عوامی بے خبری اور نظام کے چند ہتھکنڈے
پچھلے کئی سالوں سے یہ بحث سوشل میڈیا اور عمومی مکالمے کا حصہ بنی ہوئی ہے کہ فلاں صوبہ یا فلاں قوم وسائل پر قابض ہے اور دوسروں کا حق .....
عوامی بے خبری اور نظام کے چند ہتھکنڈے
محمد عیسٰی قاسمی۔ ڈیرہ اسماعیل خان
پچھلے کئی سالوں سے یہ بحث سوشل میڈیا اور عمومی مکالمے کا حصہ بنی ہوئی ہے کہ فلاں صوبہ یا فلاں قوم وسائل پر قابض ہے اور دوسروں کا حق مار رہا ہے۔ اور میرا خیال یہ ہے کہ اصل مسئلہ کسی ایک قوم، خطے یا زبان کا نہیں، بلکہ وہ پورا نظام ہے جو سب پر ایک ہی وقت میں مختلف انداز سے ظلم کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سسٹم سب پر ایک ساتھ ظلم کرتا ہے، مگر اس ظلم کی شدت اور شکل مختلف ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم اسے ایک سادہ مثال سے سمجھیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ کسی کو دس ”تھپڑ“ پڑتے ہیں، کسی کو پندرہ، کسی کو آٹھ اور کسی کو چھ۔ لیکن جب ہر کوئی اپنے اپنے درد کو دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ سب سے زیادہ ظلم صرف اسی پر ہوا ہے۔ یہی احساس پھر نفرت میں بدل جاتا ہے۔ سندھی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادہ زیادتی ہوئی ہے، بلوچ یہ سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھ سب سے برا سلوک ہوا ہے، پشتون یہ سمجھتا ہے کہ اسے نظر انداز کیا گیا ہے، اور پنجابی یہ سمجھتا ہے کہ سب الزامات اسی پر ڈالے جا رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں، جب کہ حقیقت میں نظام سب کو اپنے اپنے انداز میں استعمال کر رہا ہوتا ہے،جس نے اصل میں سب کو تھپڑ لگانے ہوتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی غلط فہمی کو سمجھنا ضروری ہے کہ ظلم کرنے والا کوئی ایک قوم یا فرد نہیں ہوتا۔ ظلم ایک طبقہ کرتا ہے، اور وہ طبقہ مختلف قوموں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس میں پنجابی بھی شامل ہوتے ہیں، پشتون بھی، سندھی بھی اور بلوچ بھی۔ لیکن یہ سب افراد اپنی اپنی حیثیت میں اس بڑے ڈھانچے یعنی اشرافیہ کا حصہ بن جاتے ہیں، جو در حقیقت اصل فائدہ اٹھانے والا طبقہ ہوتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو وسائل، طاقت اور فیصلوں پر قابض ہوتا ہے اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف تقسیم کر کے اپنے مفادات محفوظ رکھتا ہے۔
اگر ہم خیبرپختونخوا کی مثال لیں تو یہاں دہشت گردی زیادہ ہے اور اس کے پیچھے مختلف قسم کی تاویلات بیان کی جاتی ہیں، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ جب کوئی خطہ غیرمستحکم ہوتا ہے، وہاں کے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوجاتے ہیں اور پھر بڑے بڑے وسائل کو لوٹنے کے لیے اور وھاں کی معدنیات پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔
وسائل سے مالا مال علاقوں میں بدامنی اور عدم استحکام ہمیشہ سرمایہ دار اور عوامی وسائل لوٹنے والے طبقے کے مفاد میں ہوتا ہے ۔ یہ ایک پیچیدہ کھیل ہے، جس میں نقصان ہمیشہ عام آدمی کا ہی ہوتا ہے۔
دوسری طرف پنجاب کو اگر دیکھا جائے تو وہاں صنعت، فیکٹریاں اور بڑے کاروباری ڈھانچے زیادہ نظر آتے ہیں،لیکن یہاں بھی سچ یہ ہے کہ ان فیکٹریوں اور اداروں کے پیچھے بھی وہی طبقہ ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھیں سستے مزدور چاہیے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کچھ طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔جیسے مہنگائی، ٹیکسز، جرمانے، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بل۔
