پاکستان میں بے روزگاری، وجوہات اور ممکنہ حل - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • پاکستان میں بے روزگاری، وجوہات اور ممکنہ حل

    پاکستان کی موجودہ اقتصادی و معاشرتی حالت نوجوانوں کےمستقبل کے حوالے سے سنگین سوالات اُٹھا رہی ہے۔۔۔۔۔

    By محمد صداقت طلحہ Published on Feb 17, 2025 Views 501

    پاکستان میں بے روزگاری، وجوہات اور ممکنہ حل

    تحریر:محمد صداقت طلحہ ۔ وہاڑی

     

    پاکستان کی موجودہ اقتصادی و معاشرتی حالت نوجوانوں کےمستقبل کے حوالے سے سنگین سوالات اُٹھا رہی ہے۔ پاکستان میں بیروزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمارے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وَجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ 2024ء میں تقریباً 727,000 نوجوانوں نے بیرون ملک روزگار کے لیے ہجرت کی، جب کہ 2023ء میں یہ تعداد 862,625 تک پہنچ گئی تھی۔ ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے اندر روزگار کے مواقع کی کمی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ پاکستان میں مختلف پیشہ ورانہ شعبے، جنھیں کسی بھی ملک کی معیشت اور اداروں کے استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، سنگین مسائل کا شکار ہیں۔ ان میں ڈاکٹروں، انجینئرز، اساتذہ اور دیگر پیشہ ور افراد کو درپیش مسائل نمایاں ہیں۔ روزگار کے مواقع کی کمی، حکومتی عدم توجہی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث یہ شعبے زوال پذیر ہیں۔  

     

    پاکستان میں ڈاکٹروں کی حالتِ زار تشویش ناک ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 10,000 نئے میڈیکل گریجوایٹس میدان میں آتے ہیں، لیکن ان کے لیے موزوں روزگار کے مواقع نہیں ہیں۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے مطابق، ملک میں ہر 1,000 افراد کے لیے صرف 1 ڈاکٹر دستیاب ہے، جو عالمی معیار (3 ڈاکٹرز فی 1,000 افراد) سے بہت کم ہے۔ اسپتالوں میں سہولیات کی کمی، تنخواہوں کا کم ہونا، اور کام کے ناقص حالات کے باعث کئی ڈاکٹر بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 2024ء میں صرف پنجاب سے تقریباً 4,000 ڈاکٹرز نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے ہجرت کی۔ اس کے علاوہ، سرکاری اسپتالوں میں جدید آلات کی عدم دستیابی اور پالیسیوں کی ناکامی سے صحت کا شعبہ مزید بگڑ رہا ہے۔  

     

    پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ سے حکومتی عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ یونیسکو کے مطابق، پاکستان میں 20 ملین سے زائد بچے اسکول نہیں جا پاتے۔ اساتذہ کی کمی کا عالم یہ ہے کہ پنجاب میں آخری بار ایجوکیٹرز کی بھرتی 2018ء میں ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ، معیاری تعلیم کے فقدان اور تعلیمی اداروں میں وسائل کی کمی نے اس شعبے کو مفلوج کر دیا ہے۔ دیہی علاقوں میں اسکولوں کی تعداد نہایت کم ہے اور وہاں تعلیمی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پنجاب میں صرف STI کی بھرتیوں کے لیے تقریباً دو لاکھ سے زیادہ نوجوانوں نے رجسٹریشن کروائی۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ روزگار کے مواقع کی شدید کمی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان، جن کے والدین ان کی تعلیم پر بے شمار قربانیاں دیتے ہیں، جب ڈگری حاصل کر کے میدان میں آتے ہیں تو انھیں ملازمت کے مواقع ہی میسر نہیں ہوتے۔ وہ پرائیویٹ ملازمتوں میں اپنی قابلیت کے مطابق معاوضہ حاصل کرنے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ پنجاب میں 2018ء کے بعد سے سرکاری سطح پر اساتذہ کی بھرتی نہ ہونا اس مسئلے کی سنگینی کو مزید اُجاگر کرتا ہے۔

     

    اسی طرح انجینئرنگ کا شعبہ، جو کسی بھی ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، پاکستان میں زوال کا شکار ہے۔ ہر سال تقریباً 25,000 انجینئرز گریجوایشن کرتے ہیں، لیکن ان میں سے صرف 20 فی صد کو موزوں ملازمت ملتی ہے۔ صنعتوں کی کمی، حکومتی عدم توجہ اور نجی شعبے کی محدود شمولیت کے باعث انجینئرز بیروزگار ہیں۔ پاکستان میں بڑے پیمانے پر صنعتی ترقی کا فقدان ہے، جس کی وَجہ سے انجینئرز کو اپنی قابلیت کے مطابق روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انجیئنرنگ کے ساتھ ساتھ زراعت، جو پاکستان کی معیشت کا ستون ہے، شدید مسائل سے دوچار ہے۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کی کمی اور پانی کی قلت جیسے مسائل نے پیداوار میں کمی کر دی ہے۔ کسانوں کو مناسب قیمتیں نہیں ملتیں اور حکومتی سبسڈی کے فقدان نے زرعی معیشت کو غیرمستحکم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پانی کے وسائل کی قلت نے دیہی علاقوں میں بیروزگاری کی شرح کو بڑھا دیا ہے۔ پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ تیزی سے ترقی کررہا ہے، لیکن اس میں بھی کئی چیلنجز ہیں۔ ہر سال ہزاروں گریجوایٹس آئی ٹی کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، لیکن ان کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ حکومت کی ناقص پالیسیوں اور بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے مناسب تربیت کی عدم موجودگی نے اس شعبے کو متاثر کیا ہے۔

