لباس سے شناخت تک: فیشن کا معاشرے پر اَثرات
لباس دیگر علامتوں(علم، بہادری وغیرہ ) کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے انسانی وقار کی علامت رہا ہے۔ اس حوالے سے طے کی گئیں ترجیحات میں اول یہ ہے کہ لباس .....
لباس سے شناخت تک: فیشن کا معاشرے پر اَثرات
تحریر؛ احمد گل (ڈیرہ اسماعیل خان)
لباس دیگر علامتوں(علم، بہادری وغیرہ ) کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سے انسانی وقار کی علامت رہا ہے۔ اس حوالے سے طے کی گئیں ترجیحات میں اول یہ ہے کہ لباس صاف ستھرا اور موسم کی شدت میں کام آنے والا ہو، نیزمزید ایسی ہی دیگر خوبیوں کے باعث لباس کی قدر و قیمت میں بھی اضافہ ہوتا رہا ہے۔ لباس طبقاتی تفریق کا سبب بھی مانا جاتا ہے۔ظاہری نمود و نمائش کا ذریعہ بھی ہے۔
غرض! لباس کے متعلق کئی نقطہ نظر سننے کو ملتے ہیں، پرانے زمانے میں جب سونے چاندی کے تاروں کا کام ہوتا تھا تو لباس بھی فروخت کرکے برے دن کاٹے جاسکتے تھے۔اور آج بھی فیشن ،برانڈ اور ویلیوایڈیشن ہمیں ایسے مہنگے لباس خریدنے پر آمادہ و مجبور کرتے ہیں کہ ”مہنگا روئے ایک بار“ ، ”جتنا دُھلے اتنا نکھرے“ وغیرہ
فیشن آج صنعت بن چکا ہے اور اس کی چکاچوند نے ہماری نظریں چندھیا دی ہیں ۔
دوسری طرف برانڈ نے دنیا کے حکمراں طبقات کو اپنے نرغے میں لے رکھا ہے، یعنی وہی تاریخی منظرقیصر و کسری سے لے کر آج تک زوال آمادہ تمدن کی منظرکشی کہ جہاں امرا اور نواب اپنے سامانِ عیش وعشرت پر اِتراتے پھرتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دِکھانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ۔اگر ہم گزشتہ 300 سال کے اس سفر میں جائزہ لیں توقدرتی و انسانی وسائل کے استحصال اور لوٹ مار پر جاری اس نظام نے انسانی عقل و شعور کو دھوکا دینے کا ایک منظم ڈھانچہ قائم کیا ہوا ہے ۔ سرمایہ اور طاقت کا یہ مکروہ نظام مصنوعی روشنیوں سے بربادی اور تباہی کے اس سفرکو چھپانا چاہتا ہے ۔آج دنیا میں انسانوں کی 60 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہے اور دن بہ دن یہ تعداد بڑھ رہی ہے ۔
آج فیشن انڈسٹری پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، میٹ گالا کے نام سے کی جانے والی ایونٹ، جس میں کروڑوں کے ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں، کیا اس ایونٹ میں فیشن اور آرٹ کے نام پر ریڈ کارپٹ کے اوپر لباس کو فیشن کا نام دے کر کلچر اور انسانی وقار کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔ کیا یہ ایونٹ جس میں ایک ٹکٹ 2.8 کروڑ(پاکستانی) ہو؟ کیا وہاں پر فیشن اور ڈیزائن کے نام سے لباس کی اصل حقیقت کو روندا نہیں جاتا۔ اس ایونٹ کے ہر سال کے theme کو اگر اٹھا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کارپٹ پر ہر سال چلنے والے ماڈلز جن کے زیب تن جو کپڑا ہوتا ہے کیا یہ کپڑا لباس کی اصل حقیقت کی عکاسی کرتا ہے یا صرف اور صرف ڈالرز کی جمع پونجی کے لیے نئے نئے طریقے اور جھوٹے سٹریٹجیز بنائے جاتے ہیں، تاکہ فیشن انڈسٹری کے نام پر چند گروہوں کو ڈالرز میں تولا جائے۔
ایک ایک ڈریس لاکھوں روپے کا ہے، پرس، ہینڈ بیگ وغیرہ اگر اس کو غور سے دیکھا جائے توہمیں ماضی کے بادشاہوں پر اعتراض کرنے والے بہت مل جائیں گے، لیکن یہ سب فیشن اور انڈسٹری، یعنی بے تحاشا دولت کمانے کے لیے انسانی وقار و اقدارکو اپنی ہوس کی تسکین کے لیے درآمد کرکے فخر کرتے نظر آتے ہیں۔
کیا آج اس دنیا میں جہاں کروڑوں لوگوں کو بدن ڈھانپنے کے لیے کپڑا موجود نہیں، وہاں پر چند منٹ چند قدم ریڈکار پٹ پر چلنے کے لیے لاکھوں ڈالرز کا لباس پہننا کیا یہ فطری عمل ہے؟ کیا یہ جائز ہے ؟آج فلم انڈسٹری میں عورت کو ایسا لباس پہنا کر اسے قابل فروخت اشیا کی طرح پیش کیا جائے، تاکہ فیشن انڈسٹری کو فروغ ملے ۔ میٹ گالا یا اس جیسے دنیا کے بہت سارے ایونٹ جس میں بہ ظاہر نامور اداکار اور مشہور شخصیات شامل ہوتی ہیں۔ یہاں فیشن انڈسٹری کے کاروبارکو فروغ ملتا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پر کروڑوں عوام غربت کے لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں، جہاں پر کروڑوں لوگ بھوک سے نڈھال ہیں، جہاں پر لوگوں کے بدن پر کپڑا موجود نہیں کیا وہاں پر لاکھوں ڈالر محض ایک ڈریس (ڈیزائن) کے نذر کرنا انتہائی بے رحمانہ عمل نہیں ہے۔؟
ٹیکسٹائل انڈسٹری کو فروغ دینا کوئی برا عمل نہیں، لیکن اس انڈسٹری کو فیشن اور ڈیزائن کے نام پر انسانی وقارکی تذلیل کرنا اس کی عزت کی دھجیاں اڑانا ہے۔ یہ نظام احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے، ہمیں اس نظام کے نتائج پرغور و فکر کرنا ہوگا ۔









