چین کی سائنسی برتری: ایک نئی عالمی حقیقت
یہ مضمون چین کی سائنسی اور تکنیکی برتری پر روشنی ڈالتا ہے۔آج وہ دنیا کے ہر بڑے تکنیکی شعبے میں اپنی بالادستی ثابت کر رہا ہے۔

چین کی
سائنسی برتری،ایک نئی عالمی حقیقت
تحریر: شہزاد بدر۔ ورجینیا، امریکا
چین
کی سائنسی اور تکنیکی ترقی نے حال ہی میں عالمی منظرنامے پر ایک نئی بحث کو جنم
دیا ہے، خاص طور پر جنریٹیو اے آئی کےشعبے میں ڈیپ سیک (Deep Seek) کی
حالیہ کامیابیاں اور اس کے جدید لسانی ماڈلز (Large
Language Models - LLMs) نے عالمی سطح پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ ڈیپ سیک کے اوپن سورس
اور کم لاگت والے ماڈلز نے نہ صرف اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، بلکہ مصنوعی
ذہانت کی دنیا میں ایک نیا معیار بھی قائم کیا ہے۔اسی سلسلے میں، علی بابا گروپ نے
بھی اپنا لسانی ماڈل کوئن( Qwen) متعارف کروا کر اس میدان میں ایک
اہم قدم اُٹھایا ہے۔ چین کے متعارف کردہ اے آئی ماڈلز عالمی سطح پر موجود اے آئی ماڈلز جیسے OpenAI کے ChatGPT، Google کے Gemini اور دیگر ماڈلز
کے مقابلے میں سخت مقابلہ پیش کر رہے ہیں۔ ان ماڈلز کی کارکردگی نے چین کو عالمی
اے آئی کے میدان میں اپنی قابلیتوں اور بالادستی کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کیا
ہے، جس سے چین کی اے آئی ٹیکنالوجی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا
جا رہا ہے، جس کا اَثر صرف ٹیکنالوجی
کے میدان تک محدود نہیں رہا، بلکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ سمیت معاشی شعبوں پر بھی
نمایاں طور پر محسوس کیا گیا ہے۔
اگر
دیکھا جائے تو چین کی بالادستی صرف مصنوعی ذہانت تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ اس نے
دیگر اہم سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں بھی غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ حال
ہی میں "آسٹریلین اسٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ" (ASPI) کی
ایک رپورٹ کے مطابق چین اَب دنیا میں تقریباً 90 فی صد اہم ٹیکنالوجیز کی
تحقیق و ترقی میں قیادت کر رہا ہے۔ اس طرح چین نے امریکا اور یورپ کے مقابلے میں اپنی
برتری کو واضح طور پر ثابت کر دیا ہے۔
ASPI کی رپورٹ کے
مطابق، پچھلی دو دہائیوں میں چین نے ٹیکنالوجی کی تحقیق کے شعبے میں امریکا کو
پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 2003ء سے 2007ء کے دورانیہ میں چین کو 64 اہم ٹیکنالوجیز میں
سے صرف تین (5 فی صد) میں قیادت حاصل تھی،لیکن آخری پانچ سالوں کے دوران یہ تعداد
بہت زیادہ بڑھ کر 57 (89 فی صد) ٹیکنالوجیز تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح چین نے امریکا
کو دوسری پوزیشن پر دھکیل دیا ہے، جب کہ خود دنیا کی ٹیکنالوجیکل قیادت سنبھال لی
ہے۔ASPI کے
"کرٹیکل ٹیکنالوجی ٹریکر" کی تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق چین نے عالمی سطح
پر اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں قابلِ ذکر طور پر اپنا مقام مضبوط کیا ہے۔ اس کی
ترقی نے دنیا بھر کی برادری کو ایک نئی حقیقت کے ساتھ رو برو کر دیا ہے۔ چین نے
ٹیکنالوجی کی دنیا میں نہ صرف اپنی موجودگی ظاہر کی ہے، بلکہ اَب وہ اس کی روانی
کا مرکز بن چکا ہے۔
یہ
ٹریکر ممالک کی مسابقت کا درجہ ان بنیادوں پر رکھتا ہے کہ وہ ہر نئی جدت کے شعبے
میں سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی تحقیقی مقالوں میں سے ٹاپ 10 فی صد میں کتنی
بار ذکر کیے جاتے ہیں۔چین کو گزشتہ سال کی اپڈیٹ کے بعد ان پانچ نئی ٹیکنالوجیز کو
انٹم سینسرز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، گریوٹی سینسرز، اسپیس لانچ، اور ایڈوانسڈ
انٹیگریٹڈ سرکٹ ڈیزائن اور سیمی کنڈکٹر کی تیاری میں قیادت حاصل ہوئی ہے۔
