لایعنی گفتگو اور درست لائحہ عمل - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • لایعنی گفتگو اور درست لائحہ عمل

    پاکستان کے سیاسی، مذہبی و غیر مذہبی نوجوانوں کے انداز گفتگوں کا جائزہ، نظام کا کردار اور حقیقی انداز گفتگوں

    By حذیفہ عزیز Published on Aug 04, 2026 Views 219

    لایعنی گفتگو اور درست لائحہ عمل

    تحریر؛ حذیفہ عزیز ۔ پشاور

     

    بے مقصدیت زوال پذیری کی ایک علامت ہے، ہمارے معاشرے پر بے مقصدیت کی ایک تعفن زدہ فضا کا غلبہ ہے، جس کی وَجہ سے ہر طبقے اور ہر عمر کے افراد کو لایعنی اور بے جا گفتگو کا چَسکا لگا ہوا ہے،بے صبری ،متشددانہ رویے،چھوٹے بڑے کی تمیز اور باہمی احترام کا فقدان چار سُو نظر آتا ہے۔ 

    تشویش ناک صورتِ حال تب جنم لیتی ہے، جب یہ مباحث باہمی رقابت اورعداوت کو پروان چڑھا کر رشتوں میں دراڑ پیدا کرنے کا سبب بن جائیں اور بھائی دوسرے بھائی ،والد بیٹے اور بیٹا والد کے خون کا پیاسا بن جائے۔ یوں سماجی تنوع جو کسی تہذیب و ثقافت کاحسن ہوتا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں عذاب کی علامت بن جاتا ہے۔

    ذیل میں پاکستان میں مختلف افکار و نظریات سے جڑے نوجوانوں کے اندازِگفتگو کا جائزہ لیتے ہیں اور اس اندازِگفتگو کے پیچھے پس پردہ عوامل تلاش کرتے ہیں۔

    سیاسی نوجوانوں کا انداز گفتگو

    جب سیاسی سوچ رکھنے والے نوجوان کسی معاملے پر گفتگو کرنے بیٹھتے ہیں تو آپس میں لعن طعن ،الزام تراشیاں اور طنز کیے جاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے لیڈروں کو برے القابات سے پکارتے ہیں، حقیقت کو تسلیم کرنے اور ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنے کے بجائے دلائل و ثبوت کو پس پشت ڈال کر جبراً دوسروں پر اپنی آرا مسلط کرتے ہیں اور جانب دارانہ رویہ اپنا کر اپنے اپنے جتھوں کا دفاع کرتے ہیں۔ بے صبری اور طیش کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ تسلی سے مؤقف کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کی بات کو درمیان میں ہی کاٹتے ہیں۔ اجتماعی قومی مسائل کو زیر بحث لانے کے بجائے اپنے اپنے لیڈران کی مدح سرائی کی جاتی ہے۔ اپنے جتھے کے مؤقف کو صحیح اور غلط کا معیار مانتے ہیں، چہ جائے کہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، انداز اس قدر جارحانہ ہوتا ہے کہ محفل بحث مباحثے کا کم اور کسی دنگل کا اکھاڑہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

    مذہبی نوجوانوں کا اندازِگفتگو

    مذہبی فرقوں کے نوجوانوں کا عموماً رویہ بھی ان سیاسی لوگوں ہی جیسا ہوتا ہے ۔آپس میں گفت و شنید، خیالات کے تبادلے اور اجتماعی مسائل کو دینِ اسلام کی روشنی میں بیان کر کے ان کا حل پیش کرنے کے بجائے اِنفرادی مسائل ، مناظرے کی صورت میں اس شد و مد کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں کہ گویا آج کے دور کے یہی حقیقی مسائل ہیں اور اگر کہیں پر ملکی اجتماعی مسائل زیرِبحث لاتے بھی ہیں تو وہ سرمایہ دارانہ نظام پر دین کی ملمع کاری کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

    مذہب بے زار نوجوانوں کا اندازِگفتگو

    اسی طرح مذہب بے زار اور مادہ پرست نوجوان انسانی فطرت اور دین کی حقیقت اور ہمارے معاشرے کی معروضیت کو سمجھے بغیر ملکی مسائل پر جب گفتگو کرتے ہیں تو اشتراکیت کے نفاذ کو ملکی مسائل کا حل قرار دیتے ہیں، مگر یہ باتیں بھی محض زبانی کلامی باتیں ہی ہوتی ہیں، اپنے اس نظریے کو عملی جامہ پہنانے کے لحاظ سے یہ طبقہ بھی فیل نظر آتا ہے۔

    سنجیدہ نوجوانوں کی گفتگو

    جو لوگ ملکی اجتماعی مسائل پر گفتگو کرتے بھی ہیں تو وہ مسائل کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے جڑ سے پیدا ہونے والے مسئلے کو ہی مسئلے کی جڑ قرار دے کر مغالطے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مثلاً نظام کی خرابی کو بنیاد بنانے کے بجائے بعض لوگ محض حکمرانوں کی عیاشیوں ،بے جا پروٹوکول کو ہی ہمارے مسائل کی جڑ مان کر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر صرف یہ مذکورہ حالت ختم ہو جائے تو ہمارے مسائل بھی ختم ہوجائیں گے، اسی طرح ہمارے انصاف کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے بعض لوگ ان کو حل کرنے کا فارمولہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ججوں کی مراعات میں سے کٹوتی کر کے ججوں کی تعداد بڑھائی جائے تو صدیوں سے حل طلب مقدمے حل ہوجائیں گے اور انصاف جلد مہیا کیا جانے لگے گا۔کسی ایک ادارے کو تنقید کا نشانہ بناکر انھیں ملک کے تمام مسائل کی جڑ قرار دیتے ہیں۔ غربت کو ختم کرنے کےلیےلنگرخانوں کے اہتمام کی بات کی جاتی ہے یا این جی اوز کا کسی غریب کے لیے وقتی ضروریات کا اہتمام اتمامِ حجت بن جاتا ہے۔حال آں کہ یہ تمام مسائل سرمایہ دارانہ نظام کی کوکھ سے جنم پاتے ہیں۔

