انگریزی زبان: ضرورت یا آلہ استحصال؟ - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • انگریزی زبان: ضرورت یا آلہ استحصال؟

    زبان رابطے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ دنیابھر کی اقوام اپنے زبان و اداب کی بنا پر اپنا تشخص برقرار رکھتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔

    By سہیل قریشی Published on Jan 20, 2025 Views 438

    انگریزی زبان: ضرورت یا آلہ استحصال؟

    تحریر: سہیل قریشی۔ پشاور

     

    زبان رابطے کی بنیادی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ دنیابھر کی اقوام اپنے زبان و اداب کی بنا پر اپنا تشخص برقرار رکھتی ہیں۔ اسی طرح زبان کافر یا مسلمان بھی نہیں ہوتی، بلکہ انسانی ضرورت کے تحت کسی خطے میں پروان چڑھتی ہے۔ دنیا کی مختلف اقوام اور جغرافیوں کی زبانیں مختلف کیوں ہیں؟ یہ ایک دلچسپ تحقیقی میدان ہےلیکن سردست ہماری دلچسپی ہمارے معاشرے میں موجود انگریزی زبان کو لے کر حساسیت کی بنیاد پر ہے۔ اس حساسیت کا ادراک تب بہت گہرا ہو جاتا ہے،جب آپ کا واسطہ ملک کی حکمران اشرافیہ سے پڑتا ہے۔اقتدار کی غلام گردشوں میں انگریزی زبان کی حساسیت مرعوبیت سے ہوتے ہوئے مفادات کی حفاظت کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے۔ وہاں اس زبان کو کسی ضرورت کے تحت یا علمی و تحقیقی یا بین الاقوامی رابطوں کے مقاصد کے تحت استعمال کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ مرعوب کرنے کی خاطر بولا، لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس زبان کو سرکاری طور پر برتنے کی ایک وَجہ یہ بھی ہے قوم کو قانون، علم اور استحصالی نظام کے مکر و فریب سے جاہل رکھ کر خوب خوب لوٹا جاسکے۔حکمران اشرافیہ کے زیراَثر پوری قوم کے پڑھے لکھے طبقے میں اس زبان سے مرعوبیت کے جراثیم پھیلے ہوئے ہیں۔ 

    زبان کے حوالے سے ایک حقیقت اَور بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ دنیابھر میں اس زبان کو طاقت ملتی ہے، جس کے بولنے والی قوم بڑی سیاسی اور معاشی طاقت ہو۔ برطانیہ کے دنیابھر میں نوآبادیات بنانے کے سلسلے میں انگریزی بھی ان نوآبادیات کی سرکاری زبان بنا دی گئی۔ نوآبادیات کی مفتوح اقوام کی زبانوں کو دقیانوسی، غیرترقی یافتہ اور غیرمہذب ہونے کا تاثر قائم کرنے کے لیے ہر قوم میں ایسے طبقات کی پرورش کی گئی۔ یوں ایک منظم عمل اور سرکاری سرپرستی کے ذریعے ان زبانوں کو دوسرے درجے کی زبان بنا دیا گیا۔ برطانوی استعمار نے اپنی نو آبادیوں کےلیےحکمرانی کے معروضی تقاضوں کے تحت مقامی لوگوں میں سے جب ایجنٹ کلاس پیدا کی تو انگریزی ان کی بھی مقدس زبان بن گئی،جس سے ایک طرف تو ان کا انگریزوں سے رابطہ آسان ہوگیا اور دوسری طرف اپنے مفادات کی تکمیل کا ایک نیا آلہ ہاتھ آگیا۔ یوں جبر وتشدد اور بے ر وزگاری اور بھوک وافلاس کی ماری قوم کو مرعوب کرنے کے آلے کے طور پر اس کا استعمال شروع کر دیا گیا۔ 

    انگریز کے جانے کے بعد، انگریز کی باقیات میں جہاں اس کا لوٹ کھسوٹ کا معاشی و سیاسی نظام، اس نظام کو چلانے والی سیاسی اور سول و ملٹری اشرافیہ باقی رکھی گئی، اسی کے ساتھ اس کی زبان یعنی انگریزی باقی رہ گئی۔ انگریزی زبان جس طرح انگریزوں کے دور میں استحصال کا ذریعہ تھی، ابھی بھی قومی استحصال میں اس کا برابر کا حصہ ہے۔ 

