بے حس قوم
کسی زمانے میں ایک بادشاہ گزرا ہے، جس کی رعایا بہت آرام اورسکون کی زندگی گزار رہی تھی اور کبھی بھی اپنے بادشاہ کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی تھی....
بے حس قوم
تحریر: تنویر احمد سلہریا (مانسہرہ)
کسی زمانے میں ایک بادشاہ گزرا ہے، جس کی رعایا بہت آرام اورسکون کی زندگی گزار رہی تھی اور کبھی بھی اپنے بادشاہ کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی تھی، کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا۔ چناں چہ بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ میں ان کا امتحان لیتا ہوں کہ وقت آنے پر کیا یہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف کھڑے بھی ہوں گے یا اس ناانصافی کو برداشت کرتے رہیں گے۔
بادشاہ سلامت نے اپنے وزرا سے مشورہ کیا کہ ہم کس طرح اپنی قوم کو احتجاج پر مجبور کرکے آزما سکتے ہیں، چناں چہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ ان پر ٹیکس لگا دیا جائے، یوں ان سے ٹیکس وصول کرنے کا حکم نامہ جاری ہوگیا۔ رعایا کو کچھ ناگواری گزری، کچھ چہ مگوئیاں بھی ہوئیں، مگر تھوڑے عرصے کے بعد سب نارمل ہوگیا اور کوئی مزاحمت پیدا نہیں ہوئی۔ پھر بادشاہ اور وزرا کے درمیان مشورہ ہوا اور ٹیکس کی مقدار بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم اَب بھی لوگ تھوڑے بہت شور اور طعن وتشنیع کے بعد یہ ٹیکس بھی ادا کرنے لگے۔ بادشاہ سلامت کو مزید تشویش ہوئی کہ آخر کیا کیا جائے، چناں چہ مشاورت سے فیصلہ ہوا کہ ان سے ٹیکس بھی وصول کیا جائے اور ساتھ ساتھ ان کو ایک ایک تھپڑ بھی رسید کیا جائے، چناں چہ ایسا ہی ہوا، لوگ آتے جا رہے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، تھپڑ کھاتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے آپس میں تھوڑی بہت گفت و شنید کی، لعنت ملامت کی، مگر کوئی بڑی مزاحمت کہیں دکھائی نہ دی اور کچھ دِنوں کہ بعد سب بھول کر معمول پر آگئے کہ ہمارے اوپر کوئی ظلم ہو رہا ہے، دوسری طرف بادشاہ اپنی رعایا کی اس کیفیت سے بہت پریشان تھا۔
ایک دن بادشاہ سلامت اپنے محل میں آرام فرما رہے تھے کہ اچانک محل کہ باہر کچھ نعروں کی آوازیں آنے لگیں اور بادشاہ سلامت کو بتایا گیا کچھ لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ بادشاہ بہت خوش ہوا کہ آخر ہماری تدبیر کام آہی گئی اور لوگوں کا ضمیر جاگ گیا اور انھیں یہ احساس ہونے لگا کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے، چناں چہ بادشاہ سلامت محل سے باہر آئے اور اپنی رعایا سے مخاطب ہوئے کہ بتاؤ تمھیں کیا مسئلہ ہے۔ احتجاج کرنے والوں نے بادشاہ کے سامنے ایک مطالبہ رکھا کہ آپ نے ہم پر ناجائز ٹیکس لگائے ہم نہیں بولے، آپ نے ہمیں تھپڑ رسید کرائے ہم نہیں بولے، لیکن یہ ظلم ہم برداشت نہیں کرسکتے کہ ہم ٹیکس بھی دیں تھپڑ بھی کھائیں اور قطاروں میں بھی کھڑے رہیں، اس لیے آپ سے التجا ہے کہ ٹیکس وصول کرنے والے اور تھپڑ رسید کرنے والوں کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ ہمارا وقت ضائع نہ ہو۔
یہ حکایت بہت پرانی ہے اور مختلف محفلوں میں محظوظ ہونے کے لیے سنائی جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایک قوم ایسی ہے جو اس قوم سے تقریباً مماثلت رکھتی ہے، شاید اس سے بھی زیادہ بے حس ہو، کیوں کہ کم وبیش پچھلی آٹھ دہائیوں سے اس پر بیسیوں طرح کے ناجائز ٹیکس لگائے گئے، کوئی فرق نہیں پڑا، کبھی آٹے کا بحران، کبھی چینی کا بحران، کبھی ٹماٹروں کا بحران، کبھی پیاز ناپید، کبھی پیٹرول کا بحران، کبھی گیس کا بحران، روزانہ بجلی کا بحران، پانی کا بحران، قرضوں کا بحران، بے روز گاری کا بحران، کبھی کون سی مصیبت کبھی کون سا مسئلہ، الغرض ہر نیا دن ایک نئی پریشانی لے کر طلوع ہوتا ہے اور ہر لمحہ، ہر لحظہ، ہر آن ہمارا قومی وجود نزع کی حالت میں ہی رہتا ہے، لیکن یہ سب کچھ بہت آرام سے قوم سہہ جاتی ہے اور ایک طویل عرصے سے برداشت کر رہی ہے۔ اس پر مستزاد غیروں کی غلامی کی ذِلت و پستی الگ ہے۔ یہاں یورپین فلاسفہ کی وہ تھیوری بھی فیل ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ انسان ایک حد تک ظلم برداشت کرسکتا ہے اس کے بعد وہ ظلم کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے، دنیا کی ان اقوام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے جہاں انقلاب آئے ہیں تو ان کی حالت اتنی دگرگوں نہیں ہوئی جتنی آج ہماری ہے۔ قوم آج بھی ان نام نہاد رہنماؤں کے پیچھے چل رہی ہے جنھوں نے ہمیشہ دھوکا دیا، قوم ہر بار نیا دھوکا کھانے کے لیے تیار ہوتی ہے۔قوم ہر سال جشن آزادی کس بات پے مناتی ہے ، دوسری قومیں تو آزادی حاصل کرنے کے بعد ترقی کی کئی منازل طے کر چکیں،مگر ہماری ترقی الٹی سمت میں کیوں چل رہی ہے؟
قرآنِ حکیم میں ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے حالات بدلنے کے لیے خود اقدام نہیں کرتی، اللہ تعالیٰ بھی اس کی حالت تبدیل نہیں کرتے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اَب قوم کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا اور یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس نے اسی طرح ذِلت و رسوائی کے ساتھ پستی، بدحالی اور غلامی کی زندگی گزارنی ہے یا ایک باوقار زندگی کی طرف اپنے قدم بڑھانے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ ذمہ داری آج کے نوجوانوں کی ہے کہ وہ دشمن کے پھیلائے ہوئے سوشل میڈیا کے جال سے وقت نکال کرحقیقی سماجی تبدیلی کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں ۔