امریکا
جو 2003ء سے 2007ء کے دوران ٹریک کی جانے والی 94 فی صد ٹیکنالوجیز میں قیادت
رکھتا تھا، پچھلے پانچ سالوں میں اَب وہ صرف سات علاقوں (11 فی صد) میں قیادت
کررہا ہے، جن میں کوانٹم کمپیوٹنگ، چھوٹے سیٹلائٹس، ایٹامک کلاکس، اور نیچرل
لینگویج پروسیسنگ (NLP)شامل ہیں ۔ اَب ڈیپ سیک جیسے ماڈلز کے آنے کے بعد NLP کے شعبے میں بھی امریکا کی بالادستی کو
چیلنج کیا گیا ہے۔
اس
رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسے گوگل، مائیکروسافٹ اور میٹا اے آئی،
کوانٹم اور کمپیوٹنگ ٹیکنالوجیز میں مضبوط پوزیشن حاصل ہے، لیکن نیشنل ایرو ناٹکس
اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (NASA) اور امریکی فضائیہ کے تحقیقی ادارے کی درجہ بندی میں کمی آئی ہے
اور اَب ان ٹیکنالوجیز کے سب سے بہترین 10 ادارے چین میں ہیں۔
حال
ہی میں، چین کے "مصنوعی سورج" جسے علمی اصطلاح میں فیوژن ری اکٹر کہا
جاتا ہے، نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے 1,066 سیکنڈ (17 منٹ 46 سیکنڈ) تک مستحکم ہائی کنفائنمنٹ
پلازما آپریشن برقرار رکھا۔ یہ
ٹیکنالوجی جدید دور کا ایک شاہکار ہے جو مستقبل میں لامحدود اور صاف توانائی فراہم
کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کامیابی کے ذریعے، چین نے دنیا بھر میں توانائی کے
مستقبل کو نئی شکل دینے کی صلاحیت ظاہر کی ہے۔
اسی
طرح چین عالمی خلائی دوڑ میں بھی خود کو ایک طاقت ور کھلاڑی کے طور پر منوا رہا ہے۔ چین کا تیانگونگ خلائی اسٹیشن اس کی خلائی
کوششوں میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اکتوبر 2024ء میں چین نے تیانگونگ کے لیے ایک نئی
ٹیم بھیجی، جس کا مقصد 2030ء تک چاند پر خلا باز بھیجنا ہے۔
چین
نے اسپیس ایکس (SpaceX) کے اسٹارلنک (Starlink) پروجیکٹ کے مقابلے میں اپنے سیٹلائٹ کنسٹیلیشنز کی تیاری شروع کر
دی ہے۔ چین سیٹلائٹ نیٹ ورک گروپ (SatNet) نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے کنسٹیلیشنز کے تحت
گوووانگ (Guo
Wang) اور اسمارٹ اسکائی نیٹ (Smart Sky Net) جیسے منصوبے
لانچ کیے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد عالمی براڈ بینڈ سروسز فراہم کرنا اور چین کی کمیونیکیشن
صنعت میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔علاوہ ازیں، چین نے 6 G ٹیکنالوجی کی تحقیق و ترقی میں بھی امریکا پر
سبقت حاصل کر لی ہے۔ 6G کے شعبے میں اپنی برتری کو واضح کرتے ہوئے، چین نے کوانٹم
کمیونیکیشن ، ہائی فریکوئنسی بینڈز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نیٹ ورک
آپٹیمائزیشن میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ان ترقیات نے چین کو امریکا اور دیگر
عالمی حریف ممالک سے آگے نکال دیا ہے۔
چین نے
دفاعی شعبے میں بھی حیران کن ترقی کی ہے۔چین نے حال ہی میں 6th Generation کے سٹیلتھ طیارے کی نقاب کشائی کی ہے۔ یہ طیارہ نہ صرف جدید
ترین ریڈار ایویژن ٹیکنالوجی سے لیس ہے، بلکہ مصنوعی ذہانت اور خودکار سسٹمز کا
شاہکار بھی ہے۔ اس طیارے کی بدولت چین نے فضائی برتری کی دوڑ میں ایک اور سنگ میل
عبور کر لیا ہے۔
کوانٹم کمپیوٹنگ، روایتی کمپیوٹرز کے مقابلے میں، کئی گنا زیادہ طاقت ور کمپیوٹنگ
صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ چین کے Jiuzhang 3.0 اور Zuchongzhi
2.1 جیسے
جدید ترین کوانٹم کمپیوٹرز نے عالمی سطح پر بے مثال کارکردگی کا مظہر پیش کیا ہے۔
اس طرح کی ترقی کے نتیجے میں، مستقبل میں عالمی سائبر سیکیورٹی اور کمپیوٹنگ
کی دوڑ میں چین کی پوزیشن مزید مستحکم ہوجائے گی۔ کوانٹم کمپیوٹنگ کے ذریعے،
چین نے ایک ایسا نظام تیار کیا ہے جو نہ صرف پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کے قابل ہے،
