سوشل میڈیا کااستعمال اور خواتین کے لیے محتاط پہلو - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • سوشل میڈیا کااستعمال اور خواتین کے لیے محتاط پہلو

    اسلام نے خواتین کو بہت ہی عزت و وقار دیا ہے۔ اسلام ان رشتوں کو، جو خاتون کے لیے شناسا ہوتے ہیں۔

    By Asghar Surani Published on Sep 04, 2024 Views 473

    سوشل میڈیا کااستعمال اور خواتین کے لیے محتاط پہلو

    تحریر: محمد اصغرخان سورانی۔ بنوں 


    اسلام نے خواتین کو بہت ہی عزت و وقار دیا ہے۔ اسلام ان رشتوں کو، جو خاتون کے لیے شناسا ہوتے ہیں، جیسے دیور، جیٹھ، خالہ زاد، پھوپھی زاد، خالو، پھوپھا وغیرہ کے لیے نامحرم کی اصطلاح استعمال کی ہے ،حال آں کہ یہ رشتے اپنی خواتین کو اپنی اور خاندان کی عزت سمجھتے ہیں۔ خواتین کو ان کے سامنے بھی باوقار اندازسے آنے کا حکم دیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر جہاں مرد اپنا ظاہر وباطن اور حقیقت کو چھپاکر رکھتے ہیں، کیاان پر بھروسہ کیا جاسکتاہے؟ 

    سائبر کی دنیا ،بالخصوص سوشل میڈیا کے استعمال میں پاکستان کی خواتین صارفین کی تعداد بہت قلیل ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ خواتین اپنی آئی ڈی بہ طور خاتون ظاہر کرنے میں بہت محتاط رہتی ہیں۔اس عدم تحفظ کی بنیادی وَجہ کیا ہے۔ خواتین نے سوشل میڈیا کا رخ کیا توان کو کیا مسائل درپیش ہیں ؟ 

    سائبر کے میدان میں تیسری دنیا کی خواتین کواپنی آرا ، تجاویز گفتگو پر بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اسی رویے کی عکاسی ہے جو سماج میں پایا جاتا ہے کہ خواتین کا تعلق گھر اور باورچی خانے سے ہے، اور اگر وہ اپنے گھر سے باہر پائی جاتی ہیں تو اسے ہراساں کیا جاتا ہے، تحقیرآمیز نظروں سے گزرنا پڑتا ہے۔خواتین کو ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ کچھ نفسیاتی مریض خاتون کی تصویر اور نام کے ساتھ فیک پروفائل بناتے ہیں ۔اس کے اثرات خاتون کی سماجی زندگی پر پڑتے ہیں ۔ یہ غافلانہ حرکت خواتین کے لیے ذہنی ٹارچر، بریک اپ، طلاق وغیرہ کے علاوہ، غیرت کے نام پر قتل کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ پاکستانی سماج کی اکثر خواتین نہیں جانتیں کہ آن لائن ہراسانی سے نمٹنے کے لیے قوانین بھی موجود ہیں ، ان کا استعمال کیسے کیا جائے ۔

    سوشل میڈیا کے استعمال کے بارے مکمل آگہی نہ ہونے کے سبب بعض خواتین ، نادانی میں اپنی کسی بھی قسم کی تصاویر اور ویڈیوز اپنی فرینڈز کے ساتھ شیئر کر لیتی ہیں ، جو بعض مرتبہ ان کے لیے ہراسانی کا سبب بن جاتی ہے،جس سے خواتین کو طعن و تشنیع کا سامنا ہوتا ہے، ان کے لیے ذہنی سکون کے خاتمے سبب بن جاتا ہے، کتنوں نے خودکشیاں کیں، اکثر والدین نےعزت کے نام پر اپنے بیٹیوں کو مار دیا ۔پاکستانی سماج میں فیملی میں موبائل فون کا مشترکہ استعمال بھی ہوتا ہے،یا خواتین کے موبائل فون کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اس لیے خواتین کو باہم اپنی تصاویر شیئر کرنے میں محتاط رہنا ضروری ہے۔ 

    سوشل میڈیا پر اور اپنی سماجی زندگی میں ایک خاتون اس وقت تک محفوظ ہے، جب تک کہ ان کے لہجے میں کسی نامحرم کے لیے کوئی نرمی نہ ہو ،لیکن جب وہ عورت اپنے لہجے میں بےجا نرمی پیدا کرتی ہے تو ہوس کے پجاری یک دم حرکت میں آجاتے ہیں اور اپنا جال تیار کر لیتے ہیں، اگر وہ اس میں اُلجھ جائے تو پھر ہماری نادان خواتین خود کو تنہا پاتی ہیں۔ جب کہ انھیں اپنے مسائل اپنے والدین سے شئییر کرنے کی جرات کرنی چاہیے۔ 

    سماجی نظام میں میں بھی یہ سکت ہونی چاہیے کہ اگر کوئی فرد سائبر کی دنیا میں دھوکہ بازی کرتا ہے ، یا کوئی فیک آئی ڈی بناتا ہے ، ایک سے زائد آئی ڈیز بناتا ہےتو اس کو سزا ملنی چاہیے ۔ اگرسماجی نظام ان چیزوں سے بے خبر ہو یامجرمانہ غفلت کاشکار ہو تو اس طرح کے جرائم کی روک تھام ممکن نہیں ہوتی ۔ایک عادلانہ نظام میں جدید سے جدید ٹیکنالوجی کا آنا، انسانیت کے لیے خیر کا سبب ہوتا ہے۔ لیکن ظالمانہ نظام میں ٹیکنالوجی کمزور طبقا ت کے استحصال کا ذریعہ بن جاتی ہیں اور کمزور کو مزید کمزور کردیتی ہیں۔ جب تک سوسائٹی میں ایسا عدل کا نظام نہیں آتا جو ظالم کی گرفت کرے ، تب تک تو ہم اپنی خواتین کو یہی درس دے سکتے ہیں کہ محتاط رہیں اور محفوظ رہیں۔ سوسائٹی کے باشعور مرد و خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے نظام کو رائج کرنے کی جدوجہد کریں جو ہماری نسلوں کی آزادی کی حفاظت کرے ۔تاکہ ہماری خواتین عزت و وقار کے کے ساتھ سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

    Share via Whatsapp