سائنسی علوم کے ارتقا میں مسلمانوں کا کردار
اسلامی سنہری دور میں مسلم سائنس دانوں نے علم کو فروغ دیا اور جدید سائنس کی مضبوط بنیاد رکھی.
سائنسی علوم کے ارتقا میں مسلمانوں کا کردار
تلخیص و ترجمہ: ڈاکٹر حماد محمود، ابیٹ آباد
ایک دستاویزی سیریز ہے، جسے جِم الخلیلی نے پیش کیا ہے جو ایک عراقی نژاد معروف برطانوی فزکس سائنس دان ہیں۔ یہ دستاویزی سیریز اسلامی دنیا کی سائنس اور علم میں اہم شراکتوں کی تاریخ کو دریافت کرتی ہے۔ یہ سیریز اس بات کو اُجاگر کرتی ہے کہ کس طرح اسلام کے سنہرے دور (تقریباً 8ویں سے 14ویں صدی تک) میں مسلم علما اور سائنس دانوں نے مختلف شعبوں جیسے ریاضی، فلکیات، طب، اور کیمسٹری میں اہم پیشرفتیں کیں، جنھوں نے جدید سائنس کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس سیریز کے ذریعے، الخلیلی کا مقصد اسلامی دنیا کی عالمی علم میں شراکت کے بارے میں جو تنگ تصور ہے، اسے چیلنج کرنا اور اس بات پر زور دینا ہے کہ مسلم دنیا کے محقق علما اور سائنس دانوں نے جدید سائنس کی ترقی میں کس طرح اہم کردار ادا کیا۔
یہ خلاصہ جم الخلیلی کی دستاویزی سیریز ”سائنس اور اسلام“ پر مبنی ہے، جو اسلام کے سنہرے دور (تقریباً 8ویں سے 14ویں صدی تک) میں مسلم سائنس دانوں کی سائنسی خدمات کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ تحقیق اس سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ سائنس صرف مغرب کی میراث ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اسلامی علما نے جدید سائنس کی بنیاد رکھنے میں ایک اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ دستاویزی فلم بتاتی ہے کہ اس دور میں مسلم علماء نے سائنسی علم کو ایک نئی بلندی پر پہنچایا جو اس وقت کی دنیا میں بے مثال تھا۔
1۔ اسلام کے سنہرے دور کی بنیادیں:
اس سائنسی انقلاب کی بنیاد عباسی خلافت کے قیام اور بغداد کو دارالحکومت بنانے کے بعد رکھی گئی، جب اسلام کے بین الااقوامی دور کو استحکام ملا۔ یہ وہ وقت تھا جب وسیع فتوحات کی بدولت ایک ایسی عظیم سلطنت وجود میں آئی جس نے مشرق میں ہندوستان سے لے کر مغرب میں ہسپانیہ تک مختلف تہذیبوں کے علوم کو یکجا کیا۔ اس دور کے سب سے اہم اقدامات میں سے ایک ”تحریکِ ترجمہ“ تھی، جسے خلیفہ المامون نے بیت الحکمت (House of Wisdom) کی بنیاد رکھ کر فروغ دیا۔ بیت الحکمت میں دنیا بھر سے علماکو مدعو کیا گیا تاکہ وہ یونانی، ہندوستانی اور چینی زبانوں میں موجود سائنسی اور فلسفیانہ علوم کا عربی میں ترجمہ کریں۔ اس تحریک نے قدیم علوم کو ضائع ہونے سے بچایا اور ان میں نئے افکار شامل کر کے اسے اگلی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔
2۔ مسلم سائنس دانوں کی اہم خدمات اور ایجادات:
جم الخلیلی نے اپنے سفر کا آغاز قاہرہ کی گلیوں سے کیا، جہاں انھیں یہ احساس ہوا کہ جدید سائنس کی اصطلاحات، جیسے الجبرا، الگوریتھم اور الکلی، آج بھی عربی زبان سے ماخوذ ہیں ۔ انھوں نے خاص طور پر الخوارزمی کی خدمات پر روشنی ڈالی، جنھوں نے رومن گنتی کے مشکل نظام کے مقابلے میں حساب کتاب کے لیے دس ہندسوں (صفر سے نو) پر مشتمل آسان عددی نظام متعارف کروایا ۔ الخوارزمی نے ان ہندسوں کو عربی میں لکھا اور اس طرح یہ ”انڈین عریبک“ کہلائے ۔ مزید یہ کہ انھوں نے اعشاریہ (Decimal Point) کا نقطہ بھی متعارف کروایا، جس نے ریاضی میں لامحدود امکانات کے دروازے کھول دیے۔
