سماجی تبدیلی کی قرآنی حکمت عملی اور عصر حاضر کے عملی تقاضے - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سماجی تبدیلی کی قرآنی حکمت عملی اور عصر حاضر کے عملی تقاضے

    آج کا نوجوان بہت بے تاب ہے۔ وہ مسئلے کی جڑ (root cause) تک پہنچنا چاہتا ہے اور پھر حل پر فوکس کرتا ہے،لیکن جب وہ معاشرے کی مختلف جماعتوں اور تحریکوں .

    By محمد حارث شبیر کیانی Published on Jul 28, 2026 Views 241

    سماجی تبدیلی کی قرآنی حکمت عملی اور عصر حاضر کے عملی تقاضے

    تحریر؛ محمد حارث شبیر کیانی (راولپنڈی) 

     

    قرآن حکیم کی سورۃ القصص( 4–6) میں اللہ نے سماجی تبدیلی کا ایک اصول بیان فرما دیا ہے۔ اللہ گِری ہوئی اور کمزور قوموں کو طاقت عطا کرتا ہے اور مادی اسباب سے بھری قوموں کو گِرا دیتا ہے۔ فرعون کے پاس طاقت، دولت اور لشکر سب کچھ تھا، لیکن اللہ نے اسے غرق کر دیا اور جن کمزوروں پر وہ ظلم کرتا تھا، انھی کو پیشوا اور وارث بنا دیا۔ ثابت ہوا کہ اقتدار مادی اسباب سے نہیں، اللہ کے فیصلے سے ملتا ہے، شرط یہ ہے کہ کمزور قوم اللہ پر بھروسہ کر کے اٹھ کھڑی ہو۔

    آج کا نوجوان کہاں کھڑا ہے؟

    آج کا نوجوان بہت بے تاب ہے۔ وہ مسئلے کی جڑ (root cause) تک پہنچنا چاہتا ہے اور پھر حل پر فوکس کرتا ہے،لیکن جب وہ معاشرے کی مختلف جماعتوں اور تحریکوں کا جائزہ لیتا ہے تو مایوس ہوجاتا ہے، سب اسے ایک جیسے لگتے ہیں۔ نظام کا جبر اسے پیس رہا ہے، معاشی مسائل اسے سوچنے سمجھنے کی مہلت ہی نہیں دیتے۔

    لوگ طنز کرتے ہیں ،آج ملک میں روٹی نہیں، بجلی نہیں، پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اور یہ سامراج سے مقابلہ کی باتیں کرتے ہیں۔

    نتیجہ؟ وہ اسلام کے ان انقلابی اصولوں سے کنارہ کش ہوچکا ہے جن کو اپنا کر معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن ہے۔ وہ حرکت اور تحریک پر بھروسہ چھوڑ چکا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نظم یا جماعت کے پاس وسائل کم ہیں اور سوچتا ہے: ”مادی اسباب کے بغیر یہ کام ناممکن ہے۔ سامراج کا مقابلہ؟ عادلانہ نظام کا قیام؟ یہ سب محض خوب صورت خواب ہیں“۔

    لیکن نوجوان کو سمجھنا ہو گا کہ تاریخ میں قوموں میں تبدیلی کیسے آئی؟ آج تبدیلی آئے گی تو راستہ کیا ہو گا؟ وہ انقلابی اصول کیا ہیں؟ اکابرین اور علمائے حق کا راستہ کیا ہے؟ اور سب سے بڑا سوال: کیا صرف مادی اسباب کو کفیل مان کر حرکت ہی چھوڑ دی جائے؟

    دنیا میں کام کرنے کے دو اصول

    دنیا میں کام کرنے کے دو ہی طریقے ہیں:

    پہلا یہ کہ صرف مادی اسباب پر یقین رکھا جائے۔

    دوسرا یہ کہ اسباب اختیار تو کیے جائیں، لیکن نتیجے کے لیے صرف انھی اسباب کو کفیل (ضامن) نہ مانا جائے، کیوں کہ غیر مادی حقیقتیں بھی موجود ہیں، بلکہ غیرمادی حقیقت ہی ان مادی اشیا کی بنیاد ہے۔

    یہ کوئی محض مذہبی دعویٰ نہیں۔ خود جدید سائنس کے بڑے نام یہی کہتے ہیں۔ مشہور برطانوی ماہرِ فلکیات سر جیمز جینز (Sir James Jeans) کہتا ہے:

    I incline to the idealistic theory that consciousness is fundamental, and that the material universe is derivative from consciousness, not consciousness from the material universe.”

