیدا کرتی ہیں اور ہمیں ایک ہی مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی دعوت دیتی ہیں۔ یہی صلاحیت نئی سوچ، تحقیق اور تخلیق کی بنیاد بنتی ہے۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم کتاب کو دوبارہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ روزانہ صرف چند صفحات سے آغاز کیا جاسکتا ہے۔ گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری، اسکول میں مطالعہ کا باقاعدہ وقت اور بچوں کو ان کی عمر کے مطابق اچھی کتابیں فراہم کرنا اس سلسلے میں مؤثر اقدامات ہوسکتے ہیں۔

    موبائل اور ٹیکنالوجی بذاتِ خود دشمن نہیں، اصل مسئلہ ان کا غیرمتوازن استعمال ہے۔ اگر ہم ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سماجی گھریلو زندگی کی محبت قدروں کی بحالی کے لیے وقت نکالیں توہم زندگی کے اٹل تقاضوں کو نباہ سکتے ہیں۔

    آخر میں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ کتاب سے دوری دراصل علم، فکر اور شعور سے دوری ہے۔ ایک فرد کی کتاب سے دوستی اس کی شخصیت کو سنوار سکتی ہے، جب کہ ایک معاشرے کی مطالعے سے محبت اس کے فکری مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنا وقت صرف اسکرین پر گزارنا چاہتے ہیں یا کتاب کے صفحات سے اپنی سوچ کی دنیا بھی وسیع کرنا چاہتے ہیں۔

    Share via Whatsapp