سانحہ بابڑہ داستان ظلم - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سانحہ بابڑہ داستان ظلم

    سانحہ بابڑہ جس میں نہتے لوگوں کو بے دریغ قتل کیا گیا

    By Muhammad Rizwan Ghani Published on Aug 26, 2026 Views 54
    سانحہ بابڑہ! داستان ظلم
    تحریر: محمد رضوان غنی۔ میرپور (آزاد کشمیر)

    پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 12 اگست 1948ء کو چارسدہ کے مقام 'بابڑہ' میں پیش آنے والا واقعہ ایک انتہائی افسوس ناک سانحہ ہے۔ قیامِ پاکستان کی پہلی سالگرہ 14 اگست 1948ءسے محض دو دن قبل رونما ہونے والے اس واقعے نے نوزائیدہ ریاست میں جمہوریت، قانون اور انسانی حقوق پر گہرے سوالات پیدا کر دیے، جس سے ہمارا آج کا نوجوان نابلد ہے۔
    تقسیمِ ہند کے وقت باچا خان (خان عبد الغفار خانؒ) کی عدمِ تشدد پر مبنی تحریک 'خدائی خدمت گار تحریک' نے آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ تحریک ابتدا میں کانگریس کے ساتھ تھی اور انھوں نے تقسیم کے وقت سرحدوں اور طریقہ کار پر اپنے تحفظات کا اِظہار بھی کیا، لارڈ ماؤنٹ بیٹن  کی تقسیمِ ہند کی داستان ایک مختلف بحث ہے، لیکن قیامِ پاکستان کے بعد 3 ستمبر 1947ء کو سردریاب جلسے میں خدائی خدمت گاروں نے پاکستان کو اپنا وطن تسلیم کرتے ہوئے اس کی سلامتی، تعمیر اور استحکام کے لیے کامل تعاون کا اعلان کیا۔
    اس کے باوجود، 22 اگست 1947ء کو جمہوری اور آئینی طور پر قائم ڈاکٹر خان صاحب (باچا خان کے بھائی) کی منتخب صوبائی حکومت کو غیرآئینی طریقے سے برطرف کر دیا گیا اور ان کی جگہ خان عبد القیوم خان کو صوبہ سرحد کا نیا وزیر اعلیٰ مقرر کر دیاگیا ۔
    قیوم خان کو معلوم تھا کہ صوبے میں عوام کی اکثریت باچا خان کے ساتھ ہے اور اگر قائداعظم اور باچا خان کے درمیان کوئی سمجھوتہ ہوگیا تو ان کی اپنی حکومت کا قائم رہنا، ناممکن ہوجائے گا۔ اس سیاسی مفاد کے لیے قیوم خان نے قائداعظم کو کہا کہ باچا خان اور خدائی خدمت گاران ان پر حملہ کرسکتے ہیں، جس سے سردریاب میں ان کی طے شدہ ملاقات منسوخ ہوگئی اور دونوں کے درمیان دوریاں پیدا کر دی گئیں۔ 
    سانحہ بابڑہ کے وقت صوبہ سرحد کا گورنر ایک برطانوی افسر سر ایمبروز فلکس ڈنڈاس (Sir Ambrose Flux Dundas) تھا۔ انگریز سامراج کی رخصتی کے باوجود نیا اقتدار عوامی نمائندوں کے بجائے نوابوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں آگیا، جنھوں نے عوام کو سچی آزادی دینے کے بجائے انگریز کا بنایا ہوا جابرانہ نظام قائم رکھا۔
    برطانوی گورنر نے جولائی 1948ء میں ایک کالا آرڈیننس جاری کیا، جس کے تحت حکومت کو کسی بھی شہری کو بغیر جواز گرفتار کرنے اور جائدادیں ضبط کرنے کے لامحدود اختیارات مل گئے۔
    دفعہ 144 اور نوآبادیاتی دور کی پولیس کا تشدد پسندانہ اسٹرکچر جوں کا توں استعمال کیا گیا۔
    باچا خان، ڈاکٹر خان صاحب، قاضی عطا اللہ اور دیگر رہنماؤں نے اس آرڈیننس کی پُرزور مزمت کی، جس کے نتیجے میں ان کو گرفتار کر لیا گیا، تب اس جابرانہ آرڈیننس کے خلاف اور اپنے لیڈروں کی بے جا گرفتاری پرخدائی خدمت گاروں نے 12 اگست 1948ء کو بابڑہ کے مقام پر ایک پُرامن اور عدمِ تشدد پر مبنی احتجاجی جلسہ رکھا۔
    عدمِ تشدد کی اس عظیم تحریک کے تقریباً 25 ہزار پُرامن مظاہرین پر بغیر کسی وارننگ کے اندھا دھند فائرنگ کی گئی اور دستی بم پھینکے گئے۔خواتین نے فائرنگ رکوانے کے لیے اپنے سروں پر قرآن پاک اٹھائے اور جھولیاں پھیلائیں، مگر فائرنگ نہ روکی گئی۔ 45 منٹ تک یہ بربریت جاری رہی جب تک کہ گولیاں ختم نا ہوئیں۔ 
    عینی شاہدین اور خدائی خدمت گار ذرائع کے مطابق تقریباً 650 افراد شہید اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ظلم کی حد یہ تھی کہ بعد میں شہید ہونے والوں کے ورثا سے فائرنگ میں استعمال ہونے والے کارتوسوں کا تاوان بھی وصول کیا گیا۔
    اس تمام تر بربریت کا براہِ راست حکم وزیراعلیٰ قیوم خان نے دیا تھا، جنھوں نے بعد میں چوک یادگار میں تقریر کرتے ہوئے انتہائی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”لوگ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس گولیاں ختم ہوگئیں، ورنہ ایک بھی بندہ زندہ بچ کر نہ جاتا“۔
    سانحہ بابڑہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا انگریز کے جانے کے بعد عوام کو حقیقی آزادی ملی؟ گوری چمڑی والے حکمرانوں سے اقتدار نکل کر جاگیرداروں اور نوابوں کے پاس چلا گیا، جنھوں نے نام تو اسلام اور جمہوریت کا لیا، لیکن آئین، قانون اور جمہوریت کو اپنے پاؤں تلے روندا۔
    ہمارے تعلیمی نصاب اور مطالعہ پاکستان میں ان حقائق کو چھپایا گیا، لیکن تاریخ کا سچ یہی ہے کہ پائیدار ریاستیں اپنے شہریوں اور پُرامن تحریکوں کو طاقت سے کچلنے کے بجائے آئین، انصاف اور حقیقت پسندی کے اصولوں سے حل کرتی ہیں۔
    Share via Whatsapp