    (میرا رجحان اس نظریے کی طرف ہے کہ شعور اصل اور بنیادی شے ہے اور مادی کائنات شعور سے نکلی ہے، نہ کہ شعور مادی کائنات سے۔) 

    اور کوانٹم فزکس کا بانی، جرمن سائنس دان میکس پلانک (Max Planck) کہتا ہے:

    I regard consciousness as fundamental. I regard matter as derivative from consciousness.”

    (میں شعور کو بنیادی حقیقت مانتا ہوں اور مادے کو شعور سے ماخوذ سمجھتا ہوں۔) 

    یعنی جدید سائنس کے یہ عظیم دماغ بھی شعور کو اصلی اور اساسی شے مانتے ہیں اور مادے کو اس سے نکلا ہوا سمجھتے ہیں۔

    سوچیے، بجلی کا کرنٹ یا ریڈیو کی لہریں آپ کو نظر آتی ہیں؟ نہیں، لیکن کیا ان کا وجود نہیں؟ ان کے پیچھے جو انرجی ہے، وہ کیا ہے؟ غیرمادی چیزیں نظر نہیں آتیں، لیکن وہی مادی دنیا کو چلا رہی ہیں۔اور اس ساری غیر مادی قوت کے پیچھے بھی ایک ذات ہے، اللہ کی ذات، جو پوری کائنات چلا رہی ہے۔ قرآن کہتا ہے:

    ترجمہ: ”وہ مشرق اور مغرب کا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، پس اسی کو اپنا کارساز (وکیل) بنا لو“۔ (سورۃ المزمل: 9)

    غور کیجیے، آیت کا اختتام ہی اس بات پر ہے کہ اسی کو اپنا وکیل اور کفیل بناؤ، نہ کہ صرف اسباب کو!

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی فکر کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ قرآن کاپیروکار مادی حقیقت کے پیچھے کارفرما غیر مادی قوت کو اصل مانتا ہے اور ان دونوں کی اصل اللہ کی ذات ہے۔

    تاریخ کیا کہتی ہے؟

    قوموں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ اللہ نے گِری ہوئی قوموں کو کھڑا کیا اور مادی اسباب سے مالا مال قوموں کو گِرا دیا۔ مطلب؟ صرف مادی اسباب کافی نہیں، سماجی تبدیلی کے اس عمل میں اللہ پر بھروسہ بھی لازمی ہے۔

    قیصر و کسریٰ (روم اور فارس) کو دیکھیے، اپنے وقت کی سپر پاورز، بے تحاشا مادی اسباب کے مالک،لیکن مسلمانوں کی چھوٹی سی جماعت نے اللہ پر بھروسے اور قلیل وسائل کے ساتھ انھیں شکست دی۔

    غزوہ بدر ہی کو لے لیجیے: مسلمان صرف 313 تھے، بے سروسامان، دو گھوڑے، چند اونٹ۔ مقابلے میں قریش کا ایک ہزار کا مسلح لشکر۔ مادی حساب سے نتیجہ صاف تھا، لیکن فتح مسلمانوں کی ہوئی۔

    آج کے دور میں ایران کی مثال سامنے ہے۔ وہ امریکا جیسی سپر پاور کے مقابلے میں مادی اسباب میں کہیں کم ہے، دہائیوں سے پابندیوں اور دَباؤ کا سامنا ہے، لیکن پھر بھی نہ صرف قائم ہے، بلکہ امریکا کو سخت وقت دے رہا ہے۔ کیوں کہ ان کا انحصار صرف اسباب پر نہیں، بلکہ اپنے نصب العین پر، ایمان اور یقین پر بھی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے نظریے پر یقین رکھ کر ڈٹ جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے آسانی سے مٹا نہیں سکتی۔

