فرسودہ نظامِ تعلیم: شعور سلب کرنے کا افیونی شکنجہ
افیون (opium) میں موجود اجزا جیسے مورفین (morphine)، کوڈین (codeine) اور تھیبائن (thebaine) دماغ اور جسم میں موجود ۔۔۔۔۔

فرسودہ نظامِ تعلیم: شعور سلب کرنے کا افیونی شکنجہ
تحریر: سفیان خان۔بنوں
افیون (opium) میں موجود اجزا جیسے مورفین (morphine)، کوڈین (codeine) اور تھیبائن (thebaine) دماغ اور جسم میں موجود "Opioid Receptors" سے جُڑ جاتے ہیں۔ یہ ریسیپٹرز دماغ کے ان حصوں میں ہوتے ہیں جو درد، خوشی اور سکون کو کنٹرول کرتے ہیں۔ افیون دراصل ان ریسیپٹرز کو فعال (active) کرکے درد کے سگنلز کو کمزور کر دیتا ہے اور انسان کو سکون یا خوشی کا احساس دِلاتا ہے۔ یہ حالت یوفوریا (Euphoria) کہلاتا ہے۔ نشے کی لت میں ڈوبا ہوا دماغ پھر ایسے موقعوں پر بھی درد محسوس نہیں کر پاتا، جہاں درد محسوس کرنا بیماری کے علاج یا مزاحمت کے لیے مددگار ہوتا ہے۔ ایسا دماغ مسلسل ظلم سہنے پر بھی مزاحمتی سگنلز نہیں بھیج سکتا، بلکہ وقت کے ظالم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا عادی ہوجاتا ہے۔
پرانے زمانوں میں افیون کا بہ طور کیمیائی ہتھیار استعمال عام تھا۔ یہی وَجہ ہے کہ تاریخ کے اوراق میں افیونی جنگوں (Opium Wars) کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ دورِ غلامی کی بات ہے کہ جب برطانیہ کے ظالم لٹیروں نے ہمیں غلام رکھنے کے لیے دانستہ طور پر ایک فرسودہ نظامِ تعلیم عنایت کیا تو ہندوستان کے بانی نظامِ تعلیم (جناب لارڈ میکالے) نے فرمایا، ”زمانہ سابق میں جس طرح زوردار اور بااَثر لوگوں کو افیون کی پوست پلاکر کاہل، پست ہمت اور بدعقل بنا دیا جاتا تھا، ہمارا نظامِ سلطنت اسی طرح اہل ہند کو بے کار کردے گا “۔
آج وقت نے ثابت کیا کہ میکالے صاحب اپنے مذموم مقاصد کو سچ ثابت کرنے والے کتنے کامیاب شخصیت تھے، گویا وہ اپنے پراجیکٹ کی کامیابی کو پہلے سے ہی جان چکے تھے۔ لارڈمیکالے جس وقت ہمارے لیے تعلیمی میمورنڈم بنا رہے تھے، اُس وقت وہ قانون کے معاملات بھی دیکھ رہے تھے۔ کیوں کہ وہ 1834ء سے 1838ء تک سپریم کونسل کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے علاہ انڈین پینل کوڈ (Indian Penal Code) یعنی موجودہ ”مجموعہ تعزیراتِ پاکستان“ کی تیاری کا ابتدائی کام بھی انھیں کے سپرد تھا۔ آپ کے تعلیمی میمورنڈم سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ ہندوستان کے محض تعلیمی میمورنڈم کے خالق نہیں تھے، بلکہ آپ کا پروگرام ایک مکمل سماجی اور تہذیبی پیکج تھا، جس کا مقصد خود میکالے صاحب نے اوپر بیان فرمایا ہے۔
برطانوی سامراج نے اہل ہند کو بے کار کرنے کے لیے جہاں ہندوستان کی مضبوط معیشت کو مفلوک الحال، قحط زدہ اور قرضوں کی دلدل میں بری طرح پھنسا کر تباہ کر ڈالا، وہاں اہل ہند کی سیاسی نمائندگی کو بھی پوری طرح نیست و نابود کرکے انھیں یتیموں کی طرح بے آسرا چھوڑ دیا۔ لیکن انھیں ہندوستان کی جزوی بربادی مطلوب نہیں تھی، وہ تو ہمیں پورا کا پورا برباد کرنا چاہتے تھے، اس لیے ہماری معیشت اور سیاست کے ساتھ ساتھ ہماری قدیم تہذیب و تمدن، اخلاقیات، مذہبی رواداری اور علم و حکمت کو مٹانا بھی ضروری سمجھا۔ اپنے اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہی انھوں نے نے ہمیں ایک فرسودہ نظامِ معیشت و سیاست کے ساتھ ساتھ ایک فرسودہ نظامِ تعلیم عنایت کیا۔
