انسانی سماج اور عادلانہ نظام - بصیرت افروز
×



  • قرآنیات

  • مرکزی صفحہ

  • سیرۃ النبی

  • تاریخ

  • فکرو فلسفہ

  • سیاسیات

  • معاشیات

  • سماجیات

  • اخلاقیات

  • ادبیات

  • سرگزشت جہاں

  • شخصیات

  • اقتباسات

  • منتخب تحاریر

  • مہمان کالمز

  • تبصرہ کتب

  • انسانی سماج اور عادلانہ نظام

    آج سماج میں شخصیات کی تبدیلی کی ضرورت ہے یاکہ نظام کی تبدیلی؟ گزشتہ 73 سالوں سے شخصیات کو تبدیل کیا گیا لیکن سماج میں کوئ منفی اثرات ن

    By اعتدال حسین شاہن Published on May 23, 2022 Views 846
    انسانی سماج اور عادلانہ نظام
    اعتدال حسین شاہ۔ مانسہرہ 

    آج کی معروف سیاسی اور مذہبی جماعتیں موجودہ فرسودہ نظام کی نمائندہ جماعتیں ہیں۔
    نظام کیا ہے؟ اسےکیسا ہونا چاہیے؟
    بنیادی طور پر ان سوالات کو ڈھونڈنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔سیاسی و مذہبی جماعتیں اس نظام کو جاری رکھے ہوے ہیں جو غلامی کے دور میں ہم پہ مسلط کیا گیا تھا ۔ بدقسمتی سے وہ نظام آج بھی قائم ہے۔ جب سے موجودہ ریاستی ڈھانچہ قائم ہوا، تب سے آج تک عام انسان غریب سے غریب تر ہوتا چلا آرہا ہے،بنیادی حقوق سے محروم ہے،اسے نظام ظلم نے اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔
    آخر ایسا کیو ں ہے؟
    کبھی کوئی مذہب کے نام پر حکومت کرتا ہے ،تو کبھی کوئی جمہوریت کو اس کا ذریعہ بناتا ہے ۔ کبھی کوئی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کرتا ہے ۔ لیکن ہر ایک فرد یا جماعت اقتدار میں آتے ہی اپنے وعدوں اور دعووں کے بر عکس کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔ 
    آخر ایسا کیوں ؟
    اگر ریاست اسلام کے نام پر حاصل کی گئی تھی تو پھر اس کا موجود نظام دین کے مطابق ہونا چاہیے تھا ۔ انسانوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جانوروں کے بھی بنیادی حقوق محفوظ ہونے چاہییں تھے ۔ لیکن بدقسمتی کے ساتھ لیبل دین اسلام کا اور کردار فرعونی نظام کا برقرار رہا ہے۔
    اسلام کا نظام تو وہ تھا، جس میں دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوک اور پیاس سے نہیں مرتا تھا ۔جب کہ موجودہ ریاست میں 80 فی صد لوگ تو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے حاصل کرپاتے ہیں۔
    آج ریاست کا نظام ظلم پر مبنی ہے۔یہ وہی نظام ہے جو ابوجہل کے دور میں تھا، نمرود اور فرعون کے دور میں تھا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کو بہ طور دین کے پیش کیا جائے ۔بدقسمتی سے ریاست کے وجود کے بعد یہاں ہر فرد،ہر قبیلہ ہر علاقہ ظالم اور نظام کا آلہ کار بن گیا ۔رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو خبردار کر دیا تھا کہ کوئی بھی مظلوم کے خلاف ظالم کی مدد نہ کرے، اور اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے بھی ظالم کا شریک کارسمجھا جائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ظالموں کی جانب جھکاؤ رکھنے پر متنبہ فرمایا ہے:
    }ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسّکم النّار ، وما لکم من دون اللہ اولیاء ثمّ لا تنصرون} (ھود، ۱۱۳)
    (ان ظالموں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے، اور تمھیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو تمھیں خدا سے بچا سکے، اور تم کو کہیں سے مدد نہ ملے گی۔) 