    زبان سیکھنا کوئی برا فعل نہیں۔ دنیابھر کے محقق اور سفیر تحقیق اور رابطے کی غرض سے دیگر قوموں کی زبانیں سیکھتے ہیں، لیکن ہمارے ہاں یہ طرفہ تماشا ہے کہ پوری قوم کو ایک ایسی زبان سیکھنے کے پیچھے لگا دیا گیا ہے کہ جس کا ماحول میسرنہیں۔ تربیت کے کم ترین مواقع میسر ہیں، مقاصد اور امکانات غیرواضح ہیں۔ یہی وَجہ ہے کہ ایک طالب علم کو سکول میں پہلے دن سے لے کر تعلیم سے فراغت تک مسلسل یہ زبان سکھائی تو جاتی ہے، لیکن المیہ یہ ہےکہ ڈگری ہاتھ میں لینے کے بعد بھی وہ اعتماد کے ساتھ نہ اس زبان کو بول سکتا ہے، نہ لکھ سکتا ہے اور نہ پڑھ سکتا ہے۔ پورا نصاب انگریزی زبان میں ہونے سے طالب علم کو علوم کی سمجھ ہی نہیں آتی، بلکہ زبان علم کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ پھر زبان سکھانے کے بجائے انگریزی ادب سکھانے کی کیا منطق ہے؟ آج پاکستان بھر میں میٹرک لیول پر سب سے زیادہ فیل ہونے والے طلبا انگریزی کے پرچے میں فیل ہوکر تعلیم کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔ اگر کسی فرد کو دوسری زبان سکھائی جائے تو اس پر کتنا وقت صرف ہوتا ہے؟ کیا کچھ خاص کورسز سے زبان نہیں سیکھی جا سکتی؟ آخر انگریزوں کے خوشہ چین پالیسی سازوں کا مقصد قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہے یا جاہل رکھنا ہے؟ شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کے سامنے یہ سوال پوری واقعیت کے ساتھ آجانا چاہیے۔انگریزی کو بہ طور زبان سیکھنا اور چیز ہے اور اس کو ذریعہ نصاب بنانا بالکل مختلف چیز ہے۔ زبان تو صرف ایک کورس کےذریعےبھی سیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن یہاں نرسری سے ماسٹر تک اسے بہ طور لٹریچر پڑھانا کہاں کا انصاف ہے؟ لوگوں کو اس سے نفرت اسی وَجہ سے ہے کہ زبان سکھانے کے بجائے زبان کی ادبیت یا مرعوبیت ان پر لاد دی جاتی ہے اور ہر سال سی ایس ایس پاس کر چکنے والے کئی امیدوار اس زبان کے پرچے میں ناکام ہو جاتے ہیں ۔ 

     عدالت میں دیہات کے دو آدمی مقدمہ لے کر جاتے ہیں تو انگریزی زبان میں فیصلہ لکھ کر انھیں پکڑا دیا جاتا ہے، جسے سمجھنا انگریزی سے آشنا وکیل کے سوا پورے شہر میں کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ کیا یہ فیصلہ جن دو فریقین کے بارے میں کیا گیا ہے، ان کی متعلقہ یا کم از کم قومی رابطے کی زبان میں نہیں لکھا جاسکتا؟ آخر وہ کون سے مقاصد ہیں کہ کالونیل دور کی ایک زبان کو آج تک ماتھے کا جھومر بنا رکھا ہے؟ یہ سوالات اہل دانش کے غور وفکر کا موضوع ہونےچاہییں کہ کیا یہ اعلیٰ عدلیہ کی کسی اشد ضرورت کے تحت ہے یا صرف غلامی کی یادگار زبان کو محض طوق کے طور پر گلے میں لٹکائے رکھنے کی عادت کے طور پر ہے۔اور اس سے جو عوامی سماجی بیگانگی جنم لیتی ہے۔اس کے اَثرات و نتائج یہ ہیں کہ صلاحیت کے آزمانے کے بجائے مایوسی اور شدت پسندی بڑھ رہی ہے اور قومی سوچ کے بجائے استحصالی طبقات کی رعونت بڑھ رہی ہے۔ 

    کیا ہماری قوم کو فوری انصاف کی ضرورت نہیں ہے یا اس کے بجائے محض عدالتوں کے طواف کروانے سے انگریزی زبان کی کوئی فوقیت ثابت ہوتی ہے ؟ اس طرح عوام کا وقت اور صلاحیتیں برباد کرنے سے (پست ذہن اور مرعوبیت کے) استعماری مشن کی تکمیل ہوتی ہے ۔ اسی لیے قانون اور فیصلے انگریزی زبان میں ہوتے ہیں۔ جب کہ کئی عدالتی کمیشن اور فیصلے قومی زبان کے سرکاری استعمال کے حق میں فیصلہ کرچکے ہیں ۔

    یہی معاملہ دفاتر کا ہے۔ اَب تو صورتِ حال یہ ہے کہ دفاتر میں کلرک نہ اچھی انگریزی لکھ سکتےہیں اور نہ پڑھ سکتےہیں۔ بلکہ انگریز دور کی ڈرافٹنگ کی مسلسل نقالی کرتےرہتےہیں۔بیوروکریسی کوئی اچھی پالیسی وضع کرنے کے بجائے سارا زور انگلش میں خط و کتابت اور نوٹیفیکیشن جاری کرنے پرلگاتی ہے، دوسرا جس قوم کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے اس کا اس زبان سے سوائے غلامی کے اور کوئی تعلق نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ بیوروکریسی جب کسی قانون کا مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے بناتی ہے، تو یہ مسودہ انگریزی زبان میں ہوتا ہے، جس کو پارلیمان کے اکثریتی ارکان نہیں سمجھتے ، آخر ان مسودوں کو انگریزی زبان میں ہی کیوں لکھا جاتا ہے؟ کیا اس لیے کہ قوم اس قانون کو براہِ راست نہ پڑھ سکے اور نہ سمجھ سکے اور استحصال آسان ہو؟ 

    قوم کے سنجیدہ افراد کو سوچنا چاہیے کہ 77سال سے انگریزی زبان نے سوائے جدید نوآبادیات کے استعماری مقاصد کو پورا کرنے کےاور کیا نتیجہ پیدا کیا ہے؟ آخر نوآبادیاتی دور کی یہ زبان کب تک یہاں تعلیم اور شعور کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی؟ کب تک یہاں کی حکمران اشرافیہ اس زبان کی بنیاد پر قوم کو خود بھی لوٹتی رہے گی اور اپنے بین الاقوامی آقاؤں کے لیے بھی ایجنٹی کرتی رہے گی؟

    توج طلب بات یہ ہےکہ مقامی زبانوں اور قومی زبان کی ترویج و اشاعت کا قومی ڈھانچہ قائم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے ۔

     

    Share via Whatsapp