سماجی وحدت کی تشکیل میں درست نظریے اور ریاست کا کردار
قومیں توپوں اور تفنگ کےہونے سے نہیں اُبھرتیں، نہ بارود کے دھماکوں سے تاریخ بدلتی ہے۔ قومیں اُس لمحے جنم لیتی ہیں، جب انسان...
سماجی وحدت کی تشکیل میں درست نظریے اور ریاست کا کردار
تحریر: ڈاکٹر افسر خان شہزاد۔بنوں
قومیں توپوں اور تفنگ کےہونے سے نہیں اُبھرتیں، نہ بارود کے دھماکوں سے تاریخ بدلتی ہے۔ قومیں اُس لمحے جنم لیتی ہیں، جب انسان اپنے وجود کو محفوظ، باوقار اور بااختیار محسوس کرے۔ جب ایک مزدور کے ہاتھوں کا پسینہ عزت پائے، جب ایک کسان کی محنت اس کے بچوں کے مستقبل میں روشنی بنے، جب ایک طالب علم کے سوال کو بغاوت نہیں، بلکہ شعور سمجھا جائے اور جب ایک عام شہری کو خوف کے بغیر سچ بولنے کا حق حاصل ہو، تب ریاست محض ایک جغرافیہ نہیں رہتی، بلکہ ایک زندہ اجتماعی روح بن جاتی ہے۔
قوموں کو صرف سرحدیں نہیں جوڑتیں، انصاف جوڑتا ہے۔ ریاستوں کو صرف فوجیں مضبوط نہیں کرتیں، اعتماد مضبوط کرتا ہے۔ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کرسکتی ہے، مگر دلوں کی وحدت نہیں۔ جبر سے قائم ہونے والی خاموشی قبرستان کی خاموشی ہوتی ہے، جب کہ حقیقی وحدت انسان کے وقار، عدل اور آزادی سے جنم لیتی ہے۔ قرآن اسی انسانی عظمت کو بنیاد بناتا ہے:
”اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی“۔ (سورۃ الاسراء: 70)
یہ محض ایک آیت نہیں، بلکہ انسانیت کا عالمی منشور ہے۔ اس اعلان میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ ریاست، معیشت، قانون اور طاقت ،سب کا مرکز انسان ہونا چاہیے۔ وہ انسان جس کی عزت، جان، رزق اور آزادی مقدس ہے۔
ہماری اجتماعی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے طاقت کو استحکام اور خوف کو نظم سمجھ لیا۔ حکمرانوں نے عوام پر خوف طاری کیا، ان پر مظالم ڈھائےاور تب سےعوام ریاست سے ڈرنے لگی۔ یوں اعتماد کی وہ زنجیر ٹوٹ گئی، جس پر قوموں کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب ریاست اپنے شہری کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے تو فاصلے بڑھتے ہیں اور جب شہری اپنے ہی وطن میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو وحدت بکھرنے لگتی ہے۔
قرآن اعلان کرتا ہے: "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ"
”بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے“۔ (سورۃ النحل: 90)
عدل صرف عدالتوں کا لفظ نہیں، بلکہ معاشرے کی روح ہے۔ جب عدل مر جاتا ہے تو ریاستیں باقی رہ کر بھی کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ اور جب احسان ختم ہو جائے تو انسان مشین بن جاتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں کمزور کی آواز دب جائے، جہاں اختلاف جرم بن جائے، جہاں طاقت جواب دہ نہ رہے،وہاں وحدت نہیں، صرف خوف زندہ رہتا ہے۔
اسلام کا اصل انقلابی پیغام یہی ہے کہ طاقت کے استعمال بہ حق انسانیت ہو ، نہ کہ انسان کو صرف طاقت کے تابع کیاجائےاور اس پر ظلم کیا جائے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔ (صحیح بخاری، حدیث: 13)
یہ حدیث صرف اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ ایک مکمل عادلانہ سماجی تبدیلی کی بنیاد ہے۔ اگر حکمران اپنے عوام کے لیے وہی چاہیں جو اپنے خاندان کے لیے چاہتے ہیں، اگر سرمایہ دار مزدور کے لیے بھی وہی انصاف پسند کرے جو اپنے لیے چاہتا ہے، اگر طاقتور کمزور کے درد کو اپنا درد سمجھ لے ، تو نفرت، تقسیم اور استحصال کی دیواریں خود بخود گرنے لگیں گی۔