بلکہ موجودہ سائبر سکیورٹی پروٹوکولز کو بھی چیلنج کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے
کہ چین کو آئندہ عالمی ڈیجیٹل تحفظ اور اطلاعاتی حرب (Information Warfare) کے شعبے میں نئی برتری حاصل ہوگی۔
چین
پر عائد پابندیاں:
چین
کی ٹیکنالوجی میں بڑھتی برتری کو دیکھتے ہوئے امریکا اور دیگر مغربی ممالک نے کئی
اقدامات کیے ہیں۔ چین پر عالمی سطح پر
مختلف پابندیاں عائد کی گئی ہیں ۔ ان پابندیوں کا مقصد چین کو ٹیکنالوجی کی عالمی
دوڑ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے سے روکنا تھا۔ ان پابندیوں میں سب سے نمایاں چین
کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں، جیسے ہواوے، ZTE، اور دیگر اہم اداروں پر عائد تجارتی
پابندیاں ہیں، جنھوں نے چین کی ترقی کو ایک سنگین چیلنج کے طور پر پیش کیا۔ ان
اقدامات کا مقصد چین کی 5G ٹیکنالوجی، چپ سازی اور دیگر اعلیٰ ٹیکنالوجیز میں ترقی کو محدود
کرنا تھا، لیکن چین نے ان تمام پابندیوں کے باوجود اپنی مقامی صلاحیتوں کو بڑھا کر
عالمی سطح پر اپنی ٹیکنالوجی کی برتری کو مستحکم کیا۔
چینی
انقلاب کے ثمرات:
چین
کی حالیہ سائنسی و تکنیکی کامیابیاں محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک طویل تاریخی جدوجہد
اور منظم قومی کوششوں کا ثمر ہیں۔ اس کی بنیاد 1934ء کے تاریخی لانگ مارچ سے جڑی
ہے، جب ماؤزے تنگ کی قیادت میں چینی انقلابی جماعت نے نئے چین کی بنیاد رکھی۔ 1949ء
میں انقلاب کی کامیابی کے بعد ملک میں جدید قومی تعمیر کا آغاز ہوا۔ اس عزم کو
1978ء میں ڈینگ شیاؤپنگ کی اقتصادی اصلاحات نے نئی سمت دی اور موجودہ صدر شی جن
پنگ کی دوراندیش قیادت میں یہ ترقیاتی سفر نئی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ یہ مسلسل
پیش رفت چین کے قومی عزم اور منظم سائنسی و تحقیقی ٹیموں کی مہارت کا عکاس ہے۔
انقلابی
ریاستوں کی نمایاں خصوصیت ان کا متوازن ترقیاتی نظریہ ہے، جہاں سائنسی پیش رفت کے
ساتھ ساتھ معاشرتی فلاح و بہبود کو بھی یکساں اہمیت دی جاتی ہے۔ چین اس کی بہترین
مثال ہے، جس نے گزشتہ چند دہائیوں میں 800 ملین سے زائد شہریوں کو غربت کے دلدل سے
نکال کر انھیں معاشی خودمختاری عطا کی۔ اس عمل میں صرف روزگار کے مواقع ہی فراہم
نہیں کیے گئے، بلکہ باعزت زندگی کے تمام وسائل بھی میسر کیے گئے۔ خاص طور پر
نوجوان نسل کو جدید شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کے اِظہار کے لیے بے مثال مواقع فراہم
کیے گئے۔ اسی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے کہ آج چین مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز،
ایروسپیس، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ماحول دوست توانائی جیسے جدید شعبوں میں عالمی سطح
پر قیادت کا مقام رکھتا ہے۔
ایشیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کے
لیے سبق:
چین
کی سائنسی اور تکنیکی ترقی ایشیا اور دیگر
ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک قابلِ اعتبار مثال ہے۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے
کہ اگر کسی ملک کا نظام صالح ہو، حکومت کا ویژن واضح ہو اور تحقیق
و تعلیم کو سب سے زیادہ ترجیح دی جائے تو کوئی بھی قوم ترقی کی راہ میں نہیں
رک سکتی۔ چین کی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ جدید سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے صرف وصولِ
وسائل کافی نہیں ہوتے۔ درحقیقت اس کے لیے بہترین نظام ، طویل المدتی
حکمت عملی اور پائیدار عزم کی
ضرورت ہوتی ہے۔ چین نے اپنی ترقی کے لیے ان تمام عناصر کو فعال طور پر استعمال کیا
ہے، جس کے نتیجے میں وہ عالمی سطح پر ایک برتر قوت بن گیا ہے۔
حوالہ
جات:
۱- https://www.aspi.org.au/report/aspis-two-decade-critical-technology-tracker