یہ ایک ایسا دَباؤ ہے جو انسان کو اس حد تک مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کم اجرت پر بھی کام کرنے کے لیے راضی ہو جاتا ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مزدور طبقے کو متحد ہونے سے روکنا۔ جب بھی کسی معاشرے میں محنت کش طبقہ منظم ہونے لگتا ہے تو وہاں کسی نہ کسی شکل میں تقسیم پیدا کر دی جاتی ہے۔ کہیں قومیت کے نام پر، کہیں زبان کے نام پر، کہیں مذھبی فرقہ واریت کے نام پر اور کہیں کاسٹ سسٹم کے نام پر۔ اگر ہم غور کریں تو پنجاب میں کاسٹ سسٹم کا تصور نسبتاً زیادہ نظر آتا ہے، جب کہ خیبر پختونخوا میں یہ عنصر کم ہے کیوں کہ وہاں سکلڈ ورکرز زیادہ ہیں تو ان کو کاسٹ سسٹم کی بنیاد پر لڑایا جاتا ہے ۔ لیکن مقصد دونوں جگہ ایک ہی ہوتا ہے، لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے بجائے الگ الگ رکھنا، تاکہ اجتماعی شعور پیدا نہ ہو سکے۔
یہی تقسیم کارپوریٹ دنیا اور ریاستی ڈھانچے میں بھی نظر آتی ہے۔ مختلف گروہ، مختلف شناختیں اور مختلف بیانیے پیدا کر کے ایک ایسا ماحول بنایا جاتا ہے جہاں عام انسان اپنی اصل طاقت یعنی اتحاد کو پہچان ہی نہ سکے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہوتے ہیں تو اصل فیصلے کرنے والا طبقہ خاموشی سے اپنے مفادات حاصل کر رہا ہوتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہاں کا نظام قوم کا نہیں، بلکہ ایک مفادپرستانہ ڈھانچے کا نام ہے۔ اس کے لیے کوئی قوم ،کوئی نسل ، اور کوئی مذہبی فرقہ اہم نہیں، اس کے لیے صرف ایک چیز اہم ہے، مفاد۔ اور یہ مفاد ہر اس جگہ سے اُٹھایا جاتا ہے جہاں کمزوری، تقسیم اور بے شعوری موجود ہو۔
ہمیں اَب اس سطحی بحث سے اوپر اٹھنا ہوگا ۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہ نظام کیا ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر کے ہم سب کا مشترکہ نقصان کر رہا ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم اسی طرح قوموں، صوبوں اور فرقوں میں اُلجھے رہے تو فائدہ ہمیشہ اسی طبقے کو ہوگا جو پہلے ہی طاقت میں ہے۔
اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں بار بار یہی نظر آتا ہے کہ جب بھی عوام تقسیم ہوئی، نقصان عوام کا ہی ہوا۔ اور جب بھی اشرافیہ نے چاہا، اس نے نئے بیانیے، نئے اختلاف اور نئے دشمن پیدا کر دیے، تاکہ اصل سوال کبھی اٹھ ہی نہ سکے۔
اگر ہم یہ دیکھیں کہ پاکستان کے عام آدمی کے مسائل کے لیے اس نظام نے کیا کیا ہے؟
تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ عام آدمی کئی دہائیوں سے روٹی، کپڑا ، مکان، تعلیم، صحت اور روزگار جیسی بنیادی ضروریات تک سے محروم ہے ۔ وہی عام آدمی جس کے وسائل پر اس اشرافیہ کا قبضہ ہے ۔
اس لیے اَب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے کے بجائے اس پورے نظام کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ہم سب پر ظلم اور سب کا استحصال کر رہاہے ۔
اپنے اندر شعور پیدا کریں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اور اس کھیل کو سمجھیں جو 78 سال سے ہم سب کا استحصال کر رہاہے اور ہم سب کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہاہے،جس میں ہم اس اصل ظالم اور اپنے مشترکہ دشمن کے ہاتھ میں کھلونا بنے ہوئے ہیں، اپنے کسی بھی مسئلے کے بارے فیصلہ کرنے کا ہم میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں ہے۔
اگر ہم نے یہ شعور پیدا نہ کیا تو پھر تاریخ خود کو دہراتی رہے گی اور ہر بار نقصان ہم سب ( عوام ) کا ہو گا۔









