ملٹری-انڈسٹریل-کمپلیکس
سرمایہ دارانہ دنیا کے بڑے تنازعات کو صرف نظریاتی یا اخلاقی جنگوں کے طور پر سمجھنا ایک حد تک سادہ لوحی ہے
ملٹری-انڈسٹریل-کمپلیکس
تحریر؛ اسامہ احمد، اسلام آباد
عالمی جنگوں کو اکثر اوقات اخلاقی بیانیوں اور نظریاتی نعروں کے پردے میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر جدید عالمی سیاست کو اگر معاشی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک بالکل مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کی جنگی سیاست میں معاشی حوالے سے سب سے زیادہ فائدہ اُٹھانے والوں (Economic beneficiaries) میں امریکی دفاعی صنعت کی چند بڑی کارپوریشنز نمایاں ہیں، جن میں : Boeing، Raytheon، Lockheed Martin، Northrop Grumman اور General Dynamicsشامل ہیں۔ یہ کمپنیاں نہ صرف امریکی دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ حاصل کرتی ہیں، بلکہ عالمی اسلحہ منڈی میں بھی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی تجارت کے مطالعات خصوصاً( SIPRI اور CSIS جیسے اداروں کی رپورٹس)مسلسل اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ عالمی اسلحہ منڈی میں امریکی کمپنیوں کا حصہ طویل عرصے سے غالب رہا ہے۔
افغانستان کی جنگ ان کمپنیوں کے لیے محض ایک جغرافیائی یا سیاسی تنازع نہیں تھی، بلکہ ایک طویل المدتی اور منافع بخش معاشی سرگرمی(Economic project) ثابت ہوئی۔ اگر سنہ 2000ء کے بعد سے ان کمپنیوں کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن اور دفاعی معاہدوں کے حجم کا جائزہ لیا جائے تو جنگی معیشت کے اَثرات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر Lockheed Martin کی مارکیٹ ویلیو 2000ء کے قریب تقریباً 20 سے 25 ارب ڈالر کے درمیان تھی جو اگلی دو دہائیوں میں بڑھ کر 100 ارب ڈالر سے کہیں اوپر جا پہنچی۔ اسی طرح Northrop Grumman اور General Dynamics کی قدر میں بھی اسی عرصے کے دوران نمایاں اضافہ ہوا۔ Raytheon اور Boeing کے دفاعی شعبوں کی آمدنی میں بھی “War on Terror” کے دور میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ رجحان صرف کارپوریٹ سطح تک محدود نہیں، بلکہ امریکی سرکاری اخراجات کے اعداد و شمار بھی اسی سمت کی نشان دہی کرتے ہیں۔ 2001ء کے بعد امریکی دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا اور مجموعی جنگی اخراجات کھربوں ڈالر تک جا پہنچے۔ براؤن یونیورسٹی کے Watson Institute کی مشہوررپورٹ Costs of War Project کے مطابق 2001ء کے بعد امریکی “War on Terror” سے متعلق مجموعی اخراجات 8 ٹریلین(8 ہزار ارب) ڈالر سے بھی تجاوز کر چکے ہیں، جب کہ صرف افغانستان کی جنگ پر ہی تقریباً 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے گئے۔ اسی طرح دیگر تحقیقی اندازوں کے مطابق 9/11 (9ستمبر 2001ء)کے بعد عسکری اخراجات اور متعلقہ سرگرمیوں پر مجموعی طور پر 21 ٹریلین ڈالر تک کے وسائل صرف کیے گئے۔