اسلامی سلطنت کی وُسعت اور سیاسی استحکام نے علم کے فروغ کے لیے ایک بہترین ماحول فراہم کیا ۔ خلافت عباسیہ کے دور میں، بغداد ایک عظیم الشان علمی مرکز بن گیا۔ مسلم حکمرانوں نے محسوس کیا کہ سیاسی طاقت کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم بھی اہم ہیں، جیسے طب انسانی جان بچاتی ہے، ریاضی مالی معاملات کو منظم کرتی ہے، اور فوجی ٹیکنالوجی جنگیں جتواتی ہیں۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان جن کی علمی وجاہت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ امام بخاری نے ان سے صحیح بخاری میں بہت سی احادیث روایت کی ہیں۔ اس عظیم خلیفہ نے پوری سلطنت کے لیے عربی کو ایک مشترکہ زبان کے طور پر اپنایا، جس نے مختلف علاقوں کے علما کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ۔ اس وحدت نے ایک زبردست ”ترجمہ تحریک“ (Translation Movement) کو جنم دیا، جس کے تحت یونانی، شامی، ایرانی اور سنسکرت زبانوں میں موجود قدیم علوم کو عربی میں منتقل کیا گیا ۔
3۔ طب، ہسپتال اور سرجری:
مسلم دنیا میں سب سے زیادہ توجہ طب کے علم کو دی گئی ۔ ایک حدیث نبوی ﷺ جس میں ہر بیماری کا علاج موجود ہونے کا ذکر ہے، اس نے مسلم ڈاکٹروں کو علاج کی تلاش پر ابھارا۔ مسلم طب کی بنیاد اگرچہ یونانی طبیب گیلن کے کام پر تھی، لیکن انھوں نے اس میں ہندوستانی اور چینی علوم کو بھی شامل کیا ۔ اس دور میں ہسپتالوں کا قیام ایک اہم پیش رفت تھی ۔ دمشق میں واقع نورالدین ہسپتال (1154ء میں قائم) اس کی بہترین مثال ہے، جہاں مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں تھا ۔ یہ ہسپتال خیرات اور زکوٰۃ کے نظام کے تحت چلائے جاتے تھے ۔ یہاں نہ صرف مریضوں کا علاج ہوتا تھا، بلکہ طلبا بھی عملی تربیت حاصل کرتے تھے ۔ ہسپتالوں میں فارمیسی کا نظام بھی قائم کیا گیا، جہاں ہندوستانی اور چینی ادویات بھی دستیاب تھیں ۔مسلم طب کی ایک اور بڑی کامیابی سرجری میں تھی ۔ خاص طور پر آنکھوں کی سرجری میں انھوں نے کمال حاصل کیا ۔ موتیا (Couching) کے علاج میں ان کی کامیابی کی شرح 60 فی صدتک تھی ۔ مشہور مسلم سرجن الزہراوی کی کتاب ”الجراحہ“ (On Surgery and Instruments) نے اس شعبے میں بہت اہم معلومات فراہم کیں ۔ بوعلی سینا کی کتاب ”القانون فی الطب“ نے طب کے تمام سابقہ علوم کو یکجا کر کے ایک منظم شکل میں پیش کیا، جو 19ویں صدی تک مغربی دنیا میں ایک اہم طبی حوالہ بنی رہی ۔
4۔ کیمیا اور فلکیات:
مسلم کیمیا دانوں نے عطر سازی اور اسلحہ سازی میں بھی Distillation جیسی نئی تکنیکیں متعارف کروائیں ۔ ابن زکریا الرازی نے تجربات کی بنیاد پر معدنیات کو چھ حصوں میں تقسیم کیا، جو جدید کیمسٹری کے (عناصر کے) پریوڈک ٹیبل کی بنیاد بنا ۔ اس دور کے علما نے صرف فلسفیانہ باتوں پر یقین کرنے کی بجائے عملی تجربات کو اہمیت دی۔ فلکیات کے میدان میں بھی مسلم علما نے گراں قدر کام کیا۔ البطانی نے نہ صرف زمین کے گرد سورج کے مدار کے طویل ترین ہونے کی پیمائش کی، بلکہ سورج اور چاند کی مختلف پوزیشنوں کے جدول بھی بنائے، جن کا ذکر 600 سال بعد کوپرنیکس نے اپنی کتاب میں بھی کیا ۔ ابن الہیثم نے اپنے مقالےDoubts on Ptolemy میں یونانی فلسفی کے نظریات پر سوالات اُٹھائے اور ریاضی کی بنیاد پر فلکیات کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کی ۔ نصیر الدین طوسی نے Tusi Couple کا نظریہ پیش کر کے فلکیات میں ایک نئی سوچ کو جنم دیا، جس نے کوپرنیکس کے لیے راہ ہموار کی ۔ طوسی کے کام کو Maragheh انقلاب کہا جاتا ہے، کیوں کہ انھوں نے قدیم نظریات کو رد کر کے جدید سائنس کی بنیاد رکھی۔
