جمہوریت، آمریت، بادشاہت اورخلافت : فرق اور امتیاز
خلافت اور جمہوریت کوئی متضاد طرزِ حکمرانی نہیں ہیں، جس طرح آج کل بعض حلقوں کی جانب سے خلافت کو بمقابلہ جمہوریت پیش کیا جاتا ہے۔
جمہوریت، آمریت، بادشاہت اورخلافت : فرق اور امتیاز
تحریر؛ محمد ابراہیم۔ پشاور
ہمیں جمہوریت، آمریت، بادشاہت، شہنشاہیت، استبدادیت اور خلافت وغیرہ جیسے الفاظ اکثر سننے یا پڑھنے کو ملتے ہیں۔ہم ان کے صحیح مفہوم اور فرق پر بھی غور و فکر کرتے رہتے ہیں۔ آئیے ان کے درست مفہوم اور فرق پر بات کرتے ہیں۔
پہلے پہل غور کریں کہ ان اصطلاحات میں سے کون سی آپس میں متضاد ہیں اور کون سی ایک جیسا مفہوم رکھتی ہیں ؟
معروف اور مشہور معنوں میں جمہوریت اور آمریت آپس میں بالکل متضاد اصطلاحیں ہیں۔
جمہوریت کے مفہوم میں دو باتیں پیشِ نظر رکھنی ضروری ہیں :
1۔ مشورہ ہو۔ 2۔ وہ مشورہ عوام کے فائدے کے لیے ہو، نہ کہ مخصوص افراد، خاندان، پارٹی، مذہب یا مخصوص قوم کے فائدے کے لیے۔
جب کہ آمریت اس کے بالکل برعکس ہے، اس میں فردِ واحد کی مرضی سے امورِمملکت چل رہے ہوتے ہیں، اور ایک مخصوص گروہ، خاندان یا جماعت کے حقوق اور آسائشات کا تو خیال رکھا جاتا ہے، لیکن جمہور عوام کی ضروریات کو یکسر پسِ پشت ڈال کر ، بلکہ ان کو تو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا ۔
اس طرزِحکومت میں حکمران کے پاس ( بہ ظاہر ) شوریٰ یا پارلیمنٹ بھی ہوسکتی ہے، لیکن حتمی حکم دینے کی اتھارٹی فردِ واحد کے پاس ہوتی ہے۔ اس میں وہ اپنی مرضی اور مفاد کے مطابق رائے کو تو قبول کرتا ہے، لیکن اس کے مفاد کے خلاف رائے یا تجویز دینے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی۔
بادشاہت اور شہنشاہیت :
یہ جمہوری بھی ہوسکتی ہے اور آمرانہ بھی ، اگر اس میں روح مفادِعامہ، شوریٰ اور رائے دہی کی ہو تو یہ جمہوری طرز کی بادشاہی حکومت ہوگی، اور اگر مفادِعامہ کے بجائے ظلم و جبر اور شخصِ واحد کی مرضی کی اساس پر فیصلے کیے جائیں تو یہ آمرانہ طرز کا بادشاہی نظام ہوگا۔
جہاں تک مسلمانوں کے عروج کے شاہی نظاموں کا تعلق ہے تو ان میں ہمیشہ روح جمہوریت ہی کی رہی ہے۔ بادشاہ تن تنہا فیصلے یا حکم کا مجاز نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس کے پیچھے فقہا ، سیاست دانوں، علما اور صوفیا کی جماعت ہوتی تھی جو اس کے فیصلوں پر تنقید بھی کرتی اور اپنی رائے بھی دیتی رہتی تھی، اور بادشاہ ان آرا کو خوشی سے قبول بھی کرتا تھا۔ تنقید کے جواب میں سختی اور جبر سے کام نہیں لیا جاتا تھا۔
یورپ اور مسلمانوں کے بادشاہی نظام میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یورپ کی بادشاہی حکومتیں ظلم، جبر اور استبدادیت کی بدترین مثال ہوا کرتی تھیں، بلکہ بعض جگہوں پر تو بادشاہ خود کو خدا کے برابر سمجھتا تھا، یوں اسے ہر طرح کے حکم یا فیصلے کو نافذ کرنے کا مطلق اختیار حاصل ہوتا تھا۔
یہ مسلمانوں کی بادشاہی حکومتوں کے خلاف ایک بڑا پروپیگنڈا ہے کہ وہ بھی یورپ کی طرح آمرانہ اور استبدادی حکومتیں تھیں۔ مسلمانوں کی حکومتیں بادشاہی اور شہنشاہی ضرور رہی ہیں، لیکن انھیں یورپ کے مشابہ قرار دے کر وہی خرابیاں اور امراض ان میں ماننا اور ثابت کرنا تاریخ کے ساتھ ایک بڑا دھوکا ہے۔