اس تناظر میں افغانستان کو صرف ایک جنگی محاذ کے طور پر دیکھنا ناکافی ہے۔ درحقیقت یہ ایک مکمل جنگی پروگرام War-Ecosystem تھا، جس میں فوجی آپریشنز کے ساتھ ساتھ اسلحہ سازی، لاجسٹکس، نجی عسکری کمپنیوں، تعمیرِ نو کے منصوبوں، تربیتی پروگراموں اور دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ایک وسیع معاشی نظام شامل تھا۔ اس پورے عمل نے نہ صرف امریکی دفاعی کمپنیوں کے لیے مسلسل معاہدے پیدا کیے، بلکہ خطے کے ممالک کے ساتھ اسلحہ کی فروخت اور طویل المدتی سیکیورٹی پارٹنرشپس کے دروازے بھی کھولے۔
اس جنگی معیشت کو ایک سادہ مثال سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ افغانستان کی جنگ تقریباً بیس سال تک جاری رہی اور اس دوران دفاعی صنعت کے لیے مسلسل مالی مواقع پیدا ہوتے رہے۔ مگر جنگی تھیٹرز کی بھی ایک معاشی عمر ہوتی ہے۔ جب کسی تنازع سے مطلوبہ تزویراتی یا معاشی فائدہ حاصل ہو جائے تو سیاسی بیانیہ بتدریج تبدیل ہونا شروع ہوجاتا ہے اور جنگ کو سمیٹنے کی راہ ہموار کر دی جاتی ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کو دنیا کے بہت سے حلقوں نے ایک بڑی جیوپولیٹیکل شکست قرار دیا، مگر عالمی طاقت کی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر ایک مرحلے کا اختتام تھا، نہ کہ جنگی معیشت کے خاتمے کا اعلان۔
اس پورے نظام کی ایک اور اہم خصوصیت امریکی عسکری قیادت اور دفاعی صنعت کے درمیان گہرا ادارہ جاتی تعلق ہے۔ دفاعی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اکثر ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں اور سابق اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو شامل کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر James Mattis وزارتِ دفاع سنبھالنے سے پہلے General Dynamics کے بورڈآف ڈائریکٹرز میں شامل رہے، جب کہ Lloyd Austin وزیر دفاع بننے سے قبل Raytheon کے بورڈ کا حصہ تھے۔ اسی طرح امریکی فضائیہ کے سابق چیف آف اسٹاف Mark Welsh کو Northrop Grumman کے بورڈ میں شامل کیا گیا۔ اس رجحان کو مغربی تحقیقی ادب میں اکثر “Revolving Door” کہا جاتا ہے، جس میں ریاستی اداروں اور دفاعی صنعت کے درمیان عملے اور مفادات کا تبادلہ جاری رہتا ہے۔
اسی طرح کے ممکنہ خطرات کی طرف 1961 ءمیں امریکی صدر Dwight D. Eisenhower نے اپنی تاریخی الوداعی تقریر میں توجہ دلائی تھی۔ انھوں نے پہلی بار “Military-Industrial Complex” کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر فوجی طاقت، صنعتی مفادات اور سیاسی فیصلہ سازی کا اتحاد بے قابو ہوجائے تو یہ عوامی مفاد پر مبنی جمہوری پالیسی سازی پر غیرمعمولی اَثر ڈال سکتا ہے۔ بعد کے سیاسی مفکرین اور مورخین نے بھی اس نکتے پر زور دیا کہ جب جنگ خود ایک بڑی صنعت میں تبدیل ہوجائے تو اسے جاری رکھنے کے معاشی محرکات بھی اسی نظام کے اندر سے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
اس تناظر میں جدید سرمایہ دارانہ دنیا کے بڑے تنازعات کو صرف نظریاتی یا اخلاقی جنگوں کے طور پر سمجھنا ایک حد تک سادہ لوحی ہے۔ اکثر اوقات ان کے پس منظر میں معاشی مفادات، اسلحہ منڈی کی حرکیات اور عالمی طاقت کے توازن کی سیاست کارفرما ہوتی ہے۔ اگر اس زاویے کو سمجھ لیا جائے تو بہت سے جذباتی تجزیوں کی شدت خود بہ خود کم ہو جاتی ہے،مگر ظاہر ہے کہ جذبات اور نظریاتی وابستگیوں کی منڈی میں اس طرح کے معاشی تجزیے بیش تر اوقات زیادہ مقبول نہیں ہوپاتے۔









