قرآنِ حکیم، فہمِ قرآن اور ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ
قرآنِ حکیم فرقانِ حمید، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ آخری آسمانی کتاب ہے، جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوئی، چوں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ
قرآنِ حکیم، فہمِ قرآن اور ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ
تحریر؛ وجاہت عباسی۔ راولپنڈی
قرآنِ حکیم فرقانِ حمید، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ آخری آسمانی کتاب ہے، جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوئی، چوں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اس لیے آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی نئی شریعت یا آسمانی کتاب نازل ہوگی۔ لہٰذا قیامت تک آنے والی پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رہنمائی اور کامیابی کا واحد، مکمل اور محفوظ سرچشمہ قرآنِ حکیم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو محض تلاوت کے لیے نہیں، بلکہ اسے سمجھنے، اس میں غور و فکر کرنے، اس پر عمل کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ یہی وہ کتاب ہے جو انسان کو اس کے رب سے جوڑتی ہے ، اِنفرادی کردار کی تعمیر کرتی ہے اور افراد کی علمی، عملی اور اخلاقی تربیت کر کے ” متقین“( معاشرے میں تعلق مع اللہ کی بنیاد پر ) عدل و انصاف قائم کرنے والی جماعت پیدا کرتی اور ایک صالح انسانی تہذیب کی بنیاد فراہم کرتی ہے ۔
آج انسانیت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے، جس میں ظلم، ناانصافی، استحصال، حقوق کی پامالی، اخلاقی زوال، معاشی عدمِ مساوات اور فکری انتشار عام ہوچکا ہے۔یہ مسائل صرف افراد تک محدود نہیں، بلکہ خاندانوں، معاشروں، قوموں اور ریاستی نظاموں تک پھیل چکے ہیں۔ ایسے حالات میں انسانیت کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ قرآنِ حکیم کے حقیقی پیغام، اس کی حکمت، اس کے اجتماعی شعور اور اس کے ابدی اصولوں کو سمجھنا اور ان کی بنیاد پر معاشرے کا نظام قائم کرنا ہے، تاکہ موجودہ مسائل کا حقیقی اور پائیدار حل قرآن و سنت اور سلف صالحین کی تعلیمات واسوہ حسنہ کی روشنی میں تلاش کیا جاسکے۔
اسی تناظر میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ ایک دینی، تعلیمی اور تربیتی مرکز کی حیثیت سے قرآنِ حکیم کے حقیقی فہم، تدبر اور اس کے اجتماعی شعور کو عام کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ ادارے کا علمی و فکری منہج برصغیر کے عظیم مجدد حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے اجتماعی افکار پر استوار ہے، جنھوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اُمتِ مسلمہ کی فکری، سماجی، معاشی اور سیاسی رہنمائی کا ایک جامع تصور پیش کیا ہے۔ اس فکر کو آگے بڑھانے میں حضرت شیخ الہند مولانا محمودحسنؒ، حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور ولی اللہی جماعت کے دیگر اکابر علما کی علمی و عملی خدمات اساس کی حیثیت رکھتی ہیں۔
ادارہ رحیمیہ انھی اکابر کے علوم و افکار کی روشنی میں نوجوان نسل کی فکری، علمی اور شعوری تربیت کا فریضہ انجام دے رہا ہے ۔
ادارے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں علومِ قرآنیہ کا حقیقی شعور پیدا ہو، انسانیت کو درپیش اِنفرادی اور اجتماعی مسائل کی صحیح تشخیص کی جائے اور قرآنِ حکیم کی روشنی میں ان کا مؤثر اور قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔
اسی مقصد کے حصول کے لیے ادارہ رحیمیہ میں ہر سال دورۂ تفسیر قرآنِ حکیم کا انعقاد کیا جاتاہے، جو فہمِ قرآن اور تدبرِ قرآن کی ایک اہم علمی و تربیتی کڑی ہے ، یہ مبارک سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے اور ہزاروں علما، طلبا اور نوجوانوں کی علمی و فکری تربیت کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اس دورۂ تفسیر کا بنیادی ہدف قرآنِ حکیم کے اجتماعی پیغام کو سمجھنا، امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ اور ولی اللہی جماعت کے علوم و افکار کی روشنی میں عصرِحاضر کے مسائل کا قرآنی تجزیہ کرنا اور دینِ اسلام کے نظام کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھنے اور عملی زندگی میں نافذ کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔
حال ہی میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ لاہور میں سالانہ دورۂ تفسیر کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے علما، طلبا، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی، مقررہ نصاب کے مطابق منتخب سورتوں کی تفسیر پیش کی گئی، جن میں قرآنِ حکیم کے اجتماعی پیغام، انسانی معاشرے کے بنیادی مسائل، اُمتِ مسلمہ کی موجودہ صورتِ حال اور عصرِحاضر کے تقاضوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
اس دورۂ تفسیر کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی کہ ہر روز دو خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا جاتا تھا، جن میں شرکا کو دروسِ قرآن کے دوران پیدا ہونے والے علمی، فکری اور عملی سوالات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا۔ ان سوالات کے جوابات حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری صاحب ،پروفیسر ڈاکٹر مفتی سعیدالرحمن صاحب اور ادارہ رحیمیہ کے دیگر مرکزی علما و احباب نے قرآن و سنت اور ولی اللہی فکر کی روشنی میں مدلل انداز سے دیے، جس کے نتیجے میں شرکا کے اشکالات دور ہوئے اور قرآنِ حکیم کے مضامین کو زیادہ گہرائی، وُسعت اور تدبر کے ساتھ سمجھنے کا موقع ملا۔
بلاشبہ آج کے اس فکری انتشار، اخلاقی زوال اور سماجی بے یقینی کے دور میں ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، جو قرآنِ حکیم کی حقیقی فکر، اس کے اجتماعی پیغام اور دینِ اسلام کی جامع تعلیمات کو معاشرے میں عام کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ یہ ادارہ نوجوان نسل کی ایسی فکری، علمی اور عملی تربیت کر رہا ہے جو انھیں قرآن کے ساتھ شعوری تعلق قائم کرنے، دین کو ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر سمجھنے اور عصرِحاضر کے چیلنجز کا قرآن کی روشنی میں جواب دینے کے قابل بناتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ حکیم کی صحیح سمجھ، اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے، اس کے پیغام کو عام کرنے اور ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ جیسے علمی و تربیتی مراکز سے بھرپور استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے“۔ آمین یا رب العالمین!









