سماجی تبدیلی کی جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
ایک ملک کی کہانی جس پر عادل حکمران کا راج ہوتا پھر قوم زوال کا شکار ہوتی تو نااہل حکمران مسلط ہوتے۔ ظلم کا راج ہوتا۔ نوجوان تبدیل لاتے۔

سماجی تبدیلی کی جدوجہد کی ضرورت و اہمیت
تحریر:اظہر حسین۔ راولپنڈی
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک جس کا نام "دریاپور"دریا کے کنارے آباد تھا۔ اس کے درالحکومت کا نام "جہاں دید" تھا۔ ملک بہت سرسبز تھا۔ ملک کی فوج منظم تھی۔ تمام شعبہ جات دن دگنی رات چگنی ترقی کررہے تھے۔ معاشی نظام میں سرمایہ اور محنت میں عادلانہ توازن تھا، احتکار و اکتناز کی ممانعت۔ مذہبی آزادی تھی۔ تمام طبقات کو حکومت میں تناسب کے حساب سے حق نمائندگی ملتی تھی۔صدیوں سے اس ملک پر عدل کا نظام چلا آرہا تھا۔ عوام کی اخلاقیات بلند تھیں۔ بمثل کہ "جیسے حکمران ہوتے ہیں ویسی عوام ہوتی ہے"۔
دور دراز علاقوں تک ملک کی خوش حالی مشہور تھی۔ کچھ "ٹھگ باز" دریا عبور کرکے ملک میں آٹپکے۔ ملک کے بادشاہ نے جس کا نام "نوح" تھا، اس سے ملاقات کی اور وہاں پر تجارت کی اجازت مانگی۔ بادشاہ نوح نیک دل انسان تھا۔ اجازت نامہ دے دیا۔
بادشاہ کے دو بیٹے "عاصی" اور "آدم"۔ عاصی نکٹھو اور عیش پرست تھا۔
آدم ذہین تھا، سماج کے باشندوں کے مسائل پوچھتا اور حل کی ممکن کوشش کرتا۔
نوح بیمار ہونے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ "مرنا وہ جدائی ہے جس کے بعد وصال نہیں"۔ اچانک ایک دن نوح دنیا سے چل بسا۔
نوح کی وفات کے بعد تمام علاقوں کے سرداران دارالحکومت "جہاں دید" میں جمع ہوئے۔ دیوان سج گیا۔ ٹھگ بازوں کو علم ہوا کہ نوح مرگیا ہے اَب ان کا بیٹا آدم بادشاہ بنا تو ان کا تجارت کا اجازت نامہ منسوخ کرکے ملک سے نکال باہر کرے گا، کیوں کہ آدم ان کی غیرمنصفانہ کارستانیوں سے بہ خوبی واقف تھا۔ ان ٹھگ بازوں نے سرداروں اور فوج کے سپہ سالاروں کو لالچ دے کر خرید لیا۔
آخر کار فوج نے سرداروں کے ساتھ مل کر عاصی کو ملک کا بادشاہ بنادیا۔ ملک کا پورا نظام بدلنا شروع ہوگیا اور عوام پر ظلم ہونے لگا۔ لوگوں پر بےجا ٹیکس لاگو کردیاگیا۔ فوج کے سپہ سالار اور سردار سرمایہ داروں کے اشاروں پر ناچنے لگے۔لوگ بغاوت پر آمادہ نظر آنے لگے۔ بادشاہ نے مشاورت سے ایک سرکاری وظیفہ پر ولایت سے ایک دانش ور بلایا، جس نے سب سے پہلے تعلیمی نظام کو بدلا۔
بادشاہ نے عوام میں اپنی مقبولیت بڑھانے کے لیے لنگرخانے کھولے اور پروپیگنڈا شروع کیا۔ اس نے مذہبی طبقے کو اپنے حق میں استعمال کیا اور عبادت خانوں میں اپنے حق میں خطبات دِلوائے۔ اس طرح وہ لوگوں کو اپنے قبضے میں کرنے کے لیے ایک ذہنی کھیل کھیل رہا تھا۔اس طرح ملک کے بادشاہ، سپہ سالار اور مذہبی طبقہ عوامی ذہنیت کو کنٹرول کرکے قومی وسائل پر عیش و عشرت کرنے لگے۔
