بیانیے کی گرفت اور مسلط نظام کا دجل
اکستانی معاشرے میں مذہبی، سیاسی، تعلیمی، معاشی اور سماجی بیانیے کس طرح غلط رویّوں اور ناانصافیوں کو معمول، قابلِ قبول اور ناقابلِ تبدیلی ۔۔۔۔۔
بیانیے کی گرفت اور مسلط نظام کا دجل
تحریر؛ سلیمان علی۔ پشاور
جہاں بھی ہم طاقت کی بات کرتے ہیں تو عموماً اسے صرف قانون، ریاستی اختیار یا دولت سے جوڑاجاتا ہے، حال آں کہ طاقت کی ایک زیادہ مؤثر صورت زبان ہے۔ معاشرے کو مخصوص تصورات اور تعبیرات، خیال، امکان، خبروں اور روزمرہ جملوں کے ذریعے یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کو کس نظر سے دیکھنا ہے اور کن چیزوں پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔
نارمن فیئرکلاف برطانوی ماہرِ لسانیات اور Critical Discourse Analysis کے اہم مفکر ہیں، جن کا کام زبان، طاقت اور سماجی تبدیلی کے تعلق پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق جب کسی نظریے کو بار بارسماجی دلیلوں اور زبان کے ذریعے دہرایا جائے تو وہ آہستہ آہستہ عام فہم بن جاتا ہے اور معاشرہ اسے معمول سمجھ کر قبول کرنے لگتا ہے“۔ (Fairclough, 1989, pp. 91–92)۔
تیون اے وان ڈائک نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے زبان اور بیانیے کے معروف محقق ہیں، جن کا Sociocognitive Approach طاقت، نظریے اور سماجی ادراک کے تعلق کو دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق طاقت ور گروہ عوامی گفتگو تک رسائی، موضوعات کے انتخاب اور ان کی تعبیرات پر اثر انداز ہو کر اپنی بالادستی برقرار رکھتے ہیں“۔ (van Dijk, 1993, pp. 255–257)۔
1۔ مذہبی بیانیہ: صبر یا بے عملی؟
پاکستانی معاشرے میں مذہب ایک بڑی اخلاقی قوت ہے، اس لیے مذہبی بیانیے یہاں پر خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ جیسے: "یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے"، "تقدیر میں یہی لکھا تھا"، "اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے"، "دنیا امتحان ہے" اور "اصل انصاف آخرت میں ہوگا" وغیرہ۔ ایسے جملے اپنی دینی معنویت میں درست ہیں، لیکن مسئلہ تب آتا ہے جب انہی جملوں کے ذریعے غربت، ناانصافی، بدعنوانی، استحصال، کرپشن اور نااہل حکمرانی کو زبان کے پردوں میں چھپا دیا جائے۔
یہاں پر ہمیں ان "مذہبی بیانیوں" اور حقیقی مذہب میں فرق کرنا ہوگا۔ قرآن صبر کی تلقین بھی کرتا ہے، جیسے: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے" (البقرۃ، 2:153)، لیکن یہی مقدس کتاب انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا حکم بھی دیتی ہے (النساء، 4:135)۔
2۔ سیاسی و ریاستی بیانیہ: "بیان کچھ نہیں بدل سکتا"
ہمارے ہاں سیاست میں ایسے بیانیوں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے ذریعے ظلم، ناانصافی، استحصال، غربت اور سفارش کو معمول کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ وہ مخصوص جملے یعنی "ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے"، "قومی مفاد میں خاموش رہیں"، "احتجاج سے انتشار پھیلے گا"، "سیاست بہت گندی چیز ہے"، سب ایک جیسے ہیں۔ اور ان سب سے بڑھ کر "بیان سے کچھ نہیں بدل سکتا"، "پاکستانی عوام کچھ نہیں کر سکتے"، "یہ ایسے ہی چلتا رہے گا"۔
"ووڈک" اور "مائیکل میئر" کے مطابق؛" Critical Discourse Analysis (CDA) میں نظریہ (Ideology)، طاقت (Power) اور تنقید مرکزی تصورات ہیں۔ زبان (Language) بذاتِ خود کوئی جادوئی طاقت نہیں، لیکن طاقت ور افراد اور ادارے اسے اپنے ناجائز اختیار کو قابلِ قبول اور معمول کا حصہ بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں" (Wodak & Meyer, 2009)۔
