مذہب کی روشنی میں سیاست کا سفر: اَثرات ونتائج
مذہب اور سیاست کا باہمی تعلق صدیوں سے انسانی فکر کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ یہ سوال کہ آیا مذہب کو سیاست میں کردار ادا کرنا چاہیے یا سیاست کو.......
مذہب کی روشنی میں سیاست کا سفر: اَثرات ونتائج
تحریر؛ عبدالمنان۔ گوجرانوالہ
مذہب اور سیاست کا باہمی تعلق صدیوں سے انسانی فکر کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ یہ سوال کہ آیا مذہب کو سیاست میں کردار ادا کرنا چاہیے یا سیاست کو مذہب سے مکمل طور پر الگ رکھا جانا چاہیے، آج بھی علمی و فکری حلقوں میں زیرِبحث ہے۔ عصرِحاضر میں یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوچکا ہے، کیوں کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں اس حوالے سے مختلف نظریات اور تجربات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مذہب معاشرتی زندگی کا بنیادی جزو ہے، یہ بحث اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔
مذہب بنیادی طور پر انسان کو اخلاقی اقدار، عدل، انصاف، رواداری اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ یہ انسان کو ایک منظم اور متوازن زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔ دوسری طرف سیاست ایک ایسا نظام ہے، جس کے ذریعے معاشرے کو منظم کیا جاتا ہے اور اجتماعی فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو مذہب اور سیاست دونوں کا مقصد انسان کی فلاح و بہبود ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ بہت سے مفکرین کے نزدیک یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے تکملہ ہیں۔ مذہب اصول فراہم کرتا ہے، جب کہ سیاست ان اصولوں کو عملی جامہ پہناتی ہے۔تاہم یہ تعلق ہمیشہ مثبت نتائج کا باعث نہیں بنتا۔
جب مذہب کو خلوصِ نیت کے بجائے ذاتی مفادات، اقتدار کے حصول یا عوام کو متأثر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے منفی اَثرات ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست نے کئی مواقع پر معاشرتی تقسیم، تعصب اور شدت پسندی کو فروغ دیا ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ بعض حلقے اس بات کے قائل ہیں کہ مذہب اور سیاست کو الگ رکھنا ہی بہتر ہے، تاکہ مذہب کو سیاست کی آلودگی سے بچایا جا سکے۔
پاکستان سمیت کئی ممالک میں یہ دیکھا گیا ہے کہ مذہب کو سیاسی نعرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ انتخابی مہمات میں مذہبی جذبات کو اُبھار کر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس طرزِعمل سے وقتی فائدہ تو حاصل ہوجاتا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مذہب کی اصل روح متأثر ہوتی ہے۔ مذہب جو کہ اتحاد، بھائی چارے اور امن کا پیغام دیتا ہے، وہی تقسیم اور نفرت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں نہ تو سیاست اپنے اصل مقصد کو حاصل کر پاتی ہے اور نہ ہی مذہب اپنی حقیقی حیثیت برقرار رکھ پاتا ہے۔
حال ہی میں ایک اہم مباحثہ لاہور میں منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا: "سیاست اور مذہب کا گٹھ جوڑ؛ پاکستان کا مستقبل تاریک رکھے گا"۔ یہ مباحثہ ایک معروف تعلیمی ادارے کے زیرِاہتمام منعقد کیا گیا، جس میں طلبا، اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ مباحثے کا مقصد اس حساس موضوع پر مختلف نقطۂ نظر کو سامنے لانا اور علمی انداز میں اس پر غور و فکر کرنا تھا۔
اس مباحثے میں دو گروہوں نے اپنے اپنے دلائل پیش کیے۔ ایک گروہ اس خیال کا حامی تھا کہ مذہب اور سیاست کو الگ رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جب مذہب کو سیاست میں شامل کیا جاتا ہے تو اکثر اوقات اس کا استعمال عوامی جذبات کو بھڑکانے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرتی ہم آہنگی متأثر ہوتی ہے۔ انھوں نے دلیل دی کہ ترقی یافتہ ممالک نے اسی اصول کو اپنایا ہے اور اسی وَجہ سے وہ استحکام اور ترقی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
