دنیا کی معیشت 2015 سے 2025 تک: ایک تجزیہ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • دنیا کی معیشت 2015 سے 2025 تک: ایک تجزیہ

    دنیا کی معیشت گزشتہ دہائی میں کئی تبدیلیوں سے گزری، جہاں کچھ ممالک نے غیرمعمولی ترقی کی، جب کہ دیگرممالک پیچھے رہ گئے۔۔۔۔۔

    By محمد صداقت طلحہ Published on Mar 24, 2025 Views 332

    دنیا کی معیشت 2015 سے 2025 تک: ایک تجزیہ

    تحریر: محمد صداقت طلحہ۔ وہاڑی


    دنیا کی معیشت گزشتہ دہائی میں کئی تبدیلیوں سے گزری، جہاں کچھ ممالک نے غیرمعمولی ترقی کی، جب کہ دیگرممالک پیچھے رہ گئے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام کے اعداد و شمار کسی ملک کی ترقی یا تنزلی کا مکمل ادراک کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، تاہم کلی معاشیات کے معیارات کو عالمی سطح پر ملکوں کی معیشت کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان معیارات میں سے ایک اہم معیار جی ڈی پی (خام قومی پیداوار) ہے۔ ماہرینِ معاشیات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جی ڈی پی کسی معیشت کا بالکل درست اندازہ لگانے کے لیے کافی نہیں ہے، لیکن پھر بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں اسے ایک اہم پیمانے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ 

    امریکا، چین، بھارت، جرمنی، برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک نے اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے، جن کی بدولت وہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس ترقی کی بڑی وَجہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں برتری، مضبوط مالیاتی پالیسیاں اور صارفین کی زیادہ قوتِ خرید تھی۔ دوسری طرف پاکستان، جو کہ وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے ایک شان دار پوزیشن پر ہے، ترقی کی اس دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔

    امریکا آج بھی دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے۔ 2015ء میں امریکا کی معیشت جی ڈی پی کے اعتبار سے 23.7 ٹریلین ڈالر کے حجم پر مشتمل تھی، جو 2025ء تک بڑھ کر 30.3 ٹریلین ڈالر ہوگئی۔ امریکا کی اقتصادی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کی مسلسل اختراع (Innovation) اور مضبوط معاشی پالیسیاں ہیں۔ ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور تحقیق و ترقی میں زبردست سرمایہ کاری نے امریکا کو عالمی معیشت میں سب سے آگے رکھا ہے۔ امریکا کی ترقی میں اس کی بڑی ٹیک کمپنیاں، جیسے کہ ایپل، مائیکروسافٹ، گوگل اور ایمیزون نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ کمپنیاں مسلسل نئی ایجادات کررہی ہیں، جس کی بدولت نہ صرف امریکا، بلکہ دنیا بھر میں نئی صنعتوں کا قیام عمل میں آرہا ہے۔امریکا کی معیشت میں مالیاتی نظام اور بینکاری شعبہ بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈالر کی عالمی اہمیت، سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول اور جدید کاروباری پالیسیاں امریکی معیشت کو مستحکم رکھتی ہیں۔ 

    پچھلی دہائی میں چین کا معاشی حجم 11.2 ٹریلین ڈالر سے 19.5 ٹریلین ڈالر،جی ڈی پی تک جا پہنچی جو تقریباً 74 فی صد معاشی ترقی بنتی ہے۔ چین کی کامیابی کا راز اس کی صنعتی ترقی، برآمدات پر مبنی معیشت اور میگا انفراسٹرکچر منصوبے ہیں۔ چین نے 1980ء کی دہائی میں اپنی معیشت کو کھولا اور غیرملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا۔ اس کے نتیجے میں چین "دنیا کی فیکٹری" بن گیا، جہاں سے پوری دنیا میں مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں۔ چین نے اپنی معیشت میں تحقیق اور ترقی (R&D) کو فروغ دیا اور مصنوعی ذہانت (AI)، بائیو ٹیکنالوجی اور جدید مینوفیکچرنگ میں نمایاں پیش رفت کی۔ چین نے "بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو" (BRI) جیسا بڑا منصوبہ شروع کیا، جس نے عالمی سطح پر اس کی معیشت کو مستحکم کیا۔ پاکستان نے بھی چین کے ساتھ سی پیک (CPEC) جیسے منصوبے شروع کیے، مگر ان سے پوری طرح فائدہ نہ اٹھا سکا۔ بیوروکریسی، کرپشن اور پالیسیوں میں عدمِ تسلسل کی وَجہ سے سی پیک کے کئی منصوبے تاخیر کا شکار ہو گئے۔ 

    عالمی جی ڈی پی اعدادوشمار کے مطابق بھارت نے 77 فی صد کی حیرت انگیز شرح سے ترقی کی اور 2015ء کے 2.4 ٹریلین ڈالر سے بڑھ کر 2025ء میں 4.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ بھارت کی کامیابی کا راز اس کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی سیکٹر اور صنعتی ترقی ہے۔ بھارت نے "میک ان انڈیا" پروگرام کے ذریعے اپنی صنعتی پیداوار کو فروغ دیا۔ اس نے غیرملکی سرمایہ کاری کے قوانین کو آسان بنایا، جس کی بدولت کئی عالمی کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری، جس میں انفوسس، ٹی سی ایس اور وپرو جیسی کمپنیاں شامل ہیں، عالمی سطح پر ایک بڑی قوت بن چکی ہے۔

