اسلام کا تصورِ حقوقِ خواتین - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • اسلام کا تصورِ حقوقِ خواتین

    عورتوں کے حقوق کےحوالے سے اسلام اور باقی مذاہبِ کا عدم توازن

    By میر محمد آزاد اپریدائ Published on Jul 13, 2026 Views 12
    اسلام کا تصورِ حقوقِ خواتین
    تحریر؛ میر محمد آفریدی ۔ پشاور 

    زوال یافتہ معاشروں میں ایک المیہ یہ بھی ہوتا ہے کہ خواتین کے معاملے میں وہ حقوق ادا نہیں کیے جاتے جو بہ حیثیت انسان ان کے لازمی تقاضے ہیں، اس کے نتیجے میں خواتین کو اپنے اعلیٰ انسانی درجے سے گرا کر پستی میں دھکیلا جاتا ہے، جب کہ اسلام نے ایک ایسا مکمل اور ترقی پسند سماجی ڈھانچہ دیا ہے، جس میں خواتین کو حقوق کے ساتھ ساتھ ان پر خاندانی ذمہ داریاں بھی عائد کی ہیں، جن کی ادائیگی کے نتیجے میں انسانی سماج مکمل ہوکر ترقی پذیر ہوتا ہے۔
    انسانی حقوق کا تصور
    انسانی حقوق کا تصور یہ ہے کہ وہ بنیادی ضروریات اور لازمی تقاضے جو ہر انسان کو پیدائشی طور پر حاصل ہوتے ہیں اور جن کی موجودگی اور حصول کے نتیجے میں انسانی زندگی برقرار رہنے کے ساتھ آدمی کو وقار، آزادی، امن اور خوش حالی و مساوات کا تحفظ ملتا ہے، تاکہ معاشرے میں انسان کا اِنفرادی و اجتماعی نظامِ زندگی خوش گوار بنیاد پر برقرار رہ کر ترقی کر سکے۔ ان انسانی حقوق میں خواتین بھی مردوں کے برابر شریک ہیں، کیوں کہ مرد اور عورت ایک ہی جنس ہیں، قرآنِ مجید میں ہے کہ:
    ترجمہ: ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان (نفسِ واحدہ) سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا“۔(سورۃ النساء: 1)
    لیکن ذمہ داری کے حوالے سے کچھ فرق ضرور ہے، اسی تناظر میں ارشاد ہوا:
    ترجمہ: ”مرد عورتوں پر (خاندانی نظام میں ذمہ داری اور سربراہی کے حوالے سے) نگہبان اور ذمہ دار ہیں، اس وَجہ سے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر بعض پہلوؤں میں فضیلت دی ہے اور اس وَجہ سے کہ وہ اپنے مال خرچ کرتے ہیں“۔ (سورۃ النساء: 34)
    ہمارے معاشرے میں اس وقت عورت کے حوالے سے دو تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایک تصور عورت کو آزادی کے نام پر بے راہ رو کرکے قربانی کا بکرا بنا رہا ہے، جب کہ دوسرا تصور جو عورتوں کو انسان تو درکنار، جانوروں کی طرح رکھتا ہے جو کہ انتہا درجے کی لاشعوری پر مبنی ہے۔
    پہلا تصور: لبرلزم یا فیمنزم کا جھوٹا پروپیگنڈا
    عورت خاندان کی بنیادی اکائی ہے، جس پر خاندان اور پورے معاشرے کی مرکزیت قائم ہے۔ اسی وَجہ سے سرمایہ دار اور سرمایہ دارانہ نظام نہیں چاہتے کہ خاندانی نظام اپنی اصل حالت میں قائم رہے۔ وہ عورتوں کو خوش نما نعروں اور آزادی کے نام پر پھسلا کر کم قیمت پر سستے لیبر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے یورپ اور امریکا پہلے درجے پر ہیں، جو حقوقِ نسواں پر بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔ حال آں کہ حقیقت یہ ہے کہ انھی اقوام نے اسلام کی آمد کے زمانے میں عورت کو جانور کا درجہ دیا ہوا تھا۔ بعض نے اسے صرف جنسی تسکین کا ذریعہ سمجھا اور کچھ نے تو اسے شیطان کا عکس قرار دیا تھا۔ حتیٰ کہ مغرب میں آج بھی عورتوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ 1997ء میں مغربی محقق ”کریس ڈی اسٹوب“ نے یورپ میں عورتوں کی تجارت پر تحقیق کی اور انکشاف کیا کہ:
    ”مغرب میں عورت کی زندگی جہنم ہے، صرف اسپین میں پانچ لاکھ خواتین جسم فروشی پر مجبور ہیں۔ ڈنمارک، جسے ملحدین کا گڑھ کہا جاتا ہے، اَب بے نکاح تعلقات کی جنت کہلاتا ہے، جب کہ سوئٹزرلینڈ کو کلب کی لڑکیوں کا ملک کہا جاتا ہے“۔ حوالہ: (کریس ڈی اسٹوب، یورپ میں عورت کی تجارت)
    دوسری طرف امریکی نیوز چینل CNN نے ایک رپورٹ نشر کی جس میں Maryland (امریکا) میں Johns Hopkins University کی تحقیقات پر اعتماد کیا گیا۔ اس کے مطابق امریکا میں ہر سال دو لاکھ بچوں اور عورتوں کی باقاعدہ غلاموں کی طرح خرید و فروخت ہوتی ہے، جب کہ ایک لاکھ بیس ہزار عورتیں مشرقی یورپ (روس اور اس کے آس پاس کے غریب ممالک) سے جسم فروشی کے لیے مغربی یورپ اسمگل کی جاتی ہیں۔ یورپ اور امریکا میں ان عورتوں کو بیچتے وقت نمبر اور اسٹمپ لگائے جاتے ہیں۔ برطانوی اخبار ”انڈیپنڈنٹ“ نے 30 ستمبر 2014ء کو ایک رپورٹ شائع کی، جس کا عنوان تھا:
    Human Trafficking Victims Branded Like Cattle
    جسم فروشی کی غرض سے غلاموں کو ٹرکوں میں بھر دیا جاتا ہے، پھر انھیں 200 سے 6000 پاؤنڈ کے درمیان فروخت کیا جاتا ہے۔
    یورپ نے عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے اور اپنی رائے کے اِظہار سے بھی محروم رکھا تھا، حتیٰ کہ ووٹ کا حق بھی انھیں 1900ء کے بعد دیا گیا۔
    دوسرا رخ: فاسد معاشرتی سوچ کے نام پر عورتوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک
    سوسائٹی میں جہاں عورت کو گھر کی ملکہ ہونا چاہیے، وہاں ہم نے اسے گھر کی مزدور بنا رکھا ہے، جو کہ پہلے تصور کے بالکل مخالف سمت ہے۔ زوال یافتہ معاشروں میں عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید رکھا جاتا ہے۔ اس کے حقوق کو سمجھنے اور دینے کے بجائے اس کو لاشعوری طور پر مرد کا غلام سمجھا جاتا ہے، یہ رخ خصوصاً دیہی علاقوں اور مردانہ غلبے کے حامل علاقوں اور خاندانوں میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
    ماضی قریب میں، ہمارے والدین بتاتے کہ عام دیہی اور دور دراز علاقوں میں یہ حالات عام تھے کہ خواتین گھریلو کام کاج کے لیے اذانِ فجر سے پہلے اٹھتیں، پہاڑی علاقوں میں محلے کی عورتیں آدھی صبح پہاڑوں پر جا کر گھر کے لیے سارا دن لکڑیاں کاٹتیں۔ حالت یہ ہوتی تھی کہ چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو، انھیں جانا ہی ہوتا تھا۔ ایسے کئی واقعات پیش آئے کہ پہاڑوں میں ہی بچوں کی پیدائش ہوجاتی تھی،یعنی اتنے حساس معاملات میں بھی نرمی نہیں برتی جاتی تھی۔ واپس آتیں تو گھر کے کام کاج، دور دراز سے پانی لانا اور کھیتی باڑی کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ اس حالت میں بچوں کی تربیت تو درکنار، انھیں مناسب خوراک بھی نہیں ملتی تھی۔