دوسری طرف، اس خیال کے مخالفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، جس میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ ان کے مطابق سیاست کو مذہب سے الگ کرنا اسلام کی روح کے منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر سیاست کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلایا جائے تو ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے، جہاں عدل، مساوات اور انصاف کا بول بالا ہو۔
اسلامی تاریخ اس حوالے سے ایک اہم مثال پیش کرتی ہے۔ ریاستِ مدینہ کو ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی حقوق حاصل تھے۔ اس ریاست میں ایک باقاعدہ معاہدہ قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت تمام شہریوں کو مذہبی آزادی دی گئی اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ یہ نظام نہ صرف امن و امان کا ضامن تھا، بلکہ مختلف قبائل اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی کامیاب رہا۔
خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی مذہب اور سیاست کا امتزاج ایک متوازن اور منصفانہ نظام کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دور میں حکمرانوں نے عدل و انصاف کو اپنی حکمرانی کی بنیاد بنایا اور عوامی فلاح کو اولین ترجیح دی۔ حکمران خود کو عوام کے سامنے جوابدہ سمجھتے تھے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ تمام اصول مذہب کی تعلیمات سے ماخوذ تھے اور سیاست کے ذریعے نافذ کیے گئے تھے۔
مزیدبرآں، برصغیر کا قدیم تعلیمی نظام بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مذہب اور دنیاوی علوم کو یکجا کر کے ایک متوازن معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ مدارس اور تعلیمی اداروں میں دینی اور سائنسی علوم ساتھ ساتھ پڑھائے جاتے تھے، جس سے ایک ہمہ جہت شخصیت کی تشکیل ممکن ہوتی تھی۔ تاہم، نوآبادیاتی دور میں اس نظام کو تبدیل کر دیا گیا اور دینی و دنیاوی تعلیم کو الگ الگ کر دیا گیا۔ اس تقسیم کے نتیجے میں معاشرے میں فکری انتشار اور طبقاتی تفریق نے جنم لیا، جس کے اَثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو اپنے مشہور شعر میں بیان کیا:
”جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی“
اقبال کے اس شعر میں اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ اگر سیاست کو مذہب سے الگ کردیا جائے تو وہ ظلم اور جبر کا شکار ہوسکتی ہے۔ مذہب سیاست کو اخلاقی حدود فراہم کرتا ہے اور اسے بے راہ روی سے بچاتا ہے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مذہب کو اندھا دھند سیاست میں استعمال کیا جائے، بلکہ اسے خلوص اور دیانت کے ساتھ اپنانا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ مذہب اور سیاست کے تعلق کا نہیں، بلکہ اس تعلق کے غلط استعمال کا ہے۔ اگر سیاست دان مذہب کو صرف عوام کو متأثر کرنے یا اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کریں گے تو اس کے نتائج یقیناً منفی ہوں گے،لیکن اگر وہ واقعی مذہبی اصولوں جیسے انصاف، دیانت، امانت اور خدمتِ خلق کو اپنی سیاست کا حصہ بنائیں تو معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔
آج کے دور میں ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہب اور سیاست کے درمیان ایک متوازن تعلق قائم کیا جائے۔ نہ تو مذہب کو سیاست سے الگ کیا جائے اور نہ ہی اسے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جانا چاہیے، جس میں مذہب کی اخلاقی تعلیمات کو بنیاد بنایا جائے اور سیاست کو ان اصولوں کے مطابق چلایا جائے۔
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذہب اور سیاست کا تعلق ایک حساس اور نازک مسئلہ ہے، جسے سمجھ داری اور بصیرت کے ساتھ سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس تعلق کو صحیح طریقے سے استوار کیا جائے تو یہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، لیکن اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے تو یہ معاشرتی انتشار اور تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اعتدال اور توازن کو اختیار کریں اور مذہب کی اصل روح کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی سیاسی زندگی کو منظم کریں۔









