احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    گزشتہ دِنوں روزنامہ ڈان میں ایک خبر نظر سے گزری کہ پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر.....

    By منظور علی Published on Aug 10, 2026 Views 293
    احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات! 
    تحریر: منظور علی( کراچی) 

    گزشتہ دِنوں روزنامہ ڈان میں ایک خبر نظر سے گزری کہ پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔
    دیر آید درست آید !اس قرارداد کی بنیاد سائبر بُلیئنگ، ڈیجیٹل نشہ، ذہنی دَباؤ اور بچوں کی نفسیاتی صحت سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات ہیں۔ یہ تجویز محض ایک قانونی معاملہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کے ایک نہایت سنجیدہ بحران کی نشان دہی کرتی ہے۔
    اس بحران پر دنیا کے کئی ممالک میں سنجیدگی سے غور ہورہا ہے۔ 
    بڑھتے ہوئے واقعات نفسیاتی بحران کی نشان دہی کر رہے ہیں۔  
    اصل مسئلہ صرف موبائل فون نہیں، بلکہ انسانوں کا انسانوں سے دور ہوجانا ہے۔ کبھی پاکستانی معاشرے کی پہچان مشترکہ خاندان، محلے کی بیٹھکیں، شام کی محفلیں اور کھیل کے میدان ہوا کرتے تھے۔ آج ایک ہی گھر میں سب اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں، مگر ہر شخص اپنی اپنی اسکرین میں گم ہے۔ گفتگو سمٹتی جا رہی ہے، تعلقات کمزور ہوتے جارہے ہیں اور تنہائی بڑھتی جا رہی ہے۔
    اس کا سب سے زیادہ اَثر 16 سال سے کم عمر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ مسلسل ریلز، ٹک ٹاک اور شارٹ ویڈیوز ان کی توجہ، سیکھنے کی صلاحیت اور جذباتی توازن کو متأثر کررہی ہیں۔ عالمی تحقیقات بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ کم عمری میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال ذہنی صحت، نیند، اضطراب اور ڈپریشن کے خطرات میں اضافہ کرتا ہے۔
    ”ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت احساس مروت کچل دیتے ہیں آلات"
    شاعر کو کیا معلوم تھا کہ ان کا یہ شعر بالکل ایک نئی جہت کے ساتھ نئے عہد میں نئے مفاہیم اور نئی جہتوں سے دیکھا جائے گا۔ 
    پاکستان میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی ایک بڑی وَجہ صرف معاشی مشکلات نہیں، بلکہ سماجی تنہائی بھی ہے۔ جب خاندان میں گفتگو کم ہو جائے، دوست صرف آن لائن رہ جائیں اور ہر فارغ لمحہ موبائل کی نذر ہو جائے تو انسان آہستہ آہستہ اپنے ہی خیالات کا قیدی بن جاتا ہے۔ یہی تنہائی ذہنی دَباؤ، بے مقصدیت اور مایوسی کو جنم دیتی ہے۔
    ماہرِ نفسیات وکٹر فرینکل لکھتے ہیں:
    "When a person can no longer see meaning in life, he distracts himself with pleasure."
    جب زندگی کا مقصد دھندلا جائے تو انسان وقتی تفریح میں پناہ ڈھونڈنے لگتا ہے۔ آج نہ ختم ہونے والی اسکرولنگ اسی حقیقت کی ایک نمایاں شکل معلوم ہوتی ہے۔
    امریکی ماہرِ نفسیات Sherry Turkle اپنی معروف کتاب Alone Together میں لکھتی ہیں:
    "We are connected as never before, yet we are more alone than ever."