    راقم الحروف کی دادی کی دو بیٹیاں گھر سے باہر کاموں میں مصروف ہونے کی وَجہ سے آگ میں جل گئیں۔ جب دادی واپس آئیں تو دونوں جل چکی تھیں۔ اس حالت میں کسی بھی انسان کو ذہنی صدمہ (Trauma) ہونا فطری ہے، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ مضبوط رہیں، حال آں کہ ایسے وقت میں نفسیاتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے، مگر کون کرتا تھا؟ یہ صرف ایک واقعہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اسی لاپرواہی کے باعث دادی کا ایک بیٹا، یعنی میرا چچا، خوراک کی عدم دستیابی کی وَجہ سے بچپن میں ہی لقمۂ اجل بن گیا۔ حال آں کہ میری دادی کی سات بیٹیوں میں صرف ایک بیٹا، یعنی میرے والد صاحب ہیں۔
    اسلام کا متوازن تصور
    ان دونوں رخوں کے پیشِ نظر اگر ہم اسلامی تعلیمات کو دیکھیں تو اسلام کے تصورِ حقوق خواتین میں ایک متوازن تصور دیتا ہے، اسلام عدمِ توازن نہیں، بلکہ توازن کا فیصلہ کرتا ہے۔ وہ نہ تو عورت کو آزادی کے نام پر سستا لیبر یا محض ایک آبجیکٹ بناتا ہے، اور نہ ہی اسے قیدی یا مزدور بنا کر پیش کرتا ہے، بلکہ اسلام نے اس وقت جب عورت کو جانور تصور کیا جاتا تھا، قرآنِ مجید میں ایک پورا باب، یعنی سورۃ النساء، عورت کے حقوق اور مقام کے حوالے سے نازل کیا۔ اسلام نے عورت کو عزت، تحفظ اور وہ تمام حقوق دیے، جن کی مدد سے وہ اپنی روزمرہ زندگی کی ضروریات اور ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں پورا کر سکتی ہے۔
    ہمارے معاشرے میں عورت کو اس کے تقاضے کے مطابق حقوق میسر نہیں، خواتین کیا مردوں کو ہی حقوق حاصل نہیں، حقوق کی فراہمی کا مکمل نظام حکومتی اداروں پر عائد ہوتا ہے اس کے بعد ہی افراد پرذمہ داری لاگو ہوتی ہے، لیکن جب حکومتی طریقہ کار ہی ایسی ساخت پر بنا ہوا ہو کہ جس کے نتیجے میں تمام انسانوں کے حقوق غصب ہو رہے ہوں تو ایسے ماحول میں اس حقوق کُش نظام ہی کو تبدیل کرکے ایسا متوازن نظامِ حکومت تشکیل دینے کی ضرورت ایک لازمی امر بن جاتی ہے، جس میں تمام انسانوں کو ان کی ضروریات آسان انداز میں فراہم ہوں، مرد اور عورت اپنی سماجی زندگی میں سکون اور اطمینان محسوس کرکے سماجی ذمہ داریوں کو مکمل کرنے میں راحت محسوس کریں۔ جب تک ہم اس جانب توجہ نہیں دیں گے، معاشرے کی ترقی میں یہ ایک بڑی رکاوٹ رہے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اسلام کے بنیادی اصولوں سے اپنے آپ کو آشنا کریں اور ان پر عمل درآمد کا ایک درست طریقہ کار وضع کریں۔
    Share via Whatsapp