شعوری صلاحیتوں کا قاتل نظام تعلیم
کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اس کی قومی ضروریات کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے۔ تاکہ اجتماعی ترقی کیلیے ہنر مند اور باشعور افراد تیار کیے جاسکیں۔

شعوری صلاحیتوں کا قاتل نظام تعلیم
تحریر: محمد حنیف ۔بالا کوٹ
کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اس کی قومی ضروریات کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جاتا ہے۔ تاکہ اجتماعی ترقی کیلیے ہنر مند اور باشعور افراد تیار کیے جاسکیں۔ جو قومی اور انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دینے والے متعلقہ افراد اگر اپنے اپنے شعبے میں اعلی مہارت رکھتے ہوئے قومی و ملکی ترقی کے لیے کام کریں تو وہ معاشرے دن دگنی رات چگنی کرتے ہیں۔ اور ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ جہاں ترقی کا سفر تیزی سے عبور کیا گیا۔
مادر وطن کی بدقسمتی ہے کہ نوآبادیاتی دور کے نظام تعلیم کو اب تک پڑھا اور پڑھایا جاتاہے۔ جو مقدار اور معیار دونوں حوالوں سے معذور ہے۔ اب تک شرح خواندگی کی مقدار 50سے 60 فی صد بتائی جاتی ہے جس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنا نام لکھ یا پڑھ سکتے ہیں۔ اور معیار کا یہ حال ہے کہ ایم فل کے سکالر کو یہ پتہ بھی نہیں کے تحقیقی مقالہ جات کے کتنے ابواب ہوتے ہیں یہ رپورٹ پچھلے سال پنجاب پبلک سروس کمیشن نے شائع کی تھی۔
اسی طرح کا ایک قومی تبصرہ مقابلے کے امتحان CSS کے نتائج کے وقت بھی ہوا تھا۔ جس میں پورے نظام تعلیم کے معیار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ سائنسی ، سماجی اور فنی مضامین میں ڈگریاں لینے والے اکثر متعلقہ مضمون ، ہنر اور علم میں بانجھ پن کا شکار ہیں۔ اس نظام نے طلباء کی سوچ و بچار کی حس کو کچل کے رکھ دیا ہے۔ سرمایہ داری نظام کا المیہ یہ ہے کہ پہلے تو آپ بغیر سرماِئے کے تعلیمی اداروں کا رخ بھی نہیں کرسکتے۔ اور طبقاتی تقسیم کے مطابق ترتیب دیے گے اداروں کی ترتیب بھی اور بچا کھچا معیار اسی سرمائے کے معیار پر ہے۔ سرمایہ داری نظام کا تعلیم کے نام پر یہ بھیانک کھیل نسلوں کو تباہ کر رہاہے۔ یہی وجہ ہے جسکی بدولت ملکی ترقی کی رفتار ریورس گیر میں ہے آگے پیچھے کا پتہ نہیں اور کہتے ہیں کہ ملک چل رہا ہے۔
سائنس وٹیکنالوجی کی تعلیم تیسری دنیا یا ترقی پزیر ملکوں کو اس حساب سے دی جاتی ہے تاکہ وہ اس ٹیکنالوجی سے صدیوں کے فاصلے پر رہیں جو ترقی یافتہ ملک خود استعمال کرتے ہوں۔ رہی بات ان سماجی علوم کی جنکی بدولت معاشروں میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ سرے سے ہی یا توپڑھائے ہی نہیں جاتے اگر پڑھائے جائیں تو ان کا تعلق اس ملک اور قوم کی تاریخ اور جغرافیے سے نہیں ہوتا۔ انھیں ایک ایسی سماجیات ، سیاسیات اور تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ جس میں پڑھنے والے اور پڑھانے والے دونوں کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں رہتا۔ وہ زندگی بھر ذہنی الجھاو اور سماجی کھچاو کا شکار رہتے ہیں وہ قوم کو اس کی تاریخ اس کے سماج اور مذہب سے بیزار کرتے ہیں اور سماج کے مسائل حل کرنے کی بجائے خود ایک مسئلے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے دانش ور سماج پر ایک بوجھ ہوتے ہیں جو مایوسی اور خوف پیدا کرتے۔
جو تعلیم فرد میں امید ، ہمت و حوصلہ ، اجتماعی شعور اور احساس ذمہ داری جیسے جوہری اوصاف پیدا کرنے سے قاصر رہے اس نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں جراءت وہمت رکھنے والے باشعور لوگوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اٹھیں اور اپنے معاشرے کو ظالمانہ نظام سے نجات دلا ئیں اور ایک ایسا انسان دوست ماحول پیدا کریں۔ جو بلا کسی تفریق کے انسانیت کو ترقی کے مواقع فراہم کرے۔ اس کے لیے اعلی شعوری تعلیم ضروری جو معاشرے کی باشعور اجتماعیت ہی دے سکتی ہے۔ صلاحیت کش نظام تعلیم سے کبھی لاالہ کی صدا نہیں آسکتی۔