وطنِ عزیز میں اساتذہ کا مستقبل
کسی بھی معاشرے کی سمت جاننی ہو تو اس کے نوجوانوں سے صرف ایک سوال پوچھ لیجیے، آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف.....
وطنِ عزیز میں اساتذہ کا مستقبل
تحریر؛ محمد صداقت طلحہ، وہاڑی
کسی بھی معاشرے کی سمت جاننی ہو تو اس کے نوجوانوں سے صرف ایک سوال پوچھ لیجیے، آپ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب صرف اِنفرادی خواہش پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ اس معاشرے کی ترجیحات، پالیسیوں اور مستقبل کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ بدقسمتی سے اگر آج پاکستان کے کسی متوسط طبقے کے گھر میں یہی سوال پوچھا جائے کہ کیا آپ اپنے بچے کو استاد بنانا چاہیں گے؟ تو جواب دینے سے پہلے ایک طویل خاموشی ضرور طاری ہوگی۔ یہ خاموشی استاد کی عزت کے خاتمے کی نہیں، بلکہ اس پیشے کے مستقبل پر بڑھتے ہوئے عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔
چند برس پہلے دنیابھر میں یہ بحث زوروں پر تھی کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹس مستقبل میں اساتذہ کی جگہ لے لیں گے۔ پاکستان میں بھی یہ بحث خوب ہوئی،لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اساتذہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ وہ پالیسیاں ہیں جنھوں نے تدریس کو بتدریج ایک غیرمحفوظ پیشہ بنا دیا ہے،جس ملک کے ہزاروں سرکاری اسکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہوں، وہاں روبوٹس سے زیادہ خطرناک وہ فیصلے ہیں جو استاد کو مستقل روزگار، معاشی تحفظ اور پیشہ وارانہ وقار سے محروم کررہے ہیں۔
کسی بھی پیشے کی اصل طاقت اس کی سماج میں اس پیشے کی عزت اور اس کا مستقبل ہوتا ہے۔ ایک نوجوان کسی شعبے کا انتخاب صرف شوق کی بنیاد پر نہیں کرتا، بلکہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ اس محنت کا انجام کیا ہوگا۔ ایک وقت تھا جب سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں مستقل بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیاں ہوتی تھیں۔ میرٹ پر امتحانات ہوتے، انٹرویوز ہوتے، مقابلہ سخت ہوتا، لیکن نوجوان کو یہ یقین ضرور ہوتا تھا کہ اگر وہ محنت کرے گا تو اسے ایک باوقار اور مستقل ملازمت مل سکتی ہے۔ یہی یقین تدریس کے شعبے کو زندہ رکھتا تھا۔ آج یہی یقین ختم ہوتا جا رہا ہے۔ مستقل بھرتیاں ختم یا انتہائی محدود ہوچکی ہیں، کئی تعلیمی ادارے نجی شعبے یا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کی طرف جارہے ہیں، جب کہ نئی تقرریوں کی بڑی تعداد مختصر مدت کے معاہدوں تک محدود ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کسی استاد کو چھ ماہ یا ایک سال کا کنٹریکٹ ملا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی نوجوان اپنی پوری زندگی کی منصوبہ بندی چھ ماہ کے معاہدے پر کرسکتا ہے؟ کیا وہ گھر بناسکتا ہے، خاندان چلاسکتا ہے یا اپنے بچوں کے مستقبل کے خواب دیکھ سکتا ہے؟
اگر سرکاری شعبے میں غیریقینی ہے تو نجی شعبے کی صورتِ حال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ ملک کے بے شمار نجی اسکولوں میں اساتذہ ایسی تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں جو ان کی قابلیت، محنت اور ذمہ داری سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے ہاتھوں میں قوم کے بچوں کی تعلیم اور ان کا مستقبل ہے، مگر ان اساتذہ کی اپنی معاشی زندگی عدمِ تحفظ کا شکار ہے۔ ایک استاد جو ہر مہینے اپنے گھر کا بجٹ پورا کرنے کی فکر میں مبتلا ہو، اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پورے انہماک سے نئی نسل کی تعمیر کرے گا، شاید زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ یہی کہانی جامعات میں بھی دہرائی جا رہی ہے، صرف نام بدل گیا ہے۔ یہاں اساتذہ کے استحصال کو وزیٹنگ فیکلٹی کا نام دیا گیا ہے۔ ایک نوجوان برسوں محنت کرکے ایم فل یا پی ایچ ڈی مکمل کرتا ہے، تحقیق کرتا ہے، مقالے شائع کرتا ہے، لیکن عملی زندگی میں اس کے حصے میں اکثر ایک سمسٹر سے دوسرے سمسٹر تک کی عارضی تقرری ہی آتی ہے۔ وہ ہر چند ماہ بعد دوبارہ اسی سوال کے سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ اگلے سمسٹر میں کلاس ملے گی یا نہیں؟ اگر ایک استاد کا اپنا مستقبل غیریقینی ہو تو وہ دوسروں کا مستقبل کتنے یقین سے سنوار سکتا ہے؟
