شعائراللہ کا تعارف اور تعظیم شعائراللہ کی اہمیت
”شعائر“ ”شعار“ کی جمع ہے ، جس کے لفظی معنی ”علامت“ کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں ان علامات و مقامات کو کہتے ہیں جو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان.....
شعائراللہ کا تعارف اور تعظیم شعائراللہ کی اہمیت
تحریر؛ حافظ طلحہ اختر۔ کوپیو، فن لینڈ
شعائراللہ کا مفہوم:
”شعائر“” شعار“ کی جمع ہے ، جس کے لفظی معنی” علامت“کے ہیں۔ دینی اصطلاح میں ان علامات و مقامات کو کہتے ہیں جو انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک ربط پیدا کریں اور ان کے ذریعے سے انسان اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اِظہار کرے، اگرچہ اصل عظمت تو انسان کے قلب میں ہوتی ہے اور اسی کے نتیجے میں جس جس چیز سے اللہ تعالیٰ کی نسبت جڑ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے تعلق کے نتیجے میں ان چیزوں کا احترام کیا جاتا ہے۔ اسی لیے ان اشیا، امور، اعمال اور مقامات کو شعائر اللہ کہتے ہیں۔
تعظیم شعائر اللہ:
اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم یعنی دل میں ان کی عظمت رکھنا اس کو تعظیم شعائر اللہ کہتے ہیں۔ کیوں کہ انسان اس دنیا میں براہِ راست اللہ تعالیٰ کا تصور اپنے قلب میں نہیں جما سکتا ۔ وَجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے مادی تصورات سے بالاتر ہے اور انسانی تصورات محدود دائرے کے حامل ہوتے ہیں۔ ہمارا علم اورہمارے تصورات محدود ہیں۔ تو ایک محدود دائرے کے اندر لامحدود ذات کو سمانا' ناممکن ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی عظمت کے اِظہار کے لیے انسان کو کچھ ایسی جگہیں، کچھ ایسے مقامات، کچھ ایسے اعمال بتائے جاتے ہیں کہ جن کے ذریعے وہ اللہ سے اپنے تعلق کو ظاہر کرے۔ مثلاً نماز اور کچھ ایسے اذکار جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔
فلسفہ ولی اللہی میں شعائر اللہ :
شعائراللہ تعداد میں بہت زیادہ ہیں، لیکن حضرت الامام شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بڑے اور عظیم الشان شعائراللہ چار ہیں اور باقی جتنے بھی شعائر ہیں وہ کسی نہ کسی درجے میں ان چار بڑے شعائر سے متعلق ہیں۔
وہ 4 شعائر درج ذیل ہیں۔
1۔ رسول اللہ ﷺ
رسالت؛ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان کے تعلق کا بنیادی ذریعہ رسول ہیں۔ ہمارےلیے شعائر اللہ کا سب سے اعلیٰ نمونہ رسالت خاتم النبیینﷺہیں۔اس لیے آپؐ سے محبت تعظیم شعائراللہ کا اہم تقاضا ہے۔ اس عظمت کی بنیاد پر ہمیں اللہ نے اپنے رسولﷺ کے آداب کا لحاظ کا حکم فرمایا۔ قرآن میں ہے:
”اے ایمان والو! اپنی آوازیں اونچی نہ کرو نبی اکرمﷺ کی آواز سے اور ان کے حضور بات چلّاکر نہ کہو جیسے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلّاتے ہو کہ کہیں اَکارت نہ ہوجائیں تمھارے کام اور تمھیں خبر بھی نہ ہو“۔ (سورة الحجرت،2)
یعنی رسول اللہﷺکی موجودگی میں اونچی آواز سے گفتگو پر بھی ممانعت فرما دی حتیٰ کہ آپؐ کی دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بھی اس مقام کے احترام کا یہ تقاضا ہے کہ انسان کی وہاں آوازیں بلند نہ ہوں تو تعظیم شعائراللہ میں سب سے بڑا شعار آپؐکی ذات گرامی ہے۔
2۔ کتاب اللہ
قرآنِ حکیم دوسرا بڑا شعائر اللہ ہے۔قرآن انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغیر کسی واسطے سے جوڑتا ہے، یعنی جب تلاوت قرآن کے ذریعے انسان کے اندر عظمت الہی، احترام، عقیدت اور اللہ سے محبت پیدا ہوتی ہے۔ اس تعظیم کا عملی تقاضا ہے کہ قرآن کا عملی نظام بھی قائم کیاجائے۔ کیوں کہ صرف زبانی جمع خرچ سے عظمت قائم نہیں ہوتی۔ اگر اُمت قرآن پر ایمان کا دعوی رکھتی ہے تو اس کی عظمت کا اِظہار ایسے ہوگا کہ وہ دنیا میں اس قرآن کو بہ طور دستور حیات اختیار کرے اور اس کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے۔ اس کے احکامات کو اپنی زندگی میں نافذ کرے۔
کیوں کہ جس چیز کی عظمت دل میں ہوتی ہے تو اعمال سے اس کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے۔
3۔ بیت اللہ
تیسرا سب سے بڑا عظمت والا شعائر بیت اللہ ہے، جس کی تعمیر نو ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نےکی۔ان دو عظیم الشان شخصیات نے تعمیر میں خود عملی کام کیا۔
اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کو انسانیت کا مرکز قرار دیا، اس لیے قرآنِ حکیم نے جہاں بھی بیت اللہ کا تذکرہ کیا تو انسانیت کے تعارف سے کیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ترجمہ: ”بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا ہے اور سارے جہان والوں کے لیے ہدایت ہے“۔ (سورة آل عمران)
بیت اللہ پر نازل ہونے والی برکات انسانوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔ ”حج“ اس شعار کا سالانہ مظاہرہ ہے۔
4۔نماز
سب سے اعلی عبادت نماز ہے ۔ایمان لانے کے بعد ہر عاقل، بالغ، مسلمان پر نماز فرض کی گئی ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے رب سے تعلق کو زندہ رکھے۔ نماز شعائر اللہ میں شامل ہے۔ نماز کی ادائیگی ہر پاک جگہ پر کی جاسکتی ہے۔ بیت اللہ تو ایک خاص مقام پر ہے، وہاں تک پہنچنے کے لیے انسان کو وسائل چاہییں، لیکن ﷺ ،قرآن حکیم اور نماز یہ ایسے شعائر ہیں جو ہر انسان کی دسترس میں ہیں۔ ان ”شعائر اربعہ“ کے علاوہ، بلکہ ان کے ساتھ جڑے ہوئے اور بھی بہت سے شعائر ہیں، مثلاً قرآنِ حکیم نے کہا صفا اور مروہ یہ بھی شعائر ہیں، اسی طرح قربانی بھی شعائر اللہ ہے۔
جس انسان میں ان چار شعائر اللہ کی عظمت زیادہ ہوگی اس کے دل سے دنیا کی چیزوں کی عظمت اتنی کم ہوتی جائے گی۔ اس کو کوئی نظام متأثر نہیں کرسکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دل میں ان شعائر کی عظمت جتنی راسخ ہوتی جاتی ہے تو غیر اللہ کا رعب ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان شعائر اللہ کا بنیادی مقصد ہی دلوں سے غیراللہ کے خوف کو نکالنا ہے۔
اس لیے ضرورت ہے کہ انسان پورے شعور کے ساتھ ان شعائراللہ کےساتھ تعلق قائم کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ”شعائر اللہ“ کی عظمت اور اس کے عملی تقاضوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے! آمین!









