مغرب زدہ ذہنیت اور معاشرتی مسائل کا حل
انسانی سماج کی مثال ایک زندہ جسم کی مانند ہے، جہاں ہر عضو دوسرے سے گہرے ربط میں بندھا ہوا ہے۔۔۔۔۔

مغرب زدہ ذہنیت اور معاشرتی مسائل کا حل
تحریر: ملک ارسلان خان گوندل۔ ڈیرہ اسماعیل خان
انسانی سماج کی مثال ایک زندہ جسم کی مانند ہے، جہاں ہر عضو دوسرے سے گہرے ربط میں بندھا ہوا ہے۔ جس طرح جسم کے کسی ایک حصے میں معمولی سی تکلیف پورے وجود کو متاثر کر دیتی ہے، اسی طرح معاشرتی نظام میں بھی ہر فرد کی خوشی یا غم کا اَثر پورے سماج پر پڑتا ہے۔ اس حقیقت کی تصدیق حضور نبی کریم ﷺ کی اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ "مومنین ایک جسم کی مانند ہیں، جب اس کے کسی عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو پورا جسم بےخوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے"۔
یہ اصول صرف مذہبی یا جماعتی سطح تک محدود نہیں، بلکہ پورے انسانی معاشرے پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ انسانی سماج کی بنیادی اکائی خاندان ہے، جو معاشرتی ڈھانچے کی پہلی اور سب سے اہم کڑی ہے۔ خاندانی نظام کی مضبوطی سے ہی معاشرے کا استحکام وابستہ ہے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کے دو بنیادی مقاصد بیان فرمائے ہیں: تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہ۔ قرآنِ حکیم میں انبیائے کرام علیہم السلام کی سیرتِ مبارکہ کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ ہر نبی نےجہاں اپنی اُمت کے افراد کو اِنفرادی سطح پر اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی تو ساتھ ہی ساتھ اجتماعی سطح پر معاشرتی برائیوں کے خاتمے کے لیےبھی حکمتِ عملی وضع فرمائی۔موجودہ دور میں جب ہم مختلف معاشروں کا مطالعہ کرتے ہیں، خواہ وہ ترقی یافتہ ہوں، ترقی پذیر ہوں یا زوال پذیر، ان سب میں کچھ مشترکہ خصوصیات نظر آتی ہیں۔ آج پوری انسانیت مایوسی کی گہری وادیوں میں بھٹک رہی ہے۔ یہ حالات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ انسانیت کو دوبارہ انبیائے کرام علیہم السلام کے مشن یعنی تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہ کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے اردگرد نوجوانوں کی وقتافوقتا خودکشیوں کی خبریں روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ذہن بار بار اس تلخ سوال سے ٹکراتا ہے کہ آخر کون سے وہ کرب ناک عوامل ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو زندگی کی شیریں نعمت سے محروم ہونے پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس دل دہلا دینے والی سوچ کے ساتھ ہی یونان کے سمندر میں ڈوبنے والے ان پاکستانی مہاجرین کا المناک واقعہ ذہن میں تازہ ہوجاتاہے، جو بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ کی طرف روانہ ہوئے تھے، لیکن تقدیر نے انھیں راہِ سفر میں ہی ابدی نیند سلا دیا۔
یہ خیالات انسانی ذہن کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں،انسان اپنے آپ کو ان انسانی المیوں سے الگ نہیں کرسکتا۔ کیوں کہ ایک انسان دوسرے انسان کے درد سےلاتعلق نہیں رہ سکتا۔ یورپی معاشرہ جسے ترقی یافتہ معاشرہ کہا جاتا ہے۔ کیا واقعی وہاں کا نظام اپنے شہریوں کی تمام ضروریات کی تکمیل کر رہا ہے؟ یا پھر وہاں بھی انسانی روح کی اس گہری بےچینی اور مایوسی کا سایہ موجود ہے؟
