عالمی استحصالی نظام کا خونخوار چہرہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • عالمی استحصالی نظام کا خونخوار چہرہ

    دنیا میں قائم سرمایہ دارانہ نظام کس قدر بھیانک ہے اور انسانیت کا استحصال کررہا ہے کہ۔۔۔۔۔

    By Sufian Khan Published on Feb 26, 2025 Views 321
     عالمی استحصالی نظام کا خونخوار چہرہ

    تحریر: سفیان خان۔ بنوں 

     

    دنیا میں قائم سرمایہ دارانہ نظام کس قدر بھیانک ہے اور انسانیت کا استحصال کررہا ہے کہ اس نظام کے قائم کردہ ادارے ہی اس کی حقیقت کو عیاں کرتے رہتے ہیں، جیسا کہ آکسفام (Oxfam) نے 20 جنوری 2025ء کو ایک رپورٹ شائع کی، جس کے مطابق 2024ء میں ارب پتیوں کی دولت میں 2 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ 5.7 ارب ڈالر روزانہ کی دولت بنتی ہے، جو گزشتہ سال کی نسبت تین گنا زیادہ ہے۔ پاکستانی روپے کے حساب سے یہ 556.730 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔ اس دولت سے پاکستان جیسی پانچ معیشتیں کھڑی کی جا سکتی ہے۔ آکسفام نے پیشین گوئی کی ہے کہ 2024ء میں 204 نئے ارب پتی (billionaire) پیدا ہوئے، یعنی ہر ہفتے تقریباً چار نئے ارب پتی وجود میں آئے۔ رپورٹ میں آنے والے دس سالوں میں اس بھوکی پیاسی دنیا میں پانچ کھرب پتی (Trillionaire) پیدا ہونے کا قوی امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سال 2023ء میں گلوبل نارتھ (پہلی دنیا) نے گلوبل ساؤتھ (تیسری دنیا) سے فی گھنٹہ 30 ملین ڈالر نکالے۔ یعنی ہر منٹ تقریباً 140 ملین پاکستانی روپے لوٹ کر ترقی یافتہ ممالک میں منتقل کیے گئے۔ 2024ء کے آخر تک ارب پتیوں کی تعداد 2769 تک جا پہنچی، جب کہ یہ تعداد 2023ء میں 2565 تھی۔ ان کی مجموعی دولت 13 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر صرف 12 ماہ میں 15 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی۔ دنیا کے دس امیر ترین افراد کی دولت روزانہ تقریباً 100 ملین ڈالر بڑھی۔ یہاں تک کہ اگر ان کی 99 فی صد دولت اچانک ختم ہوجائے، تب بھی وہ ارب پتی ہی رہیں گے۔

    آکسفام کے مطابق عدم مساوات کی جڑیں جدید نوآبادیاتی نظام (Neo-Colonialism) سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق جدید مالیاتی نظام کو ڈیزائن کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ تیسری دنیا سے پہلی دنیا کو دولت آسانی سے منتقل کیا جا سکے۔ یہی وَجہ ہے کہ کمزور ممالک سے 1970ء سے 2023ء کے درمیان 3.3 ٹریلین ڈالر محض سود کی ادائیگی کی مد میں منتقل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کا ایک فیصد امیرترین طبقہ پوری دنیا کی دولت پر غلبہ رکھتا ہے۔ مندرجہ بالا ادارہ کے اعداد و شمار کے مطابق ایک اوسط بیلجیئم شہری عالمی بینک میں ایک اوسط ایتھوپین کے مقابلے میں 180 گنا زیادہ ووٹنگ پاور رکھتا ہے¹۔

    اس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ داری نظام کی بنیاد میں ہی مسئلہ ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ بھوک و افلاس ہے۔ اس میں جہاں ایک طرف ہفتے میں چار ارب پتیوں کا اضافہ ہورہا ہے اور کچھ ارب پتی پروموٹ ہوکر کھرب پتی بن رہے ہیں، وہاں دوسری جانب روزانہ 24000 لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ 10 ہزار سے زائد معصوم بچے روزانہ بھوک کے ہاتھوں لقمہ اجل بن رہے ہیں²۔ جون 2023ء تک 11 کروڑ 73 لاکھ افراد جبری طور پر بے گھر ہوچکے ہیں³۔ 25 کروڑ سے زائد بچے جبری طور پر تعلیم سے محروم ہیں۔خود امریکا میں تقریباً 21 فی صد بالغ افراد بنیادی خواندگی کی تعریف پر پورا نہیں اُتر رہے۔ یہ افراد سادہ جملوں کو بھی پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں۔ 54 فی صد امریکی بالغوں کی خواندگی کی سطح چھٹی جماعت6th grade سے نیچے ہے۔ملک میں بے گھر افراد کی تعداد 771,480 تک پہنچ گئی ہے۔ یعنی ہر 10,000 امریکی شہریوں میں سے تقریباً 23 افراد بے گھر ہیں۔ تین کروڑ 80 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک کروڑ 85 لاکھ افراد انتہائی غربت (extreme poverty) کے شکار ہیں، جب کہ 50 لاکھ افراد انتہائی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 