    اجتماعی ماحول کا انسان کے اندازِگفتگو پر اَثر

     انسان اپنے ماحول کا پروردہ ہوتا ہے اور جس طرح کے ماحول میں اس کی تربیت ہوتی ہے وہ اسی ماحول کی ایک مجسم شکل بن جاتا ہے، گندے تالاب میں پلنے والی مچھلی سے صاف ستھرا ہونے کی اُمید نہیں کی جاسکتی، نمک کی کان میں اگر ہیرے کو بھی رکھا جائے تو ہیرا ہیرا نہیں رہتا۔سائنس بھی اس بات کی قائل ہے کہ کسی خاص عمل کے ہونے کے لیے مخصوص درجہ حرارت ، تیزابیت وغیرہ کا ماحول مطلوب ہوتا ہے ورنہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے، اسی طرح انسانی فطرت پر جو عناصر اَثرانداز ہوتے ہیں ان میں ایک ماحول بھی ہے۔ 

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ”اخلاق ماحول سے پیدا ہوتے ہیں نا کہ علم سے“۔ اعلیٰ اخلاق ایک بہترین ماحول کی نمائندگی کرتے ہیں، جب کہ پست اخلاق برے ماحول کے نمائندہ ہوتے ہیں۔ 

    ہمارے نوجوانوں کے مذکورہ بالا اندازِگفتگوسے ہمارے مجموعی ماحول یعنی نظام کی عکاسی ہوتی ہے۔ جب ملک کے سیاسی نظام میں مقتدرہ اور حزب اختلاف طبقے اقتدار کی کھینچا تانی کے لیے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں، برے القابات سے پکارتے ہیں،عدمِ برداشت اس قدرہے کہ ملک کے نمایاں میڈیا چینلوں پر ٹاک شوز میں بیٹھے یہ سیاست دان گفتگو کم، گالم گلوچ اور الزام تراشیاں زیادہ کرتے ہیں، یہاں تک کہ کیمرے کے سامنے ہاتھا پائی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔قومی و صوبائی اسمبلیوں میں غیرسنجیدہ، بے مقصد اور لایعنی گفتگو کرتے ہیں اور پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنتے ہیں۔ ہر فرقے کے لیے الگ بورڈ کو تسلیم کر کے نظام نے خود فرقہ واریت پر مہر ثبت کردی ہے۔ مدارس میں دینی سیاست، معیشت اور اجتماعی فکر و فلسفے کے بابت تعلیم ناپید ہے،فرقوں کے اکابر ممبر کو انتشار اور تفرقے پر ابھارنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، مناظروں کو دین کی سب سے بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔ ملکی تعلیمی نظام میں مغرب کے مفکرین جان لاک، تھامس ہوبس روسو وغیرہ کے افکار پر مبنی معاشرتی علوم پڑھائے جاتے ہیں، جب کہ اس کے مقابل فطرت انسانی کے معاشرتی علوم کے ماہر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بارے میں تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ 

    ایسے اجتماعی ماحول میں پلنے والے نوجوان سے آپ حقیقت پسندانہ گفتگو، صبر و استقامت اور عدمِ تشدد جیسے رویوں کی اُمید ہر گز نہیں کرسکتے ہیں۔

    امید کی کرن

    ہمارا زیادہ تر نوجوان مخلص اور واقعی ملک کے روشن مستقبل کے لیےفکرمند ہوتا ہے، مگر ایسے ماحول میں کہ نوجوان کو منافرت،منافقت،عدمِ برداشت جیسے رویوں نے گھیرا ہوا ہو، نوجوان کو محبت اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی ایسا شخص جو اس کی بات کو کاٹنے کی بجائے اطمینان اور توجہ سے اسے سنُے، اس کی بات کو اہمیت دے، اسے بلا کسی ذاتی مفاد کے وقت دے، واقعتاً اس کی اِصلاح کی نیت کرے اور اس کی مدد کے لیے کمر کس لے، اس کو قائل کرنے کی بجائے اسے مائل کرے۔اس بات سے قطع نظر کہ کون صحیح اور کون غلط ہے ،نوجوان سے گفتگو اس پر کی جائے کہ کیا صحیح اور کیا غلط ہے؟۔ فلسفے سمجھانے کے بجائے حکمت اور تدبر سے ذہنی سطح کے مطابق نوجوان کے سامنے حقائق کی جانب مبذول کرنے والے سوالات قائم کیے جائیں، بات میں اُلجھنے کے بجائے اسے سُلجھانے کی جانب لے جائے۔ مختصر مگر بامعنی محافل قائم کی جائیں۔ منتشر گفتگو کے بجائے موضوعی گفتگو کی جائے۔ مسائل میں الجھنے کے بجائے غلط نظام اور اس سے پھوٹنے والے مسائل کی طرف توجہ دِلائی جائے تو ایسے میں نوجوان کی صلاحیتوں کو بحق اجتماع بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور ان کو معاشرے کا ایک کارآمد فرد بنایا جاسکتا ہے۔

    Share via Whatsapp