حیرت انگیز طور پر، جسے ہمارے میڈیا اور مغرب زدہ دانش ور "جنت" کے نام سے موسوم کرتے ہیں، وہ یورپ خود اندرونی کشمکش کا شکار ہے۔ وہاں خودکشی کی شرح نہ صرف ہم سے کہیں زیادہ ہے، بلکہ کئی یورپی ممالک میں حکومتیں اسسٹڈ سوسائیڈ(assisted suicide) کے نام پر خودکشی کے مراکز قائم کررہی ہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے کہ ریاست، جس کا فرض اپنے شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت ہے، وہ خود ان کی موت کی سہولت کاری کررہی ہے۔دسمبر 2021ء میں "انڈیا ٹوڈے" نے "یو کے انڈیپنڈنٹ" کے حوالے سے رپورٹ کی کہ سوئٹزرلینڈ، جسے دنیا کی جنت کہا جاتا ہے، نے خودکشی مراکز کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ یہ خبر اس تلخ حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ مادی ترقی کے باوجود یورپی معاشرے کا نوجوان شدید مایوسی کا شکار ہے۔یہ بڑے تضاد کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر یورپی تہذیب اور سائنس کی مدح سرائی کی جاتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یورپ کی "تہذیب" کا دوہرا معیار واضح ہے۔ اپنے گھر میں تہذیب، لیکن افغانستان، لیبیا، عراق اور افریقا میں درندگی اور لوٹ مار کابازار گرم کیاہواہے۔ سائنسی ترقیات کے فوائد سے انکار ناممکن ہے، لیکن یورپی سائنس نے انسانیت کو زیادہ تر تباہی ہی دی ہے۔ طبی شعبہ ہو یا ٹیکنالوجی، ہر جگہ مالی منافع کو انسانی بہبود پر ترجیح دی جا تی ہے۔
مسلم حکمرانی کے بارہ سو سالہ دور کا جب ہم غیر جانب دارانہ مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اسلام کا سیاسی و معاشی اقتدار جہاں بھی پہنچا، وہاں رنگ، نسل، مذہب اور زبان کی تفریق کے بغیر انسانیت کی خدمت کی گئی۔ آج کے نوجوان کی مایوسی کی بنیادی وَجہ یہ ہے کہ برطانوی دور کی میراث، ہمارا موجودہ نظام تعلیم، اسے اس شان دار تاریخ سے منقطع کر چکا ہے۔ برطانوی نظام تعلیم نے نہ صرف عصری تعلیمی ادارے تباہ کیے، بلکہ مدارس کو بھی متاثر کیا، جس کے نتیجے میں دینی اور عصری تعلیم کے ماہرین ایک دوسرے سے متصادم ہو گئے۔
موجودہ حالات میں اس بات کی اَشد ضرورت ہے کہ نوجوان نسل کو اس کے اصل مرکز سے جوڑا جائے۔ انھیں ان کے اسلاف اور اکابرین کی عظیم میراث سے روشناس کرایا جائے۔ تاریخ کے اجتماعی نقطہ نظر اور اس کے صحیح رُخ سے آگاہ کیا جائے۔ اسلام کو ایک مکمل نظام حیات کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ وہ مایوسی کی تاریکیوں سے نکل کر امید کی روشنی میں قدم رکھ سکیں۔
اس سلسلے میں ولی اللہی جماعت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی کررہی ہے۔ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور کے مراکز، جو اب پاکستان بھر میں قائم ہوچکے ہیں، نوجوانوں کو مایوسی سے بچانے کا منصب سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ مراکز نوجوانوں کی تربیت کا فریضہ نبھا رہے ہیں، جہاں وہ اپنے مسائل پر آزادانہ تبادلہ خیال کرتے ہیں اور قرآن و سنت کی روشنی میں تہذیبِ نفس کے ساتھ ساتھ سیاستِ مدینہ کے اصول بھی سیکھ رہے ہیں۔
لہٰذا تمام نوجوانوں کے لیے دعوت عام ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم سے وابستہ ہوں، تاکہ مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر زندگی کے حقیقی مقصد کو پا سکیں۔