سیاسی، معاشی اور سماجی ماحول کو سرمایہ داریت میں بدل دیاگیا۔ ٹھگ باز ملک کے بڑے نامور سرمایہ دار بن چکےتھے۔ بازاروں کی "رسد و طلب" پر ان ٹھگ باز سرمایہ داروں کا قبضہ ہوچکا تھا۔سرمایہ داروں نے جب طلب و رسد کا فائدہ اُٹھایا تو تمام مال اپنے قبضے میں کر کے مہنگے داموں بیچنا شروع کردیا، جس سے معیشت پر ان کا قبضہ ہوگیا۔ انھوں نے شدت پسندی اور انتہاپسندی کو فروغ دیا، تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ فوج ہی ملک میں امن قائم رکھ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں فوج کا کردار داخلی معاملات میں بڑھا اور ملکی بجٹ کا زیادہ تر حصہ فوج پر خرچ ہونے لگا۔
ملکی معیشت میں جب وسائل لٹنے لگے اور عیاشیاں ہونے لگی تو ملک کی زراعت، صنعت تجارت تباہ اور خزانہ خالی ہونے لگا۔ مجبوراً شرح سود پر عالمی ساہوکاروں سے قرضہ لینا پڑا۔ بادشاہ پہلے ہی سرمایہ داروں سے اپنی عیاشی کا سامان پیدا کرنے کےلیے قرضے لے چکا تھا۔ ملک قانونی طور پر سود پر چلنے لگا۔ باقاعدہ مذہبی طبقہ سے سود کے حق میں فتوے دِلائے گئے۔
اس طرح پوری قوم غربت اور جہالت اور پس ماندگی میں زندگی بسر کرنے لگی۔ اس طرح عوام کی سماجی اور مذہبی شعبے بری طرح متاثر ہوئے۔لوگ گدھے اور بیلوں کی طرح دن رات کام کرنے لگے، تب جاکر گھر کے اخراجات پورے ہوتے۔ ہر آدمی اپنا پیٹ پالنے اور بال بچوں کی دیکھ بھال کے گھن چکر میں پھنس کر اِنفرادیت کا شکار ہوگیا۔
ملک میں لڑائی جھگڑے، لوٹ مار، چوری ڈاکہ زنی، جھوٹ فریب دھوکا عام ہوگیا۔ بازاروں میں ناپ تول میں کمی شروع ہوگئی۔ عدالت میں انصاف کے بجائے جھوٹ نے جگہ لے لی۔اس طرح ملک پر نظامِ ظلم کے مسلط ہونے کی وَجہ سے لوگوں کی سیاسی، معاشی اور سماجی حالت ابتر ہوگئی۔
آدم اور اس کے دوستوں نے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام ظلم کی تجزیہ کیا۔ وہ دیکھتے کہ لوگوں کی تذلیل ہورہی ہے۔ ظلم کے یہ پنجے لوگوں کی زندگیوں میں گہرے اَثرات چھوڑ چکے تھے۔ غریبوں کا خون چوسنے والے طاقت ور لوگوں کی حکومت تھی اور عوام کو کسی بھی طرح کی آزادی یا انصاف کی توقع نہیں تھی۔
آدم اور اس کے دوستوں کے دل و دماغ میں انقلاب کی ضرورت اور اس کے ممکنہ نتائج پر کشمکش تھی۔ وہ اس بات پر سوچتے تھے کہ کیا یہ تبدیلی واقعی ضروری ہے یا اس کے نتیجے میں خونریزی اور فساد بڑھے گا؟ آخرکارایک دن آدم کو اپنے خوابوں میں ایک پرانا دوست جس کا نام "ذہین" تھا نظر آیا، جو اس سے کچھ عرصہ پہلے ہی اس سوسائٹی کے ظلم کا شکار ہو کر مر چکا تھا۔ اس کے چہرے پر دکھ اور غم تھا، اور وہ آدم کو ایک پیغام دینے آیا تھا۔ اس نے کہا، "آدم، تمھاری خاموشی اس ظلم کا حصہ ہے۔ اگر تم انقلاب کے لیے آواز نہیں اٹھاؤ گے، تو یہ ظلم ہمیشہ تمھارے پیچھے پڑا رہے گا۔"
