امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے سیاسی مکتوبات - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے سیاسی مکتوبات

    برعظیم ہند کے عروج و زوال کے سنگم پر پیدا ہونے والے عظیم مفکر امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، یہ اعزاز بھی رکھتے ہیں کہ انھوں نے مغل سلطنت کے ۔۔۔۔۔

    By سہیل قریشی Published on Feb 17, 2025 Views 415
    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے سیاسی مکتوبات 
    سہیل قریشی ۔ مانسہرہ 

    برعظیم ہند کے عروج و زوال کے سنگم پر پیدا ہونے والے عظیم مفکر امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ، یہ اعزاز بھی رکھتے ہیں کہ انھوں نے مغل سلطنت کے زوال کے دوران سرکش عناصر کے ظلم اور لوٹ مار کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ کی وفات کے بعد ہندوستان کی مرکزی حکومت کمزور ہوگئی تھی۔ عدمِ استحکام کی یہ حالت تھی کہ خود شاہ ولی اللہ ؒکی زندگی میں دس بادشاہ بدلے اور گیارہویں کا اقتدار شروع ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر، محلاتی سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں قتل ہوئے۔ مرکزی حکومت کی کمزوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ظالم عناصر نے سر اُٹھایا اور ملک میں بے دریغ لوٹ مار شروع کر دی۔ ان میں مرہٹے، جاٹ، روہیلے، فتنہ صفدر جنگ اور دیگر باغی عناصر شامل تھے۔
    پارٹی کی اساس پر ہندوستان کا سیاسی نظام 
    ہندوستان میں گزشتہ صدیوں میں مختلف خاندانوں نے بہ طور پارٹی مثلاً غوری، خلجی، سادات، خاندانِ غلاماں، لودھی اور مغلیہ پارٹی وغیرہ نے یکے بعد دیگرے اپنی حکومتیں قائم کیں۔ جب ایک پارٹی میں استعداد ختم ہوئی تو دوسری پارٹی نے اس کی جگہ لے لی۔ حکومتوں کی تبدیلی اگرچہ اس وقت کے موجود تقاضے کے مطابق، میدان جنگ میں ہوتی تھی، جس سے عام عوام کو قطعاً کوئی نقصان نہیں پہنچتا تھا۔ دورِعروج کے اس دورانیے میں بدامنی اور لوٹ مارنہیں رہی۔ ہر نئی پارٹی نے آکر عوامی فلاح و بہبود کے کام کو آگے بڑھایا۔مغل پارٹی میں جب استعداد ختم ہوئی تو اس وقت دنیا کے حالات بدل چکے تھے۔ 
    بہ قول امام شاہ ولی اللہ ؒ کہ اب فرد واحد کی حکومت ممکن نہیں رہی اور نہ ہی پرانے نظام کا بوسیدہ ڈھانچہ مزید چل سکتا تھا۔ ایسے میں شاہ صاحبؒ نے جو حل دیا وہ "ولی اللی فلسفہ وفکر" کہلاتا ہے، جس کے تحت ہندوستان کے بوسیدہ نظام کو "فَكُّ کُلِّ نِظَامٍ" کی اساس پر نیا نظام قائم کرنا ضروری تھا۔ نئے نظام کو چلانے کی تشکیل میں بہ قول شاہ ولی اللہؒ عقلائے قوم کا مرکزی بورڈ ہو، جس میں دین کے تینوں شعبہ جات طریقت کے مربیین، علمائے شریعت اور ماہرینِ سیاست جمع ہوں۔ یہ بورڈ/پارلیمنٹ فیصلہ سازی کے اختیارات کی مالک ہو۔ 
    مسلم دورِحکومت کے بارے میں شاہ صاحبؒ کی رائے 
    امام شاہ ولی اللہ ؒہندوستان میں محمد بن قاسمؒ سے لے کر اورنگزیب عالمگیرؒ تک مسلم حکمرانوں کی رواداری اور تمام مذاہب و افکار کے حامل لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی سیاسی حکمت عملی کے معترف ہیں اور اسی حکمت عملی کے داعی ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے بعد جب اس حکمت عملی کے برعکس انتشار پیدا ہونا شروع ہوا تو امام شاہ ولی اللہؒ نے اس پر تنقید کی۔ شاہ صاحبؒ کے سیاسی مکتوبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام شاہ ولی اللہؒ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک کے خلاف ہیں۔ 
    احمد شاہ ابدالی کو مرہٹوں کے مقابلے پر جنگ کی دعوت دینے کو بعض عناصر نے ہندو دشمنی یا دو قومی نظریے کی بنیاد بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ سیاسی مکتوبات میں جابجا بلاتفریق مذہب وملت تمام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کا پیغام ملتا ہے۔ 
    شاہ ولی اللہ صاحبؒ کی جماعت ! 