    تو کیا اسباب چھوڑ دیں؟

    نہیں! یہاں دوسری انتہا سے بھی بچنا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ اسباب اختیار کیے جائیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کفیل کس کو مانا جائے؟

    بات صرف اتنی سمجھنی ہے

    مادی اسباب کو مکمل کفیل نہ سمجھا جائے، بلکہ اسباب اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ بھروسہ اللہ پر کیا جائے۔

    نبی کریم ﷺ کی تعلیم  یہ ہے کہ بندہ اپنی ہر ضرورت اللہ ہی سے مانگے، حتیٰ کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ بھی اللہ سے مانگے۔ (جامع ترمذی ) یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے بھی نظر اللہ کی ذات پر ہو۔

     مولانا عبید اللہ سندھیؒ کا ایک واقعہ ان کے رفیقِ سفر جمیل مہدی نے بیان کیا ہے کہ 1941ء کے لگ بھگ مولاناؒ کو دیوبند سے لاہور کا سفر درپیش تھا۔ خطوط لکھ چکے تھے کہ اسی ریل سے آ رہا ہوں، مگر جیب میں تانگے کے لیے ایک آنہ تک نہ تھا۔ وہ بستر کندھے پر رکھ کر اسٹیشن آ گئے اور فرمایا  ”قومی کام کرنے والوں کا کوئی کام پیسے کی وَجہ سے نہیں رُکتا”۔اللہ نے راستے ہی میں اسباب پیدا فرما دیے۔ (ماہنامہ رحیمیہ لاہور، نومبر 2023ء، ) مطلب یہ ہے کہ توکل کرنے سے اللہ اسباب بھی بنا دیتا ہے، لیکن اسباب کو مکمل کفیل مان لینا غلطی ہے۔یہی وہ امتیاز ہے جو ہمیں علمائے حق اور ولی اللہی جماعت کے توسط سے ملا ہے۔ یہ نظریہ اسباب کو بھی اہمیت دیتا ہے اور ساتھ اللہ پر توکل بھی سکھاتا ہے۔ 

    غیرمسلم قوتیں کیوں کامیاب ہیں؟

    یہ سوال معقول ہےکہ چین جیسی غیرمسلم قوتیں کیوں کامیاب ہیں؟ جواب سادہ ہے۔ کیوں کہ وہ حرکت سے کام لے رہی ہیں، وہی حرکت جو مسلمان جماعت نے چھوڑ دی۔ وہ اپنے خود تراشیدہ نظریے پر ہی سہی، مگر مسلسل عمل پیرا ہیں، لیکن ان کے ہاں اخلاقی مسائل (moral issues) موجود ہیں، کیوں کہ اللہ کی ذات پر بھروسہ نہیں۔ اتنی ترقی کے باوجود انھیں لوگوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کیمرے کی نگرانی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب کہ جو نظریہ ہم تک رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے پہنچا، اس کے مطابق جب اللہ پر بھروسہ اور اس کے حضور جواب دہی کا یقین ہو تو self-accountability کیمرے کے بغیر بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اور جب انسان کا تعلق اللہ سے جڑ جائے تو اس کے اندر رفاہِ عامہ کے لیے خدمت کا جذبہ خود پیدا ہوتا ہے۔ وہ material gain کے لیے کام نہیں کرتا، بلکہ اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے۔

    راستہ کیا ہے؟

    تو بات یہ ہے کہ ہم جدوجہد کیوں نہیں کرتے؟ راستہ قرآن نے خود بتا دیا ہے:

    ترجمہ: ”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام نظاموں پر غالب کر دے“۔ (سورۃ الصف: 9)

    یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر اللہ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے، معاشرے سے بے یقینی کی فضا ختم کی جا سکتی ہے، اور غریب و مسکین کو معاشی غلامی سے چھٹکارا دلایا جا سکتا ہے۔

    شرط صرف یہ ہے کہ اسباب اختیار کرو، مگر کفیل اللہ کو مانو اور حرکت کبھی نہ چھوڑو۔

    Share via Whatsapp