یہ خواب آدم کے دل و دماغ میں گہرے اَثرات چھوڑ گیا اور اس نے اپنی زندگی کے مقصد پر غور کیا کہ کیا وہ ظلم کے سامنے خاموش رہ کر اسے دیکھتا رہے گا؟ اس نے اپنے ہم خیال دوستوں سے اس خواب کا ذکر کیا، جس پر سب نے سوچنا شروع کیا۔ مگر سب کو یہ سوال درپیش تھا کہ اتنی بڑی طاقت سے کیسے نمٹا جائے۔ آخرکار، انھوں نے فیصلہ کیا کہ "پہلوان کا مقابلہ پہلوان سے ہوتا ہے" اور اس کے لیے پہلے منظم ہو کر تیاری اور تربیت کرنا ضروری ہے۔ اس طرح انھوں نے حکمت کے ساتھ آگے بڑھنے کا عزم کیا۔
آدم اور اس کے دوستوں نے خاموشی توڑ کر ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا عہد کیا۔ انھوں نے اپنے اندر کی ہمت بیدار کی اور عوام کو جرات دِلائی۔ ان کی جدوجہد نے سوسائٹی میں تبدیلی کی لہر دوڑائی۔ نوجوان ان کے ساتھ جڑنے لگے اور علم و آگاہی کی روشنی پھیلانے لگے۔ آخرکار، انھوں نے "سوراج تنظیم" کی بنیاد رکھی، تاکہ ظلم کے خلاف متحد ہو کر لڑا جا سکے۔ جس کا نظریہ "خدا پرستی اور انسان دوستی" اور حکمت عملی "عدم تشدد" کی تھی۔ اس کی قیادت سیاسی شعور اور بصیرت رکھنے والے عوام میں مقبول نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ اس تنظیم کے ہمہ گیر تبدیلی کے نظریے، ڈسپلن اور امن پر مبنی جدوجہد کو دیکھ کر نوجوان جوق در جوق "سوراج تنظیم" کا حصہ بننے لگے۔
کبھی کبھی ہمہ گیر تبدیلی ضروری ہوتی ہے، تاکہ لوگوں کو آزادی، انصاف اور عزت مل سکے۔
یہ سب کچھ تمام مذہبی طبقہ، بادشاہ، سرمایہ دار اور عسکری قوتیں دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے نوجوانوں کےلیے مسائل بھی پیدا کیے، لیکن نوجوانوں نے صبر اور حکمت سے کام لے کر عدم تشدد کے فلسفے پر جدوجہد جاری رکھی اور اپنے خلاف تمام سازشوں کو ناکام بنایا۔ آخرکار عسکری طاقتوں اور سرمایہ داروں نے عوام کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔کیوں کہ عوام صرف اور صرف "سوراج تنظیم " کی حکومت چاہتی تھی۔ جو ان کے سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا یقینی حل دینے کے قابل تھی۔ آخر کار ملک میں ہمہ جہت تبدیلی آگئی۔
عادل جماعت کے عادلانہ نظام قائم کرنے سے عوام خوش حال اور ملک ترقی کرنے لگا۔ قرضوں کی واپسی، سود کا خاتمہ، تعلیم، صحت کا نظام، کھیتی باڑی اور آب پاشی کا نظام جدید بنیادوں پر ڈیزائن کیا۔ ان تمام ٹھگ بازوں، پروپیگنڈا کرنے والے مذہبی اور سیاسی طبقہ کو ملکی قانون و قومی اقدار کے مطابق انجام تک پہنچادیا گیا۔ بہ طور ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے وجود سے "دریا پور" دنیا میں تیزی سے اُبھرنے لگا۔قومی آزادی اور خودمختاری کے بعد "دریا پور" کے ملک نے بین الاقوامی تصورات میں علاقائی اتحادات میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس طرح تمام ممالک اور اقوام نے آزادی سے زندگی بسر کرنا شروع کردی۔
اس کہانی سے سبق ملتا ہے کہ دنیا میں سماجی تبدیلی لانے کے لیے ہمیں اپنی کسی بھی قسم کے خوف سے بالاتر ہوکر، خاموشی توڑ کر ایک منظم اور حکمت سے جدوجہد کرنی پڑتی ہے، تاکہ ہم معاشرتی انصاف اور انسانی حقوق کی آزادانہ جنگ لڑ سکیں۔