    شاہ ولی اللہؒ نے محض نظریہ نہیں دیا، بلکہ اس پر عملاً پارٹی کی تشکیل کا عمل بھی شروع کیا۔ مولانا محمد عاشق پھلتیؒ اس پارٹی کے رکن رکین تھے۔ امام شاہ ولی اللہؒ کی وفات کے بعد انھوں نے ہی پارٹی کے کام کو آگے بڑھایا۔ 
    امام شاہ ولی اللہؒ کے سیاسی مکتوبات  
    امام شاہ ولی اللہؒ طوائف الملوکی اور سیاسی بحران میں عوام پر ہونے والے ظلم سے لاتعلق نہیں رہے، بلکہ انھوں نے عام ظلم اور لوٹ مار کے خلاف ممکنہ اقدامات کی کوشش کی۔ یہ مکتوبات اس دور میں شاہ ولی اللہؒ کی جدوجہد کے آئینہ دار ہیں۔ 
    مولانا محمد عاشق پھلتیؒ نے امام شاہ ولی اللہؒ کی زندگی میں ہی ان کے مکتوبات کو جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ یوں یہ مکتوبات محفوظ ہوگئے۔
    ان مکتوبات سے ظاہر ہوتاہے کہ امام شاہ ولی اللہؒ کا مغل بادشاہ سمیت دیگر سیاسی طاقتوں سے رابطہ تھا۔ ایک خط سے ظاہر  ہوتا ہے کہ مغل بادشاہ خود شاہ ولی اللہ صاحبؒ سے مشورے کے لیے ان کے گھر آتے تھے، مگر مغل طاقت اَب غیر مؤثر ہوچکی تھی۔ بادشاہ سازشوں میں اس طرح جکڑے ہوتے تھے کہ حرکت بھی نہ کر سکتے تھے۔
    شاہ صاحب ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ "ارباب حِلُّ و عُقْد صبح کو ایک رائے قائم کرتے ہیں اور شام کو توڑ دیتے ہیں"۔
    شاہ صاحب نے سیاسی حالات کا بہ غور مطالعہ کر کے دو ایسی طاقتوں کا انتخاب کیا، جن کے ذریعے مفسدانہ عناصر کی سرکوبی ممکن تھی۔
    1۔ نواب نجیب الدولہ، یعنی روہیلہ طاقت 
    2۔ احمد شاہ ابدالی درانی افغان طاقت 
    شاہ صاحبؒ نے ان دونوں کے انتخاب میں اپنی بے پناہ سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا۔ روہیلوں کی عسکری طاقت اور صلاحیت پر سرجدوناتھ سرکار نے اپنی کتاب “Fall of the Mughal Empire” میں بحث کی ہے اور اس نے نجیب الدولہ کے متعلق لکھا ہے کہ اس میں سپاہیانہ بہادری، سیاسی تدبر، دور اندیشی اور فن جہانبانی کی صلاحیت سب کچھ تھا، بلکہ وہ سوائے احمد شاہ ابدالی کے، اپنے معاصرین میں لاثانی تھا۔ شاہ ولی اللہؒ کی سیاسی بصیرت اور حقائق شناسی کا کمال تھا کہ انھوں نے دو ایسی عظیم المرتبت شخصیتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا، جن کو بیسویں صدی کا ایک مشہور مؤرخ اٹھارویں صدی کی سب سے قابل شخصیتیں تصور کرتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہؒ کے زیادہ تر مکتوبات انھی دو شخصیات کے نام ہیں۔
    امام شاہ ولی اللہؒ نے احمد شاہ ابدالی کے نام ایک طویل خط لکھا ہے۔ اس خط میں اس وقت کے تمام سیاسی حالات کا زبردست تجزیہ کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ: "ہندوستان ایک وسیع خطہ ہے اور گزشتہ حکمرانوں نے بڑی محنت سے اسے اکٹھا کیا، اس میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں جو مرکزی حکومت کے تابع ہیں"۔ 
    شاہ صاحبؒ متعدد ریاستوں کا تعارف کرواتے ہیں کہ ان ریاستوں سے کتنا ٹیکس مرکزی حکومت کو ملتا تھا، ان کی فوجی طاقت کتنی تھی؟ تمام باتیں تفصیل سے لکھنے کے بعد مرہٹوں اور جاٹوں کا تعارف کراتے ہیں۔ بنگال کے سراج الدولہ کے متعلق لکھا ہے کہ "بنگال جیسی بڑی ریاست کا سربراہ ایک ناواقف اور کم تجربہ کار کو بنا دیا گیا ہے۔ 