خلافتِ راشدہ کی تاریخ اسی عملی انقلاب کی روشن مثال ہے۔ اُس دور میں حکمران صرف تخت کے مالک نہیں، بلکہ عوام کے خادم تھے۔ بیت المال حکمرانوں کی جاگیر نہیں، بلکہ قوم کی امانت تھا۔ حضرت عمرؓ کا یہ جملہ انسانی ذمہ داری کی معراج ہے:
”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمرؓ سے سوال ہوگا“۔
سوچیے! ایک ایسی ریاست جہاں حکمران خود کو صرف انسانوں ہی کی نہیں، بلکہ جانوروں کی بھوک اور پیاس کا بھی ذمہ دار سمجھے ۔ وہاں ظلم کیسے زندہ رہ سکتا تھا؟
اسی فکر کے تحت مسلمانوں نے تعلیم، صحت، رفاہِ عامہ، مسافر خانے، لنگر خانے اور شفاخانے قائم کیے۔ ریاست کا مقصد صرف اقتدار کی حفاظت نہیں، بلکہ انسانیت کی خدمت تھا۔ حکمرانوں کی عظمت محلوں سے نہیں، بلکہ عوام کی دعاؤں سے ناپی جاتی تھی۔
مگر پھر ایسا ہوا کہ دنیا پر سرمایہ دارانہ نظام نے قبضہ جما لیا۔ دولت چند ہاتھوں میں قید ہونے لگی، انسان بازار کی جنس بن گیا اور معیشت انصاف کے بجائے استحصال پر کھڑی کر دی گئی۔ سود نے انسانیت کی روح کو زخمی کر دیا۔ قرآن اسی لیے سود کے خلاف اعلانِ جنگ کرتا ہے:
”اور اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے“۔ (سورۃ البقرہ: 275)
اور فرمایا:”تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ“۔ (سورۃ البقرہ: 279)
یہ جنگ صرف مذہبی اصطلاح نہیں، بلکہ انسانیت کے تحفظ کا اعلان ہے۔ سودی نظام انسان کو غلام بناتا ہے، غریب کو مزید غریب اور امیر کو مزید طاقت ور کر دیتا ہے۔ یہی وَجہ ہے کہ آج دنیا میں اگر چہ دولت کے انبار بھی ہیں اور بھوک سے مرتے انسان بھی ہے۔ ٹیکنالوجی عروج پر ہے، مگر انسانیت بے سکون ہے۔
دین اسلام اس کے برعکس ایک ایسا معاشی نظام پیش کرتا ہے، جہاں دولت چند ہاتھوں میں قید نہیں رہتی:
"كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ"(سورۃ الحشر: 7)
”تاکہ دولت صرف تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش کرتی نہ رہ جائے“۔
یہ آیت معاشی انصاف کا انقلابی منشور ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ دولت سماج میں گردش کرے، بھوک ختم ہو، محرومی مٹے اور انسان عزت کے ساتھ زندہ رہے، جہاں سب سے کمزور انسان بھی انصاف کے لیے پُرامید ہو۔
آج انسانیت ایک نئی عادلانہ سماجی تبدیلی کی منتظر ہے۔ ایسی عادلانہ سماجی تبدیلی جس سے ایسا سماج تشکیل پا جائےجو نسل، زبان، فرقے اور سرحدوں سے اوپر اٹھ کر انسان کو انسان سمجھے۔ ایسا نظام جو جبر کے بجائے مکالمہ پیدا کرے، خوف کے بجائے اعتماد دے اور نفرت کے بجائے محبت اور عدل کو فروغ دے۔
یہی قرآن و سنت کا پیغام ہے۔ یہی خلافتِ راشدہ کا راستہ ہے۔ یہی وہ انقلابی شعور ہے جو بکھری ہوئی قوموں کو جوڑ سکتا ہے۔
لہٰذا اگر ہم حقیقی قومی وحدت چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ریاست کو انسان دوست بنانا ہوگا، معیشت کو انصاف پر قائم کرنا ہوگا، اور اختلاف کو دشمنی نہیں، بلکہ شعور سمجھنا ہوگا، یہی وہ انقلابی انسانی پیغام ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، سماج کو سنوارتا ہے اور قوموں کو حقیقی وحدت عطا کرتا ہے۔