    اس عالمی استحصالی نظام میں کمزور اور محنت کش طبقے کے لیے سوائے ذِلت و رسوائی کے کچھ نہیں ہے۔ حال آں کہ یہی وہ طبقہ ہے جو عالمی معیشت کو چلانے میں 90 فی صد محنت فراہم کرتا ہے۔ محنت پر ڈاکا ڈالنا سرمایہ داری نظام کا سنگین ترین جرم ہے، تبھی تو امام شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں

    مزدور، کاشت کار اور وہ لوگ جو ملک و قوم کے لیے دماغی کام کریں، وہی دولت کے اصل مستحق ہیں۔ ان کی ترقی اور خوش حالی ملک و قوم کی ترقی اور خوش حالی ہے۔ جو نظام محنت کش قوتوں کو دَبائے، وہ ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ایسے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے“۔ 

    عالمی سرمایہ داری نظام کا سب سے بڑا دھوکا یہ ہے کہ یہ غریب اقوام سے دولت اکھٹی کر کے انھی کی دولت کا معمولی سا حصہ خیرات کے طور پر واپس کر دیا جاتا ہے۔ یوں اس انسان دشمن نظام کو انسانی ہمدردی کا مضبوط نقاب مل جاتا ہے۔ بڑے بڑے فورمز، رپورٹس اور تقریبات میں سماجی مسائل پر بحث مباحثے کیے جاتے ہیں،لیکن حل کی صورت میں صرف اِصلاحی تدابیر اور خوش نما نصیحتوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ حال آں کہ اِصلاح تو تب ممکن ہوتی ہے، جب بنیاد میں کوئی مسئلہ نہ ہو۔ جب بنیاد ہی کھوکھلی اور کمزور ہو تو ایسی عمارت کو مرمت کرنے کا کیا فائدہ، ایسی عمارت کو تو بروقت گرانے میں ہی حکمت ہوتی ہے۔ سرمایہ داری نظام کے بنیادی ڈھانچے میں غربت، بھوک و افلاس، بدامنی، بے روزگاری اور انسانوں کی تقسیم در تقسیم شامل ہے۔ اس لیے کروڑوں کی تعداد میں کام کرنے والی اِصلاحی تنظیمیں سماجی مسائل کو کم کرنے میں مکمل طور پر بے بس نظر آتی ہیں۔

    آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک ایسا منصفانہ نظام قائم کیا جائے، جس میں ہر کسی کو عزت سے جینے کا حق حاصل ہو۔ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور نوجوانوں کو سسٹم کے بارے میں یہی دعوتِ فکر تو دے رہا ہے، تاکہ ہمارا نوجوان، ہمارا قیمتی اثاثہ، ہمارا جگر گوشہ مزید کسی کے اقتدار کا ایندھن نہ بنے،بلکہ نظام کے شعور سے آراستہ ہوکر نظامِ ظلم سے صحیح معنوں میں آزادی حاصل کرنے کے لیے کردار ادا کر سکیں۔

     

    حوالہ جات:
    01) https://www.oxfam.org/en/press-releases/billionaire-wealth-surges-2-trillion-2024-three-times-faster-year-while-number
    02) https://www.oxfam.org/en/press-releases/billionaire-wealth-surges-2-trillion-2024-three-times-faster-year-while-number
    03) https://www.express.pk/story/2652122/sal-2023-myn-11-krwr-73-lak-afrad-jbry-twr-pr-be-gr-kye-ge-aqwam-mthdh 
    04) https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2024-11-01/news-4213558-un.html 
    05) https://www.thenationalliteracyinstitute.com/post/literacy-statistics-2022-2023 
    06) https://www.reuters.com/world/us/us-homelessness-rose-by-record-18-latest-annual-data-2024-12-27/ 
    07) https://www.urdupoint.com/daily/livenews/2018-06-22/news-1573711.html
    Share via Whatsapp