    یعنی ہم پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر پہلے سے کہیں زیادہ تنہا بھی ہیں۔ 
    یہی صورتِ حال آج پاکستانی معاشرے میں بھی دِکھائی دیتی ہے، جہاں مشترکہ خاندانی نشستیں، محلے کی بیٹھکیں اور آمنے سامنے گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے، جب کہ ہر فرد اپنی اسکرین میں گم ہے۔
    دوسری جانب Jonathan Haidt اپنی کتاب The Anxious Generation میں خبردار کرتے ہیں کہ اسمارٹ فون پر مبنی بچپن نے بچوں کی ذہنی نشوونما، توجہ اور جذباتی توازن کو بنیادی طور پر متأثر کیا ہے۔ نفسیات کی Social Comparison Theory بھی یہی بتاتی ہے کہ جب انسان مسلسل دوسروں کی کامیابیوں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرتا ہے تو احساسِ محرومی، اضطراب اور ڈپریشن میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ 
    یوں سوشل میڈیا صرف وقت ہی نہیں لیتا، بلکہ آہستہ آہستہ انسان کے ذہنی سکون، اعتماد اور سماجی تعلقات کو بھی متأثر کرتا ہے۔
    حل ٹیکنالوجی سے نفرت نہیں بلکہ ”اعتدال“ ہے۔ گھر میں موبائل فری اوقات مقرر کرنا، بچوں کو کھیل، مطالعہ اور خاندانی نشستوں کی طرف راغب کرنا اور حقیقی سماجی روابط کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنی نئی نسل کو صرف اسکرین سے جوڑ دیا اور انسانوں سے کاٹ دیا تو آنے والے برسوں میں مایوسی، تنہائی اور ذہنی بیماریوں کا بوجھ مزید بڑھتا جائے گا۔
    آج ضرورت صرف ڈیجیٹل لٹریسی کی نہیں، بلکہ سمجھ دار، ذمہ دار اور باشعور بننے کی ہے۔ ایسا شعور جو ٹیکنالوجی کو انسان کی خدمت میں رکھے، انسان کو ٹیکنالوجی کا بے دام کا غلام نہ بننے دے۔
    آج کے نوجوانوں کو اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنے عہد کے سلگتے ہوئے مسائل، خواہ وہ معاشی ہوں، سیاسی ہوں، سماجی ہوں، غلامی سے متعلق ہوں یا خودمختاری سے، ان کا شعور حاصل کریں، ان کا صحیح ادراک پیدا کریں اور ان کے حل کے لیے اجتماعی کردار ادا کریں۔ اِنفرادی مفادات اور ذاتی سوچ تک محدود رہنے کے بجائے معاشرے کو مجموعی طور پر آگے بڑھانے میں اپنا مثبت حصہ ڈالیں۔
    آج تنہائی، افراتفری اور اِنفرادیت پر مبنی ماحول سے نکل کر قومی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی شعور کے ذریعے ہم سوشل میڈیا اور موبائل کے ذریعے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو سمجھ سکتے ہیں، دنیا کے حالات کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور حقائق کو درست تناظر میں دیکھ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں بیرونی پروپیگنڈے کا شکار نہیں ہوتیں جو ایک واضح فکر، مضبوط نظریہ اور مشترکہ قومی شعور رکھتی ہیں۔ یہی مشترکہ نظریہ افراد کو ایک جماعت میں ڈھالتا ہے، اور پھر ایک منظم حکمتِ عملی کے ذریعے قومی بنیادوں پر باشعور، مثبت اور دیرپا سماجی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔
    تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے بھی انسانوں میں شعور، مقصدیت اور اجتماعی فلاح کا یہی مشن سرانجام دیا۔ ہمارے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے بھی اسی نظریے کی بنیاد پر جدوجہد فرمائی اور ایسا قومی و بین الاقوامی انقلاب برپا کیا، جس نے صدیوں تک دنیا کو امن، عدل، انصاف اور ایک مضبوط معاشرتی نظام کی وہ تمام بنیادی قدریں فراہم کیں، جن پر ایک صالح معاشرہ استوار ہوتا ہے۔
     آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں مقصدیت کو نمایاں کریں۔ بے مقصد اور لغو زندگی نہ فرد کے لیے فائدہ مند ہے اور نہ ہی معاشرے کے لیے۔ اسی حقیقت کی طرف حضرت عمر بن خطابؓ نے نہایت خوب صورت انداز میں رہنمائی فرمائی ہے:
    ”میں اس بات کو بہت معیوب سمجھتا ہوں کہ تم میں سے کوئی شخص بے مقصد زندگی گزارے، نہ دنیا کے لیے کوئی عمل کرے اور نہ آخرت کے لیے“۔
    Share via Whatsapp