یہاں پر نظام سے مراد کسی کمرے میں رولنگ چئیر پر بیٹھے چند افراد کا نام نہیں، بلکہ قوانین، اداروں، بیوروکریسی، مذہبی، اقتصادی اور سماجی خوف کا ایک جڑا ہوا ڈھانچہ ہے۔ اسی نظام میں جب سوال کرنا اور آواز اٹھانا جرم، جب کہ خاموش رہنے پر فوری فائدہ ملتا ہو، تو پھر خاموشی مصلحت اور مصلحت آہستہ آہستہ ”دانش مندی“ بن جاتی ہے۔
3۔ تعلیمی بیانیہ: علم یا طاقت؟
غلط تعلیمی بیانیے جیسے ”زیادہ نمبر مطلب زیادہ ذہانت“، “استاد سے زیادہ سوالات اور ڈسپلن بدتمیزی ہے“، ”کتاب میں جو لکھا ہے وہی سچ ہے“، ”ڈگری کا مطلب علم“، ”اچھی انگلش آنے کا مطلب زیادہ ذہانت ہے“، وغیرہ ہماری تعلیمی زندگی کے معمول میں شامل ہیں۔
Pakistan Economic Survey 2025–2026 کے مطابق؛ ” Literacy Rate تقریباً 63 فی صد ہے۔ اسکول سے باہر بچوں کا تناسب 28 فی صد ہے، جب کہ مالی سال 2025 ءمیں تعلیم پر وفاقی اور صوبائی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے صرف 0.8 فی صد کے برابر رہے۔ ایسے حالات میں پوری تعلیمی ناکامی کو بچے، استاد یا والدین کی کوتاہی کہہ کر پورے نظام کی ناکامیوں کو نظر انداز کرنا خود کو بے وقوف بنانا ہے“۔
باچا خان برصغیر کے پختون سماجی مصلح، آزادی پسند رہنما اور عدم تشدد کی خدائی خدمتگار تحریک کے قائد تھے، آپ اپنی کتابMy Life & Struggle میں تعلیم کو اجتماعی بیداری سے جوڑتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ؛
” تعلیم اور ترقی قوم کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ “۔ (Khan, 1969, p. 58)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تعلیم صرف ڈگری، نوکری اور اطاعت کا نام نہیں، بلکہ انسان کو اپنے معاشرے کے لیے ایک کارآمد فرد بنانے کا نام ہے، جس میں سوالات کرنا، تنقیدی نقطئہ نظر سے سوچنا، مسائل پر غور کرنا اور انھیں حل کرنے کی استعداد اور صلاحیت رکھنا شامل ہے۔
4۔ معاشی، طبقاتی اور بیوروکریٹک بیانیے
”سفارش کے بغیر کام نہیں چلتا“، ”تھوڑی سی رشوت تو چلتی ہے“، ”سارے افسر ایسے ہی کرتے ہیں“، ”غریب محنت نہیں کرتا“، ”کامیاب آدمی صرف اپنی محنت سے بنتا ہے“، ایسے بیانیے پورے نظام کی ناکامیوں کو فرد کی اخلاقی ناکامی اور کبھی ناقابلِ تبدیلی حقیقت بنا دیتے ہیں۔
ورلڈ بینک کے اکتوبر 2025ء کے Poverty and Equity Brief کے مطابق نئی زیریں متوسط آمدنی والے ممالک کی بین الاقوامی غربت لائن پر پاکستان میں 45 فی صد غربت تھی، 2025ء کے مالی سال کے مطابق۔ اتنے بڑے پیمانے کی معاشی مشکلات کو یہ کہہ کر سمجھانا کہ ”غریب محنت نہیں کرتا“، روزگار، اجرت، تعلیم اور مواقع کی غیرمساوی تقسیم کو گفتگو سے غائب کر دیتا ہے۔
بیانیے کی معمول سازی کی اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان غلط کام کو غلط جان کر بھی اسے کرنے کو ناگزیر سمجھ کر دہراتا ہے۔
5۔ خاندانی، صنفی اور گروہی بیانیے
اَب اسی طرح کے بیانیے یعنی ”لوگ کیا کہیں گے‘‘، ’’عورت کی عزت برداشت میں ہے‘‘، ’’مرد نہیں روتا‘‘، ’’بڑے کبھی غلط نہیں ہوتے‘‘، ’’بیٹی نے ہر حال میں گھر بسانا ہے‘‘ اور ’’لڑکوں سے غلطیاں ہو جاتی ہیں‘‘ جیسے جملے گھر کے اندر ہی طاقت اور خاموشی کی سرحدیں قائم کر دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ورلڈ بینک کے 2025ء کے Pakistan Gender Data Landscape کے مطابق پاکستان میں خواتین کی Labour Force Participation تقریباً 24 فی صد، جب کہ مردوں کی 80.1 فی صد تھی۔ اس بڑے فرق کو صرف خواتین کی ’’ذاتی پسند‘‘ قرار دینا تعلیم، نقل و حرکت، نگہداشت کی ذمہ داریوں، روزگار کے مواقع اور سماجی توقعات جیسی رکاوٹوں کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔
یہی طریقہ طبقاتی، نسلی، لسانی اور فرقہ وارانہ ’’ہم‘‘ اور ’’وہ‘‘ کے بیانیوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
6۔ میڈیا، سوشل میڈیا اور خاموشی۔
میڈیا ہمیں صرف اس سے متاثر نہیں کرتا کہ ہم کیا سنتے ہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کون سی آوازیں وہ ہمیں بار بار سنانا چاہتے ہیں اور کون سی آوازوں کو وہ دبانا چاہتےہیں۔
ایڈورڈ ایس ہرمن امریکا سے تعلق رکھنے والے ماہرِ معاشیات اور Media Analyst تھے، جن کا علمی رجحان Political Economy اور میڈیا کے تنقیدی مطالعے کی طرف تھا۔
نوم چومسکی امریکی ماہرِلسانیات اور Political Activist ہیں، جو لسانیات کے ساتھ سیاسی اور میڈیا تنقید کے حوالے سے بھی معروف ہیں۔
ایڈورڈ ہرمن اور نوم چومسکی نے Manufacturing Consent میں میڈیا کے ایسے ساختی عوامل کی بحث کی جن میں ملکیت، معاشی مفادات، اطلاعاتی ذرائع اور ادارہ جاتی دَباؤ خبر کے انتخاب اور پیش کش پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ (Herman & Chomsky 1988, 99.1-2)
پاکستان 2026 کے Reporters Without Borders World Press Freedom Index میں 180 ممالک میں 153ویں نمبر پر ہے۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے بھی اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں آزادیِ اظہار پر دباؤ اور خود ساختہ سنسرشپ کے ماحول کی نشان دہی کی۔ ایسے ماحول میں یہ سوال بھی اہم ہو جاتا ہے کہ صرف کیا کہا جا رہا ہے نہیں، بلکہ کیا نہیں کہا جا رہا۔
سوشل میڈیا نے اس میں ایک نئی پرت شامل کر دی ہے: ’’جو Viral ہے وہ سچ ہے‘‘، ’’اپنے گروہ کی خبر درست ہے‘‘ اور ’’مخالف کی ہر بات Propaganda ہے‘‘۔
مسئلہ نظام ہے، فرد نہیں؛ حل بھی نظامی ہونا چاہیئے۔
یہ تمام بیانیے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہیں۔
اسی لیے حل صرف مثبت سوچ سکھانے میں نہیں، بلکہ نصاب کو سوال اور دلیل کی تربیت دینے ہوگی، مذہبی گفتگو کو صبر کی تلقین کے ساتھ عدل کی نظام کی جدوجہد کرنے کی تلقین بھی کرنی ہوگی، قانون کو سب کے لیے یکساں طور پر نافذ کرنا ہوگا، غربت کو کردار کی خرابی یا فرد کی خرابی کے بجائے معاشی مسئلے کے طور پر دیکھنا ہوگا، خواتین اور اس کے ساتھ جتنے بھی محروم طبقات ہیں ان کے لیے حقیقی مواقع پیدا کرنے ہوں گے، اور میڈیا کو حقائق سامنے لانے اور جواب دہی کا ذریعہ سمجھنا ہوگا۔
اصل جنگ صرف یہ نہیں کہ ہم پر حکومت کون کرتا ہے، بلکہ سوال تو یہ ہے کہ کون یہ طے کرتا ہے کہ ”معمول“ کیا ہے۔ جب ظلم کو تقدیر، غربت کو ذاتی ناکامی، اطاعت کو اخلاق، سوال کو بدتمیزی، سفارش کو مجبوری، صنفی عدمِ مساوات کو روایت اور خاموشی کو ہی مصلحت بنا دیا جاتا ہے تو نظام کو ہر وقت جبر استعمال نہیں کرنا پڑتا، بلکہ معاشرہ خود اس کا بیانیہ دہرانا اور تسلیم کرنا شروع کر دیتا ہے۔
اصل تبدیلی تو تب ہی ممکن ہوگی، جب افراد کو نصیحت کرنے کے بجائے نظام کےان اداروں، مراعات اور ان بیانیوں کو بھی بدلا جائے جو غلط کو معمول بنا دیتے ہیں۔ کیونکہ جب غلامی کا بیانیہ معاشرے میں مقدس ہو جاتا ہے، تو وہاں پر مزاحمت کرنا خود ایک گناہ بن جاتی ہے۔