    آج کے دور میں اگر ظالم ہے تو وہ ہمارا نظام ہے،وہ نظام جس نے انسان کو جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا،وہ نظام جو حقوق دینے سے قاصر ہے۔آج نظاموں کا دور ہے، نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اگر آپ نظام کے بجائے ان شخصیات کے پیچھے چلیں گے تو یقیناً آپ دھوکا کھائیں گے، جیسے 1947ء سے آج تک ریاست میں ہوتا چلا آرہا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 1400 سال پہلے کر کے دکھایا،جو جماعت صحابہ نے کر کے دکھایا، اسی کے احیا  کا بندوبست کیا جائے ۔اسی تناظر میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اَب سے تین صدیاں قبل ایک بات کہہ دی تھی کہ اَب آئندہ نظام عدل کے احیا اور قیام کی بنیاد ’’فک کل نظام‘‘ پر ہوگی۔ اور اس کے لیے ان کے افکار و نظریات کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ ’’فک کل نظام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ چوں کہ ملت اسلامیہ کے موجودہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں اصلاح و ترمیم کی گنجائش نہیں ہے۔ لہٰذا اس ڈھانچے سے مکمل نجات حاصل کر کے  ملت اسلامیہ کی عدل کے نئے نظام کے قیام پر انسانی زندگی کے قیام کا آغاز کیا جا سکے ۔ موجودہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے نے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزار لیا ہے۔ اس کے بعد گزشتہ تین صد یوں سے غلامی اور زوال کے عہد سے ملت اسلامیہ جس نظام میں زندگی گزار رہی ہے، اَب اس عمارت کی کیفیت خستہ ہوچکی ہے کہ اس میں جزوی اِصلاح اور مرمت ممکن نہیں ہے ۔ جیسا کہ دنیا کا عمومی ر جحان اور روایت ہے کہ نئی تعمیر کے لیے پرانی اور بوسیدہ عمارت کو گرانا پڑتا ہے۔ اَب اس بات کا وقت آگیا ہے کہ اس بوسیدہ عمارت سے بھی جان چھڑا لی جائے اور ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے عمارت کی از سر نو تعمیر کا آغاز بھی کردیا جائے ۔اس نئے نقشے کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے فکری بنیاد بھی فراہم کردی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے انسانی سوسائٹی اور عالمگیر معاشرت کے لیے اسلامی نظام و قوانین کی افادیت و ضرورت کو ثابت کرنا ہوگا اور دنیا کو عقل و منطق اور فہم و استدلال کے ساتھ بتانا ہوگا کہ انسانی سوسائٹی کو مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل صرف قرآن و سنت میں موجود ہے۔ اور وہ وہی حل سب سے بہتر ہے۔ اس لیے دنیا کو اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ امام  شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی جو مختلف عملی صورتیں ( اعجاز قرآن و تاثیر قرآن ) میں ہیں اور جن کے حوالے سے قرآن کریم نے دنیا بھر کو چیلنج کیا ہے کہ کوئی فرد یا قوم قرآن کریم کے مقابلہ کی کوئی کتاب لا کر دکھائے۔ اس چیلنج کا ہر دور میں الگ الگ مفہوم رہا ہے۔ قرن اول میں مکہ کا پڑھا لکھا طبقہ اس کا مخاطب تھا ۔ جو اپنے آپ کو دنیا میں فصاحت و بلاغت کا امام سمجھتا تھا اور دیگر قوموں کے لیے سب سے زیادہ باعث فخر بات ان کی زبان دانی اور فصاحت بلاغت ہوا کرتی تھی، ان کے لیے قرآن کریم کا چیلنج اس پہلو سے تھا کہ کوئی فرد یا قوم فصاحت یا بلاغت میں قرآن کریم کا مقابلہ کر کے دکھائے اور اگر وہ پوری کتاب نہیں لا سکتے تو کم از کم ایک سورۃ کا مقابلہ ہی کر کے دکھا دیں ۔ آج کا دور چوں کہ سماجیات، سسٹم، قانون اور عالمگیر معاشرت کا ہے، اس لیے قرآن کریم کے اس چیلنج کا ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے کہ انسانی سوسائٹی کی تشکیل، معاشرہ کی فلاح و بہبود اور نسل انسانی کے مسائل کے حل کے لیے قرآن کریم نے جو قوانین و ضوابط پیش کیے ہیں، افادیت و ضرورت اور نتائج و ثمرات کے حوالے سے اس کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ جیسا کہ دوسرے میدانوں میں قرآن کریم کا مقابلہ کسی قوم سے آج تک نہیں ہو سکا۔ اس میدان میں بھی نہیں ہو سکے گا ۔آج سوسائٹی کو ضرورت ہے کہ قرآنی اصولوں پر نظام قائم کرنے کی، جس میں تمام انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔
    Share via Whatsapp