چوں کہ اس نظام کے ذریعے اہلِ ہند کو بے کار کرنا مقصود تھا، اس لیے لارڈ صاحب نے اپنے 36 نکاتی تعلیمی پروگرام میں واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ اردو، سنسکرت اور عربی جیسی زبانوں کی کوئی حیثیت نہیں اور ان میں کبھی کوئی علمی کام نہیں ہوا۔ مشرقی لکھاریوں نے صرف شاعری کی ہے۔ اردو،عربی، فارسی اور سنسکرت وغیرہ میں جتنا کچھ بھی لکھا گیا ان سب کی حیثیت ایک اچھی یورپی لائبریری کے ایک شیلف میں رکھی چند کتابوں سے بھی کم ہے۔ پیراگراف نمبر 34 میں لارڈ صاحب اردو، عربی، فارسی اور سنسکرت کی مکمل نفی کرتے ہوئے انھیں ناکارہ زبانیں قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں انگریزی زبان کے فروغ کے ذریعے ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا چاہیے جو ہمارے اور ہماری لاکھوں کی رعایا کے درمیان رابطے اور ترجمانی کا کام کر سکے۔ ایک ایسا طبقہ جو رنگ اور خون کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو، لیکن اپنے ذوق، اپنی فکر، اپنے اصولوں اور اپنے فہم کے اعتبار سے انگریز ہو۔
پس قوانین کے زور پر پرانی تعلیم گاہوں کو ملیامیٹ کرکے نیا نظامِ تعلیم متعارف کرایا گیا۔ انگریزی زبان کو لازمی قرار دیا گیا۔ نئے لٹریچر میں ہندوستان کے قدیم تہذیب و تمدن اور روایات کو جاہلیت سے منسوب کرکے پیش کیا گیا۔ فریڈم فائٹرز کو جان بوجھ کر نصاب سے دور رکھا گیا یا پھر انھیں غدارانِ وطن کا ٹائٹل دے کر قابلِ نفرت بنایا گیا۔ نصاب میں فرقہ وارانہ مواد شامل کرکے خونریز فسادات کو یقینی بنایا گیا۔ اس کے علاوہ معیاری تعلیم کا حصول مہنگا کرکے عام شہریوں کی پہنچ سے دور رکھا گیا۔ یوں رفتہ رفتہ بیش تر آبادی تعلیم سے دور ہوتی گئی۔ ان کے مذموم پروگرام کے مطابق ان کا معیاری تعلیم حاصل کرنے والا محدود ٹولہ انگریز کا اتنا لاڈلا ہوا کہ بعد میں سسٹم کے دھاگے انھی کے سپرد کر دیے گئے، جو آج تک سسٹم کے اس استحصالی "دھاگے" کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں۔
فرسودہ نظام اور پاکستانی معاشرہ:
آج تقریباً دو صدیاں بیت گئی ہیں، لیکن یہ نظام ہمیں آج بھی افیون کی طرح مسلسل سست، کاہل اور بے کار کر رہا ہے۔ اس کے سوفٹ ویئر میں تشدد، اِنفرادیت، فرقہ واریت اور اخلاقی گراوٹ جیسی سماجی امراض جان بوجھ کر انجیکٹ کر دیے گئے ہیں۔ اس نظام کی چھایا تلے موجود تعلیم گاہوں میں فرقہ واریت اور تشدد کے ایسے بیج بوئے جاتے ہیں جو بعد میں خونریز فسادات اور عدم برداشت کی صورت میں پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ آج کا نوجوان سوالات کے بجائے نفرت کے جذبات لے کر پروان چڑھ رہا ہے۔ تعلیمی ادارے تنقیدی سوچ کو دَبانے والے مراکز بن چکے ہیں۔ طلبا کو اختلافِ رائے اور مثبت تعمیری سوچ کے ذریعے قومی ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے بجائے اندھی تقلید، شخصیت پرستی اور ہیرواِزم جیسی تباہ کن راہوں پہ جان بوجھ کر چلایا جارہاہے۔ نتیجۃً عام طور پر طلبا کو اپنی تعلیم کو شعور، فکری آزادی اور اِنفرادی واجتماعی اخلاق کی تعمیر وتشکیل کے بجائے ایک معاشی ہتھیار کے طور پر اپنانے کی سسٹیمیٹک تلقین کی جارہی ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو تعلیم کا صرف ایک ہی مقصد سکھاتے ہیں اور وہ ہے نوکری کا حصول۔
اَب جس طرح افیون انسان کو جسمانی مسائل و امراض کے علاج سے بے گانہ کرکے تباہ کن غلط فہمی میں مبتلا کردیتی ہے، اسی طرح یہ نظام ہمیں فکری اور سماجی طور پر بے حس بنا کر اپنے سماجی مسائل سے غافل کر رہا ہے۔ صورتِ حال یہ ہوگئی کہ ہم ظلم سہنے کے عادی ہو گئے ہیں اور ہمارے شعور نے ہمارے عملی سماجی کردار کو مزاحمت کے سگنل بھیجنا چھوڑ دیے ہیں۔ افیون اور فرسودہ نظامِ تعلیم دونوں ہی انسان کو بے حس اور بے عمل بنا دیتے ہیں،جس طرح افیون درد کے سگنلز کو دَباتی ہے۔ اسی طرح اس نظام نے ہمارے شعور کو دبا رکھا ہے۔ ہمیں ظلم کے خلاف اُٹھنے کی طاقت سے محروم کر رکھا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس نظام کی بیڑیوں کو توڑیں اور ایک ایسی تعلیمی اور سماجی انقلاب کی بنیاد رکھیں جو ہمیں حقیقی آزادی، خود اعتمادی اور انسانی وقار عطا کر سکے