بادشاہی نظام ایک طرزِحکمرانی ہے، جس میں نظام کی باگ ڈور ایک خاندان میں رہتی ہے ، لہٰذا ایک حکمران یا بادشاہ کا جانشین اس کا بیٹا یا خاندان میں سے کوئی اور باصلاحیت شخص بنتا ہے ۔ اس وقت عموماً شاہی خاندان میں حکومت چلانے کی صلاحیت، جذبہ اور خلوص دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا تھا ، اس لیے یہ کوئی خرابی کی بات نہیں تھی، لیکن شرط یہ ہے کہ حکمران ملک کے اہلِ حل و عقد اور صاحبِ رائے لوگوں سے امورِمملکت میں مشورہ کرے اور مفادِعامہ کو ملکی فیصلوں میں پیشِ نظر رکھے۔
اسلامی حکومتوں کی تاریخ میں عموماً ایسا ہی ہوا ہے۔ بادشاہ کے حزبِ اختلاف میں علما ، فقہا اور صوفیا کی جماعتیں ہمیشہ موجود رہی ہیں اور بادشاہ نے بزور و زبردستی انھیں کچلنے یا ان کی آواز روکنے کی کوشش نہیں کی۔
ایک ملک یا قوم میں اس طرز کی حکومت ہو تو اسے بادشاہی نظام حکومت کہتے ہیں، جب کہ کئی اقوام یا ممالک پر مشتمل ایسی حکومت کو شہنشاہیت کہتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں مسلمان بادشاہ کو عموماً ”سلطان“ اور مسلمان شہنشاہ کو ”خلیفہ“ کہا جاتا تھا۔ اسی طرح سلطنت - ایک ملک کی حکومت اور خلافت- کثیر ممالک پر مشتمل حکومت کو سمجھ لیجیے۔
یوں خلافت اور جمہوریت کوئی متضاد طرزِحکمرانی نہیں ہیں، جس طرح آج کل بعض حلقوں کی جانب سے خلافت کو بہ مقابلہ جمہوریت پیش کیا جاتا ہے اور یہ تصور دیا جاتا ہے کہ اسلام میں تو خلافت ہے، جمہوریت نہیں۔
دوسری طرف اسلامی خلافتوں، یعنی خلافتِ بنوامیہ اور بنوعباس کے بارے میں بھی یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یہ تو آمرانہ طرز کی حکومتیں بن گئی تھیں۔ یہ دراصل یا تو تاریخ اور اسلامی خلافتوں کے اصولوں سے ناواقفیت کی وَجہ سے ہوتا ہے، یا پھر منافقت اور دشمنی کی بنا پر یہ تصور پیش کیا جاتا ہے۔
ہر دور کی حکومت کا اپنا ایک طرز رہا ہے، چاہے وہ خلافتِ راشدہ کے طرز کی حکومت ہو، یا خلافتِ بنوامیہ، بنوعباس اور بنوعثمان کی خاندانی حکومتیں، یا پھر ہندوستان میں مغل، لودھی اور خلجی وغیرہ کی شاہی حکومتیں ہوں ۔ رنگ اور صورت اگرچہ مختلف رہی، لیکن روح ہمیشہ جمہوریت، شورائیت اور مفادِعامہ ہی کی غالب رہی ہے۔
اَب موجودہ اور آنے والے دور کا تقاضا جدید طرز کا جمہوری نظام ہے، جس کی طرف امام شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے تقریباً تین سو سال پہلے اشارہ کیا تھا کہ اہلِ حل و عقد کی ایک پارلیمنٹ ہو، جس میں ملک کے ہر طبقے اور پیشے کی نمائندگی ہو، پھر وہ ملک کے فیصلے کرے۔
اگرچہ اس طرزِحکومت یا نظام کا موجد بہ ظاہر یورپ رہا ہے، لیکن اس کی حکومتیں روحِ جمہوریت سے کھوکھلی ہیں، جہاں پارلیمنٹ صرف ایک مخصوص طبقے یعنی سرمایہ دار کے مفادات کو تحفظ دیتی ہیں۔
دین اسلام دائمی اور ابدی ہے، اس لیے اسلام کے اجتماعی نظام میں ہمیشہ روح عدل و انصاف اور بلاتفریق تمام انسانوں کو عدل ، امن اور معاشی خوش حالی سے ہمکنار کرنے کی ہوتی ہے اور شکل و صورت میں روح عصر ( ہر دور کی معروضیت) کو پیش نظر رکھا جاتا ہے ۔









