لکیر سے نیچے لوگ
غربت یا بدحالی قسمت یا نصیب کی بات نہیں ہے بلکہ یہ پلانٹڈ ہے
لکیر سے نیچے لوگ
تنویر احمد سلہریا (مانسہرہ)
؏امیر کے شہروں میں روشنیوں کا بسیرا ہے غریب کی جھونپڑی میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے
”لکیر سے نیچے لوگ“ سے مراد وہ افراد اور خاندان ہیں جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان کی آمدنی اتنی کم ہوتی ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات، جیسے خوراک، لباس، رہائش، تعلیم اور علاج، مناسب طریقے سے پوری نہیں کر سکتے۔ غربت صرف معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔آج دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی خطِ افلاس سےنیچے زندگی کزار نے پر مجبور ہے اور وطنِ عزیز میں تو دن بدن غربت کے تناسب میں اضافہ ہورہا ہے جو بہت بڑا المیہ ہے۔ورلڈبینک کی حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تقریباَ ایک چوتھائی آبادی (تقریباَ 25 فی صد) خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی ہر چار میں سے ایک پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
دوسری طرف طرفہ تماشا یہ ہے کہ پاکستان کے نام نہاد مذہبی رہنما اوردانش ور اس بدحالی اور پستی کو قدرت کی تقسیم کہہ کر اس پر قناعت اور صبر کی تلقین کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ زمین میں اللہ تعالیٰ نےکوئی چو پایہ بھی ایسا نہیں پیدا کیا جس کے رزق کا سامان زمین میں نہ رکھا ہو اور یہ کہا جائے کہ انسان جو کہ اشرف مخلوق ہے، کے لیے وسائل کم ہیں اس وَجہ سے غربت ہے۔ کرۂ ارض تو وسائل سے مالا مال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنے وسائل رکھے ہیں کہ تمام انسان عزت اور وقار کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں، لیکن جب ان وسائل پر خاص طبقات کی اجارہ داریاں قائم ہوجاتی ہیں تو پھر انسانی معاشرے میں فساد پیدا ہوجاتا ہے ۔
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
” وہی ہے، جس نے زمین میں جو کچھ پیدا کیا ہے وہ تم سب کا ہے“ ۔(البقرہ:29 )
یہ آیت انسانی معاشرے میں اجارہ داریوں کی نفی کر رہی ہے اور دولت کی منصفانہ سر کولیشن کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
اسی طرح ہمارے پیارے رسول حضرت محمدﷺ نے بھی فقر سے پناہ مانگی ہے ۔ حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ آپ ؐدعا فرمایا کرتے تھے :
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ. ۔ ” اے اللہ ! میں کفر اور فقر (غربت) سے تیری پناہ مانگتا ہوں“ ۔(سنن ابوداؤد: 1544،سنن نسائی:5467)
اسی طرح ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:
اليد العليا خير من اليد السفلى۔ ”اوپر والا ہاتھ(دینے والا) نیچے والے ہاتھ (لینےوالے)سےبہتر ہے “۔ (صحیح بخاری:1429، صحیح مسلم: 1033) اسلام یہ کبھی نہیں چاہتا کہ انسان پستی اور بدحالی کی زندگی گزاریں۔ اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ دینِ اسلام جہاں بھی گیا اس نے انسانی معاشروں میں خوش حالی پیدا کی۔ ہندوستان میں آیا تو اس نے اسے سونے کی چڑیا بنا دیا ۔
غربت کی وَجہ سے لوگ مناسب خوراک، صاف پانی، علاج اور معیاری تعلیم سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کے بچے اکثر تعلیم ادھوری چھوڑ کر مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے غربت کا یہ سلسلہ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ غربت معاشرے میں جرائم، بے چینی اور احساسِ محرومی کو بھی بڑھا تی ہے غربت انسان کو انسانی اوصاف سے عاری کر دیتی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ غربت قدرتی ہے یا وسائل کی غلط تقسیم کی بدولت ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے کہ اللہ پاک نے اپنی مخلوقات کے لیے بےشمار وسائل اس زمین میں رکھے ہیں، لیکن اس کی تقسیم کی ذمہ داری اپنے خلیفہ بنی نوع انسان کو دی ہے ۔اَب خلیفہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا اقتصادی نظام بنائے جو کل انسانیت کی احتیاجات کی تشفی کرنے والا ہو۔
اس لیے دینِ اسلام نے ایسی تعلیمات دی ہیں کہ غربت اور پس ماندگی کو جڑ سے ختم کر کے ایک خوش حال معاشرے کی بنیاد رکھی جائے ۔ وسائلِ معیشت کی تقسیم کا عادلانہ نظام بنایا جائے، جس سےہر ذی روح کو اس کا حق اس کی دہلیز پر ملے۔ ایک مضبوط، خوش حال اور انصاف پر مبنی معاشرہ وہی ہوتا ہے، جہاں ہر فرد کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے، تعلیم حاصل کرنے اور ترقی کرنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔
معاشرہ تبھی مہکے گا، انصاف جب ہوگا
لکیر سے نیچے کوئی بھی انسان نہ ہوگا۔