    صفدر جنگ کا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے بہت بڑا روپیہ جمع کر کے جاٹوں کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ 
    مرہٹوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ انتہائی غیرمنظم لوٹ مار کرنے والا گروہ ہے، جس کے وبال سے نہ ہندو محفوظ ہیں اور نہ ہی مسلمان۔ پھر آپ نے مرکزی حکومت کی کمزوریوں کا ذکر کیا ہے، بدتر معاشی حالات، قحط سالی اور نادر شاہ کی لوٹ مار کا ذکر کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ ہدایت کی ہے کہ آپ نے لوٹ مار نہیں کرنی، بلکہ حالات کو سدھارنا ہے۔ 
    اسی ذیل میں نبی اکرم ﷺ، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہم کی امرا وحکام کو کی گئی نصیحتوں پر مبنی مکتوبات پر اختتام کیا ہے۔ یہ خط بڑے درد دل کے ساتھ لکھا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ 

    افغانستان مغل عہد میں 
    یہ بات توجہ میں رہے کہ مغل دور میں افغانستان، ہندوستان کا حصہ تھا۔ اورنگزیب عالمگیرؒ نے کابل پر ایک ہندو گورنر کو تعینات کیا ہوا تھا۔ بعد کے دور میں سکھوں کی حکمرانی بھی کابل تک رہی۔ نومبر 1893ء میں ڈیورنڈ لائن بنانے کے بعد جزوی طور پر اور 1919ء میں استقلالِ افغانستان کے بعد مستقل طور افغانستان ہندوستان سے الگ ہوگیا۔ سابقہ دور میں جس طرح مرہٹے جنوبی ہند سے تعلق رکھتے تھے، احمد شاہ درانی شمالی ہند کے تھے۔ روحیلے پٹھان تو دہلی کے قریب ہی روحیل کھنڈ میں آباد تھے۔ لہٰذا یہ اعتراض بےجا ہے کہ شاہ ولی اللہؒ نے احمد شاہ ابدالی جیسی بیرونی طاقت کو ہندوستان بلایا۔ ہندوستان میں سیاسی بحران کے وقت کئی طاقتیں سرگرم تھیں، درانی افغانی بھی اسی قسم کی ایک مقامی ہندوستانی طاقت تھے نہ کہ بیرونی طاقت۔ مولانا محمد عاشق پھلتیؒ کے نام لکھے گئے ایک خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ ولی اللہؒ، احمد شاہ ابدالی سے پوری طرح مطمئن نہ تھے اور نہ ہی اسے ہندوستان کی مستقبل کی پارٹی کے طور پر دیکھ رہے تھے، بلکہ وہ احمد شاہ ابدالی کے ذریعے وقتی لوٹ مار کے خاتمے کے لیے، مرہٹوں کے سر پھرے لشکر کا خاتمہ چاہتے تھے۔ 
    نواب نجیب الدولہ کے نام لکھے گئے خط میں کہتے ہیں؛" ایک بات اور کہنی ہے اور وہ یہ کہ جب افواج شاہی کا گذر دہلی سے ہو تو اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ دہلی ظلم سے، سابقہ حالات کی طرح پامال نہ ہوجائے۔ دہلی والے کئی مرتبہ اپنے مالوں کی لوٹ اور اپنی عزت کی توہین کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکےہیں۔ اسی وَجہ سے کار ہائے مطلوبہ کے حصول میں تاخیر ہورہی ہے۔ آخر مظلوموں کی آہ بھی تو اَثر رکھتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کاربستہ جاری ہوجائے (بگڑا ہوا کام سلجھاؤ میں آجائے) تو پوری پوری تاکید کرنی چاہیے کہ کوئی فوجی دہلی کے مسلمانوں اور غیرمسلمانوں سے جو ذِمی کی حیثیت رکھتے ہیں، ہر گز تعارض نہ کرے۔"
    سیاسی مکتوبات اور عصرحاضر 
    جہاں یہ مکتوبات اُس وقت کے ہندوستان کی سیاسی افراتفری کا منظرنامہ پیش کرتے ہیں، وہیں یہ امام شاہ ولی اللہؒ کی سیاسی بصیرت کو سمجھنے اور عصرحاضر کی راہ نمائی میں بھی معاون ہیں۔
    Share via Whatsapp