    دوسری طرف، جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے یورپی ممالک نے بھی گزشتہ دہائی میں اپنی معیشت کو بہتر بنایا۔ لیکن یورپ کی بڑی معیشتیں سست روی کا شکار رہیں۔ جرمنی صرف 10 فی صد، برطانیہ 14 فی صد اور فرانس 12 فی صد تک ہی بڑھ سکے۔ یورپی معیشت میں سست روی کی بڑی وجوہات میں صنعتی ترقی کی کمی، سیاسی عدم استحکام اور بریگزٹ جیسے معاملات شامل ہیں۔ سعودی عرب نے 23 فی صد ترقی کی۔ روس اور برازیل جیسے ممالک کو گزشتہ دہائی میں اقتصادی مشکلات کا سامنا رہا۔ روس کی معیشت 1.9 ٹریلین ڈالر سے 2.2 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی تک پہنچی، جو 15 فی صد کا معمولی اضافہ ہے۔ برازیل کی اقتصادی ترقی مزید کمزور رہی اور یہ صرف 8 فی صد تک محدود رہی۔ اس کے برعکس، ترکی، انڈونیشیا اور سعودی عرب جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں نے مضبوط ترقی کی۔ سعودی عرب نے "ویژن 2030ء" کے تحت معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے کے لیے اقدامات کیے۔ اس نے سیاحت، تفریحی انڈسٹری اور نئی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کی۔ ترکی نے 59 فی صد اور انڈونیشیا نے 51 فی صد ترقی کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ معیشتیں عالمی اقتصادی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ دنیا کی مجموعی معیشت خام قومی پیداوار کے مطابق 2015 ءمیں 85.2 ٹریلین ڈالر تھی، جو 2025 ءمیں 115.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی، یعنی 35 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان کی معیشت کا موازنہ اگر ان بڑی معیشتوں سے کیا جائے تو اس کا اقتصادی منظرنامہ کچھ مختلف نظر آتا ہے۔ 2015ء میں پاکستان کی معیشت تقریباً 270 ارب ڈالر کی تھی، جو 2025ء میں اندازاً 375 سے 400 ارب ڈالر کے درمیان ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، یہ ترقی بھارت، ترکی، یا انڈونیشیا جیسے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پاکستان کی سست اقتصادی ترقی کی بنیادی وجوہات میں سب سے بڑی وَجہ سیاسی عدمِ استحکام ہے، جس کی وَجہ سے پالیسیاں اکثر تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور سرمایہ کار عدمِ اعتماد کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کرپشن، غیرمؤثر گورننس اور بیوروکریسی کی پیچیدگیوں نے ترقی کی رفتار کو کمزور کیا۔ اس کے علاوہ، تعلیمی معیار کا کمزور ہونا، تحقیق اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی کمی اور کاروباری ماحول میں رکاوٹیں بھی پاکستان کی معیشت کو ترقی دینے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔ دوسری بڑی وَجہ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔ پاکستان نے گزشتہ دہائی میں کئی بار عالمی مالیاتی اداروں (IMF) سے قرضے لیے، لیکن ان کا صحیح استعمال نہیں کیا گیا۔ ان قرضوں سے پیداواری شعبے کو فروغ دینے کے بجائے حکومتی اخراجات کو پورا کیا گیا، جس کی وَجہ سے معیشت پر دَباؤ بڑھ گیا۔ پاکستان کی برآمدات کا شعبہ بھی دیگر ممالک کے مقابلے میں کمزور ہے۔ چین، بھارت اور ترکی جیسے ممالک نے اپنی برآمدات میں اضافہ کیا، جب کہ پاکستان کی برآمدات کی شرح محدود رہی۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر صنعتوں کو فروغ نہ مل سکا، جس کی وَجہ سے عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ کمزور رہا۔

    پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے نقش قدم پر چلنے کے لیے کچھ بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ 

    سب سے پہلے، پالیسیوں میں استحکام اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اعتماد حاصل ہو۔ 

    دوسرا، تعلیمی نظام اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی، تاکہ نئی مہارتیں پیدا کی جاسکیں اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہو۔ 

    تیسرا، برآمدات کے شعبے میں تنوع لانا ہوگا اور صرف ٹیکسٹائل پر انحصار کرنے کے بجائے دیگر صنعتوں جیسے کہ آئی ٹی، انجینئرنگ اور فارماسیوٹیکل کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر پاکستان ان بنیادی نکات پر عمل کرے اور عالمی معیشت کے تقاضوں کو سمجھے، تو اگلی دہائی میں اس کی ترقی کی رفتار تیز ہوسکتی ہے۔ تاہم، اگر موجودہ مسائل پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان ترقی یافتہ ممالک سے مزید پیچھے رہ سکتا ہے، جو معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

    Share via Whatsapp