اَب ذرا ایک متوسط طبقے کے والدین کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیے۔ وہ اپنی جمع پونجی، اپنی خواہشات اور اپنی آسائشیں قربان کرکے بچے کو اعلیٰ تعلیم دلواتے ہیں۔ وہ امید کرتے ہیں کہ تعلیم ان کے بچے کی زندگی بدل دے گی،لیکن اگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد اس کے سامنے مستقل ملازمت کے بجائے عارضی معاہدے، کم تنخواہیں اور غیریقینی مستقبل ہو تو پھر وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں یا اگلی نسل کو کیا مشورہ دے گا؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک پیشہ اپنی کشش کھونا شروع کرتا ہے۔ یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر یکساں تعلیمی قابلیت رکھنے والا نوجوان دوسرے شعبوں میں بہترتنخواہ، زیادہ مراعات، واضح ترقی اور ملازمت کا تحفظ حاصل کرسکتا ہے، تو وہ تدریس کا انتخاب کیوں کرے؟ کیا صرف اس لیے کہ ہم تقریروں میں استاد کو ”قوم کا معمار“ کہتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ قومیں نعروں سے نہیں، ترجیحات سے بنتی ہیں۔ اگر واقعی استاد قوم کا معمار ہے تو پھر اس کے لیے پالیسیاں بھی اسی سوچ کی عکاسی کرنی چاہییں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تدریس کو محض ملازمت نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹیجک (طویل مدتی )سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ وہاں اچھے اساتذہ کو برقرار رکھنا قومی مفاد کا حصہ سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ کمزور استاد صرف ایک طالب علم کو نہیں، بلکہ پوری نسل کو متأثر کرتا ہے۔ ہمارے ہاں بدقسمتی سے استاد کی اہمیت تقریروں میں بڑھتی ہے، مگر بجٹ، بھرتیوں اور پالیسیوں میں کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان میں تدریس ختم ہو رہی ہے۔ اساتذہ آج بھی موجود ہیں، کلاس روم بھی آباد ہیں اور لاکھوں لوگ دیانت داری سے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں،لیکن اصل سوال آج کا نہیں کل کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دس سال بعد بھی قابل ترین نوجوان اسی جذبے سے استاد بننا چاہیں گے؟ یا وہ اپنے مشاہدے اور عقل کی بنیاد پر پہلے ہی یہ فیصلہ کر چکے ہوں گے کہ اس راستے کے اختتام پر صرف غیریقینی مستقبل ہے؟
قومیں اس دن کمزور ہونا شروع نہیں ہوتیں، جب ان کے اسکول بند ہوتے ہیں، بلکہ قومیں اس دن کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں، جب ان کے ذہین ترین نوجوان تدریس کو اپنا مستقبل بنانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد کلاس روم تو باقی رہ جاتے ہیں، مگر ان میں کھڑے ہونے والے وہ لوگ نہیں رہتے جو قوموں کی تقدیر بدلتے ہیں۔ اس لیے شاید آج پاکستان کے تعلیمی نظام کے سامنے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنے استاد ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کل استاد کہاں سے آئیں گے؟ کیوں کہ اگر ہم نے تدریس کو محفوظ، باوقار اور پرکشش پیشہ نہ بنایا تو آنے والے برسوں میں ہمیں اہل اور مخلص اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے بہترین ذہن کلاس روم سے کھو دیے انھوں نے رفتہ رفتہ اپنا مستقبل بھی کھو دیا۔









