ترقی کی سوچ کی ترویج میں ادارہ رحیمیہ کا کردار - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • ترقی کی سوچ کی ترویج میں ادارہ رحیمیہ کا کردار

    ترقی کن سوچ کی ترویج میں ادارہ رحیمیہ کا کردار

    By Shahab Uddin Published on May 26, 2026 Views 112

    ترقی کی سوچ کی ترویج میں ادارہ رحیمیہ کا کردار 

    تحریر ؛ شہاب الدین بنگش، پشاور 

     

     کسی بھی قوم کی ترقی اور عروج  کے پس منظر میں اس کا اعلیٰ فکر و نظریہ کارفرما ہوتا ہے ۔ اگر اس کا فکر اور نظریہ پست ہو تو وہ قوم کبھی عروج اور ترقی حاصل نہیں کرسکتی۔ اگر سوچ اعلیٰ ہو، مقاصد و اہداف ترقی کے ہوں، نظریات ہمت و جرأت پیدا کرنے والے ہوں تو عروج حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سوچوں کی تبدیلی ہی بدترین زوال میں گری ہوئی قوموں کو زوال سے نکال کر برسرِ عروج لاتی ہے،جس کی مثال ہمارے پڑوس میں چائنی قوم اور اَب ایران کی بھی ہے۔ چین کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ افیون استعمال کرنے والی قوم تھی۔ اس کی سوچ کی تبدیلی کے نتیجے میں وہ کمزور اور غلام حیثیت سے نکل کر طاقت ور اور آزاد قوم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی چیز سوچوں اورافکار و نظریات کی تبدیلی ہے۔ 

    مثال سے بات کا فہم 

    مثلاً ایک گھوڑے کو اگر ایک سائس (تربیت کنندہ) دیکھتا ہے تو وہ تربیت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر دیکھتا ہے تو وہ میڈیکل کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس گھوڑے میں کوئی نقص اور بیماری تو نہیں ہے۔ اس کی طاقت کیا ہے؟ اگر حکمران دیکھتا ہے تو اس کی نظر سب سے اعلیٰ کے اعتبار سے ہوتی ہے کہ وہ اس کی ہمت اور جرأت کو دیکھتا ہے کہ کیا یہ گھوڑا اس نسل سے ہے کہ جو میدانِ جنگ میں سوار کا ساتھ دے یا یہ کہ سوار کو میدان میں گِرا کر واپس بھاگ آئے گا۔ ممکن ہے کہ پہلے والے دو افراد اس گھوڑے کی تعریف کریں، لیکن حکمران اس کو مسترد کردے گا، وہ مطمئن نہ ہوگا، کیوں کہ اس کی نظر گہری ہے۔ اسی اصول پر قوموں کی اچھائی اور برائی کا معیار متعین ہوتا ہے۔ 

    قوموں کی ترقی کی اساسیات 

     قوموں کی ترقی کِن اساسیات پر ہوتی ہے؟ اور کوئی ادارہ کس قسم کے افراد پیدا کرتا ہے ؟ وہ ملازم اور غلام پیدا کرتا ہے، ان کے ذہنوں میں اچھے ملازم کا زہر ڈال رہا ہے، اچھے مینیجرکا تصور دےرہا ہے، ملٹی نیشنل کمپنیوں، آئی ایم ایف، ورلڈبینک، ڈبلیو ٹی او، ڈبلیو ایچ او کے ذہن اور ان کے سرمائے کو بڑھانے والے افراد پیدا کررہا ہے۔ عالمی سرمایہ داریت کے لیے، ایجنٹ کا رول ادا کرنے والے طبقے پیدا کررہا ہے یا ان میں قومی حمیت اور غیرت یا ملّی اور اجتماعی جذبات پیدا کررہا ہے۔ اپنے دین اور قوم پر اعتماد کرنے والے طبقے پیدا کررہا ہے۔ نوجوانوں کو دنیا پر غلبے کا نظریہ دے رہے ہیں، قیادت اور رہنما پیدا کر رہے ہیں یا اس کے برعکس ہے۔ 

    تیسری دنیا میں اجتماعی اداروں کا کردار 

     تیسری دنیا کی اقوام خاص کر پاکستان ایک عرصے سے غلامانہ نظامِ زندگی سے گزر رہے ہیں، جہاں ان کا سیاسی شعور ختم کر کے غلامانہ ذہنیتوں کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ اس سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے ان کے تمام ادارے خاص کر تعلیمی ادارے اور ان کا نصاب پوری کوشش کے ساتھ کام کررہے ہیں، ان کے تعلیمی اور نصابی ذرائع بڑی گہرائی کے ساتھ عالمی نیٹ ورک کے تجزیوں کا زہر قوم کے ذہنوں میں انڈیل رہے ہیں، جس سے قوم میں غلامی، ذِلت و زوال اور پست ذہنیت پیدا ہورہی ہے۔ 