     

    پاکستان میں بےروزگاری کی وجوہات میں سے ایک بڑی وَجہ حکومتی عدم توجہ ہے۔ حکومت کا اولین فرض ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسے مواقع فراہم کرے، جہاں وہ اپنے علم، صلاحیت اور ہنر کو بروئے کار لاسکیں۔ بدقسمتی سے حکمران طبقے کے عیاشانہ طرزِ زندگی کے باوجود عام عوام کے لیے کوئی مضبوط حکمتِ عملی وضع نہیں کی گئی۔ پالیسیوں کی ناکامی اور وسائل کی غیرمساوی تقسیم روزگار کے مواقع کی کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ پاکستان میں صنعتوں کی کمی اور نجی شعبے کی محدود شمولیت بے روزگاری کو بڑھا رہی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عملی تعلیم کا فقدان اور نصاب کی مارکیٹ کی ضروریات سے مطابقت نہ ہونے کی وَجہ سے گریجوایٹس ملازمت کے قابل نہیں رہتے۔ اَب سوال یہ ہے کہ اس بیروزگاری سے کیسے بچا جائے، یہاں کے نوجوان کو کیسے بچایا جائے۔ ان کی صلاحیتوں سے کیسے فائدہ اُٹھایا جائے۔ اس کے لیے پاکستان میں بے روزگاری کے خاتمے اور مختلف شعبوں کو ترقی دینے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جدید صنعتی زونز قائم کرے، فنی تربیت کے پروگرام شروع کرے اور تعلیم کے معیار کو بہتر بنائے۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا کر پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھا کر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں موجود وسائل اور انسانی سرمائے کو مؤثر طریقے سے استعمال کر کے نہ صرف بے روزگاری کو کم کیا جا سکتا ہے، بلکہ معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدامات حکومتی عزم اور مؤثر پالیسی سازی کا تقاضا کرتے ہیں۔ 

     

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے اور حکومتی عدم توجہی، وسائل کی کمی، اور ناقص پالیسیوں کی وَجہ سے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم اس صورتِ حال میں نوجوان اپنے کردار کو پہچانتے ہوئے اس بحران سے نکلنے کے لیے اہم اقدامات کر سکتے ہیں۔  پاکستانی نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگرچہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ روزگار کے مواقع فراہم کرے، لیکن اپنے علم، شعور اور قابلیت کو بڑھانا ان کی ذاتی ذمہ داری بھی ہے۔ سب سے پہلے انھیں اپنی تعلیم کو صرف ڈگری کے حصول تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ عملی مہارتوں پر توجہ دینی چاہیے۔ آئی ٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ اور دیگر جدید شعبوں میں مہارت حاصل کر کے وہ بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کر سکتے ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔  

     

    نوجوانوں کو اپنے حقوق اور ملکی پالیسیوں کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وہ سیاسی اور سماجی شعور پیدا کر کے ایسی آواز بلند کر سکتے ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر اَثر انداز ہو سکے۔ تعلیم یافتہ اور باشعور نوجوان ہی پالیسی سازوں کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائیں۔  

     

    وہ خود کو صرف سرکاری ملازمتوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ کاروباری مواقع تلاش کریں اور اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے حکومتی سہولیات جیسے قرضوں اور تربیتی پروگراموں کا فائدہ اُٹھائیں۔ نوجوانوں کو یہ جاننا ہوگا کہ آج کے دور میں خودمختاری اور ہنرمندی ہی کامیابی کی کلید ہے۔  ساتھ ہی نوجوانوں کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ وہ اپنی کمیونٹی میں شعور پیدا کر سکتے ہیں، تعلیم اور ہنر کو فروغ دے سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے زراعت، صنعت اور دیگر شعبوں میں جدت لا کر معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔  

     

    بے روزگاری کے خلاف یہ جدوجہد نوجوانوں کے اجتماعی شعور، اپنی صلاحیتوں کے بہتر استعمال اور جدت کے لیے ان کے عزم کی متقاضی ہے۔ جب نوجوان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے معاشرتی، اقتصادی اور علمی میدان میں اپنا کردار ادا کریں گے تو پاکستان نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے سے نکل سکے گا، بلکہ ایک ترقی یافتہ اور مستحکم ملک بننے کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔

     

    نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف اِنفرادی کامیابی پر توجہ نہ دیں، بلکہ اجتماعی سوچ اور یکجہتی پیدا کریں۔ علم اور شعور حاصل کر کے وہ ایک ایسی اجتماعیت قائم کر سکتے ہیں جو ان کے حقوق کے لیے منظم طریقے سے جدوجہد کرے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنے۔

     

    Share via Whatsapp