5۔ سائنس کی عالمگیریت:
دستاویز کے مطابق، مسلم مفکرین نے ایک اہم اصول پر کام کیا کہ سائنس انسان کی قدرتی زبان ہے (Science is the Universal Language of Human race) ۔ الجبرا کا نظام جتنا ہندوستان میں مفید تھا اتنا ہی اسپین میں بھی ۔ ستاروں کی حرکت کا علم جو ایران میں مدون ہوا اس پر مزید تحقیق یورپ میں ہوئی ۔ یہ علم مشرق سے مغرب تک وینس جیسے تجارتی شہروں کے ذریعے منتقل ہوا، جہاں عربی کی کتابوں کا لاطینی زبان میں ترجمہ کیا گیا ۔ 15ویں صدی میں القانون فی الطب پہلی مرتبہ یورپ میں شائع ہوئی ۔ اس منتقلی کی وَجہ سے سائنس کا انجن مشرق سے مغرب کی طرف منتقل ہوا اور یورپی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا ۔
اسلام کا سنہرا دور: یورپ میں سائنسی ترقی کا منبع:
یہ دستاویزی فلم اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اسلام کے سنہرے دور کی سائنسی ترقی ہی یورپ میں جدید سائنس کی بنیاد بنی۔ اس دور کے مسلم علما نے یونانی، ہندوستانی اور چینی علوم کو عربی زبان میں منتقل کیا، ان میں موجود خامیوں کو درست کیا اور اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں ان میں قیمتی اضافہ کیا ۔ بعدازاں یہی علمی سرمایہ لاطینی زبان میں ترجمہ ہوا اور یورپ پہنچ کر نشاۃ ثانیہ کی بنیاد بنا۔
فلم کے مطابق، دنیا آج اس کردار کو اس لیے مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتی، کیوں کہ سائنس کی تاریخ کو اکثر ایک محدود زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اس زاویے میں یہ مانا جاتا ہے کہ سائنسی ترقی محض یونانیوں اور پھر براہِ راست یورپ کی مرہونِ منت ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یونانی علوم اور یورپی سائنسی انقلاب کے درمیان اسلام کا ایک شان دار سنہرا دور موجود تھا۔ یہی دور نہ صرف علم کو نسل در نسل منتقل کرنے کا ذریعہ بنا، بلکہ اس نے تجرباتی سائنسی طریقۂ کار کو مزید نکھارا اور مضبوط بنیاد فراہم کی۔
دستاویزی فلم کا مقصد اسی تنگ نظری کو چیلنج کرنا ہے اور یہ دکھانا ہے کہ سائنس کسی ایک قوم یا تہذیب کی میراث نہیں، بلکہ یہ پوری انسانیت کی مشترکہ زبان ہے، جس پر سب کا حق ہے۔ خلاصہ یہ کہ اسلام کے سنہرے دور کے سائنس دانوں نے قدیم علوم کا ترجمہ و تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو بہتر بنا کر جدید سائنس کی بنیاد رکھی۔ ان کی تحقیق ہر قسم کے سیاسی یا مذہبی تعصب سے بالاتر تھی اور اس کا مقصد صرف انسانیت کی بھلائی تھا۔
یہ سیریز دراصل ان مسلم سائنس دانوں کی گمنام خدمات کو دنیا کے سامنے لاتی ہے اور یہ پیغام دیتی ہے کہ علم اور سچ کی تلاش میں کسی بھی تہذیب یا مقام سے استفادہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=M9eLxDm7mrE