    اسی کے نتائج ہیں کہ ہماری قوم کو اپنی شان دار اور سنہری تاریخ کا بھی علم نہیں یا اگر علم ہے تو شعور نہ ہونے کے سبب، اس کا صحیح فہم نہیں۔ وہ اپنی تاریخ سے مطمئن نہیں، اپنے مذہب کو تقسیم اور لڑانے کا ذریعہ سمجھتی ہے۔ یہ سوچ شعوری یا لاشعوری طور پر ہمارے مذہبی طبقات اور ان کی جماعتوں میں نہ صرف موجود ہے، بلکہ وہ اس کے داعی ہیں۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں میں اور انٹلیکچول میں بھی یہی ذہن موجود ہے۔ 

    ظالمانہ فاسد نظام کے اَثرات 

    نوجوانوں میں اس نظام سے یہ نتائج پیدا ہورہے ہیں کہ وہ اچھے ورکر اور ملازم بننا چاہتے ہیں، اچھی جاب کی تلاش میں وہ سرگرداں ہیں، اس کے لیے تقریباً سبھی نوجوان وطن عزیز سے باہر بھاگ جانے کے چکر میں ہے۔ 1971ء سے 2025ء تک 60 لاکھ 19 ہزار 88 افراد ماہرین اور ہنرمند ملک چھوڑ گئے ہیں ، اس میں ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ صرف 2022ء میں 8 لاکھ 32ہز339 افراد ملک چھوڑ گئے۔ حالت یہ ہے کہ ہمارے سسٹم نے ہیومن ریسورسز کی باقاعدہ وزارت قائم کی ہے کہ وہ ہنرمندوں کو ملک سے منظم انداز میں، تیزی کے ساتھ ملک سے نکال باہر کریں۔ اسی طرح گزشتہ دنوں اخبارات میں تین سالوں کی رپورٹ، محکمہ امیگرنٹس کی طرف سے 15 ستمبر 2025ء کو شائع ہوئی ہے کہ تین برس میں 29 لاکھ افراد ملک چھوڑ گئے ہیں جس میں ہنرمند ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیشنلز اور دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شامل ہیں۔

    نظام کا سب سے بڑا ظلم 

    آج وطنِ عزیز کے نوجوانوں کا یہ ذہن بنا دیا گیا ہے کہ انھوں نے عالمی سرمایہ داری نظام کے لیے اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں استعمال کرنی ہیں، جنھوں نے 250 سال سے ہمیں غلام بنایا ہے، جنھوں نے ہمیں لوٹا ہے، قرض دار بنایا ہے، جو آج بھی ہم سے نسلی بنیادوں پر نفرت کرتے ہیں اور کمتر سمجھتے ہیں۔ آج بھی ان کی کوشش ہے کہ ہم ان کے برابر کھڑے نہ ہوسکیں، ہمیشہ قلاش، مفلس، بھوکے اور عالمی سامراجی اداروں کے سائل رہیں۔ 

    ادارہ رحیمیہ کا کردار 

    اس غلامی کی سوچ کو ختم کرنے کے لیے ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ 25 سال سے وطنِ عزیز کے نوجوانوں کو نئے دور کی قیادت کے لیے تیار کررہا ہے۔ ادارہ اس سال کو ”سلور جوبلی کی تقریبات کا سال“ قرار دے کر اس کی تقریبات کا آغاز کرچکا ہے۔ 

    ادارہ رحیمیہ کا پیغام

    وطنِ عزیز کے نوجوانوں میں قومی سیاسی شعور پیدا کیا جائے، ہمارے ملک کے مسائل کیا ہیں اور یہ مسائل کیوں پیدا ہوئے ہیں؟ کس نے ہمیں مفت خوری کی زندگی کا عادی بنا کر قرض کی لعنت میں مبتلا کیا ہے؟ قرض کی معیشت کے ذریعے ہم اپنے پاؤں پر کیوں کھڑے نہیں ہوسکے؟ ان قرضوں سے کیوں صنعتوں کا جال نہیں پھیلایا گیا؟ قرض آیا تو کہاں گیا؟ کن کی تجوریاں بھری گئیں؟ اس کا ذمہ دار وہ نظام ہے جس کا تقسیم ہند سے پہلے چودھری برطانیہ تھا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا ہے۔

    یہ سوچ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ قوم کے نوجوانوں میں پیدا کررہا ہے اور آلہ کار سوچ سے نکال رہا ہے۔ اختلافات دلائل کی بنیاد پر ہوں، جذباتیت اور اشتعال انگیزی کی سوچ پر نہ ہو، نیز ملکی جماعتوں کے مفادات کے استعمال سے بچارہا ہے دوست اور دشمن کی تمیز کا شعور دے رہا ہے۔

    الغرض! ادارہ صحابی رسول  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق کام کررہا ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا امیر (حکمران) کیسا شخص ہے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ وہ دیانت و امانت کے اعلیٰ مقام پر ہے ، کسی کو دھوکا نہیں دیتا، شعور کے اس مقام پر ہے کہ وہ دھوکا نہیں کھاتا۔ 

    آج کی ضرورت 

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو اس شعور سے لیس کیا جائے کہ وہ نہ دھوکا دیں اور نہ دھوکا کھائیں۔

    Share via Whatsapp